Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2272

2272 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، وَعَنْ شَرْيِ الْمَغْنَمِ حَتَّى يُقْسَمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَهِ السِّيَاقَةِ " وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2272 - على شرط البخاري ومسلم وشاهده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیلے دانتوں والے درندوں ( کا گوشت کھانے ) سے بچوں کو قتل کرنے سے اور تقسیم سے پہلے غنیمت کا مال خریدنے سے منع کیا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہرماہ نقل نہیں کیا۔ ایک صحیح حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

قتل الولدان ← کُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2272

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2273

2273 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ، حَتَّى تُقْسَمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2273 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنے سے منع کیا ہے ۔

بَيْعِ الْمَغَانِمِ، حَتَّى تُقْسَمَ» [التعليق من تلخيص الذهبي] صحيح ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2273

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2274

2274 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَضَعَ الْجَوَائِحَ» قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: وَقَدْ كَانَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَا، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «وَضَعَ الْجَوَائِحَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2274 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( آفت سماوی سے ) ہلاک شدہ مال ( کی قیمت ) چھوڑ دیا کرتے تھے ۔ علی بن مدینی فرماتے ہیں کہ سفیان ابو زبیر کے واسطے سے جابر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہلاک شدہ مال کا معاوضہ نہیں لیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار مطابق صحیح ہے ۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہ کیا گیا ۔

جَابِرٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2274

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2275

2275 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2275 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکے زمانے میں ایک شخص نے کچھ پھ خریدے جن میں اس کو خسارہ ہو گیا اس کی وجہ سے اس کے ذمہ قرضہ بہت زیادہ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ رضی اللہ عنہم سے ) کہا : اس کو صدقہ دو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کو صدقات دیے لیکن پھر بھی اتنی رقم نہ جمع ہوئی جس سے اس کا قرضہ ادا ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا مل سکے تم لے لو اور اس سے زائد کا تم حق بھی نہیں رکھتے ہو۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَسُولُ اللَّهِ «تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ» ← أُصِيبَ رَجُلٌ، فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2275

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2276

2276 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعَيْمٍ، ثنا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا فَسَأَلَهُ: «لِمَنِ الزَّرْعُ وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟» فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي لِيَ الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ " فَقَالَ: «أَرْبَيْتُمَا، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا، وَخُذْ نَفَقَتَكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى مُنَاظَرَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فِيهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2276 - بكير ضعيف

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں وہ کاشتکار کیا کرتے تھے ایک دفعہ وہ زمینوں کو پانی لگا رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ فصل کس کی ہے ؟ اور زمین کس کی ہے ؟ انہو نے جواب دیا کہ کھیتی بھی میری ہے کیونکہ بیج میں نے ڈالا ہے اور کام بھی میں ہی کرتا ہوں اس کا ایک حصہ میرا ہے اور ایک حصہ فلاں قبیلے والوں کا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں نے سود پر مشتمل سودا کیا اس لیے زمین اس کے مالکان کولوٹا دو اپنا خرچہ لے لو ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخار ی رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس سلسلے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور رافع بن خریج کے مابین منانظرہ نقل کیا ہے ۔ ( جو کہ درج ذیل ہے )س

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← ابْنِ أَبِي نُعَيْمٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2276

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2277

2277 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَةَ وَالْقُرْآنَ، وَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ، وَأَرْمِي عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَةَ وَالْقُرْآنَ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2277 - مغيرة بن زياد صالح الحديث وقد تركه ابن حبان

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے میں اہل صفہ کو کتابت سکھایا کرتا تھا اور قرآن کی تعلیم دیا کرتا تھا ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان تحفہ دی ۔ میں نے سوچا ایک تو یہ مال نہیں ہے ۔ دوسرے میں اس کا جہاد میں استعمال کروں گا ۔ البتہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر مسلہ ضرور دریافت کروں گا ۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جن لوگوں کو قرآن اور کتابت کی تعلیم دیتا ہوں ان میں سے ایک شخص نے مجھے کمان تحفے میں دی ہے یہ مال بھی نہیں اورویسے بھی اس کو جہاد میں استعمال کرنا چاہتا ہؤں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اپنے گلے میں آگ کا طوق ڈالنا چاہتے ہو تو اس کو قبول کر لو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادَةَ، ← وَکِيعٌ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2277

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2278

2278 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2278 - على شرط البخاري ومسلم

یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2278

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2279

2279 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: جَاءَ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: لَقَدْ " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ، فَذَكَرَ أَشْيَاءَ، وَقَالَ: «نَهَانَا عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا، وَقَالَ هَكَذَا بِأُصْبُعِهِ نَحْوَ الْغَزْلِ، وَالْخُبْزِ، وَالنَّفْشِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2279 - طارق فيه لين ولم يذكر أنه سمعه من رفاعة

حضرت طارق بن عبدالرحمان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے رفاعہ بن رافع ، انصار کی مجلس میں آئے ا ور کہنے لگے آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں سے منع کیا ۔ پھر چند چیزوں کا ذکر کیا اور کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لونڈی کی کمائی سے منع کیا ہے ۔ البتہ اپنے ہاتھ سے جو کام کریں ( وہ جائز ہے ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کے ساتھ روئی کا تنے ، روٹیاں پکانے اور روئی دھننے کا اشارہ کیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار مطابق صحیح ہے ۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہ کیا گیا ۔ رافع بن خدیج سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2279

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2280

2280 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ هُرَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ؟» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2280 - أخرجناه شاهدا

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع کیا ہے جب تک کہ یہ پتہ نہ چل جائے کہ یہ کہاں سے آئی ہے ۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← أَبِيهِ ← عبيد الله بن هرير ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← علي بن الحسن بن الجنيد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2280

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2281

2281 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَعَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ مِنْ أَعَزِّ الْبَصْرِيِّينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2281 - على شرط البخاري

ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر جانور ( جفتی کے لیے ) کرایہ پر دینے سے منع کیا ہے ۔ یہ حدیث امام بخآری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہ کیا گیا ۔ اور علی بن حکم بنانی ثقہ ہیں ، مامون ہیں اور ان کا شمار مصر کے معززین میں ہوتا ہے ۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2281

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2282

2282 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مِجْلَزٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ، مَا كَانَ مِنْهُ عَيْنًا، يَعْنِي يَدًا بِيَدٍ، فَكَانَ يَقُولُ: إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ فَلَقِيَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ إِلَى مَتَى تَوَكِّلُ النَّاسَ الرِّبَا؟ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عِنْدَ زَوْجَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ: إِنِّي " لَأَشْتَهِي تَمْرَ عَجْوَةٍ، فَبَعَثَتْ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ بَدَلَ صَاعَيْنِ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ، فَقَامَتْ فَقَدَّمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ أَعْجَبَهُ، فَتَنَاوَلَ تَمْرَةً، ثُمَّ أَمْسَكَ، فَقَالَ: «مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟» فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: بَعَثْتُ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَتَانَا بَدَلَ صَاعَيْنِ هَذَا الصَّاعُ الْوَاحِدُ، وَهَا هُوَ كُلْ فَأَلْقَى التَّمْرَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: «رُدُّوهُ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، يَدًا بِيَدٍ، عَيْنًا بِعَيْنٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ رِبًا» ثُمَّ قَالَ: «كَذَلِكَ مَا يُكَالُ وَيُوزَنُ أَيْضًا» فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: جَزَاكَ اللَّهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ الْجَنَّةَ، فَإِنَّكَ ذَكَّرْتَنِي أَمْرًا كُنْتُ نَسِيتُهُ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ. فَكَانَ يَنْهَى عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْيِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2282 - حبان بن عبيد الله العدوي فيه ضعف وليس بالحجة

حضرت حبان بن عبیدہ اللہ عدی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے میں نے ابو مجلز سے بیع صرف کے متعلق مسئلہ پوچھا تو انہوں نے جواباً کہا:ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک زمانہ تک یہ موقف رہا ہے کہ اگر ہاتھوں ہاتھ ہوں تو کوئی حرج نہیں وہ کہا کرتے تھے کہ سود تو صرف ادھار میں ہوتا ہے ایک دفعہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے ہو تم لوگوں کو گب تک سود میں مبتلا کیے رکھو گے؟ کیا تمہیں اس حدیث کی اطلاع نہیں ہے ؟ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجور کھانے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے دو صاع کھجوریں ایک انصاری کے پاس بھجیں تو وہ دو صاع کھجوروں کے بدلے ایک صاع عجوہ کھجوریں دے گیا ۔ پھر ام المومنین رضی اللہ عنہا نے یہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو دیکھا تو بہت پسند کیا اور ان میں سے ایک کھجور اٹھا کر کھا لی اور پھر رک گئے اور پوچھا یہ کھجوریں تمہارے پاس کہاں سے آئیں ؟ ام المومین حضر ت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا میں نے دو صاع کھجوریں ایک انصاری آدمی کی طرف بھیجی تھیں تو وہ ان دو صاع کے بدلے ایک صاع عجوہ کھجوریں دے گیا۔ یہ وہی ہیں ۔ اپ تناول فرمایئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام کھجوریں پھینک دیں اور فرمایا یہ واپس بھیج دو مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے ۔ کھجور کھجور کے بدلے ، گندم گندم کے بدلے ، جو جو کے بدلے ، سونا سونے کے بدلے ، چاندی چاندی کے بدلے ہاتھوں ہاتھ ہو اور برابر ، برابر ہو تو جائز ہے جو زیادہ ہو گا وہ سود ہے پھر اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے متعلق جن کو ماپا جاتا ہے اور جن کا وزن کیا جاتا ہے بھی یہی فرمایا۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا شرکیہ ادا کرتے ہوئے ان کو جنت کی دعائیں دیں اور کہنے لگے آج آپ نےمجھے وہ بات یاد دلا دی ہے جس کو میں بھلا چکا تھا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں اس کے بعد آپ بڑی شدت کے ساتھ بیع صرف سے منع کیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2282

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2283

2283 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَيَّاشٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ اشْتِرَاءِ السُّلْتِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: لَا يَصِحُّ. وَقَالَ سَعْدٌ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ، الرُّطَبُ يَنْقُصُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا يَصِحُّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «

حضرت ابو عیاش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کھجوروں کے بدلے جو خریدنے کے متعلق مسئلہ پوچھا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ان کے درمیان کمی زیادتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا یہ بیع جائز نہیں ہے ۔ اور حضر ت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خشک کھجوروں کے عوض تر کھجوریں خریدنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ان کے درمیان فرق ہے ؟ لوگوں نےکہا جی ہاں ! تر کھجوریں کم ہو جاتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو یہ جائز نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

نَعَمْ، الرُّطَبُ يَنْقُصُ. ← رَسُولُ اللَّهِ «أَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ؟» ← اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، ← سَعْدٌ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← لَا يَصِحُّ. ← نَعَمْ ← سَعْدٌ: أَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ؟ ← اشْتِرَاءِ السُّلْتِ بِالتَّمْرِ، ← سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ← أَبَا عَيَّاشٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2283

chevron_left Previous
1…121314…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section