Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2236

2236 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلَّامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ مِنْ أَعْرَابِيٍّ جَزُورًا بِتَمْرٍ، وَكَانَ يَرَى أَنَّ التَّمْرَ عِنْدَهُ، فَإِذَا بَعْضُهُ عِنْدَهُ، وَبَعْضُهُ لَيْسَ عِنْدَهُ، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ بَعْضَ تَمْرِكَ وَبَعْضُهُ إِلَى الْجُذَاذِ» فَأَبَى، فَاسْتَسْلَفَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَهُ، فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2236 - يحيى بن سلام ضعيف ولم يخرج له أحد

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے کھجوروں کے بدلے اونٹ خریدا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ اونٹ کی پوری قیمت کی ) کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہیں لیکن جب دیکھا تو وہ کھجوریں کم تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس دیہاتی سے ) کہا : کیا آپ کے پاس یہ گنجائش ہے کہ کچھ کھجوریں ابھی لے لو اور بقیہ پھل آنے تک ( میں دے دوں گا )؟ اس نے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے ادھار کھجوریں پکڑ کر اس کو دیں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يحيى بن سلام ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2236

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2237

2237 - أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْفَقِيهُ بِمَكَّةَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ سَعْنَةَ، كَانَ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ، فَجَبَذَ ثَوْبَهُ عَنْ مَنْكِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكُمْ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَصْحَابُ مَطْلٍ، وَإِنِّي بِكُمْ لَعَارِفٌ، قَالَ: فَانْتَهَرَهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُمَرُ أَنَا وَهُوَ كُنَّا إِلَى غَيْرِ هَذَا مِنْكَ أَحْوَجَ، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْقَضَاءِ، وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التَّقَاضِي، انْطَلِقْ يَا عُمَرُ أَوْفِهِ حَقَّهُ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ أَجَلِهِ ثَلَاثٌ فَزِدْهُ ثَلَاثِينَ صَاعًا لِتَزْوِيرِكَ عَلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2237 - مرسل

حضرت عبداللہ بن سالم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ زید بن سعنہ کا تعلق یہودی علماء سے ہے ۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا کوئی قرضہ لینے کےلیے آیا ۔ اس نے آپ کے دائیں کندھے سے کپڑے کوپکڑکر کھینچا اور کہنے لگا اے بنی عبدالمطلب ! میں تم لوگوں کو جانتا ہوں تم بہت ٹال مٹول کرنے والے لوگ ہو ( راوی) فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ڈانٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر ! اس کو ڈانٹنے کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ تو مجھے اچھے طریقے سے ادائیگی کا مشورہ دے اور اس کو اچھے طریقے سے تقاضے کا مشورہ دے ۔ اے عمر جاؤ اور اس کا پورا حق ادا کردو اگرچہ اس کی مدت پوری ہونے میں ابھی تین دن باقی ہیں اور چونکہ تو نے اس کو جھڑکا ہے اس لیے ( اس کے کفارے کے طور پر ) 30 صاع زیادہ دینا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2237

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2238

2238 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْ فِي عَفَافٍ وَافٍ، أَوْ غَيْرَ وَافٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2238 - على شرط البخاري

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے حق کا مطالبہ کرے اس کو چاہیے کہ احسن انداز میں مطالبہ کرے وہ پوری ادائیگی کرے یا نہ کرے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیارکے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2238

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2239

2239 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُجِيبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَاسِينَ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِ الْحَقِّ: " خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ، - وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: - وَافٍ أَوْ غَيْرَ وَافٍ "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب حق سے فرمایا اپنا حق تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے طلب کرو اور اس کے حساب رکھو ، وہ ادائیگی پوری کرے یا نہ کرے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ، ← سَعِيدُ بْنُ يَاسِينَ الطَّائِفِيُّ، ← أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُجِيبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2239

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2240

2240 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ الْبَاسَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، أَنَّ عِكْرِمَةَ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، كَانُوا " مِنْ أَبْخَسِ النَّاسِ كَيْلًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ} [المطففين: 1] ، فَأَحْسَنُوا الْكَيْلَ بَعْدَ ذَلِكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُفَسَّرٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2240 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ کم تولنے میں سب سے آگے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی " ویل للمطففین" ( کم تولنے والوں کی خرابی ہے ) تو اس ( آیت کے نزول ) کے بعد ان لوگوں نے پورا تولنا شروع کر دیا ۔ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیارکے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مفسر حدیث اس حدیث کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ← الحسن بن واقد ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ الْبَاسَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2240

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2241

2241 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، اسْتَخْلَفَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ الْغِفَارِيَّ فَقَدِمْنَا فَشَهِدْنَا مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ {كهيعص} [مريم: 1] وَفِي الثَّانِيَةِ {وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ} [المطففين: 1] فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: وَيْلٌ لِأَبِي فُلَانٍ لَهُ مَكِيلَانِ يَسْتَوْفِيَ بِوَاحِدٍ، وَيَبْخَسُ بِآخَرَ، فَأَتَيْنَا سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ فَجَهَّزَنَا «فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْفَتْحِ بِيَوْمٍ أَوْ بَعْدَهُ بِيَوْمٍ؟»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کو گئے تو حضرت سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا ۔ ہم آئے تو فجر کی نماز میں ان کے ساتھ شریک ہوئے ۔ انہوں نے پہلی رکعت میں کھیعص اور دوسری رکعت میں ویل اللمطففین پڑھی ، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ فلاں شخص کے لیے تو واقعی ہلاکت ہے کیونکہ اس کے پاس دو ترازو ہیں ایک کے ساتھ پورا وصول کرتا ہے اور ( دینے کے لیے دوسرا ترازو استعمال کرتا ہے ) اس دوسرے کے ساتھ وہ تول میں کمی کرتا ہ ہم سباع بن الفتح کے پاس آئے اس نے ہماری تیاری کروائی پھر ہم فتح خیبر سے ایک دن پہلے یا شاید یہ فرمایا کہ ایک دن بعد ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← خُثَيْمُ بْنُ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2241

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2242

2242 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَأَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ مَهْرٌ لِزَانِيَةٍ، وَلَا ثَمَنُ الْكَلْبِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2242 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زانیہ کے لیے حق مہر حلال نہیں ہے اور کتے کے کمائی جائز نہیں۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ، وَأَبِي حَازِمٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ العباس بن الفضل الأسفاطي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2242

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2243

2243 - أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ، ثنا جَدِّي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ حُصَيْنٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَأَجْرِ الْكَاهِنِ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ»

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کے ثمن ، زانیہ کا مہر اور نجومی کی اجر ت اور حجام ( فصد لگانیوالا ) کی کمائی سے منع کیا ہے ۔

ثمن الكلب ومهر البغي وأجر الكاهن وكسب الحجام ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ حُصَيْنٌ، ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← جدي أحمد بن إبراهيم ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2243

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2244

2244 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَوَّارِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ» تَابَعَهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2244 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت وصول کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ حدیث اعمش سے روایت کرنے میں عیسیٰ بن یونس نے حفص بن غیاث کی متابعت کی ہے ۔ ( ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے )

الْأَعْمَشِ [التعليق من تلخيص الذهبي] على شرط مسلم ← ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ» تَابَعَهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَوَّارِيُّ الْكُوفِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2244

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2245

2245 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الْعَدْلُ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ» تَابَعَهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت لینے سے منع کیا ہے ۔ یہ حدیث جابر سے روایت کرنے میں ابو زبیر نے ابو سفیان کی متابعت کی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

جَابِرٍ ← ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ» تَابَعَهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الْعَدْلُ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2245

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2246

2246 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ، مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْهِرَّةِ وَأَكْلِ ثَمَنِهَا» حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2246 - عمر بن زيد واه

حضرت ابو زبیر ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی ( کا گوشت) کھانے اور اس کی قیمت کھانے سے منع کیا ہے ۔ اعمش کی ابو سفیان کے ذریعے روایت کردہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَكْلِ الْهِرَّةِ وَأَكْلِ ثَمَنِهَا حَدِيثُ الْأَعْمَشِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عبد الرزاق أنبأ عمر بن زيد من أهل صنعاء ← صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2246

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2247

2247 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ، وَعَنْ أَكْلِ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِي وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ» أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2247 - على شرط البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ ( پلیدی کھانے والے جانور) کا دودھ پینے اور مجثمہ ( وہ پرندہ یا خر گوش جس کو باندھ کر تیرو غیرہ مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے ) کا گوشت کھانے اور مشکیزے کے منہ سے ( منہ لگا کر ) پینے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہیں ( جیسا کہ درج ذیل ہے) ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← يحيى بن أبي طالب أنبأ عبد الوهاب بن عطاء أنبأ سعيد بن أبي عروبة ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2247

chevron_left Previous
1…91011…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section