Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2130

2130 - قَالَ الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ الْمَكِّيُّ، وَأَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، يَقُولُ: بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ عَلَيَّ ثِيَابِي وَسِلَاحِي ثُمَّ آتِيَهُ. قَالَ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ، ثُمَّ طَأْطَأَ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَمْرُو إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ، فَيُغْنِمُكَ اللَّهُ، وَيُسَلِّمُكَ، وَأَرْغَبُ لَكَ رَغْبَةً صَالِحَةً مِنَ الْمَالِ» قَالَ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا عَمْرُو نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ إِنَّمَا أَخْرَجَا فِي إِبَاحَةِ طَلَبِ الْمَالِ «، حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» مَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ " فَقَطْ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2130 - على شرط مسلم

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تیاری کر کے جنگلی سازو سامان سے لیس ہو کر میرے پاس آؤ۔ ( عمر و بن العاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ میں تیار ی کر کے آپ کی خدمت میں آ گیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر میری جانب دیکھا پھر آنکھیں جھکا کر بولے : اے عمرو ! میں آپ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے مال غنیمت ( بھی) دے اور تجھے سلامتی ( بھی ) دے اور میں تیرے لیے پاک صاف مال کی دلچسپی رکھتا ہوں ( حضرت عمر و رضی اللہ عنہ بولے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے مال کی خواہش میں تو اسلام قبول نہیں کیا ہے بلکہ میں تو اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اختیار کرنے کے لیے مسلمان ہوا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نیک آدمی کے لیے حلال مال ایک نعمت ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل کیا گیا ۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے طلب مال کے جواز میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے " جو شخص اپنا حق لیتا ہے تو یہ بہت ہی اچھی مدد ہے "۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أبو بكر بن اسحاق الفقيه وأبو بكر بن ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أبو يحيى بن أبي مسرة المكي، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2130

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2131

2131 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا جَدِّي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَعَلَيْهِ أَثَرُ غُسْلٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ، قَالَ فَظَنَنَّا أَنَّهُ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَاكَ أَصْبَحْتَ طَيِّبَ النَّفْسِ. قَالَ: «أَجَلْ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ» قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ الْغِنَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى، وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ» هَذَا حَدِيثٌ مَدَنِيٌّ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالصَّحَابِيُّ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ هُوَ يَسَارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2131 - صحيح

حضرت معا ذبن عبداللہ بن خبیب الجہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو آپ پر غسل کا اثر تھا اور آپ بہت خوش ( نظر آ رہے تھے ) راوی فرماتے ہیں کہ ہم سمجھے کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پا س سے تشریف لا رہے ہیں ۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ نے بڑے ہشاش بشاد انداز میں صبح کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اللہ کا شکر ہے (راوی ) فرماتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دولتمندی کا ذکر کیا اور فرمایا کیا اور فرمایا: صاحب تقویٰ شخص کو دولتمندی کا کوئی نقصان نہیں ہے اور صاحب تقویٰ کے لیے دو لتمندی سے زیادہ بہتر " صحت" ہے اور طبعیت کا ہشاش ہونا بھی ( اللہ تعالیٰ کی ) نعمت ہے ۔ یہ حدیث مدنی ہے " صحیح الاسناد " ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ہے اور وہ صحابی جن سے سلیمان بن بلال رضی اللہ عنہ کا سماع ثابت نہیں ہے وہ یسار بن عبداللہجیہنی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

عَمِّہٖ ← أَبِيهِ ← مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيَّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ إسماعيل بن قتيبة ← عبد الله بن وهب أنبأ سليمان بن بلال ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2131

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2132

2132 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ جَدِّهِ خَالِدِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَغَارَ بِفَرَسَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ فَأُصِيبَا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُصِيبَ فَرَسَايَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ اسْتَزَادَهُ فَزَادَهُ، ثُمَّ اسْتَزَادَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَعْطُوهُ، وَالسَّائِلُ مِنْهَا كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2132 - صحيح

حضرت خالد بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے غزوہ خیبر کے دن دو گھوڑوں کے ہمراہ جنگ لڑی اور یہ دونوں گھوڑے جنگ میں مارے گئے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دونوں گھوڑے ہلاک ہو گئے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کچھ مال دیا ۔ انہوں نے مزید مال کی خواہش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید دے دیا ، انہوں نے پھر مزید طلب کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے حکیم ! یہ مال سبز اور میٹھا ہے جو لوگوں سے مانگتا ہے لوگ اسے دے دیتے ہیں اور اس کا مانگنے والا ایسا ہی جیسے کوئی کھا رہا ہو لیکن و ہ سیر نہ ہو سکے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَدِّهِ خَالِدِ بْنِ حِزَامٍ، ← الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ حِزَامٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُثْمَانُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ← أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2132

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2133

2133 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَجْمِلُوا فِي طَلَبِ الدُّنْيَا فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ لِمَا كُتِبَ لَهُ مِنْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2133 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دینا مانگنے میں میانہ روی سے کم لو کیونکہ جو تمہارے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے وہ تمہیں مل کر ہے گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم ( ر۔) دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل کیا ہے ۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعَیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← عبد الله بن وهب أنبأ سليمان بن بلال ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2133

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2134

2134 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ اللَّيْثِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَبْدٌ لَيَمُوتَ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ رِزْقٍ هُوَ لَهُ، فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، أَخْذُ الْحَلَالِ وَتَرْكُ الْحَرَامِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَشَاهِدَهُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2134 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رزق کو آہستہ آہستہ حاصل مت کرو کیونکہ کوئی شخص اس وقت تک مرے نہیں جب تک وہ اپنا پورا رزق وصول نہ کر لے گا ۔ اس لیے اس کی طلب میں میانہ روی اختیار کرو ، حلال کو اختیار اور حرام سے اجتناب کر و۔ ا س حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ حضرت ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور یہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر " صحیح " ہے ۔ ( یہ حدیث درج ذیل ہے )۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن عيسى، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ اللَّيْثِ الْمَرْوَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2134

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2135

2135 - أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِزْقَهُ، فَلَا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ، وَاتَّقُوا اللَّهَ أَيُّهَا النَّاسُ، وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حُرِّمَ» وَأَيْضًا لَهُ شَاهِدٌ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِزِيَادَاتِ أَلْفَاظٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2135 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنا پورا رزق وصول نہیں کر لےگا۔ اس لیے رزق کو آہستہ آہستہ حاصل مت کرو اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور ( دنیا کی )طلب میں میانہ روی سے کام لو ۔ حلال کو اختیار کرو اور حرام کو چھوڑد و۔ اس کی ایک دوسری حدیث شاہد ہے جو کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے تاہم اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے ( وہ حدیث درج ذیل ہے )

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2135

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2136

2136 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ مِنْ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلَى الْجَنَّةِ، إِلَّا قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَا عَمَلٌ يُقَرِّبُ إِلَى النَّارِ، إِلَّا قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ، لَا يَسْتَبْطِئَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ رِزْقَهُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَلْقَى فِي رُوعِيَ أَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَنْ يَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِزْقَهُ، فَاتَّقُوا اللَّهَ أَيُّهَا النَّاسُ، وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، فَإِنِ اسْتَبْطَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رِزْقَهُ، فَلَا يَطْلُبْهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُنَالُ فَضْلُهُ بِمَعْصِيَةٍ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے ہر اس عمل کا تمہیں حکم کر دیا ہے جو جنت کے قریب کرنے والا اور ہر اس عمل سے منع کیا ہے جو تمہیں دوزخ کے قریب کرتا ہے اس لیے کوئی شخص اپنا رزق آہستہ آہستہ حاصل نہ کرے ۔ بے شک حضرت جبریل امین علیہ السلام نے میرے دل میں بات القا کی ہے تم میں سے کوئی شخص اپنا پورا رزق وصول کیے بغیر دنیا سے رخصت نہیں ہوگا اس لیے اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور طلب میں میانہ روی اختیار کرو۔ اگر کوئی اپنا رزق وصول کرنے میں تاخیر کر ے گا تو یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ساتھ طلب کرے گا اور یاد رکھئے۔ اللہ تعالیٰ گناہ کے عوض اپنا فضل عطا نہیں کرتا ہے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الثَّقَفِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2136

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2137

2137 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشِ بْنِ قَيْسٍ الرَّحَبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُغْبَطَنَّ جَامِعُ الْمَالِ مِنْ غَيْرِ حِلِّهِ، - أَوْ قَالَ: مِنْ غَيْرِ حَقِّهِ، - فَإِنَّهُ إِنْ تَصَدَّقَ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ، وَمَا بَقِيَ كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حرام مال جمع کرنے والے پر رشک مت کرو یا (شاید یہ فرمایا کہ ) ناحق مال جمع کرنے والے پر ( رشک مت کرو) اس لیے کہ اگر وہ اس مال کو صدقہ کرے تو قبول نہیں ہے اور جو باقی رہے گا وہ اس کے لیے جہنم کا باعث ہو گا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حَنَشِ بْنِ قَيْسٍ الرَّحَبِيِّ، ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ محمد بن إِبْرَاهِيمُ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2137

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2138

2138 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ عَاصِمٍ وَمِنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ وَمِنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا قَوْمًا نُسَمِّي السَّمَاسِرَةَ، وَكُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِأَحْسَنَ مِنِ اسْمِنَا فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْكَذِبُ وَالْيَمِينُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «لِمَا قَدَّمْتُ ذِكْرَهُ مِنْ تَفَرُّدِ أَبِي وَائِلٍ بِالرِّوَايَةِ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، وَهَكَذَا رَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2138 - صحيح

حضر ت قیس بن ابی عرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہماری قوم کو " سما سرہ " ( دلال ) کہا جاتا تھا ۔ اور ہم بقیع میں خریدو فروخت کیا کرتے تھے پھر ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے اچھے نام کے ساتھ پکارا ( یوں بولے) اے گروہ تاجراں ! تجارت میں جھوٹ اور قسمیں شامل ہو جایا کرتی ہیں اس لیے اس کو صدقہ کے ساتھ ملا دیا کرو۔ یہ حدی صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اس کی وجہ پہلے ہم نے ذکر کر دی ہے ۔ وہ یہ کہ قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں ابو وائل منفرد ہیں۔ اس حدیث کو منصور بن المعتمر ، مغیرہ بن مقسم اور حبیب ابن ابی ثابت نے بھی ابو وائل سے روایت کیا ہے ۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ← أَبِي وَائِلٍ ← مِنْ عَاصِمٍ وَمِنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ وَمِنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2138

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2139

2139 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مُوسَى قَالَا: أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا فِي الْمَدِينَةِ نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا، وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ، وَيُسَمِّينَا النَّاسُ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا أَنْفُسَنَا وَسَمَّانَا النَّاسُ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِصَدَقَةٍ»

منصور نے ابو وائل کے واسطے سے حضرت قیس بن ابی غرزہ الغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں ہم مدینۃ المنورہ میں وسقوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور ہم اپنے آپ کو " سماسرہ " (دلال ) کہا کرتے تھے اور دوسرے لوگ بھی ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے ایک دن رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس نام سے زیادہ اچھے نام سے پکارا جس کے ساتھ ہم اپنے آپ کو اور دوسرے لوگوں کو پکارتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ تاجراں ! تمہاری تجارت میں لغویات اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں اس لیے تم اپنی تجارت کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔ مغیرہ کی حدیث :

قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيِّ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ السَّعْدِيُّ أَنْبَأَ جَرِيرٌ ← أبو بكر بن إسحاق وأبو محمد بن موسى ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو حُذَيْفَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2139

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2140

2140 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السُّوقِ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ هَذَا السُّوقَ يُخَالِطُهَا حَلِفٌ، فَشُوبُوهَا بِصَدَقَةٍ»

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ابو وائل کے واسطے سے حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے " نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں ہمار ے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے گروہ تاجراں ! ان بازاروں میں قسمیں شامل ہو جاتی ہیں تو ان کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔ حبیب ابن ابی ثابت کی حدیث :

أَتَانَا النَّبِيُّ إِلَى السُّوقِ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ← أَبِي وَائِلٍ ← مُغِيرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2140

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2141

2141 - فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبِيعُ الرَّقِيقَ بِالْمَدِينَةِ وَكُنَّا نُسَمَّيَ السَّمَاسِرَةَ، فَسَمَّانَا بِأَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْأَيْمَانُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ» هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ "

حضرت ابن ابی ثابت رضی اللہ عنہ نے ابو وائل کے واسطے سے حضرت قیس ابن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس وقت ہم لوگ مدینہ میں غلاموں کی تجارت کرتے تھے اور ہم اپنے آپ کو سماسرہ (دلال ) کہتے تھےتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے زیادہ اچھے نام کے ساتھ پکارا جو ہم خود اپنا نام رکھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ تاجراں ! اس تجارت میں فضول گوئی اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں اس لیے اس کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔ (مذکورہ حدیث کی تین سندیں بیان کی گئی ہیں جبکہ ) یہ الفاظ سفیان ثوری کی روایت کے ہیں ۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ← أَبِي وَائِلٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2141

chevron_left Previous
1234…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section