المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2130
2130 - قَالَ الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ الْمَكِّيُّ، وَأَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، يَقُولُ: بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ عَلَيَّ ثِيَابِي وَسِلَاحِي ثُمَّ آتِيَهُ. قَالَ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ، ثُمَّ طَأْطَأَ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَمْرُو إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ، فَيُغْنِمُكَ اللَّهُ، وَيُسَلِّمُكَ، وَأَرْغَبُ لَكَ رَغْبَةً صَالِحَةً مِنَ الْمَالِ» قَالَ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا عَمْرُو نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ إِنَّمَا أَخْرَجَا فِي إِبَاحَةِ طَلَبِ الْمَالِ «، حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» مَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ " فَقَطْ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2130 - على شرط مسلم
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تیاری کر کے جنگلی سازو سامان سے لیس ہو کر میرے پاس آؤ۔ ( عمر و بن العاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ میں تیار ی کر کے آپ کی خدمت میں آ گیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر میری جانب دیکھا پھر آنکھیں جھکا کر بولے : اے عمرو ! میں آپ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر بھیجنا چاہتا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے مال غنیمت ( بھی) دے اور تجھے سلامتی ( بھی ) دے اور میں تیرے لیے پاک صاف مال کی دلچسپی رکھتا ہوں ( حضرت عمر و رضی اللہ عنہ بولے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے مال کی خواہش میں تو اسلام قبول نہیں کیا ہے بلکہ میں تو اسلام کی وجہ سے مسلمان ہوا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اختیار کرنے کے لیے مسلمان ہوا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نیک آدمی کے لیے حلال مال ایک نعمت ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل کیا گیا ۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے طلب مال کے جواز میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے " جو شخص اپنا حق لیتا ہے تو یہ بہت ہی اچھی مدد ہے "۔
عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أبو بكر بن اسحاق الفقيه وأبو بكر بن ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أبو يحيى بن أبي مسرة المكي، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2130
