Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2079

2079 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ} [الإخلاص: 2] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَجَبَتْ» فَسَأَلْتُهُ: مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْجَنَّةُ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَذْهِبَ إِلَى الرَّجُلِ فَأُبَشِّرَهُ، ثُمَّ فَرِقْتُ أَنْ يَفُوتَنِي الْغَدَاءُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآثَرْتُ الْغَدَاءَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى الرَّجُلِ فَوَجَدْتُهُ قَدْ ذَهَبَ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جارہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سورۂ اخلاص پڑھتے سناتو فرمایا : واجب ہوگئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیاواجب ہوگئی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سوچا کہ اس کے پاس جاؤں اور اس کو خوشخبری سناؤں ، پھر مجھے یہ فکر لاحق ہوئی کہ (اگر میں اس کی طرف چلا گیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ناشتہ سے محروم ہو جاؤں گا۔ اس لئے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ناشتہ کو ترجیح دی۔ پھر( ناشتہ سے فارغ ہوکر ) میں اس آدمی کی طرف گیا لیکن اس وقت وہ وہاں سے جا چکا تھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

رجلا يقرأ ← أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← عبيد الله بن عبد الرحمن ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ← أبو بكر بن أبي نصر المروزي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2079

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2080

2080 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا حَامِدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ حَبِيبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «إِنَّ أَصْفَرَ الْبُيُوتِ بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، فَاقْرَءُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّكُمْ تُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ الم، وَلَكِنِّي أَقُولُ أَلِفٌ، وَلَامٌ، وَمِيمٌ» . قَدْ رَفَعَهُ غَيْرُهُ عَنِ الدَّشْتَكِيِّ، حَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سب سے خالی گھر وہ ہے جس میں قرآن کی تلاوت نہ کی جائے ، اس لئے قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اس کے ہر حرف کے بدلے تمہیں دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم (ایک حرف ہے )بلکہ میں کہتا ہوں الف، لام میم ۔ ( تین حروف ہیں ) اس حدیث کو حامد بن محمود کے علاوہ محدثین رحمتہ اللہ نے الدشتکسی سے مرفوعاً روایت کیا ہے ،اس کی سند درج ذیل طریقہ سے ہے’’ حدّثناه ابو شعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله الدشتكي، حدثنا ابنی، حدثنا عمرو بن ابي قيس، عن عاصم، عن أبي الأحوص، عن عبد الله رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم‘‘۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ حَبِيبٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2080

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2081

2081 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، بِمِصْرَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ؟» قَالُوا: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» . «رُوَاةُ هَذَا الْحَدِيثِ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَعُقْبَةُ هَذَا غَيْرُ مَشْهُورٍ»

حضرت ( عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص روزانہ ایک ہزار آیتیں تلاوت کر نے کی استطاعت نہیں رکھتا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اور کون اس کی استطاعت رکھتا ہے؟ (یعنی کوئی بھی اس کی استطاعت نہیں رکھتا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی الهاكم التکاثر پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ؟ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ عقبہ غیرمشہور ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، بِمِصْرَ، ← أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2081

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2082

2082 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ عُمَيْرٍ مَوْلَى نَوْفَلِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنَامَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْتَطِيعُ أَحَدُنَا أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، قَالَ: «أَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقْرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت نہ سوئے جب تک ایک تہائی قرآن کی تلاوت نہ کر لے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص ایک تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: کياقل هو الله أحد، قل أعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس نہیں پڑھ سکتا؟یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ عُمَيْرٍ مَوْلَى نَوْفَلِ بْنِ عَدِيٍّ، ← يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ← عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهمدان

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2082

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2083

2083 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، قَالَ: «فَأَمَّنَا بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کی جماعت میں انہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

الْمُعَوِّذَتَيْنِ ← عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2083

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2084

2084 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ شَقِيقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بَعَثَ مُعَاذًا، وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا»

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اورابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کویمن کا گورنر بنا کربھیجا تو ان کو حکم دیا کہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دینا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبُو بُرْدَةَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الحسن بن شقيق ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2084

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2085

2085 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ السَّنْجَانِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَاجًا ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا وَكَانَتْ فِيهِ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت معاذ بن انس جھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص قرآن پاک پڑھے اور اس پرعمل کرے، اس کے والد کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی دنیا میں سورج کی روشنی سے تیز ہوگی ۔ تو تمہا را کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جس نے خوداس پرعمل کیا ہوگا۔ (اس کی عزت و تکریم کس قد رزیادہ ہوگی ) یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ السَّنْجَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي إِمْلَاءً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2085

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2086

2086 - أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَتَعَلَّمَهُ وَعَمِلَ بِهِ أُلْبِسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَاجًا مِنْ نُورٍ ضَوْءُهُ مِثْلُ ضَوْءِ الشَّمْسِ، وَيُكْسَى وَالِدَيْهِ حُلَّتَانِ لَا يَقُومُ بِهِمَا الدُّنْيَا فَيَقُولَانِ: بِمَا كُسِينَا؟ فَيُقَالُ: بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن برید واسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس کو سیکھا اور اس پرعمل کیا، اس کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی کی طرح ہو گی اور اس کے والد ین کوایسالباس پہنایا جائے گا جس کی قیمت پوری دنیا بھی نہیں ہوسکتی،وہ پوچھیں گے ہمیں یہ لباس کیوں پہنایا گیا ؟ ان کو جواب دیا جائے گا اس لئے کہ تمہارا بچہ قرآن کریم کا حافظ ، عالم اور عامل تھا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ← بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2086

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2087

2087 - وَأَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْمَلُوا بِالْقُرْآنِ، وَأَحِلُّوا حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ، وَاقْتَدُوا بِهِ، وَلَا تَكْفُرُوا بِشَيْءٍ مِنْهُ وَمَا تَشَابَهَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ فَرَدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي كَيْمَا يُخْبِرُوكُمْ، وَآمِنُوا بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ، وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ وَلْيَسَعْكُمُ الْقُرْآنُ وَمَا فِيهِ مِنَ الْبَيَانِ، فَإِنَّهُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، وَمَا حَلَّ مُصَدِّقٌ إِلَّا وَلِكُلِّ آيَةٍ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ مِنَ الذِّكْرِ الْأَوَّلِ، وَأُعْطِيتُ طَهَ، وَطَوَاسِينَ، وَالْحَوَامِيمَ، مِنْ أَلْوَاحِ مُوسَى، وَأُعْطِيتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: قرآن پرعمل کرو، اس کے حلال کو حلال جانو،اوراس کے حرام کر دہ کوحرام جانو ،اس کی اقتداء کرو،اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار مت کرو اور جو چیز اس میں سے تم پر متشابہ ہو جائے اس کواللہ اور میرے بعد اولو الامر کی طرف لوٹادوتا کہ وہ تمہیں اس کے بارے میں کوئی خبر د یں ۔اور تو را ۃ ، زبور ،انجیل اور ان تمام کتب وصحائف پرایمان رکھو جواللہ تعالی کی طرف سے انبیاء کرام کو دیئے گئے ۔ اور قیامت کے دن ہر آیت کا نور ہو گا اور مجھے گذشتہ لوگوں کے ذکر کے طور پر’’ سورۃ بقرہ‘‘ دی گئی ۔ اور مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تختیوں میں طہٰ، ۲ طس اورحم دیئے گئے ۔اور عرش کے تحت سے سورۂ فاتحہ دی گئی ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← وَأَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2087

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2088

2088 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ؟ قَالَ: «يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ، إِلَى آخِرِهِ، وَمِنْ آخِرِهِ إِلَى أَوَّلِهِ»

حضرت این عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حال اور مرتحل ( سفر سے آ کر دوبارہ سفر پر جانا) صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : حال اور مرتحل کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قر آن کے اول سے آخر کی طرف سفر کیا جائے اور آخر سے اول کی طرف ۔ (یعنی قرآن ختم ہوتے ہی دوبارہ شروع کر لیا جائے )۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← صالح المري ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← أحمد بن ملاعب بن حيان ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2088

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2089

2089 - وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ قُرَيْشٍ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا صَالِحٌ الْمُرِّيٌّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى الْعَامِرِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْحَالُّ، الْمُرْتَحِلُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ؟ قَالَ: «صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِهِ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَهُ، وَمِنْ آخِرِهِ حَتَّى يَبْلُغَ أَوَّلَهُ كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ» . «تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ وَهُوَ مِنْ زُهَّادِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ، لَمْ يُخَرِّجَاهُ» . وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ساعمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حال اور مرتحل ۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حال اور مرتحل کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کا قاری اول سے آخر کی طرف سفر کرتے کرتے آخر تک پہنچ جا تا ہے پھر وہاں سے سفر کر تے ہوئے اول تک پہنچ جا تا ہے ۔ جیسے ہی سفرختم کرے،فورا ً دو بارہ سفر شروع کر لے۔ یہ حدیث روایت کرنے میں صالح المری متفرد ہیں اور اہل بصرہ کے عبادت گزارلوگوں میں سے ہیں ۔ مگرشیخین رحمتہ اللہ نے ان کی روایات نقل نہیں کی ہیں ۔ اور ایک حدیث اس کی شاہد ہے جو کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ ( وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے)

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى الْعَامِرِيِّ ← قَتَادَةَ ← صالح المري ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ قُرَيْشٍ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2089

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2090

2090 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَكْرٍ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ أَوْ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «الْحَالُّ، الْمُرْتَحِلُ الَّذِي يَفْتَحُ الْقُرْآنَ وَيَخْتِمُهُ، صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ، وَمِنْ آخِرِهِ إِلَى أَوَّلِهِ، كُلَّمَا حَلَّ ارْتَحَلَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون ساعمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حال اور مرتحل ۔اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حال اور مرتحل کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کا قاری قرآن کریم شروع کرے اوراس کے آخر تک پہنچے ۔ قرآن پڑھنے والا اول سے آخر کی طرف سفر کرتے کرتے آخر تک پہنچ جا تا ہے پھر وہاں سے سفر کرتے ہوئے اول تک پہنچ جا تا ہے ۔ جیسے ہی سفرختم کرے،فورا ً دو بارہ سفر پر نکل جائے ۔

قامَ رَجُلٌ إلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَكْرٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2090

chevron_left Previous
1…567…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section