المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 2068
2068 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزْنَجَرْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَدِّثْنِي عَنْ قِصَّةِ الشَّيْطَانِ حِينَ أَخَذْتَهُ، فَقَالَ: جَعَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدَقَةِ الْمُسْلِمِينَ فَجَعَلْتُ الثَّمَرَ فِي غُرْفَةٍ، فَوَجَدْتُ فِيهِ نُقْصَانًا، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَذَا الشَّيْطَانُ يَأْخُذُهُ» قَالَ: فَدَخَلْتُ الْغُرْفَةَ فَأَغْلَقْتُ الْبَابَ عَلَيَّ فَجَاءَتْ ظُلْمَةٌ عَظِيمَةٌ فَغَشِيتُ الْبَابَ، ثُمَّ تَصَوَّرَ فِي صُورَةِ فِيلٍ، ثُمَّ تَصَوَّرَ فِي صُورَةٍ أُخْرَى، فَدَخَلَ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَشَدَدْتُ إِزَارِي عَلَيَّ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ، قَالَ: فَوَثَبْتُ إِلَيْهِ فَضَبَطْتُهُ فَالْتَقَتْ يَدَايَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي فَإِنِّي كَبِيرٌ ذُو عِيَالٍ كَثِيرٍ وَأَنَا فَقِيرٌ وَأَنَا مِنْ جِنِّ نَصِيبِينَ وَكَانَتْ لَنَا هَذِهِ الْقَرْيَةِ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ صَاحِبُكُمْ، فَلَمَّا بُعِثَ أُخْرِجْنَا عَنْهَا فَخَلِّ عَنِّي، فَلَنْ أَعُودَ إِلَيْكَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ، وَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَنَادَى مُنَادِيهِ أَيْنَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا مُعَاذُ؟» فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ سَيَعُودُ» فَعَادَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ الْغُرْفَةَ، وَأَغْلَقْتُ عَلَيَّ الْبَابَ فَدَخَلَ مِنْ شَقِّ الْبَابِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ فَصَنَعْتُ بِهِ كَمَا صَنَعْتُ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي فَإِنِّي لَنْ أَعُودَ إِلَيْكَ، فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَلَمْ تَقُلْ: لَا أَعُودُ؟ قَالَ: فَإِنِّي لَنْ أَعُودَ وَآيَةُ ذَلِكَ عَلَيَّ أَنْ لَا يَقْرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ خَاتِمَةَ الْبَقَرَةِ فَيَدْخُلَ أَحَدٌ مِنَّا فِي بَيْتِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَعَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ مَرْوَزِيٌّ ثِقَةٌ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ، وَرَوَى عَنْهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ هَذَا الْحَدِيثَ بِعَيْنِهِ» .
ابوالاسودالد یلی فرماتے ہیں میں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے شیطان کا وہ قصہ سنائیں جب آپ نے اس کو پکڑ لیا تھا ۔ انہوں نے بتایا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے جمع کئے ہوئے ) صدقات کی نگرانی پر مقرر کیا۔ میں نے تمام پھل ایک کوٹھڑی میں رکھ دیئے ۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ پھل کم ہو گئے ہیں ، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہاں سے شیطان لے گیا ہے ۔ ( معاذ ) فرماتے ہیں : میں نے خودکوٹھڑی کے اندر داخل ہو کر اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ پھر ایک اندھیرا سا چھا گیا جس نے دروازے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا پھر مجھے ایک مرتبہ کسی ہاتھی کی صورت محسوس ہوئی ، دوبارہ کسی دوسری صورت میں محسوس ہوا پھر وہ دروازے کی پھٹن میں سے داخل ہوا ، میں نے اپنی چادر اپنے او پر کھینچ لی تو وہ آ کر کھجور یں کھانے لگ گیا۔ میں نے اچھل کر اس کو دبوچ لیا۔ میں نے اس کو کہا: اے اللہ! کے دشمن ! ( یہ کیا کر رہے ہو؟) اس نے جوابا کہا: مجھے مچھوڑ دو کیونکہ میں بوڑھا آدمی ہوں ، کثیر عیالدارشخص ہوں اور فقیر ہوں اور میں نصیبین کے جنات میں سے ہوں ۔ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہ علاقہ ہمارا مسکن ہوا کرتا تھا۔ جب ان کی بعثت ہوئی تو ہمیں یہاں سے نکال دیا گیا ۔ آپ مجھے چھوڑ دیں، میں دو بارہ ادھر نہیں آؤں گا۔ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بتادیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑ ھالی تو آواز دے کر پوچھا: معاذ بن جبل کہاں ہے؟ میں اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ ! تیرے قیدی کا کیا بنا؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات والا قصہ سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دوبارہ پھرآئے گا ۔ ( پھر حضرت معاز رضی اللہ عنہ ) لوٹ آئے۔ (معاذ ) فرماتے ہیں : میں نے پھر کوٹھری میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا۔ وہ پھر دروازے کی پھٹن میں سے داخل ہوا اور کھجور یں کھانے لگ گیا، میں نے اس کے ساتھ وہی والا معاملہ کیا جو پچھلی رات کیا تھا ۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دیں میں دوبارہ یہاں نہیں آؤں گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن تو نے گذشتہ رات بھی یہی بات کی تھی کہ میں لوٹ کر نہیں آؤں گا ؟ اس نے کہا: (اب میں پکاوعد ہ کر تا ہوں کہ) ہر گز لوٹ کر نہیں آؤں گا ۔ اور اس کی نشانی یہ ہے کہ جوشخص سورۂ بقرہ کی آخری آیات پڑھے تو اس رات ہم میں سے کوئی بھی اس گھر میں داخل نہیں ہوسکتا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔ اور عبدالمومن بن خالد المروزی حنفی ثقہ ہیں ، ان کی احادیث جمع کی جاتی ہیں اور بعینہ یہی حدیث زید بن الحباب نے ان سے روایت کی ہے ۔ ( جو کہ درج ذیل ہے)
أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ← عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزَنْجَرْدِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News on the merits of Surat Al-Baqarah · Hadith 2068
