Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2044

2044 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ اشْتَرَيْتُ مِقْسَمَ بَنِي فُلَانٍ فِي تَخْتٍ فِيهِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: «أَفَلَا أُنَبِّئُكَ بِمَا هُوَ أَكْثَرُ مِنْهُ رِيحًا؟» قَالَ: وَهَلْ يُوجَدُ؟ قَالَ: «رَجُلٌ تَعَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ» ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَتَعَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ. «إِنْ كَانَ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَفِظَ فِي إِسْنَادِهِ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ فَإِنَّهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ غَيْرَ أَنَّ الْبَصْرِيِّينَ مِنْ أَصْحَابِ الْمُعْتَمِرِ خَالَفُوهُ فِيهِ» .

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے فلاں کے بیٹے مقسم کوخریدا ہے،ا س میں مجھے بہت منافع حاصل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں جواس سے بھی زیادہ منافع بخش ہے؟ اس نے کہا: کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جوقر آن کی دس آیتیں سیکھ لے (وہ اس سے بھی زیادہ نفع میں ہے) ۔ وہ شخص چلا گیا اور اس نے دس آیتیں سیکھیں اور آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا( کہ میں نے دس آیتیں سیکھ لی ہیں )۔ اگر عمرو بن خالد نے اس کی سند میں سالم بن ابی الجعد کومحفوظ کیا ہے تو یہ امام مسلم رحمتہ اللہ معیار کے مطابق صحیح ہے البتہ معتمر کے بصری شاگردوں نے اس میں ان کی مخالفت کی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

«رَجُلٌ تَعَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ» فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَتَعَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ ← وَهَلْ يُوجَدُ؟ ← «أَفَلَا أُنَبِّئُكَ بِمَا هُوَ أَكْثَرُ مِنْهُ رِيحًا؟» ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ اشْتَرَيْتُ مِقْسَمَ بَنِي فُلَانٍ فِي تَخْتٍ فِيهِ كَذَا وَكَذَا، ← أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سَلْمَانَ، ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Hadith 2044

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2045

2045 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَا: ثنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ، أَوِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

مذکور ہ سند کے ہمراہ بھی ابوامامہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جیسا فرمان منقول ہے ۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي الْجَعْدِ، أَوِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ، ← عمرو بن علي وأحمد بن المقدام ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Hadith 2045

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2046

2046 - أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ» قَالُوا: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ» . «وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ عَنْ أَنَسٍ هَذَا أَمِثْلُهَا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: لوگوں میں کچھ اہل اللہ بھی ہوتے ہیں ،صحا بہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل قرآن ہی تو اہل اللہ اور اس کے خاص لوگ ہیں۔ یہی حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے تین سندوں کے ہمراہ منقول ہے ۔ان تینوں میں سے زیادہ جامع یہی ہے۔

أَنَسٍ، ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن بديل ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ

Hadith 2046

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2047

2047 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا شَاذَانُ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا تَعَلَّمْنَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ، لَمْ نَتَعَلَّمْ مِنَ الْعَشْرِ الَّذِي نَزَلَتْ بَعْدَهَا حَتَّى نَعْلَمَ مَا فِيهِ» . قِيلَ لِشَرِيكٍ مِنَ الْعَمَلِ؟، قَالَ: «نَعَمْ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم کی دس آیتیں سیکھ لیتے تو اس کے بعد نازل ہونے والی دس آیات سیکھنے سے پہلے ہم جان لیتے تھے کہ ان آیات میں کیا ہے؟ شریک سے پوچھا گیا: (یعنی یہ جان لیتے کہ ان میں کسی چیز پر) عمل ( کاحکم دیا گیا ہے)؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شَرِيکٍ ← شَاذَانُ الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2047

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2048

2048 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَةً مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلُهَا؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ حَتَّى تَعْلَمَهَا» فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْتُ مَعَهُ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي وَيَدِي فِي يَدِهِ فَجَعَلْتُ أَتَبَاطَأُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَخْرُجَ قَبْلَ أَنْ يُخْبِرُنِي بِهَا، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْبَابِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي، فَقَالَ: «كَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ؟» فَقَرَأْتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، فَقَالَ: " هِيَ، هِيَ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ} [الحجر: 87] الَّذِي أُعْطِيتُ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَى الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيهِ ". فَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ

حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: کیا میں تجھے ایسی سورۃ سکھاؤں جس جیسی سورت تو رات ، انجیل ، زبور میں نہیں ہے اور نہ ہی قرآن میں ( کوئی دوسری سورۃ ) اس کی مثل ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ تو یہ سورت سیکھے بغیر اس دروازے سے باہر نہیں نکلے گا (یعنی یہاں سے جانے سے پہلے میں تمہیں یہ سورت سکھادوں گا )۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھٹرے ہوئے ، آپ کے ہمراہ میں بھی کھڑا ہو گیا ، آپ نے میرے ساتھ با تیں کر نا شروع کیں اور میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا ، میں ٹال مٹول کر تے ست ست قدم اٹھار ہا تھا کیونکہ میں رسول پاک سے وہ سور ۃ پوچھے بغیر باہرنہیں نکلنا چاہتا تھا۔ پھر جب میں دروازے کے قریب پہنچا تو عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! و ہ سورت ( تو سکھا دیجئے )جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز شروع کر تے ہوتو قرآت کیسے کر تے ہو؟ میں نے سور ۃ فاتحہ پڑھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی ، یہی ۔ یہی وہ سبع مثانی ہے، جس کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے’’ ولقد اتيناك سبعا من المثاني والقران العظیم‘‘ جو مجھے دی گئی ہے ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔اس کی سند میں علاء بن عبدالرحمن ٰپراختلاف ہے ۔ چنانچہ اس حدیث کو مالک بن انس نے علاء بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے عامر بن کر یز کے غلام ابوسعید کے ذریعے حضرت ابی بن کعب سے روایت کیا ہے جبکہ شعبہ نے اس کو علاء بن عبد الرحمٰن کے واسطے سے ان کے والد کے ذریعے حضرت ابی بن کعب سے روایت کیا ہے ۔مالک بن انس کی حد یث :

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2048

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2049

2049 - فَأَخْبَرَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ كَفَّهُ، قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى يَدِي، قَالَ: وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «إِنِّي أَرْجُو أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى تَعْلَمَ سُورَةً مَا أُنْزِلَ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلُهَا» ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَبَاطَأُ فِي الْمَشْيِ رَجَاءَ ذَلِكَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي، قَالَ: «كَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا افْتُتِحَتِ الصَّلَاةُ؟» قَالَ: فَقَرَأْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ هَذِهِ السُّورَةُ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ»

حضرت مالک ،علاء بن عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عامر بن کر یز کے غلام ابوسعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب نماز پڑھ ر ہے تھے، جب و ہ نماز سے فارغ ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوروک لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑلیا(ابوسعید ) فرماتے ہیں: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مسجد سے باہر جار ہے تھے ( راوی) فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے تم وہ سورۃ سیکھ لو جو نہ تو رات میں نازل ہوئی ہے نہ انجیل میں اور نہ ہی قرآن کریم میں اس جیسی کوئی دوسری سورت ہے ۔ (ابی ) کہتے ہیں اسی امید پر میں بہت ست ست قدم اٹھار ہا تھا، پھر میں نے کہہ ہی دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ سورت ( کب سکھائیں گے؟ ) جس کا آپ نے مجھ سے وعد ہ فر مایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز شروع کرتا ہے تو کون سی سورت پڑھتا ہے؟ ( ابی ) کہتے ہیں: میں نے الحمد لله رب العالمین سے شروع کیا اور آخر تک پوری سورت پڑھ ڈالی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: یہی وہ سورۃ ہے، یہ سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے ۔ شعبہ کی حدیث:

الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ ← مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← فَأَخْبَرَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ،

Hadith 2049

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2050

2050 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَايِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ» . «وَقَدْ وَجَدْتُ لِحَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ شَاهِدًا فِي سَمَاعِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ مِنْ حَدِيثِ الْمَدَنِيِّينَ»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الحمد لله رب العالمین سے شروع کر کے سورت کے اختتام تک پڑھ کر سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی سبع مثانی ہے اور قر آن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ۔ (امام حاکم فرماتے ہیں) عبد الحمیر بن جعفر کی اس حدیث کی مجھے ایک شاہد حد یث بھی ملی ہے جس میں یہ تصریح موجود ہے کہ یہ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے خودسنی ہے ۔اس کی سند میں مدنی راوی ہیں ۔ ( شاہد حدیث درج ذیل ہے)

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَايِنِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ،

Hadith 2050

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2051

2051 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي يَا أُبَيُّ» فَقَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، فَقَالَ: " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ} [الأنفال: 24] لَا تَخْرُجْ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى أُعَلِّمَكَ سُورَةً مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ مِثْلَهَا، وَإِنَّهَا السَّبْعُ الَّذِي أُوتِيتُ الطُّوَلَ، وَإِنَّهَا الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ «.» قَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ فِي الْجَامِعِ الصَّحِيحِ، حَدِيثَ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ، أُمُّ الْقُرْآنِ، وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ» ، هَذِهِ اللفظةُ فَقَطْ "

حضرت ابو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی تو وہ اس وقت نماز میں مشغول تھے، اس لئے جواب نہ دے سکے ۔ ( جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے میری آواز پر جواب کیوں نہیں دیا ؟ انہوں نے کہا ؛ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالی نے نہیں فرمایا:’’استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم ‘‘اللہ اوراس کے رسول کا حکم مانو جب وہ تمہیں بلائے ۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) تیرے مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تجھے ایک ایسی سورۃ سکھاؤں گا کہ اللہ تعالی نے نہ تورات میں ایسی سورت نازل فرمائی ہے نہ ہی انجیل اور ز بور میں اور یہ وہ سات سورتیں ہیں جو پورے قرآن میں سب سے لمبی ہیں اور یہ قرآن عظیم ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ نے اپنی جامع صحیح میں ابن ابی ذئب کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ سعید المقبری نے حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’الحمد للہ‘‘ اُم القرآن ہے’’سبع مثانی‘‘ ہے اور’’ قرآن عظیم‘‘ہے، اس روایت میں صرف اتنے ہی الفاظ ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى

Hadith 2051

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2052

2052 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ نَقِيضًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ: " فُتِحَ بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يُفْتَحْ قَبْلَهُ قَطُّ، فَإِذَا مَلَكٌ يَقُولُ: أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ: فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ تَقْرَأْ مِنْهَا حَرْفًا إِلَّا أُعْطِيتَهُ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. هَكَذَا إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ مُخْتَصَرًا "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت جبریل امین علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھےکہ آسمان سے کسی چیز کی چر چراہٹ کی آواز سنائی دی ، آپ نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا۔ پھر فرمایا: آج آسمان کا ایک ایسا درواز ہ کھولا گیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ تو وہاں سے ایک فرشتہ بولا: میں تمہیں ان دونوروں کی خوشخبری دیتا ہوں جو صرف تمہیں ہی دیئے گئے ہیں اور تم سے پہلے کبھی کسی نبی کونہیں دیئے گئے ۔ (۱) سورۂ فاتحہ (۲) سورۂ بقرہ کی آخری آیات ۔ تم ان میں سے جوحرف بھی پڑھو گے تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔تا ہم امام مسلم رحمتہ اللہ نے یہ حدیث احمد بن جواس حنفی کی سند کے ہمراہ ابوالاحوص کے واسطے سے عمار بن رزیق سے مختصراً روایت کی ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبِي غَرَزَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2052

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2053

2053 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعْطِيتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ، وَالْمُفَصَّلَ النَّافِلَةَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: مجھے عرش کے نیچے سے’فاتحہ الا کتاب‘‘ اور’’المفصل‘‘ تحفے کے طور پر عطاء کی گئی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Hadith 2053

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2054

2054 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، أَوْ سَرِيَّةٍ فَمَرَرْنَا عَلَى أَهْلِ أَبْيَاتٍ فَاسْتَضَفْنَاهُمْ فَلَمْ يُضَيِّفُونَا، فَنَزَلْنَا بِأُخْرَى وَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ، فَأَتَوْنَا فَقَالُوا: هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَرْقِي فَقُلْتُ: أَنَا رَاقٍ، قَالَ: فَارْقِ صَاحِبَنَا، قُلْتُ: لَا، قَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا، قَالُوا: فَإِنَّا نُجَعِّلُ لَكُمْ فَجَعَلُوا لَنَا ثَلَاثِينَ شَاةً، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ وَأَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَأُرَدِّدُهَا حَتَّى بَرَأَ فَأَخَذْنَا الشِّيَاهَ فَقُلْنَا: أَخَذْنَاهُ وَنَحْنُ لَا نُحْسِنُ أَنْ نَرْقِيَ مَا نَحْنُ بِالَّذِي نَأْكُلُهَا حَتَّى نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَاهُ فَذَكَرْنَا لَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ: «وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا دَرَيْتُ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، وَلَكِنْ شَيْءٌ أَلْقَى اللَّهُ فِي نَفْسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ إِنَّمَا أَخْرَجَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مُخْتَصَرًا، وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ»

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ یا سر یہ میں بھیجا۔ ہمارا گز رایک بستی سے ہوا۔ ہم نے ان سے مہمان نوازی طلب کی ۔ انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی ۔تو ہم نے دوسری بستی میں پڑاؤ ڈال لیا۔ (اسی اثنا میں) ان کے سردار کوکسی چیز نے ڈس لیا۔ تو وہ لوگ ہمارے پاس آ کر کہنے لگے : تم میں سے کوئی شخص دم کر لیتا ہے؟ (ابوسعید ) فرماتے ہیں : میں نے کہا: جی ہاں ، میں دم کر لیتا ہوں ۔ انہوں نے کہا: تو ہمارے اس ساتھی کو دم کر دو ۔ میں نے انکار کر تے ہوئے کہا: ہم نے تم سے ضیافت طلب کی تھی مگر تم نے ہماری ضیافت نہ کی ۔انہوں نے کہا: ہم آپ کی خدمت کر دیں گے، چنانچہ انہوں نے تیس بکریوں کا وعدہ کرلیا۔ میں نے اس کے پاس آ کرسورۃ فاتحہ پڑھ پڑھ اس پر ہاتھ پھیر نا شروع کر دیا۔ میں یہ عمل دھرا تا رہا حتی کہ اللہ تعالی نے اس کو شفا دے دی ۔ تو ہم نے ان سے تیس بکریاں وصول کر لیں ۔لیکن ہم نے سوچ لیا کہ ہمیں اچھے طریقے سے دم تو کرنا آتانہیں ہے، اس لئے جب تک ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ نہیں پوچھ لیتے اس وقت تک ہم ان کونہیں کھائیں گے ۔ پھر جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس معاملہ کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیے پتہ تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ یہ دم ہے لیکن بس اللہ تعالی نے میرے دل میں یہ بات القاءکر دی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو کھاؤ اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھنا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔امام مسلم رحمتہ اللہ نے یحیٰ بن یحیٰ کے واسطے سے ہیشم سے ،انہوں نے متوکل سے اور انہوں نے ابوسعید سے مختصراً روایت کی ہے ۔اورامام بخاری رحمتہ اللہ نے اس حدیث کو مختصراً روایت کیا ہے ۔ جس کی سند ہشام بن حسان پھر محمد بن سیر ین پھران کے بھائی معبد سے ہوتی ہوئی ابوسعید تک پہنچتی ہے ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← الحسين بن محمد القباني ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2054

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2055

2055 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ عَبْدُ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ وَعِنْدَهُمْ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ أَعِنْدَكَ شَيْءٌ يُدَاوَى بِهِ هَذَا، فَإِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ، فَبَرَأَ فَأَعْطَاهُ مِائَةَ شَاةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «كُلْ فَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت خارجہ بن صلت تمیمی رضی اللہ عنہ اپنے چچا کا واقعہ بیان کر تے ہیں کہ ان کا گز رایک ایسے قبیلے کے پاس سے ہوا جن میں ایک پاگل شخص تھا ،جس کولو ہے کی زنجیروں کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ ان میں سے ایک شخص نے ان سے کہا تمہارے پاس اس کو دواء دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟ کیونکہ تمہارا ساتھی تو خیر لے کر آیا ہے ( خارجہ کے چچا) فرماتے ہیں: میں نے تین دن اس پر سورۂ فاتحہ پڑھی (اس طرح کہ )روزانہ ۲ مرتبہ سورۃ پڑھتا تو وہ شخص شفایاب ہو گیا ،تو انہوں نے ایک سو بکریاں دیں تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا معاملہ آپ کو کہہ سنایا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھاؤ کیونکہ جس نے دم کے عوض کھایا اس نے حق ( حلال ) کھایا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

عَمِّہٖ ← خارجة بن الصلت} التميمي، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← إِبْرَاهِيمُ عَبْدُ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 2055

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section