حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: کوئی شخص ۱۰۰۰ نیکیاں کرنا نہ چھوڑے جب صبح ہوتو وہ ایک سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھے کہ اس کے لئے یہ ا یک ہزار نیکیوں کا درجہ رکھتی ہے۔اور اس دن وہ کوئی گناہ ایسا نہیں کر پائے گا جو اس کے برابر ہواور دیگر جتنی نیکیاں کرے گا اس کا ثواب اس کے علاوہ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: میرے پاس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دعا سکھائی ہے ۔ کیا تو نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی وہ سنی ہے؟ ( ام المؤمنین فرماتی ہیں) میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ وہ دعا ہے جوعیسٰی علیہ السلام اپنے اصحاب کو سکھایا کرتے تھے ۔ وہ فرماتے تھےاگر تمہارے اوپر پہاڑ کے برابر سونا قرضہ ہوگا اورتم یہ دعا اللہ سے مانگو گے تو اللہ تعالی اس کا قرضہ ادا فرمادے گا ۔(وہ دعا یہ ہے )۔اللهم فارج الهم، كاشف الغم، مجيب دعوة المضطرين، رحمان الدنيا والأخرة ورحيمهما، أنت ترحمنی، فارحمني برحمة تغنيني بها عن رحمة من سواك ’’اے اللہ! مشکل آسان فرمانے والے اورغم ختم فرمانے والے! اے بے بسوں کی دعائیں قبول کرنے والے، دنیا اورآخرت رحمٰن ورحیم ! تو ہی مجھ پر رحم فرما ، تو مجھے ایسی رحمت عطا کر جو مجھے تیرے سوا ہر کسی سے بے نیاز کر دے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میرے ذمہ کافی قرضہ تھا اور میں قرضہ کو نا پسند کرتا تھا تو میں یہ دعا مانگا کرتا تھا ،اللہ تعالی نے مجھے اتنا فائدہ دیا کہ اللہ تعالی نے میراقرضہ ادا کرادیا۔ اُم ّالمومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کے میرے ذمہ ایک دینار اور تین درہم تھے، وہ جب بھی میرے پاس آتی تو میں شرمندگی کی وجہ سے اس کی طرف نظر اٹھا کرنہیں دیکھ سکتی تھی کیونکہ میرے پاس اس کا قرضہ ادا کر نے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے یہ دعا مانگنا شروع کر دی تو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اللہ تعالی نے مجھے اتنارزق عطافرمایا کہ میرا قرضہ بھی ادا ہو گیا ، میں نے اپنے گھر والوں میں اسے تقسیم بھی کیا اور عبد الرحمٰن کی بیٹی کے لیے تین اوقیہ چاندی کا زیور بھی بنایا اور یہ سارا کچھ نہ تو کسی کا دیا ہواصدقہ تھا اور نہ ہی کوئی وراثت کا حصہ تھا بلکہ اللہ تعالی نے ہم پر اپنا خاص فضل فرمایا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ غیر کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حد یث صحیح ہے سوائے اس کے کہ شیخین رحمتہ اللہ نے حکم بن عبد اللہ الا یلی کی روایات نقل نہیں کیں ۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: انسان جو کچھ بھی بولتا ہے وہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جا تا ہے چنانچہ اگر انسان کوئی خطا کر بیٹھے تو پھر وہ اللہ کی بارگاہ میں تو بہ کر نا چا ہے تو اس کو چاہئے کہ کوئی ایسا عمل کرے جواس خطا کا ازالہ کر دے پھر اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلا کر یوں کہے : اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں اس خطا سے تو بہ کر تا ہوں اور ( میں وعدہ کرتا ہوں )کہ دوبارہ کبھی بھی یہ خطانہیں دہراؤں گا‘‘ تو اس کو معاف کر دیا جا تا ہے جب تک کہ وہ اس عمل کو دوبارہ نہ دھرائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دعاسکھائی ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ اپنے گھر والوں کو ہرصبح یہ دعا مانگنے کی عادت ڈالے ( وہ دعا یہ ہے) ’’ میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، نیک بختی تیری طرف سے ہے اور بھلائی تیری طرف سے اور تیرے ہاتھ میں ہے اور تیری طرف ہے، اے اللہ! میں کوئی گفتگو کروں یاقسم کھاؤں یا کوئی نذر مانوں تو تیری مشئیت ان تمام امور میں میرے پیش نظر ہے ۔ جو تو چاہے گا وہی ہو گا اور جوتو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہوگا ۔ اور ہر طرح کی طاقت اور قوت تیرے ہی پاس ہے، بے شک تو ہر چاہت پر قادر ہے،اے اللہ ! میں جوبھی نماز پڑھوں تو وہ تیری خواہش کے مطابق ہواور جس پر لعنت کروں وہ بھی تیری خواہش کے مطابق ہو، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا مددگار ہے، تو مجھے حالت اسلام پر موت دے اور مجھے نیک لوگوں میں شامل رکھ، اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے فیصلے کے بعد تیری رضا مانگتا ہوں اور موت کے بعد راحت کی زندگی چاہتا ہوں اور تیری زیارت کی لذت چاہتا ہوں اور تیری ملاقات کا شوق چاہتا ہوں ،کسی نقصان اور گمراہ کن فتنے میں مبتلا ہوئے بغیر اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی پرظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے یا میں زیادتی کروں یا میرے ساتھ زیادتی کی جائے یا میں کوئی خطایا گناہ کاعمل کروں جس کی مغفرت نہ ہو سکے، اے اللہ ! اے زمین و آسمان کے پیدا کر نے والے، اے غیب اور شہادت کے جاننے والے، اے ذوالجلال والاکرام ! اس دنیا میں میرا عہد تیرے لیے ہے اور میں تیری گواہی دیتا ہوں اور تیری گواہی کافی ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،تو تنہا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ، تیری ہی بادشاہی ہے اور تو ہی تعریفوں کا مستحق ہے اور تو ہر چاہت پر قادر ہے اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اوررسول ہیں اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعد ہ برحق ہے اور تیری ملاقات حق ہے اور قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے اور تو قبر والوں کو زندہ کرے گا اورتو اگر مجھے میرے سہارے پر چھوڑے گا تو میں اپنی کمزوری اور عورت اور گناہ اور خطاؤں کے آسروں پر جاؤں گا ، میں صرف تیری ہی رحمت پر بھروسہ رکھتا ہوں ، اس لیے یا اللہ ! میرے تمام گناہوں کو معاف فرما کیونکہ تیرےسوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں اور میری تو بہ قبول فرما، بے شک تو ہی تو بہ قبول کر نے والا مہربان ہے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانَيِّ ← علي بن خشرم أنبأ عيسى بن يونس ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1900
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1901
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک باغ میں سیر کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ! میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زیادہ مالدار لوگ حقیقت میں غریب ہیں ،سوائے ان لوگوں کے جو اپنے مال کے ساتھ ایسے ایسے کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ دائیں بائیں اشارہ کیا( اور فر مایالیکن) ایسے لوگ بہت کم ہیں پھر فر مایا:اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا میں جنت کے ایک خزانے پر تیری رہنمائی نہ کروں؟ میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا پڑھا کرو لا حول ولا قوة إلا بالله ولا ملجاً، ولا منجا من الله إلا إليه’’اللہ کے سوا کوئی طاقت اور مجال نہیں ہے ،اللہ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔‘‘پھر آپ نے فرمایا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو؟ کہ اللہ تعالی کا بندے پر کیا حق ہے؟ اور بندے کا اللہ پر کیا حق ہے؟ (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کر یں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں اور بندوں کا اللہ پرحق یہ ہے کہ جوشرک نہ کرے وہ اس کو عذاب نہ دے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو اس اسناد کے ہمرانقل نہیں کیا۔
«يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ ← كُنَّا نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1901
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1902
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کےوقت یہ کلمات کبھی ترک نہیں فرمایا کرتے تھے(وہ کلمات یہ ہیں) اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین ، دنیا ، اپنے اہل اور مال میں عفواور عافیت مانگتا ہوں ۔اے اللہ ! میرے گناہوں کو چھپا اور میرے دل کوسکون عطا فرما۔ اے اللہ ! میرے دائیں بائیں ، آگے اور پیچھے اور اوپر سے میری حفاظت فرما اور میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں ، دھنسنے سے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا :انسان کی نیک بختی یہ ہے کہ آدمی اللہ سے استخارہ کرے اور انسان کی یہ بدبختی ہے کہ اپنے اللہ سے استخارہ نہ کرے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:”جس نے کہا: میں اللہ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں‘‘وہ جنتی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ابوسلام سابق بن ناجیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم حمص کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص وہاں سے گزرا، لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہے ۔ میں جلدی سے اٹھ کر اس کی طرف گیا اور اس سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھی ہولیکن زیادہ لوگ اس سے واقف نہ ہوں ، انہوں نے جوابا ًکہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ماتے سنا ہے،کوئی بھی بندہ صبح اور شام کے وقت یہ کہے’’ میں اللہ کے رب ہونے پر ،اسلام کے دین ہونے پراورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں تو اللہ تعالی پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اس بندہ کوراضی کرے‘‘ ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جوشخص صبح و شام سوسومر تبہ "سبحان الله وبحمدہ ‘‘ پڑھے ۔ اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگر چہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
مَنْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو النَّصْرِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّصْرِيُّ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ -بِهَمْدَانَ-،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1906
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1907
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلا کر تے تھے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :بسم الله، رب أعوذ بك أن أزل، أو أضل، أو أظلم، أو أظلم، أو أجهل، أو يجهل على ’’اللہ کے نام سے شروع ،اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں پھسل جاؤں یا میں گمراہ ہو جاؤں یا میں ظلم کروں یا مجھ پرظلم کیا جائے یا میں کسی کو جاہل قرار دوں یا مجھے جاہل قرار دیا جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں گیا۔اور بسا اوقات کسی کو یہ غلطی لگ جاتی ہے کہ شعبی نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع نہیں کیا ہے ۔ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ شعبی کی ام المؤمنین رضی اللہ عنہ اورام سلمہ رضی اللہ عنہ دونوں سے ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے دونوں سے کثیر روایات نقل کی ہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے تو یہ دعا مانگتے بسم الله، لا حول ولا قوة إلا بالله، التكلان على الله ’’کوئی طاقت اور مجال اللہ کے سوا نہیں ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے‘‘یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن نصر بن منصور الصائغ ← أبو قتيبة سالم بن الفضل الآدمي بمكة
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1908