Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1897

1897 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سُفْيَانَ الطَّائِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ بْنِ عُمَيْرٍ، وَحَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَدَعُ رَجُلٌ مِنْكُمْ أَنْ يَعْمَلَ أَلْفَ حَسَنَةٍ حَتَّى يُصْبِحَ يَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، فَإِنَّهَا أَلْفُ حَسَنَةٍ، وَأَنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي يَوْمِهِ مِنَ الذُّنُوبِ، وَيَكُونُ مَا عَمِلَ مِنْ خَيْرٍ سِوَى ذَلِكَ وَافِرًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: کوئی شخص ۱۰۰۰ نیکیاں کرنا نہ چھوڑے جب صبح ہوتو وہ ایک سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھے کہ اس کے لئے یہ ا یک ہزار نیکیوں کا درجہ رکھتی ہے۔اور اس دن وہ کوئی گناہ ایسا نہیں کر پائے گا جو اس کے برابر ہواور دیگر جتنی نیکیاں کرے گا اس کا ثواب اس کے علاوہ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ بْنِ عُمَيْرٍ، وَحَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سُفْيَانَ الطَّائِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1897

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1898

1898 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: «هَلْ سَمِعْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ؟» قُلْتُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: " كَانَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يُعَلِّمُهُ أَصْحَابَهُ قَالَ: لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ جَبَلُ ذَهَبٍ دَيْنًا، فَدَعَا اللَّهَ بِذَلِكَ لَقَضَاهُ اللَّهُ عَنْهُ: اللَّهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ، كَاشِفَ الْغَمِّ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّينَ، رَحْمَانَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، أَنْتَ تَرْحَمُنِي، فَارْحَمْنِي بِرَحْمَةٍ تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَكَانَتْ عَلَيَّ بَقِيَّةٌ مِنَ الدَّيْنِ، وَكُنْتُ لِلدَّيْنِ كَارِهًا، فَكُنْتُ أَدْعُو بِذَلِكَ، فَأَتَانِي اللَّهُ بِفَائِدَةٍ فَقَضَاهُ اللَّهُ عَنِّي، قَالَتْ عَائِشَةُ: «كَانَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ عَلَيَّ دِينَارٌ وَثَلَاثَةُ دَرَاهِمٍ فَكَانَتْ تَدْخُلُ عَلَيَّ فَأَسْتَحْيِي أَنْ أَنْظُرَ فِي وَجْهِهَا لِأَنِّي لَا أَجِدُ مَا أَقْضِيهَا، فَكُنْتُ أَدْعُو بِذَلِكَ فَمَا لَبِثْتُ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَزَقَنِي اللَّهُ رِزْقًا مَا هُوَ بِصَدَقَةٍ تُصُدِّقَ بِهَا عَلَيَّ، وَلَا مِيرَاثٌ وَرِثْتُهُ فَقَضَاهُ اللَّهُ عَنِّي، وَقَسَمْتُ فِي أَهْلِي قَسْمًا حَسَنًا، وَحَلَّيْتُ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِثَلَاثِ أَوَاقٍ وَرِقٍ وَفَضَلَ لَنَا فَضْلٌ حَسَنٌ» قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ النُّمَيْرِيِّ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَحْتَجَّا بِالْحُكْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيِّ "

حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: میرے پاس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دعا سکھائی ہے ۔ کیا تو نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی وہ سنی ہے؟ ( ام المؤمنین فرماتی ہیں) میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ وہ دعا ہے جوعیسٰی علیہ السلام اپنے اصحاب کو سکھایا کرتے تھے ۔ وہ فرماتے تھےاگر تمہارے اوپر پہاڑ کے برابر سونا قرضہ ہوگا اورتم یہ دعا اللہ سے مانگو گے تو اللہ تعالی اس کا قرضہ ادا فرمادے گا ۔(وہ دعا یہ ہے )۔اللهم فارج الهم، كاشف الغم، مجيب دعوة المضطرين، رحمان الدنيا والأخرة ورحيمهما، أنت ترحمنی، فارحمني برحمة تغنيني بها عن رحمة من سواك ’’اے اللہ! مشکل آسان فرمانے والے اورغم ختم فرمانے والے! اے بے بسوں کی دعائیں قبول کرنے والے، دنیا اورآخرت رحمٰن ورحیم ! تو ہی مجھ پر رحم فرما ، تو مجھے ایسی رحمت عطا کر جو مجھے تیرے سوا ہر کسی سے بے نیاز کر دے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میرے ذمہ کافی قرضہ تھا اور میں قرضہ کو نا پسند کرتا تھا تو میں یہ دعا مانگا کرتا تھا ،اللہ تعالی نے مجھے اتنا فائدہ دیا کہ اللہ تعالی نے میراقرضہ ادا کرادیا۔ اُم ّالمومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کے میرے ذمہ ایک دینار اور تین درہم تھے، وہ جب بھی میرے پاس آتی تو میں شرمندگی کی وجہ سے اس کی طرف نظر اٹھا کرنہیں دیکھ سکتی تھی کیونکہ میرے پاس اس کا قرضہ ادا کر نے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے یہ دعا مانگنا شروع کر دی تو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اللہ تعالی نے مجھے اتنارزق عطافرمایا کہ میرا قرضہ بھی ادا ہو گیا ، میں نے اپنے گھر والوں میں اسے تقسیم بھی کیا اور عبد الرحمٰن کی بیٹی کے لیے تین اوقیہ چاندی کا زیور بھی بنایا اور یہ سارا کچھ نہ تو کسی کا دیا ہواصدقہ تھا اور نہ ہی کوئی وراثت کا حصہ تھا بلکہ اللہ تعالی نے ہم پر اپنا خاص فضل فرمایا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ غیر کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حد یث صحیح ہے سوائے اس کے کہ شیخین رحمتہ اللہ نے حکم بن عبد اللہ الا یلی کی روایات نقل نہیں کیں ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1898

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1899

1899 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَبْسِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ الْأَغَرُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ يَتَكَلَّمُ بِهِ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ عَلَيْهِ، فَإِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً فَأَحَبَّ أَنْ يَتُوبَ إِلَى اللَّهِ فَلْيَأْتِ رَفِيعَهُ فَلْيَمُدَّ يَدَيْهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْهَا لَا أَرْجِعُ إِلَيْهَا أَبَدًا، فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَهُ مَا لَمْ يَرْجِعْ فِي عَمَلِهِ ذَلِكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: انسان جو کچھ بھی بولتا ہے وہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جا تا ہے چنانچہ اگر انسان کوئی خطا کر بیٹھے تو پھر وہ اللہ کی بارگاہ میں تو بہ کر نا چا ہے تو اس کو چاہئے کہ کوئی ایسا عمل کرے جواس خطا کا ازالہ کر دے پھر اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلا کر یوں کہے : اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں اس خطا سے تو بہ کر تا ہوں اور ( میں وعدہ کرتا ہوں )کہ دوبارہ کبھی بھی یہ خطانہیں دہراؤں گا‘‘ تو اس کو معاف کر دیا جا تا ہے جب تک کہ وہ اس عمل کو دوبارہ نہ دھرائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فضيل بن سليمان النميري ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَبْسِيُّ، ← أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1899

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1900

1900 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَنْبَأَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَاهَدَ أَهْلَهُ فِي كُلِّ صَبَاحٍ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَمِنْكَ وَإِلَيْكَ، اللَّهُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ، مَا شِئْتَ كَانَ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَا يَكُونُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ مَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ، أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا، وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَعْتَدِيَ، أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ أَوْ أَكْسِبَ خَطِيئَةً، أَوْ ذَنْبًا لَا تَغْفِرُ، اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا، وَأُشْهِدُكَ، وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، لَكَ الْمُلْكُ، وَلَكَ الْحَمْدُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ وَلِقَاءَكَ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّكَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، وَأَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي، تَكِلْنِي إِلَى ضَعْفٍ وَعَوْرَةٍ وَذَنْبٍ وَخَطِيئَةٍ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي كُلَّهَا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دعاسکھائی ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ اپنے گھر والوں کو ہرصبح یہ دعا مانگنے کی عادت ڈالے ( وہ دعا یہ ہے) ’’ میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، نیک بختی تیری طرف سے ہے اور بھلائی تیری طرف سے اور تیرے ہاتھ میں ہے اور تیری طرف ہے، اے اللہ! میں کوئی گفتگو کروں یاقسم کھاؤں یا کوئی نذر مانوں تو تیری مشئیت ان تمام امور میں میرے پیش نظر ہے ۔ جو تو چاہے گا وہی ہو گا اور جوتو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہوگا ۔ اور ہر طرح کی طاقت اور قوت تیرے ہی پاس ہے، بے شک تو ہر چاہت پر قادر ہے،اے اللہ ! میں جوبھی نماز پڑھوں تو وہ تیری خواہش کے مطابق ہواور جس پر لعنت کروں وہ بھی تیری خواہش کے مطابق ہو، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا مددگار ہے، تو مجھے حالت اسلام پر موت دے اور مجھے نیک لوگوں میں شامل رکھ، اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے فیصلے کے بعد تیری رضا مانگتا ہوں اور موت کے بعد راحت کی زندگی چاہتا ہوں اور تیری زیارت کی لذت چاہتا ہوں اور تیری ملاقات کا شوق چاہتا ہوں ،کسی نقصان اور گمراہ کن فتنے میں مبتلا ہوئے بغیر اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی پرظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے یا میں زیادتی کروں یا میرے ساتھ زیادتی کی جائے یا میں کوئی خطایا گناہ کاعمل کروں جس کی مغفرت نہ ہو سکے، اے اللہ ! اے زمین و آسمان کے پیدا کر نے والے، اے غیب اور شہادت کے جاننے والے، اے ذوالجلال والاکرام ! اس دنیا میں میرا عہد تیرے لیے ہے اور میں تیری گواہی دیتا ہوں اور تیری گواہی کافی ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،تو تنہا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ، تیری ہی بادشاہی ہے اور تو ہی تعریفوں کا مستحق ہے اور تو ہر چاہت پر قادر ہے اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اوررسول ہیں اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعد ہ برحق ہے اور تیری ملاقات حق ہے اور قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے اور تو قبر والوں کو زندہ کرے گا اورتو اگر مجھے میرے سہارے پر چھوڑے گا تو میں اپنی کمزوری اور عورت اور گناہ اور خطاؤں کے آسروں پر جاؤں گا ، میں صرف تیری ہی رحمت پر بھروسہ رکھتا ہوں ، اس لیے یا اللہ ! میرے تمام گناہوں کو معاف فرما کیونکہ تیرےسوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں اور میری تو بہ قبول فرما، بے شک تو ہی تو بہ قبول کر نے والا مہربان ہے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانَيِّ ← علي بن خشرم أنبأ عيسى بن يونس ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1900

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1901

1901 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: «إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ إِلَّا مَنْ قَالَ بِمَالِهِ هَكَذَا وَكَذَا» ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «تَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَلْجَأَ، وَلَا مَنْجَا مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ» ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک باغ میں سیر کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ! میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زیادہ مالدار لوگ حقیقت میں غریب ہیں ،سوائے ان لوگوں کے جو اپنے مال کے ساتھ ایسے ایسے کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ دائیں بائیں اشارہ کیا( اور فر مایالیکن) ایسے لوگ بہت کم ہیں پھر فر مایا:اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا میں جنت کے ایک خزانے پر تیری رہنمائی نہ کروں؟ میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا پڑھا کرو لا حول ولا قوة إلا بالله ولا ملجاً، ولا منجا من الله إلا إليه’’اللہ کے سوا کوئی طاقت اور مجال نہیں ہے ،اللہ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔‘‘پھر آپ نے فرمایا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو؟ کہ اللہ تعالی کا بندے پر کیا حق ہے؟ اور بندے کا اللہ پر کیا حق ہے؟ (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کر یں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں اور بندوں کا اللہ پرحق یہ ہے کہ جوشرک نہ کرے وہ اس کو عذاب نہ دے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو اس اسناد کے ہمرانقل نہیں کیا۔

«يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ ← كُنَّا نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1901

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1902

1902 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عُبَادَةَ بْنٍ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعْ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ، وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي» يَعْنِي الْخَسْفَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کےوقت یہ کلمات کبھی ترک نہیں فرمایا کرتے تھے(وہ کلمات یہ ہیں) اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین ، دنیا ، اپنے اہل اور مال میں عفواور عافیت مانگتا ہوں ۔اے اللہ ! میرے گناہوں کو چھپا اور میرے دل کوسکون عطا فرما۔ اے اللہ ! میرے دائیں بائیں ، آگے اور پیچھے اور اوپر سے میری حفاظت فرما اور میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں ، دھنسنے سے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1902

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1903

1903 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ اسْتِخَارَتُهُ إِلَى اللَّهِ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا :انسان کی نیک بختی یہ ہے کہ آدمی اللہ سے استخارہ کرے اور انسان کی یہ بدبختی ہے کہ اپنے اللہ سے استخارہ نہ کرے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1903

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1904

1904 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ التُّجِيبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:”جس نے کہا: میں اللہ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں‘‘وہ جنتی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيُّ، ← أَبُو هَانِئٍ التُّجِيبِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1904

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1905

1905 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَمْدَانَ الزَّاهِدُ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَقِيلٍ هَاشِمَ بْنَ بِلَالٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي مَسْجِدِ حِمْصٍ فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالُوا هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَضْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ قُلْتُ، حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ بَيْنَكُمْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ: حِينَ يُمْسِي، وَحِينَ يُصْبِحُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوسلام سابق بن ناجیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم حمص کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص وہاں سے گزرا، لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہے ۔ میں جلدی سے اٹھ کر اس کی طرف گیا اور اس سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھی ہولیکن زیادہ لوگ اس سے واقف نہ ہوں ، انہوں نے جوابا ًکہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ماتے سنا ہے،کوئی بھی بندہ صبح اور شام کے وقت یہ کہے’’ میں اللہ کے رب ہونے پر ،اسلام کے دین ہونے پراورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں تو اللہ تعالی پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اس بندہ کوراضی کرے‘‘ ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

ما مِنْ عبْدٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ بَيْنَكُمْ، ← حَدِيثًا ← هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ فَنَهَضْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ قُلْتُ، ← كُنَّا جُلُوسًا فِي مَسْجِدِ حِمْصٍ فَمَرَّ رَجُلٌ ← أَبِي سَلَّامٍ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ، ← أَبَا عَقِيلٍ هَاشِمَ بْنَ بِلَالٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَمْدَانَ الزَّاهِدُ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1905

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1906

1906 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا أَبُو النَّصْرِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّصْرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَإِذَا أَمْسَى مِائَةَ مَرَّةٍ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ، وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جوشخص صبح و شام سوسومر تبہ "سبحان الله وبحمدہ ‘‘ پڑھے ۔ اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگر چہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

مَنْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو النَّصْرِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّصْرِيُّ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ -بِهَمْدَانَ-،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1906

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1907

1907 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ، أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَرُبَّمَا تَوَهَّمَ مُتَوَهِّمٌ أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، فَإِنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ جَمِيعًا، ثُمَّ أَكْثَرَ الرِّوَايَةَ عَنْهُمَا جَمِيعًا "

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلا کر تے تھے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :بسم الله، رب أعوذ بك أن أزل، أو أضل، أو أظلم، أو أظلم، أو أجهل، أو يجهل على ’’اللہ کے نام سے شروع ،اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں پھسل جاؤں یا میں گمراہ ہو جاؤں یا میں ظلم کروں یا مجھ پرظلم کیا جائے یا میں کسی کو جاہل قرار دوں یا مجھے جاہل قرار دیا جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں گیا۔اور بسا اوقات کسی کو یہ غلطی لگ جاتی ہے کہ شعبی نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع نہیں کیا ہے ۔ یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ شعبی کی ام المؤمنین رضی اللہ عنہ اورام سلمہ رضی اللہ عنہ دونوں سے ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے دونوں سے کثیر روایات نقل کی ہیں

أُمِّ سَلَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1907

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1908

1908 - أَخْبَرَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ مَنْصُورٍ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ يَقُولُ: «بِسْمِ اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، التُّكْلَانُ عَلَى اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے تو یہ دعا مانگتے بسم الله، لا حول ولا قوة إلا بالله، التكلان على الله ’’کوئی طاقت اور مجال اللہ کے سوا نہیں ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے‘‘یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن نصر بن منصور الصائغ ← أبو قتيبة سالم بن الفضل الآدمي بمكة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1908

chevron_left Previous
1…8910…19
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section