ابوسلام اسودفر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چروا ہے ،حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی مسجد کے دروازے کے پاس مجھے یہ حدیث سنائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خوشی کے عالم میں ارشاد فرمایا: ان پانچ کلمات پر خوش ہو جاؤ کہ میزان پران سے زیادہ وزنی کوئی چیزنہیں ہے (وہ ۵کلمات یہ ہیں ) ’’سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر‘‘ اور کسی مسلمان کا نیک بچہ فوت ہو جائے تو وہ اس ( کی بخشش) کے لئے کافی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو سَلْمَى رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ وَلَقِيتُهُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، ← أَبُو سَلَّامٍ الْأَسْوَدُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عمرو بن محمد بن منصور العدل
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1885
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1886
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: اللہ تعالی نے یہ کلام منتخب فرمایا ہے۔سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبربند ہ جب سبحان اللہ کہتا ہے ،اللہ تعالی اس کے لئے ۲۰ نیکیاں لکھتا ہے اور ۲۰ گناہ مٹا تا ہے اور جب اللہ ا کبر کہتا ہے تو بھی اسی طرح (اس کے لیے ۲۰ نیکیاں لکھتا ہے اور ۲۰ گناہ مٹا تا ہے) اور جب لا الہ الا اللہ کہتا ہے تو بھی اسی طرح ( ۲۰ نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ۲۰ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں )اور جب بندہ الحمد لله رب العالمین کہتا ہے اپنے دل سے ،تو اس کے لیے۳۰ نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے تیس گناہ معاف کر دیئےجاتے ہیں۔یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ وہ درخت لگا رہے تھے کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تم کیا کر ر ہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں درخت لگا رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اس سے بہتر شجر کاری کے بارے میں تمہیں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، واللہ اکبر (ہرتسبیح کے بدلے تیرے لیے ایک درخت لگا دیا جائے گا ) : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث اس کی شاہد بھی موجود ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، ← أَبِي سِنَانٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1887
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1888
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جس نے ’سبحان اللہ العظیم ‘‘ کہا ،اس کےلیے جنت میں ایک درخت لگا دیا جا تا ہے۔
سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ ← مَنْ ← النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي.
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1888
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1889
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:باقیات الصالحات زیادہ سے زیادہ جمع کر و۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ(باقيات الصالحات )کیا ہوتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ملت ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ملت کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبیر تہلیل تسبیح تحمیداور’’لا حول ولا قوة الا بالله‘‘ ۔ یہ مصریوں کی سب سے زیا دہ صحیح السند ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے نقل کیا۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← أبي السمح ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن أيوب البجلي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلاَنِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1889
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1890
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جس نے ایک مرتبہ تکبیر کہی ،اس کے لئے ۲۰ نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔اور ۲۰ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ اور جوایک مرتبہ سبحان اللہ کہے ، اس کے لئے ۲۰ نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ۲۰ گناہ مٹادیے جاتے ہیں ۔اور جوایک مرتبہ الحمد للہ کے اس کے لئے ۳۰ نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ۳۰ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ الحسن بن علي بن زياد
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1890
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1891
حضرت ابوعمامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص یوں کہے’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہی ہیں ، اللہ کی مخلوق کی تعداد کے برابر ۔ اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اللہ کی مخلوقات بھر اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں زمین و آسمان کی تعداد کے برابر اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اس تعداد کے برابر جواس نے اپنی کتاب میں شمار کی ہے اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہر چیز کی تعداد کے برابر اور اسی طرح سبحان اللہ بھی پڑھے ابوامامہ فرماتے ہیں: اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت عظیم جانا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : مجھے کچھ ایسے کلمات بتادیجئے جو میں صبح شام پڑھا کروں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح شام اور لیٹتے وقت یہ پڑھا کرو: اللهم فاطر السّماوات والأرض، عالم الغيب والشهادة، رب كل شيء ومليكه، أشهد أن لا إله إلا أنت، أعوذ بك من شر نفسي، وشر الشيطان وشركه ’’اے اللہ ! زمین و آسمان کے پیدا کر نے والے! اے غیب اور شہادت کاعلم رکھنے والے !ہر شے کے رب اور ما لک! میں گواہی دیتاہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، میں اپنے نفس کے شر اور شیطان کے شراور شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی میں بوڑھی اور ضعیف خاتون ہوں ، مجھے کوئی (اچھا سا) عمل بتادیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ۱۰۰مرتبہ الله اکبر پڑھا کر واور۱۰۰مرتبہ الحمدللہ پڑھا کر واور ۱۰۰مرتبہ سبحان اللہ پڑھا کرو کہ یہ تیرے لئے ۱۰۰مقبول قربانیوں اور جہاد کے لئے تیار کیے گئے ۱۰۰گھوڑوں سے اور ۱۰۰ غلام آزاد کر نے سے بہتر ہے اور ’’لا اله الا اللہ‘‘ تو کوئی گناہ ر ہنے ہی نہیں دیتا اور نہ ہی کوئی دوسراعمل اس کے برابر ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔اور زکریا بن منظور کی روایات شیخین رحمتہ اللہ نے نقل نہیں کیں ۔
قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ فَدُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ، ← أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ ← زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ← أَبِي ← إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1893
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1894
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : اللہ تعالی اپنے کسی بندے کو کوئی نعمت عطا فرمائے اور وہ یقین رکھتا ہو کہ یہ نعمت اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ تعالی اس کے بارے میں یہ لکھ دیتا ہے کہ اس نے اس نعمت کا شکر ادا کر دیا ہے، حالانکہ ابھی اس نے اس نعمت کا زبان سے شکر ادا نہیں کیا ہوتا اور کوئی بندہ گناہ کرے اور اس پر نادم ہو جائے تو اس کے استغفار کر نے سے پہلے ہی (صرف ندامت کی بناء پر) اس کی مغفرت فرما دیتا ہے اور جوشخص ایک دینار یا آدھے دینار کا کپڑا خریدے پھراس کو پہنے اور اس پر اللہ کاشکر ادا کرے تو مکمل لباس پہننے سے پہلے ہی اللہ تعالی اس کی مغفرت فرمادیتا ہے۔ اس حدیث کی سند میں کسی راوی کے متعلق مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ جرح کا ذکر کیا گیا ہولیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الوليد بن أبي هشام ← السَّكَنُ بْنُ أَبِي السَّكَنِ الْبُرْجُمِيُّ، ← محمد بن جامع العطار ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ التُّسْتَرِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1894
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1895
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:ایسانہیں ہوسکتا کہ کوئی بندہ ہر صحیح اور ہر شام تین تین مرتبہ یہ دعاپڑھے اوراس کو کوئی چیز نقصان پہنچادے (وہ دعا یہ ہے )’’ باسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض، ولا في السماء، وهو السميع العليم‘‘ اس اللہ کے نام سے شروع جس کے نام کے ساتھ زمین اور آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں دے سکتی اور وہ سننے جاننے والا ہے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
ما مِنْ عبْدٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أبو بكر بن أبي نصر الداربردي بمرو
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1895
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1896
حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص یہ دعا مانگے اوراسی دن یا رات میں فوت ہو جائےتو جنتی ہے( وہ دعا یہ ہے ) اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وعلى عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من كل ما صنعت، وأبوء بذنبي، فاغفر لي ذنوبي، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت”اے اللہ! تو میرارب ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،تو نے مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بند ہ ہوں اور میں تیرے عہد و پیمان پر اس وقت تک کار بند ہوں جب تک میرے اندر استطاعت ہے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے ہرعمل سے اور میں اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا ہوں ،تو میرے گناہ معاف فرما کیونکہ تیرے سوا کوئی گنا ہوں کو بخشنے والا نہیں ہے‘‘یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔