حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ جب میں کسی آزمائش میں مبتلا ہوں تو یہ دعا مانگا کروں۔لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله، وتبارك الله رب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين’’اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، وہ حلیم ہے،کریم ہے،اللہ کے لئے پا کی ہے اور اسی کی ذات برکت والی ہے اورتمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جوتمام جہانوں کا پالنے والا ہے‘‘۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کو اس لیے نقل نہیں کیا ہے کیونکہ اس میں ناقلین پر اختلاف ہے اور یونہی اس کی سند کوشند بن عجلان نے محمد بن کعب کے واسطے سے قائم رکھا ہے۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے)۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کی تلقین فرمائی کہ جب میں کسی مصیبت یا آزمائش میں مبتلا ہوں تو یہ پڑھا کروں’’ لا إله إلا الله الحليم الکریم، سبحانه وتعالى، تبارك الله رب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمین‘‘( عبداللہ بن شداد) فر ماتے ہیں : عبداللہ بن جعفر کی یہ عادت تھی کہ وہ میت کوانہی کلمات کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور بیماروں کو یہی کلمات پڑھ کر دم کیا کر تے تھے ۔ اس حدیث کو امام بخار نے نقل کیا ہے ۔ اور یہ حدیث ، اس حدیث سے مختصر ہے جوقتادہ نے ابوالعالیہ کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی پریشان ہوتے یہ پڑھا کر تے تھےيا حي، يا قيوم، برحمتك أستغيث اے حی ،اے قیوم ! میں تیری رحمت سے مد د چاہتا ہوں‘‘یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : مجھے جب بھی کوئی پریشانی آتی ہے تو جبریل امین علیہ السلام میرے سامنے انسانی شکل میں آ کرفر ماتے ہیں اے محمد پڑھئے توكلت على الحي الذي لا يموت، والحمد لله الذي لم يتخذ ولذا، ولم يكن له شريك في الملك،ولم يكن له ولى من الذل وكبره تكبيرا”میں نے اس زندہ پر توکل کیا ہے جس کو موت نہیں ہے اور سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے اپنے لئے بچہ اختیارنہ فرمایا اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں اور کمزوری سے اس کا کوئی حمایتی نہیں اوراس کی بڑائی بولنے کو تکبیرکہو ( ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا کسی مسلمان کو کوئی تکلیف اور پریشانی آئےتو وہ یہ دعا پڑھے’’ اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي فِي يَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِي قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي ‘‘۔’’اے اللہ ! میں تیرابندہ ہوں اور تیری بندی کا بچہ ہوں ، میری باگ ڈور تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم گز رچکا ہے اور میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل پر مبنی ہے ۔ میں تجھ سے ہراس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے ( خواہ ) تو نے و ہ خود نام بتایا ہے۔ یا اپنی کسی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ سکھایا ہے یا اپنے پاس اپنے علم غیب میں ہی اس کورکھا ہوا ہے ۔ یہ کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار بنادے،میرے غم کا آسرا بنادے اور میرے غم غلط ہونے کا ذریعہ بنادے‘‘ اللہ تعالی اس کی پریشانی اور تکلیف کوختم فرمادیتا ہے اور اس کی پریشانی کوخوشی اور فرحت میں تبد یل فرما دیتا ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم یہ کلمات سیکھ لیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ جوان کلمات کو سنے اس کو چاہئے کہ انہیں یادکر لے۔ اگر اس حدیث کی سند عبد الرحمن بن عبداللہ کی ان کے والد سے ارسال سے محفوظ ہے تو یہ امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق’’ حدیث صحیح ‘‘ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عبدالرحمٰن کے ان کے والد سے سماع میں اختلاف پایا جا تا ہے ۔
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اللهم قنعنى بما رزقتني، وبارك لي فيه، واخلف على كل غائبة لي بخير ”اے اللہ ! جو کچھ تو مجھے عطا کرے، مجھے اس پر قناعت عطا فرما اور میرے لیے اس میں برکت عطا فرما۔ اور جو مجھ سے غائب ہے اس کو بھی بھلائی عطافر ما‘‘یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے : انفعني بما علمتني، وعلمني ما ينفعني، وارزقنی علما تنفعنی به ”اے اللہ ! تو مجھے اس چیز سے نفع دے جوتو نے مجھے سکھائی اور مجھے وہ سکھا جو مجھے فائدہ دے اور مجھے ایساعلم عطا فر ماجو مجھے نفع دے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کر تے ہیں کہ وہ اسلام لانے سے قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ، جب و ولوٹنے لگے تو پوچھا: میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کہو: اے اللہ ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا اور مجھے میرے نیک ارادے میں کا میاب فرما‘‘انہوں نے یہ کہا اور پلٹ گئے اور اسلام قبول نہ کیا۔ پھر بعد میں جب وہ اسلام لائے۔ تو عرض کی ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب جبکہ میں مسلمان ہو چکا ہوں ، کیا دعا مانگوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یوں دعا مانگا کرو: اللهم قني شر نفسي، واعزم لى على ارشد آمری، اللهم اغفر لي ما أسررت وما أعلنتُ، وما أخطأت وما عمدتُ، وما علمتُ وما جهلت ”اے اللہ ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا‘‘اور مجھے ہدایت کے راستے پر ثابت قدم فر ما‘‘ اے اللہ ! میرے ظاہر اور باطن سب گناہوں کو معاف فرما اور جو میں نے خطائیں کیں یا قصد اغلطیاں کیں اور جن کو میں جانتا ہوں اور جن کونہیں جانتا ( سب گناہ معاف فرما)۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہت تیز ز بان شخص ہوں اور یہ عادت میرے پورے گھر میں پائی جاتی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو استغفار کیوں نہیں کرتا؟ میں اللہ تعالی سے دن رات میں ۱۰۰مرتبہ استغفار کرتا ہوں ۔ امام حاکم فرماتے ہیں : اس عبیدابوامغیر ہ کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے جبکہ شعبہ نے اس سند اور متن کوشک کےساتھ پیش کیا ہے جبکہ سفیان بن سعید نے اس کو محفوظ رکھا ہے اور مجھے اس سند اورمتن میں کوئی شک نہیں ہے ۔( سفیان بن سعید کاروایت کرد وہ متن اور سند در ج ذیل ہے )
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے سلسلے میں بہت تیز زبان تھا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس بات سے ڈرلگتا ہے کہ میری زبان مجھے جہنم میں لے جائے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا تم استغفار کیوں نہیں کر تے ہو؟ میں تو اللہ تعالی سے ایک دن میں ۱۰۰ مرتبہ استغفار کرتا ہوں ۔ ابواسحاق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکرابو بردہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ (استغفار کے ساتھ )تو بہ کا بھی ذکر ہے ۔حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اسناد کے ہمرا نقل نہیں کیا جبکہ امام مسلم رحمتہ اللہ نے ابو بردہ کی سند کے ہمراہ اغر مزنی کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حوالے سے یہ روایت کی ہے( کہ آپ نے فرمایا) میرے دل پر خواہشات غلبہ کرتی ہیں اور میں ایک دن میں ۱۰۰ مرتبہ اللہ تعالی سے استغفار کرتا ہوں اور اسی طرح نافع کی ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں یہ ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار گنا کر تے تھے ۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ استغفار پڑھتے سنا ہے: اللهم إني أستغفرك لما قدمت وما أخرتُ، وما أعلنت وما أسررت، أنت المقدم، وأنت المؤخر،وأنت على كل شيء قدير”اے اللہ ! میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں ،اپنے اگلے پچھلے اور ظاہر و باطن اعمال سے ،تو ہی مقدم ہے اور تو ہی موخر ہے اور تو ہرچاہت پر قادر ہے۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص تین مرتبہ یہ دعا مانگ لے ، اس کےگناہ بخش دیے جاتے ہیں ،اگر چہ وہ جنگ سے بھاگنے والا کیوں نہ ہو (وہ دعا یہ ہے ) " استغفر الله العظيم الذى لا إله إلا هو الحى القيوم، وأتوب إليه ثلاثا“یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔