المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1849
1849 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» فَلَمَّا نَزَلَتْ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] قَالَ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ إِنْ كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر طور پر سبحانك اللهم وبحمدك، اللهم اغفر لي”اے اللہ ! تو پاک ہے اور تیری حمد کے ساتھ ، اے اللہ !میری مغفرت فرما‘‘پڑھا کرتے تھے، پھر جب’’اذا جاء نصر الله والفتح‘‘ نازل ہوئی تو ( اس کے بعد یوں دعا مانگا کرتے تھے ) سبحانك اللهم، اللهم اغفر لي إنك أنت الوهاب ’’اے اللہ ! تیرے لئے پا کی ہے،اے اللہ !میری مغفرت فرما، بے شک تو وھاب ہے‘‘۔اگر ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ان کے والد سے سماع ثابت ہوتو یہ سند صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ہے ۔
كَانَ النَّبِيُّ يُكْثِرُ ← أَبِيهِ ← أَبَا عُبَيْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Hadith 1849
