حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء میں یہ بھی تھا’’اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جونفع نہ دے،اورایسے دل سے جس میں تیرا خوف نہ ہواورایسی دعا سے جو قبول نہ ہواورایسے نفس سے جوسیر نہ ہو اور بھوک سے، کیونکہ یہ برا ساتھی ہے، اور خیانت سے کیونکہ یہ بُرا راز دار ہے ، اور کا ہلی سے اور بخل سے اور بزدلی سے اور شدید بڑھاپے سے ،اور عذاب قبر سے ، اور زندگی وموت کے فتنہ سے ، اے اللہ ! ہمیں اپنی راہ میں آہ وزاری ، عاجزی ، اور ر جوع کر نے والا دل عطافرما،اے اللہ ! ہم تیری مغفرت کے عزائم اور تیرے امر سے نجات دہندگی کا سوال کر تے ہیں ۔ ہر گناہ سے سلامتی اور ہر نیکی سے کمائی اور جنت کی کامیابی اور دوزخ سے نجات کا سوال کر تے ہیں ۔ اور جب آپ سجدہ کرتے تو یہ دعا مانگا کرے تھے۔ ”اے اللہ میرادل اور خیال تجھے سجدہ کرتے ہیں اور تیرے ہی ذریعے میرے دل کوسکون ملے گا۔ میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور یہ جو میں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں ۔اےعظیم !اے عظیم ! میری مغفرت فرما ، کیونکہ گناہ عظیم ، رب عظیم کے سوا اورکوئی نہیں بخش سکتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے حمید الاعرج الکوفی سے یہ حدیث نقل نہیں کی ہے۔ جبکہ دونوں نے حمید بن قیس الاعرج المکی کی روایات نقل کی ہیں ۔ چار چیزوں سے پناہ مانگنے کے متعلق حدیثوں میں سے پہلی حدیث حضرت ابو ہر یرہ رحمتہ اللہ اورعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث یہ ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:اے اللہ ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔(۱)ایسے علم سے جونفع نہ دے۔(۲)ایسے دل سے جس میں تیراخوف نہ ہو( ۳)ایے نفس سے جو سیراب نہ ہو ۔ (۴) ایسی دعا سے جوسنی نہ جائے ۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی حدیث یہ ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگا کر تے تھے ایسے علم سے جس کا نفع نہ ہو، ایسی دعا سے جوسنی نہ جائے ،ایسے دل سے جس میں خوف خدانہ ہواورایسے نفس سے جوسیر نہ ہو ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : جوشخص تین مرتبہ اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرے جنت خودکہتی ہے یا اللہ اس کو جنت میں داخل فرما اور جوشخص تین مرتبہ جہنم سے اللہ کی پناہ مانگے جہنم خودکہتی ہے، یا اللہ!ا س کو مجھ سے اپنی پناہ عطا فرمادے۔یہ حدیث صحیح الاسناد سے لیکر امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1960
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1961
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پروحی نازل ہوا کرتی تھی تو ہمیں آپ کے چہرہ اطہر سے شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی آواز سنائی دیا کرتی تھی ۔ ایک دن آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کے لئے ہم سے گفتگو بند کر دی ( جب وحی کا سلسلہ ختم ہواتو) قبلہ رو ہوکر ہاتھ بلند کئے اور یوں دعا مانگی’’اے اللہ ! ہمیں زیادہ کر اور کم نہ کر ہمیں عزت دے، ذلت نہ دے، اور ہمیں عطافرما اور ہمیں محروم نہ ر کھ اورہمیں غلبہ عطا فرما اور ہمیں مغلوب نہ کر اور ہم سے راضی ہو جا اور ہمیں راضی کر‘‘۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے او پر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جوشخص ان کو پابندی سے پڑھتار ہے گا۔(ان پرعمل کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا پھر آپ نے’’قد افلح المؤمنون ‘‘سے دس آیتیں پڑھیں ۔عبدالرزاق فرماتے ہیں : اس یونس بن سلیم کے چچا گورنر تھے ( یونس ) فرماتے ہیں انہوں نے مجھے یونس بن یزید کے پاس بھیجا تا کہ وہ مجھے احادیث کی املاءکروادے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
يُونُسُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1961
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1962
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی اپنے بندے سے اس بات سے حیاء فرما تا ہے کہ بندہ اس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے اور وہ ان کو خالی واپس لوٹا دے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔
سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ الْأَهْوَازِيُّ ← جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْجَهْضَمِيُّ، ← الحسين بن محمد القباني ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1962
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1963
حضرت آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کونشیبی سنگلاخ علاقےمیں ہاتھ پھیلائے دعا مانگتے دیکھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومنبر یا غیرمنبر پر دعا مانگتے دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو پھیلا تے تھے اور اتنے بلند کر تے تھے کہ دعا مانگتے ہوئے ، آپ کی انگلیاں آپ کے کندھوں کے برابر ہوتی تھیں۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنِ ذُبَابٍ، ← عبد الرحمن بن معاوية ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1964
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1965
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ( دعا کے وقت )اپنی دوانگلیاں اٹھایا کرتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (صرف ایک ( شہادت کی )انگلی (اٹھایا کرو )( کیونکہ اس سے اللہ رب العزت کی وحدانیت کی طرف اشارہ مقصود ہے اور وہ ذات وحدہ لاشریک ہے) یہ سنت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو میں اپنی دوانگلیوں کے ساتھ دعامانگ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایک ،ایک ( یعنی صرف ایک انگلی کےساتھ اشارہ کرو ) اس حدیث کی دونوں سند یں صحیح ہیں ۔ لیکن اگر ابوصالح سمان کا حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے تو حضرت ابومعاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث شیخین رحمتہ اللہ کے معیار پرصحیح ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم م دعا میں اپنے ہاتھوں کو بلند کیا کرتے تھے پھر اپنے چہرے پر پھیر تےہوئے نیچے کیا کرتے تھے۔یہ حد یث حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے )
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جب تم اللہ سے( دعا) مانگوتو اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ مانگواور ہاتھوں کی پشتوں کے ساتھ مت مانگا کر واوراپنے ہاتھوں کو اپنے چہروں پر پھیر لیا کرو ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← سَعِيدُ بْنُ هُبَيْرَةَ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو بكر بن أبي نصر المروزي،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1968