حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ہمراہ دعا مانگا کرتے تھے’’ اللهم إني أعوذ بك من غلبة الدين، وغلبة العدو، وشماتة الأعداء ‘‘۔”اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قرض کے غلبہ سے اور دشمن کے غلبہ سے اور دشمنوں کی خوشی سے‘‘یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے’’اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك، ومن تحول عافيتك، ومن فجاءة نقمتك، ومن جميع سخطك ‘‘اے اللہ ! میں زوال نعمت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عافیت کے بدل جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، تیری طرف سے اچانک سزا سے اور تیری تمام ناراضگیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘ابن وہب فرماتے ہیں :یہ حدیث یعقوب نے عبداللہ بن دینار کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اورحفص نے اس میں ارسال کیا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہل اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: فقر،قلت، ذلت ظلم کر نے اور اپنے او پرظلم ہونے سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت کعب بن عمر و رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگا کر تے تھے : للَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ، وَالتَّرَدِّي، وَالْهَرَمِ، وَالْغَمِّ وَالْغَرَقِ، وَالْحَرَقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ لَدِيغًا’’ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عمارت کے گرنے سے، کنویں میں گر نے سے، شدید بڑھاپے سے ،غرق ہونے سے، جلنے سے ، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت شیطان میری عقل پر غلبہ پائے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ تیری راہ میں جہاد کے دوران پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے مروں اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ تیرے راستے میں ڈسا ہوا مروں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت زیاد بن علاقہ رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے روایت کر تے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے’’ اللهم جنبني منكرات الأخلاق، والأهواء، والأعمال والادواء‘‘ اے اللہ! مجھے اخلاقیات ،خواہشات اعمال اور عبادت میں مکروہات سے بچا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی أعوذ بالله من الكفر والدين’’ میں کفر‘اور’قرض‘ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں‘‘ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا قرض ( کابوجھ ) کفر کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یوں کہا کرتے تھے’’ اللهم إني أعوذ بك من جار الشوء في دار المقامة، فإن جار البادية يتحول‘‘ ’’اے اللہ ! میں وطن کے برے پڑوی سے تیری پناہ مانگتا ہوں کیونکہ سفر کے پڑوسی تو بدل جایا کرتے ہیں‘‘ ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور اس حدیث کو مقبری سے روایت کر نے میں عبدالرحمٰن بن اسحاق نے ابن عجلان کی متابعت کی ہے (ان کی روایت درج ذیل ہے )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے وطن کے برے پڑوسی سے اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ مسافر کے پڑوسی سے اگر جان چھڑانا چا ہیں تو چھوٹ سکتی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت شکل بن حمید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : مجھے تعوذ سکھایے تا کہ اس کے ساتھ میں پناہ مانگا کروں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ اورفرمایا یوں کہو’’ اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي، ومن شر بصرى، ومن شر نفسى، ومن شر منيى‘‘ اے اللہ میں اپنی سماعت ،اپنی بصارت اپنے نفس اوراپنی موت کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعامسلسل دہراتے رہے )حتی کہ ان کو یہ دعا یاد ہوگئی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت مسلم بن بکر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میرے والد نے مجھے یہ دعا مانگتے سنا:’’ اللهم إني أعوذ بك من الهم والكسل، وعذاب القبر ‘‘ اے اللہ ! میں غم کا ہلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔تو وہ مجھ سے کہنے لگے: اے میرے بیٹے !تم نے یہ دعاکس سے سنی ہے؟ میں نے کہا: میں نے یہ آپ ہی سے سنی ہے ۔انہوں نے فرمایا : اس دعا کو ہمیشہ مانگتے رہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے سنا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے أعوذ بك من عذاب جهنم، وعذاب القبر، وفتنة المحيا، وفتنة الممات، وفتنة الدجال (اے اللہ میں عذاب جہنم ، عذاب قبر ، زندگی اور موت کے فتنہ اورفتنہ دجال سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنبأ عبدان الأهوازي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1955
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1956
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی طمع سے اللہ کی پناہ مانگو جو گمراہی تک لے جائے اور ایسی طمع سے جوایسے موقع پر کی جائے جوطمع کا موقع نہ ہو جبکہ اس طمع کا کوئی ( دینی) فائدہ بھی نہ ہو ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔