حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت میں نماز پڑھ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام معبد ! تم مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور ابو بکر دوڑ کر آپ کی طرف گئےلیکن ابوبکر مجھ سے پہلے آپ تک پہنچ گئے ۔ابوبکرفر ماتے ہیں میں اکثر یہ دعامانگا کرتا ہوں’’ اللهم إني أسألك نعيما لا يبيد، وقرة عين لا تنفد، ومرافقة النبي صلى الله عليه وسلم في أعلى جنةالخلد‘‘۔’’اے اللہ میں تجھ سے ایسی نعمتیں مانگتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جوکم نہ ہو اور جنت الخلد کے اعلی مقام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنگت مانگتا ہوں ۔اگر یہ ارسال سے محفوظ ہے تو یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کے ہمراہ دعا مانگا کرتے تھے۔اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ لَا شَيْءَ قَبْلَكَ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ بَعِّدْ بَيْنِي، وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَعَّدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ’’اے اللہ ! تو سب سے پہلے ہے ،تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے اور تو ہی سب سے آخر ہے اور تیرے بعد کوئی نہیں ۔ اور میں ہر جانور کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی لگام تیرے ہاتھ میں ہے اور میں گناہ اورسستی و کاہلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور دولت کے فتنہ اور قبر کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے گناہ اور تاوان سے تیری پناہ مانگتا ہوں ،اے اللہ ! میرے دل کو گناہوں سے ایسے پاک کر دے جیسے تو سفید کپڑے کومیل کچیل سے صاف کر دیتا ہے ۔ اے اللہ! میرے اور گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی دوری مشرق سے مغرب کی ہے‘‘۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
أُمِّ سَلَمَةَ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصبهاني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1922
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1923
حضرت سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو انتہائی مختصر نماز پڑھائی ، ان سے کہا گیا اے ابو یقظان! آج آپ نے بہت مختصر نماز پڑھائی ہے (اس کی وجہ کیا ہے) انہوں نے جواب دیا: مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے، میں نے اس میں وہ دعائیں مانگی ہیں ، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں ۔سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ابوعطاء نے ان سے اس دعا کے متعلق در یافت کیا تو انہوں نے بتایا (کہ وہ دعا یہ تھی ) اے اللہ ! تجھے تیرے علم غیب اور مخلوق پر تیری قدرت کا واسطہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم میں میرے لئے زندگی بہتر ہے اور اس وقت مجھے موت دے دے، جب تیرے علم میں میرے لئے موت بہتر ہو ۔اور میں ہمیشہ حکمت کی بات بولوں ۔ اور دولت مندی وفقر میں میانہ روی اختیار کروں اور میں تجھ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ہلاک نہ ہوں اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک مانگتا ہوں جوک بھی ختم نہ ہواور میں تجھ سے فیصلے کے بعد رضا کا سوال کرتا ہوں اور مرنے کے بعداچھی زندگی کا سوال کرتا ہوں اور تیری ذات کے دیدار کا سوال کر تا ہوں اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں ( اور یہ سب کچھ) کسی نقصان اور آزمائش میں مبتلا ہوئے بغیر ( ہو جائے ) اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت کے ساتھ مزین فرما۔اور ہدایت یافتہ را ہنما بنا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگا کرتے تھے ’’اللهم احفظنى بالإسلام قائما، واحفظني بالإسلام قاعدا، واحفظني بالإسلام راقدا، ولا تشمت بی عدوا حاسدا، واللهم إني أسألك من كل خير خزائنه بيدك، وأعوذ بك من كل شر خزائنه بيدك ‘‘۔ ’’اے اللہ! اٹھتے بیٹھتے اور سوتے ،( جاگتے ہر حالت میں) اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما اور میری مصیبت پر دشمن حاسدوں کوخوش ہونے کا موقع نہ دے ۔اوراے اللہ ! میں تجھ سے تیرے وہ بہتر خزانے مانگتا ہوں جو تیرے ہاتھ میں ہیں‘‘یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھی’’ اللهم إنا نسألك موجبات رحمتك، وعزائم مغفرتك، والسّلامة من كل إثم، والغنيمة من كل بر، والفوز بالجنة، والنّجاة بعونك من النار‘‘ اے اللہ ! ہم تجھ سے رحمت کے اسباب مانگتے ہیں اور مغفرت کے ارادے مانگتے ہیں اور ہر گناہ سے سلامتی مانگتے ہیں اور ہر نیکی سے کمائی مانگتے ہیں ۔ جنت کی کا میابی مانگتے ہیں اور تیری مد د کے ساتھ دوزخ سے نجات مانگتے ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ہر دل ، رحمنٰ کی دوانگلیوں کے بیچ میں ہے، چا ہے تو اس کو سید ھار کھے اور چاہے تو اس کو ٹیڑ ھا کر دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے ۔اے دلوں کے پھیرنے والے! دل کواپنے دین پر قائم رکھ اور میزان رحمن کے ہاتھ میں ہے ، جن قوموں کو چاہتا ہے، بلند کر دیتا ہے اور جن کو چا ہتاہے جھکا دیتا ہے، قیامت تک ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔اورسند صحیح کے ہمراہ مذکور ہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ( شاہد حد یث درج ذیل ہے )
النواس بن سمعان الكلابي ← أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، ← بِشْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بحر بن نصر ← أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1926
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1927
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کہا تھا:’’ مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا‘‘ اس وقت تم نے کیا دعا مانگی تھی؟ ( عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا( وہ دعا یہ تھی)’’ اللهم إني أسألك أيمانا لا يرتد، ونعيما لا ينفد، ومرافقة نبيك محمد صلى الله عليه وسلم في أعلى درج الجنة جنة الخلد‘‘ اے اللہ میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں کہ پھر کبھی مرتد نہ ہوں اور ایسی نعمتیں مانگتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں اور جنت الخلد کے اعلیٰ درجہ میں تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنگت مانگتا ہوں۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت عثان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابیناشخص ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کر نے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا بتایئے جو کہ میں مانگوں تو اللہ میری بینائی لوٹا دے۔ آپ نے اسے فرمایا: یوں دعا مانگا کرو ’’اللهم إنى أسالك، وأتوجه إليك بنبيك نبي الرحمة، يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي، اللهم شفعه في، وشفعني في نفسی‘‘۔’’اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، تیرے نبی رحمت کے واسطے سے ، تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ،اے محمد ! میں آپ کے واسطے سے اپنے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں ۔اے اللہ! میرے حق میں ان کی اور میرے حق میں میری شفارش قبول فرما‘‘ (عثمان بن حنیف )کہتے ہیں ۔ وہ یہ دعا مانگ کر کھڑے ہوئے تو اس کی بینائی واپس آ گئی تھی ۔ روح بن قاسم رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کرنے میں شیب بن سعید حبطی نے عون بن عمار ہ بصری کی متابعت کی ہےاوران کی سند میں اورمتن میں کچھ اضافہ جات ہیں اور اس سلسلہ میں شبیب کا قول معتبر ہے کیونکہ ووثقہ ہیں ، مامون ہیں ۔
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک نابیناشخص آیا اور اپنی نابینائی کی شکایت کی ۔ اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلنے والا کوئی نہیں ہے جس کی وجہ سے میں شدید مشقت میں مبتلا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضوکر کے دورکعت نوافل ادا کر و پھر یوں دعا مانگو’’ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے تیری بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں ۔اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں ، میری آنکھوں کو روشن کر دیں ۔اے اللہ! میرے بارے میں ان کی اور میری سفارش قبول فرما۔عثان کہتے ہیں: ابھی ہم وہاں سے اٹھ کر نہیں گئے تھے اور ہماری گفتگوکوئی زیادہ طویل نہیں ہوئی تھی کہ وہ آ دمی ( نماز پڑھ کر دعا وغیرہ مانگ کر) آ گیا ( اورایسا صحت یاب ہو چکا تھا یوں لگتا تھا کہ) اس کو کبھی آنکھوں کا عارضہ لاحق ہی نہیں تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور میں نے عون بن عمارہ کی روایت پہلے اس لئے نقل کی ہے کہ ہماراطریقہ یہ ہے کہ ہم ان احادیث کو تر جیح دیتے ہیں جن میں ہماری سند’’ عالی‘‘ ہوتی ہے ۔
عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← أَبِي ← أحمد بن شبيب بن سَعِيْد الحبطي ← أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1930
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1931
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے( آپ فرماتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: یوں دعا مانگا کرو اللهم إنى ضعيف فقو في رضاك ضعفى، وخذ لي الخير بناصيتي، واجعل الإسلام منتهى رضائی،اللهم إني ضعيف فقوني، وانی ذلیل فاعزنی، وانی فقیر فارزقنی ”اے اللہ ! میں کمزور ہوں ،اپنی رضا میں میرے ضعف کوقوت عطا کر ۔ اور میرانصیب اچھافر مااوراسلام کو میری رضا کا انجام بنا ،اے اللہ ! میں کمزور ہوں تو مجھے قوت عطافرما، میں ذلیل ہوں تو مجھے عزت عطا فرما، میں فقیر ہوں تو مجھے رزق عطافرما۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےغلام ،حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: مجھے کہا گیا: اے محمد! تم سنو! اور سوال کرو تمہیں عطا کیا جائے گا ۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے یوں دعا مانگی:اللهم إنى أسالك فعل الخيرات، وترك المنكرات، وحب المساكين، وأن تغفر لي وترحمني، وإذا أردت بقوم فتنة فتوفني إليك، وأنا غير مفتون، اللهم إني أسألك حبك، وحب من يحبك،وحبا يبلغني حبك”اے اللہ! میں تجھ سے اعمال صالحہ کرنے اور برے کام چھوڑ نے اور مسکینوں سے محبت کر نے کی توفیق مانگتا ہوں ۔ اور یہ کہ تو میری مغفرت فرما اور میرے او پررحم فرما اور جب تو کسی قوم کوفتنہ میں مبتلا کر نا چا ہے تو تو مجھے اس آزمائش میں مبتلا کئے بغیر اپنی طرف وفات دے دے، اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت اوران لوگوں کی محبت جو تجھ سے محبت کر تے ہیں اور ایسی محبت کی تو فیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أبي سلام الأسود ← أبي يحيى الكلاعي ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1932