حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک لاغر بیمارشخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے عافیت عطافرمائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:اگرتم چا ہوتو اس کو مؤخر کر لو اور چاہوتو میں دعا کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: آپ دعا فرمادیں ۔ ( حضرت عثان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کر کے 2رکعتیں ادا کرے اور پھر یوں دعا مانگے : اللهم أسألك، وأتوجه إليك بنبيك محمد صلى الله عليه وسلم نبي الرحمة، يا محمد إني أتوجه بك إلى ربك في حاجتي هذه ”اے اللہ میں تجھ سےسوال کرتا ہوں اور تیری طرف تیرے نبی ، نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے متوجہ ہوتا ہوں ، یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے واسطے سے ، آپ کے رب کی بارگاہ میں متوجہ ہوں ، اپنی اس حاجت کے سلسلے میں ۔ تو میری اس حاجت کو پورا کر دے ۔اے اللہ ! ان کی شفارش میرے حق میں اور میری درخواست ان کے متعلق قبول فرما ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ بھی تھی:رت أعتى، ولا تعن على، وانصرني ولا تنصر على، وامكر لي ولا تمكر على، واهدني ويسر الهدى لى، وانضرنى على من بغى علي، رب اجعلني لك شكارا لك، ذكارا لك، رهابا لك، مطواعا لك، مخبتا إليك، أواها منيا، تقبل توبتي، وأجب دعوتي، واهد قلبي، وثبت حجتي، وسدد لساني، واسلل سخيمةقلبی”اے میرے رب ! میرے ساتھ تعاون کر اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر اور میرے لیے تد بیرکراور میرے خلاف کسی اور کے لئے تدبیر نہ کر اور مجھے ہدایت دے اور میرے لیے ہدایت آسان کر دے ۔اور اس شخص کے خلاف میری مد دکر جومیرے خلاف بغاوت کرے، اے میرے رب! مجھے اپناشکر گزار بند ہ بنا،اپنا ذاکر بنا، اپنے لیے الگ تھلک رہنے والا بنا، اپنا عبادت گذار بنا، اپنی بارگاہ میں عاجزی کر نے والا بنا ، آہ و زاری کرنے والا اور رجوع کرنے والا بنا ، میری تو بہ قبول فرما اور میری دعا کو قبول فرما ، میرے دل کو ہدایت عطا فرما اور میری حجت کو ثابت فرما ، میری زبان کومحفوظ رکھ ، میرے دل سے کینہ کوختم فرما۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتی ہیں :محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے جودعا مانگا کرتے تھے وہ یہ ہے’’اللهم إني أسألك خير المسالة، وخير الدعاء، وخير النّجاح، وخير العمل، وخير الثواب، وخير الحياة، وخير الممات، وتبتني وتقل موازيني، وحقق ایمانی، وارفع درجاتي، وتقبل صلاتي، واغفر خطيئتي، وأسالك الدرجات العلى من الجنة، اللهم إني أسألك فواتح الخير وخواتمه، وجوامعة، وأوله، وظاهره وباطنه، والدرجات العلى من الجنة امين، اللهم إني أسألك خير ما اتي، وخير ما أفعل، وخير ما أغمل، وخير ما بطن، وخير ما ظهر، والدرجات العلى من الجنة امين، اللهم إني أسألك أن ترفع ذكرى، وتضع وزرى، وتضح أمرى، وتطهر قلبي، وتحصن فرجي، وتنور لي قلبي، وتغفر لي ذنبي، وأسالك الدرجات العلى من الجنة أمين، اللهم إني أسألك أن تبارك لي في نفسي، وفي سمعي، وفي بصرى، وفي روحی، وفي خلقي، وفي خلقي،وفي أهلي، وفي محياي، وفي مماتي، وفي عملى، فتقبل حسناتي، وأسالك الدرجات العلى من الجنة امين‘‘۔’’اے اللہ! میں تجھ سے اچھے سوال، اچھی دعا ،اچھی کامیابی ، اچھا ثواب،اچھے عمل ،اچھی زندگی اور اچھی موت کا سوال کرتا ہوں اور مجھے ثابت قدم رکھ اور میرے میزان کو بھاری کر اور میرے ایمان کو پختہ کر ، میرے درجات بلند فرما اور میری نماز کوقبول فرما ،میری خطائیں معاف کر اور میں تجھ سے جنت کے اعلی درجہ کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے اعمال و افعال اور ظاہر و باطن کی بھلائی مانگتا ہوں اور جنت کے اعلی در جے کی بھلائی مانگتا ہوں ، یا اللہ قبول فرما اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرا ذکراونچا کر دے اور میری شرمگاہ کی حفاظت فرما اور میرے دل کو منور کر دے اور میرے گناہ معاف فرما اور میں تجھ سے جنت کے اعلی درجے کا سوال کرتا ہوں، یا اللہ ! قبول فرما،اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے نفس میں ، میری ساعت میں ، میری بصارت میں ، روح میں اور میری تخلیق میں ، میرے اخلاق میں ، میرے اہل وعیال میں ، میری زندگی میں ، میری وفات میں اورمیرے عمل میں برکت عطافرما،میری نیکیاں قبول فرما اور میں تجھ سے جنت کے اعلٰی در جوں کا سوال کرتا ہوں، یا اللہ ! قبول فرما۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
أُمِّ سَلَمَةَ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، ← عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبهاني، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصبهاني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1911
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1912
حضرت عبدالرحمٰن بن عالیش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کیا پھر یوں دعا مانگی اللهم إني أسألك اليبات، وترك المنگرات وحب المساكين، وأن تتوب على، وتغفر لى،وترحمنى، وإذا أردت فتنة في قوم فتوفني غير مفتون”اے اللہ! میں تجھ سے اچھائیوں کا سوال کرتا ہوں اور برائیاں چھوڑ نے کی تو فیق مانگتا ہوں اورمسکینوں سے محبت مانگتا ہوں اور یہ کہ تومیری توبہ قبول فرما میری مغفرت فرما مجھ پررحم فرما اور جب کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہےتو مجھے فتنہ میں مبتلا کئےبغیر وفات عطافرا‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا تم یہ دعالوگوں کوسکھاؤ کیونکہ اس ذات کی قسم ! جسکے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ برحق ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی فرمان منقول ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں آنے سے اتنی دیر کر دی کہ سورج طلوع ہونے میں بہت تھوڑ اوقت باقی رہ گیا تھا پھر آپ تشریف لائے اور بہت مختصر نماز پڑھا کر فارغ ہوئے اور ہماری طرف متوجہ ہوکر ارشادفر مایا :اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، میں تمہیں بتا تا ہوں کہ آج اس نماز میں مجھے تاخیر کیوں ہوئی ، میں اسی رات کافی دیر تک نماز پڑھتارہا پھر مجھے نیند آنے لگی تو میں سوگیا، میں نے اللہ تعالی کود یکھا۔ اس نے مجھے یہ الہام کیا کہ میں یوں دعا مانگا کروں اللهم إني أسالك الطيبات، وترك المنگرات، وحب المساكين، وأن تتوب على، وتغفر لي، وترحمني، وإذا اردت في خلقك فتنة فنجني إليك منها غير مفتون، اللهم واسالك حبك، وحب من يحبك، وحب عمل يقربني إلى حبك ”اے اللہ ! میں تجھ سے بھلائیوں کی محبت مانگتا ہوں اور یہ کہ تو میری تو بہ قبول فرما، میری مغفرت فرما اور میرے او پر رحم فرما ،جب تو اپنی مخلوق میں آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے وہاں سے فتنہ میں مبتلا کئے بغیر نجات عطا فرما،اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے محبت کا سوال کر نے والوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں اورایسے عمل سے محبت کا سوال کر تا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فر مایا:اس دعا کوسیکھ لو اور دوسروں کو سکھاؤ کہ یہ برحق ہے۔
مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِيهِ ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1913
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1914
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ حضرت ابو بکر صد یق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے کوئی ایسی بات کرنے لگے جس کو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے چھپار ہے تھے ، اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہ ! کوامل اختیار ( جامع الفاظ میں دعا مانگا کرو) کرو یا شاید کوئی اور لفظ کہا۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تو انہوں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا: آپ نے انکو جوابا کہا: یوں دعا مانگو’’ اے اللہ ! میں تجھ سے جلدی اور دیر سے ہر بھلائی مانگتا ہوں ، ان میں سے جن کو جانتا ہوں (وہ بھی) اور جن کونہیں جانتا ہوں (وہ بھی) اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جلدی اور دیر سے پیش آنے والے شر سے ، ان میں سے جن کو میں جانتا ہوں (ان سے بھی ) اور جن کو میں نہیں جانتا ہوں (ان سے بھی) اور میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور ہر اس قول وفعل کا جو جنت کے قریب کر دے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ سے اور ہر اس قول فعل سے جو جہنم کے قریب کر دے اور میں تجھ سے وہ تمام بھلائیاں مانگتا ہوں جو تیرے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہیں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان چیزوں کے شر سے جن سے تیرے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے اور میں تجھ سے یہ سوال کر تا ہوں کہ تو میرے لئے کسی معاملے میں جو بھی فیصلہ کرے اس کا انجام میرے لئےبہتر فرما۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
اس سند کے ہمراہ بھی ام المومنین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی فرمان منقول ہے۔ اسی طرح ابونعامہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے جبکہ شعبہ، ابونعامہ سے احفظ تھے اور جب شعبہ کی روایت ابونعامہ کے مخالف ہوتوشعبہ کا قول معتبر ہوتا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یوں کہا کر تے تھے اللهم اغفر لنا ذنوبنا وظلمنا، وهزلنا وجدنا، وعمدنا وكل ذلك عندنا ’’اے اللہ ! ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمارے ظلم اور ہماری فضول گوئی اور ہماری کوششیں اور ہمارے جان بو جھ کرکئے جانے والے گناہ ،اور یہ سب کی سب ہماری ہی کو تا ہیاں ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور عرض کی : اللہ تعالی آپ کوحکم دیتا ہے کہ ان کلمات کے ہمراہ دعا مانگا کرو کیونکہ وہ آپ کوان میں سے کوئی ایک عطا کر دیگا ( دعا کے لئے الفاظ یہ ہیں )اللهم إني أسالك تعجيل عافيتك، وصبرا على بليتك، أو خروجا من الدنيا إلى رحمتك ’’اے اللہ! میں تجھ سے جلدی عافیت مانگتا ہوں اور تیری آزمائش پرصبر مانگتا ہوں یا( اگر میرے نصیب میں نہیں ہے تو) دنیا سے تیری رحمت کی طرف روانگی مانگتا ہوں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں سے یہ بھی (شامل ) ہے۔ اللهم متعنى بسمعى وبصرى، واجعلهما الوارث منى، وانصرني على من ظلمني، وأرني فيه ثارى ’’اے اللہ ! میری سماعت اور میری بصارت کے ساتھ مجھے نفع دے اور ان دونوں کو میرا وارث بنا اور ان لوگوں کے خلاف میری مد دکر جو مجھ پرظلم کر یں اور میرے دوستوں پرظلم کر نے والوں کا انجام مجھے دنیا میں دکھا‘‘ ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ← أبو جعفر محمد بن عبد الله بن سليمان ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1918
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1919
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو خیر کی وصیت کر تے ہوئے فرمایا:اے سلمان! اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کچھ ایسے کلمات دینا چاہتا ہے ، جن کے ذریعے تم اللہ سے سوال کرو اور ان کے ذریعے سے تم اللہ کی طرف رغبت کر و اوران کے ساتھ دن اور رات میں دعائیں مانگو، یوں کہا کرو اللهم إني أسالك صحة في إيمان، وإيمانا في حسن خلق، ونجاحا يتبعه فلاح ورحمة منك، وعافيةومغفرة منك ورضوانا”اے اللہ! میں تجھ سے ایمان میں صحت اور حسن خلق میں ایمان کا سوال کرتا ہوں اورایسی کامیابی مانگتا ہوں جس کے بعد مقصد پورا ہو جائے ! اور تیری رحمت ، عافیت ،مغفرت اور تیری خوشنودی مانگتا ہوں ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جوشخص یوں دعا مانگے اللهم إني أشهدك وأشهد ملائكتك وحملة عرشك، وأشهد من في السماوات ومن في الأرض، انك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك، وأشهد أن محمدا عبدك ورسولك، من قالها مرة اعتق الله ثلثة من التار، ومن قالها مرتين أعتق الله ثلثيه من التار، ومن قالها ثلاثا أعتق الله كله من النّار ’’اے اللہ ! میں تیری گواہی دیتا ہوں ، تیرے ملائکہ کی گواہی دیتا ہوں اور تیرے حاملین عرش کی گواہی دیتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں‘‘۔ جوشخص ایک مرتبہ یہ دعا مانگے ، اللہ تعالی اس کو تیسرے حصے کے برابر جہنم سے آزادکر دیتا ہے اور جوشخص دومرتبہ یہ دعا مانگے اللہ تعالی اس کا دوتہائی حصہ جہنم سے آزادکر دیتا ہے اور جو تین مرتبہ یہ دعا مانگے اللہ تعالی اس کومکمل طور پر جہنم سے آزاد کر دیتا ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔