حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی چیز دعا سے زیادہ عزیز نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اپنی کتاب میں عمران القطان کی روایات نقل نہیں کی ہیں ۔ حالانکہ وہ اپنی روایت میں صدوق ہیں ۔ جبکہ امام بخاری رحمتہ اللہ نے ’’جامع صحیح‘‘میں ان کی روایات نقل کی ہیں اور جوروایات امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ سے کتاب الدعوات میں ذکر کر نے سے رہ گئی ہیں ، ان کو قبول کرنے میں ابوسعید عبدالرحمٰن بن مہدی کے مذ ہب پر چلتے ہوئے میں بیان کرونگا۔ انشاءاللہ تعالی ۔ کیونکہ مجھے ابوزکریایحیٰ بن محد العنبری نے بتایا ہے کہ میں نے ابوالحسن محمد بن اسحاق بن ابراہیم الحنظلی کوفر ماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے والد، عبدالرحمٰن بن مہدی کے حوالے سے حلال و حرام احکام کے متعلق احادیث روایت کرتے ہیں تو ان کی بہت شدید چھان بین کرتے ہیں اور اس کے راویوں پر بہت زیادہ جرح وقدح کرتے ہیں لیکن جب اعمال کے فضائل ،ثواب ،عقاب،مباحات اور دعاؤں کے متعلق احادیث نقل کرتے ہیں تو سند کے حوالے سے اتنی زیادہ سختی نہیں کرتے ہیں ۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: دعا عبادت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی: وقال ربكم ادعوني أستجب لكم(المومن: ۶۰ ) ’’اورتمہارے رب نے فرمایا: مجھے سے دعا کرو میں قبول کرونگا ( ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور اس حدیث کو شعبہ اور جریر نے منصور کے واسطے سے ذر( بن عبداللہ ہمدانی ) سے روایت کی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے بھی منصور کے واسطے سے ذر( بن عبداللہ ہمدانی)‘‘ سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے جس کی سند بھی اسی جیسی ہے۔سند صحیح کے ہمراہ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔(وہ حدیث درج ذیل ہے )
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بہتر ین عبادت’’دعا‘‘ ہے اور آپ نے یہ آیت پڑھی وقال ربكم ادعوني أتجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين(المومن: 60 ) ’’اورتمہارے رب نے فرمایا: مجھے سے دعا کرو میں قبول کرو نگا بے شک وہ جومیری عبادت سے اونچے کھچتے ہیں عنقر یب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر‘‘ ( تر جمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:جوشخص اللہ تعالٰی سے دعانہیں مانگتا، اللہ تعالی اس سے ناراض ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جوشخص اللہ تعالی سے دعانہیں مانگتا اللہ تعالی اس پر ناراض ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالی اس شخص پر ناراض نہیں ہوتا ہے جو دعا مانگتا ہے اور ( دعاما نگنے میں )صرف اللہ تعالی ہی خوش ہوتا ہے ۔( اللہ تعالی سے نہ مانگوتو وہ ناراض ہوتا ہے اورمخلوق سے ما نگ لوتو یہ ناراض ہو جاتے ہیں )۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ ابوصالح خوزی اور ابوالملیح فارسی کا جرح میں کہیں تذکرہ نہیں کیا گیا تا ہم کم احادیث روایت کرنے کی وجہ سے ان کا نام مجہول راویوں میں شمار ہوتا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جولوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اس میں اللہ تعالی کا ذکر کیے بغیر اٹھ جائیں تو ایسا ہے جیسے وہ کسی مرے ہوئے گدھے پر جمع ہوئے ہوں اور اٹھ کر چلے گئے ہوں اور قیامت کے دن ان کو اس بات پر حسرت ہوگی ۔ ( کہ ہم اس وقت ذکر اللہ سے غافل کیوں رہے ) یہ حدیث سہیل بن ابی صالح سے روایت کر نے میں عبدالعزیز ابوحازم نے بلال کی متابعت کی ہے( ان کی روایت کر دہ حدیث درج ذیل ہے )۔
حضرت عبد العزیز بن ابوحازم رضی اللہ عنہ کی سند کے ہمراہ بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان منقول ہے۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔اور میرا خیال یہ ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1809
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1810
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جولوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور پھر اس میں اللہ تعالی کے ذکر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بغیر اٹھ کر چلے جائیں ، قیامت کے دن ان کو اس پر حسرت ہوگی ۔ یہ حدیث سہیل کی حدیث کو معلل نہیں کرتی کیونکہ یہ زیادتی سلیمان بن بلال اورا بن حازم کی جانب سے ہے اور ان کی زیادتی مقبول ہے اور اس کو سعید المقبری نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مسنداً بھی روایت کیا ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جولوگ اکٹھے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر متفرق ہو جائیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے کسی مرداد گد ھے پر جمع ہوکر متفرق ہوئے ہوں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1811
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1812
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: دعاء مؤمن کا ہتھیار ہے، دین کا ستون ہے اور زمین اورا سمانوں کا نور ہے۔یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ یہ محمد بن حسن ( وہ ہیں جن کا نام) ’’تل‘‘ ہے یاوہ صدوق ہیں کو فیوں میں سے ہیں ۔