المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1692
1692 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حَفْصٍ الْخَثْعَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زَاذَانَ، قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَضًا شَدِيدًا، فَدَعَا وَلَدَهُ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَجَّ مِنْ مَكَّةَ مَاشِيًا حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَكَّةَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ سَبْعَ مِائَةِ حَسَنَةٍ، كُلُّ حَسَنَةٍ مِثْلُ حَسَنَاتِ الْحَرَمِ» قِيلَ: وَمَا حَسَنَاتُ الْحَرَمِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ حَسَنَةٍ مِائَةُ أَلْفِ حَسَنَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "
حضرت زاذان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضرت( عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہ شد ید بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے تمام بچوں کو بلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادسنایا: جوشخص مکہ سے پیدل حج کو جائے اور پیدل ہی واپس آئے ، اللہ تعالی اس کے لئے ہر قدم کے بدلے سات سونیکیاں لکھتا ہے۔ان میں سے ہرنیکی حرم کی نیکیوں کے برابر ہوگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا گیا: حرم کی نیکی کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہر نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکی کا ثواب ملتا ہے۔ تبصری:یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
مَرِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَضًا شَدِيدًا فَدَعَا وَلَدَهُ فَجَمَعَهُمْ، ← زَاذَانَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عيسى بن سوادة، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ← محمد بن الحسين بن حفص الخثعمي، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1692
