Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1692

1692 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حَفْصٍ الْخَثْعَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زَاذَانَ، قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَضًا شَدِيدًا، فَدَعَا وَلَدَهُ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَجَّ مِنْ مَكَّةَ مَاشِيًا حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَكَّةَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ سَبْعَ مِائَةِ حَسَنَةٍ، كُلُّ حَسَنَةٍ مِثْلُ حَسَنَاتِ الْحَرَمِ» قِيلَ: وَمَا حَسَنَاتُ الْحَرَمِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ حَسَنَةٍ مِائَةُ أَلْفِ حَسَنَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت زاذان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضرت( عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہ شد ید بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے تمام بچوں کو بلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادسنایا: جوشخص مکہ سے پیدل حج کو جائے اور پیدل ہی واپس آئے ، اللہ تعالی اس کے لئے ہر قدم کے بدلے سات سونیکیاں لکھتا ہے۔ان میں سے ہرنیکی حرم کی نیکیوں کے برابر ہوگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا گیا: حرم کی نیکی کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہر نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکی کا ثواب ملتا ہے۔ تبصری:یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

مَرِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَضًا شَدِيدًا فَدَعَا وَلَدَهُ فَجَمَعَهُمْ، ← زَاذَانَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عيسى بن سوادة، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ← محمد بن الحسين بن حفص الخثعمي، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1692

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1693

1693 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُلُودِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ خَطَبَ النَّاسَ فَأَخْبِرْهُمْ بِمَنَاسِكِهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم ترویہ ( ۸ ذی الحج) سے ایک دن پہلے (یعنی ۷ ذی الحج کو ) لوگوں کو خطبہ یا کرتے تھے اور انہیں مناسک حج سکھایا کرتے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

بِمَنَاسِكِهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ خَطَبَ النَّاسَ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← أحمد بن محمد بن جعفر الجلودي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1693

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1694

1694 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ الْبَجَلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِمِنًى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۵نماز یں منٰی میں ادا کیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ الْبَجَلِيُّ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1694

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1695

1695 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: «مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ أَنْ يُصَلِّيَ الْإِمَامُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ وَالصُّبْحَ بِمِنًى، ثُمَّ يَغْدُوَ إِلَى عَرَفَةَ فَيُقْبِلَ حَيْثُ قُضِيَ لَهُ، حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، ثُمَّ يُفِيضَ فَيُصَلِّيَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، أَوْ حَيْثُ قَضَى اللَّهُ، ثُمَّ يَقِفَ بِجَمْعٍ حَتَّى يُسْفِرَ، وَيَدْفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَرُمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ حَتَّى يَزُورَ الْبَيْتَ» هَذَا حَدِيثٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حج کا طریقہ یہ ہے کہ امام ظہر ،عصر،مغرب،عشاءاور فجر کی نمازمنیٰ میں پڑھے، پھرصبح سویرے عرفات کی طرف چلا جائے پھراس کے لئے اللہ کا جو فیصلہ ہوگا ، اس کے مطابق اس کی عبادات قبول کی جائیں گی ۔ یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جائے ،تو وہ لوگوں کو خطبہ دے، پھر ظہر اور عصر کی نماز یں اکٹھی پڑھے، پھر غروب آفتاب تک عرفات میں ٹھہرار ہے۔(سورج غروب ہونے کے بعد) وہاں سے ( مزدلفہ کی طرف )نکل جائے اور مزدلفہ میں جا کر نماز ادا کرے یا جہاں اللہ فیصلہ کرے۔ پھر صبح تک وہاں ٹھہرا ر ہے ۔ اور طلوع آفتاب سے پہلے اس (وقوف )کوختم کر دے پھر جب بڑے شیطان کو کنکریاں مار لے تو عورت اور خوشبو کے علاوہ ہر وہ چیز اس پر حلال ہو جائے گی ( جو حالت احرام میں) حرام تھی۔یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کی زیارت کر لے( کہ اس کے بعد عورت اور خوشبو بھی حلال ہو جاتی ہے )۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← إبراهيم بن عبد الله أنبأ يزيد بن هارون أنبأ يحيى بن سعيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1695

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1696

1696 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، قَالَ: غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا آدَمَ لَهُ ضَفِيرَتَانِ عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَكَانَ يُلَبِّي، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ عُرْفٌ مِنْ عُرْفِ النَّاسِ فَقَالُوا: يَا أَعْرَابِيُّ، إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: جَهِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ «لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ، فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ إِلَّا أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن سخر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صبح کے وقت منٰی کی طرف نکلا ، عبداللہ گندم گوں آدمی تھے، وہ بالوں کی دو چوٹیاں رکھتے تھے جو کہ ان کے اوپر دیہاتیوں کی نشانی ہوتی تھی۔ وہ مسلسل تلبیہ کہہ رہے تھے ۔( یہ سن کر بہت سارے) لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے گے : اے بد و ! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے ۔آج تو تکبیرات کادن ہے ۔عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں: اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: یہ لوگ جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم ! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوحق کے ساتھ بھیجا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منٰی سے عرفات کی طرف نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہا: تا ہم اس کے ساتھ ساتھ تکبیر یاتہلیل بھی پڑھتے ہیں ۔ یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← أبو بكرة بكار بن قتيبة القاضى ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1696

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1697

1697 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ، وَارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَاهِدُهُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ صَحِيحٌ إِلَّا أَنَّ فِيهِ تَقْصِيرًا فِي سَنَدِهِ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:’’بطن عرنہ‘‘ میں قیام نہ کر و اور’’بطن محسر‘‘میں بھی نہ کرو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین معں نقل نہیں کیا گیا۔ اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد ہے۔ جو کہ شیخین رحمتہ اللہ کے معیار پر ہے تا ہم اس کی سند میں کچھ کمی ہے۔(وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے )

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1697

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1698

1698 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: «ارْتَفِعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ، وَارْتَفِعُوا عَنْ عُرَنَاتٍ» أَمَّا قَوْلُهُ: «الْعُرَنَاتُ» فَالْوُقُوفُ بِعُرَنَةَ أَيْ لَا تَقِفُوا بِعُرَنَةَ، وَأَمَّا قَوْلَهُ: «عَنْ مُحَسِّرٍ» فَالنُّزُولُ بِجَمْعٍ إِلَّا أَنْ يَنْزِلُوا مُحَسِّرًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ تا کید کی جاتی تھی کہ وادی محسر سے آگے گز رجا ؤ اور عرنات سے ابھی آگےچلے جاؤ۔ مذکورہ حدیث میں عرنات سے مراد وادی عرنہ میں ٹھہر نا ہے ۔ مطلب یہ ہے: وقوف عرفات کے دوران مقام عرنہ ( جو کہ عرفات کے سامنے ایک وادی کا نام ہے) میں مت جاؤ۔ اورمحسر سے آگے گزرنے کا مطلب یہ ہے کہ وقوف مزدلفہ کےدوران وادی محسر میں نہ جاؤ۔

مُحَسِّرٍ» فَالنُّزُولُ بِجَمْعٍ إِلَّا أَنْ يَنْزِلُوا مُحَسِّرًا ← عُرَنَاتٍ» أَمَّا قَوْلُهُ: «الْعُرَنَاتُ» فَالْوُقُوفُ بِعُرَنَةَ أَيْ لَا تَقِفُوا بِعُرَنَةَ، وَأَمَّا قَوْلَهُ: ← مُحَسِّرٍ، وَارْتَفِعُوا ← كَانَ يُقَالُ: ارْتَفَعُوا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1698

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1699

1699 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ خَالِهِ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مِنْ وَرَاءِ الْمَوْقِفِ مَوْقِفًا يَتَبَاعَدُهُ عَمْرٌو مِنَ الْإِمَامِ، فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ: «كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت یزید بن شعبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم موقف سے پیچھے ایک ایسے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے جہاں سے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ امام سے کافی دور تھے، ہمارے پاس ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفیر بن کر آیا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے پیغام بھیجا ہے کہ تم اپنے ادائیگی حج کے مقام پر رہو کیونکہ تم ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پانے والے ہو۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

خَالِهِ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، ← [عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ] صَفْوَانَ، ← حفظته من عمرو بن دينار ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1699

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1700

1700 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي السَّفَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ: «مَنْ صَلَّى مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ، ثُمَّ وَقَفَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ الْإِمَامُ، وَأَتَى قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ»

حضرت عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے ۔ میں نے پوچھا: کیا میراحج ہو جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے ساتھ اس مقام پر یہ نماز ادا کر لی اور پھر ہمارے ساتھ یہیں پرامام کے نکلنے تک ٹھہرار ہا اور اس سے پہلے وہ دن یا رات میں عرفات سے ہوآئے تو اس نے اپناحج مکمل کر لیا اوراس نے اپنی میل کچیل کو دور کرلیا۔ (یعنی اس نے مناسک حج مکمل کر لئے اب وہ بال وغیرہ کٹواسکتا ہے)

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ ← عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1700

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1701

1701 - وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، بِمِصْرَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَدْلُ بِمَرْوَ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِجَمْعٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ وَقَدْ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ جَبَلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ، وَقَدْ أَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ وَحَجَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ كَافَّةِ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ، وَهِيَ قَاعِدَةٌ مِنْ قَوَاعِدِ الْإِسْلَامِ، وَقَدْ أَمْسَكَ عَنْ إِخْرَاجِهِ الشَّيْخَانِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَمُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَلَى أَصْلِهِمَا، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسٍ لَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ غَيْرُ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، وَقَدْ وَجَدْنَا عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ حَدَّثَ عَنْهُ "

حضرت عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے ۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جبل طے سے آیا ہوں ۔ میں خود بھی تھک چکا ہوں اور میرا اونٹ بھی تھک چکا ہے ۔خدا کی قسم! میں نے ہر پہاڑ پر وقوف کیا ہے، کیا میراحج ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ اس نماز کو پالیا اور وہ اس سے پہلے دن یا رات میں عرفات میں آچکا ہو ۔ اس نے اپنی میل کچیل دور کر دی (یعنی اس کے مناسک پورے ہو چکے ،اب وہ بال اور ناخن وغیرہ کٹواسکتا ہے) اور اس کا حج ہو گیا۔ یہ حدیث بہت سارے ائمہ حدیث کے معیار پر صحیح ہے اور یہ اسلام کی بنیادوں میں سے ایک ہے ۔ لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اپنے اس اصول کی وجہ سے نقل نہیں کیا کہ یہ حد یث عروہ بن مضرس سے عامرشعبی کے علاوہ اور کسی نے روایت نہیں کی ۔ جبکہ ہمارے پاس یہی حدیث عروہ بن مضرس سے عروہ بن زبیر بن عوام کی روایت کردہ ہے ( ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے )۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1701

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1702

1702 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ التُّسْتَرِيُّ بِتُسْتَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ فُلَيْحٍ الْمَكِّيِّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ الطَّائِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْقِفِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْتُ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَاللَّهِ مَا بَقِيَ مِنْ جَبَلٍ مِنْ تِلْكَ الْجِبَالِ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ - يَعْنِي صَلَاةَ الْغَدَاةِ - وَقَدْ أَتَى عَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ أَتَمَّ حَجَّهُ، وَقَضَى تَفَثَهُ» وَقَدْ تَابَعَ عُرْوَةُ بْنُ الْمُضَرِّسِ فِي رِوَايَةِ هَذِهِ السُّنَّةِ مِنَ الصَّحَابَةِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الْدَوْلِيِّ

حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے ۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جبل طے سے آیا ہوں ۔ میں خود بھی تھک چکا ہوں اور میں نے اپنے اونٹ کو بھی تھکاد یا ہے۔ خدا کی قسم! میں نے پہاڑوں میں سے ہر پہاڑ پر وقوف کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز پائی یعنی فجر کی نماز اور اس سے قبل وہ دن یارات میں عرفات میں آ یا ہوتو اس کاحج مکمل ہو گیااور اس کی میل کچیل دور ہوگئی ۔صحابہ رضی اللہ عنہ کی سنت بیان کرنے میں عروہ بن مضرس نے عبدالرحمٰن بن یعمر کی متابعت کی ہے۔( جیسا کہ درج ذیل ہے)

عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ الْبَصْرِيُّ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ فُلَيْحٍ الْمَكِّيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ التُّسْتَرِيُّ بِتُسْتَرٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1702

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1703

1703 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَسَأَلُوهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: «الْحَجُّ عَرَفَةُ، وَمَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ أَيَّامُ مِنًى، ثَلَاثٌ مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» وَأَرْدَفَ رَجُلًا فَنَادَى

حضرت عبد الرحمٰن بن یعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرفات میں آیا ، آپ ابھی عرفات میں ہی تھے کہ نجد کے کچھ لوگ آپ کے پاس حاضر ہوئے ،انہوں نے آپ سے یہی مسئلہ دریافت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا کہ منادی کر دے کہ’’ حج عرفہ ہے اور جوشخص طلوع فجر سے پہلے پہلے مزدلفہ میں آ جائے ، اس نے حج کو پالیا ،منٰی کے تین دن ہیں ، جو جلدی کر کے دو دن میں چلا جائے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو تین دن سے زیادہ لگائے اس پر گناہ نہیں ہے ‘‘اس شخص نے ایک آدمی کو اپنے پیچھے بٹھا یا اور یہ منادی کر دی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ ← بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1703

chevron_left Previous
1…789…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section