Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1680

1680 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذَا الْحَجَرِ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ، يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَقٍّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : حجراسود کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں اور یہ اپنے استلام کر نے والوں کے حق میں قیامت کے روز گواہی دے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1680

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1681

1681 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَأْتِي الرُّكْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمُ مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ لَهُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ يَتَكَلَّمُ عَمَّنِ اسْتَلَمَهُ بِالنِّيَّةِ، وَهُوَ يَمِينُ اللَّهِ الَّتِي يُصَافِحُ بِهَا خَلْقَهُ» وَقَدْ رُوِيَ لِهَذَا الْحَدِيثِ شَاهِدٌ مُفَسَّرٌ غَيْرَ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَإِنَّهُمَا لَمْ يَحْتَجَّا بِأَبِي هَارُونَ عُمَارَةَ بْنِ جُوَيْنٍ الْعَبْدِيِّ "

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: قیامت کے دن’’رکن‘‘ کو ہ ابوقبیس سے بڑا ہو کر آئے گا ، اس کی زبان اور ہونٹ ہوں گے اور یہ ان لوگوں کی شفاعت کرے گا جنہوں نے اچھی نیت سے اس کا استلام کیا ہوگا ،اور یہ اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ کرتا ہے ۔ اس حدیث کی ایک مفسر شاہد حدیث بھی ہے لیکن دو شیخین رحمتہ اللہ کے معیار پرنہیں ہے ۔ کیونکہ انہوں نے ابو ہارون عمارہ بن جو ین عبدی کی روایات نقل نہیں کیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَطَاءٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَؤَمَّلِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ الحسن بن علي بن زياد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1681

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1682

1682 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْكِيلِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْعَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَلَمَّا دَخَلَ الطَّوَافَ اسْتَقْبَلَ الْحَجَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ، وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ، ثُمَّ قَبَّلَهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بَلَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ يَضُرُّ وَيَنْفَعُ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: بِكِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى. قَالَ: وَأَيْنَ ذَلِكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى} [الأعراف: 172] خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَمَسَحَ عَلَى ظَهْرِهِ فَقَرَّرَهُمْ بِأَنَّهُ الرَّبُّ، وَأَنَّهُمُ الْعَبِيدُ، وَأَخَذَ عُهُودَهُمْ وَمَوَاثِيقَهُمْ، وَكَتَبَ ذَلِكَ فِي رَقٍّ، وَكَانَ لِهَذَا الْحَجَرِ عَيْنَانِ وَلِسَانٌ، فَقَالَ لَهُ افْتَحْ فَاكَ. قَالَ: فَفَتَحَ فَاهُ فَأَلْقَمَهُ ذَلِكَ الرَّقَّ وَقَالَ: اشْهَدْ لِمَنْ وَافَاكَ بِالْمُوافَاةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، وَلَهُ لِسَانٌ ذَلْقٌ، يَشْهَدُ لِمَنْ يَسْتَلِمُهُ بِالتَّوْحِيدِ» فَهُوَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَضُرُّ وَيَنْفَعُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَعِيشَ فِي قَوْمٍ لَسْتَ فِيهِمْ يَا أَبَا حَسَنٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج کے لئے گئے ، جب ہم طواف کرنے لگے تو آپ حجراسود سے مخاطب ہوکر کہنے لگے میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، نہ تو نقصان دے سکتا ہے نہ فائد ہ ۔اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرابوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تیرابوسہ نہ لیتا( یہ کہنے کے بعد) پھر آپ نے اس کا بوسہ لیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: اے امیرالمومنین! یہ فائدہ بھی دیتا ہے اور نقصان بھی ۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالٰی کی کتاب سے یہ بات ثابت ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کتاب اللہ کے کس مقام پر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالٰی ارشادفر ما تا ہے ۔ ’’واذ أخذ ربك من بنى ادم من ظهورهم ذريتهم، وأشهدهم على أنفسهم الست بربكم قالو بلی“ (الاعراف: 172 ) ’’اوراے محبوب یادکر و جب تمہارے رب نے اولادآدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خودان پر گواہ کیا ، کیا میں تمہارا رب نہیں؟ سب بولے: کیوں نہیں‘‘ ( ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا ) اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اوران کی پشت پر ہاتھ پھیرا اوران سے اپنی ربوبیت اوران کی عبود یت کا اقرار کر وایا اوران سے پختہ عہد و پیمان لئے اور یہ معاہد ہ ایک کھال پرلکھا اور اس پتھر کی آنکھیں اور زبان تھی ۔اللہ تعالی نے اس کو کہا: اپنا منہ کھول ! اس نے منہ کھولا! تو اللہ تعالی نے یہ کھال اس کے منہ میں ڈال اس کو کھلا دی ، پھر فر مایا: جوشخص تیرے ساتھ وعدہ پورا کرے تو قیامت کے دن اس کی وفا دار ی گواہی دینا (اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے کہ حجر اسودکو قیامت کے دن لا یا جائے گا اوریہ بڑی فصیح وبلیغ آواز میں ان لوگوں کے لئے گواہی دے گا جنہوں نے توحید کے ساتھ اس کا استلام کیا ہوگا ، اس لئے اے امیر المومنین ! یہ پتھر فائدہ بھی دیتا ہے اور نقصان بھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے ۔ اے ابوحسن! جس قوم میں تم نہ ہو ، اس قوم میں زندگی گزارنے سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْعَدَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْكِيلِينِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1682

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1683

1683 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ السَّرِيِّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، ثنا مُجَاهِدٌ، قَالَ: قَالَ لِي مَوْلَايَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ: كُنْتُ فِيمَنْ بَنَى الْبَيْتَ، فَأَخَذْتُ حَجَرًا فَسَوَّيْتُهُ، فَوَضَعْتُهُ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، قَالَ: فَكُنْتُ أَعْبُدُهُ، فَإِنْ كَانَ لَيَكُونُ فِي الْبَيْتِ الشَّيْءُ أَبْعَثُ بِهِ إِلَيْهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا لَبَنٌ طَيِّبٌ فَبَعَثْتُ بِهِ إِلَيْهِ فَصَبُّوهُ عَلَيْهِ، وَإِنَّ قُرَيْشًا اخْتَلَفُوا فِي الْحَجَرِ حِينَ أَرَادُوا أَنْ يَضَعُوهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ بِالسُّيُوفِ، فَقَالَ: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ أَوَّلَ رَجُلٍ يَدْخُلُ مِنَ الْبَابِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: هَذَا الْأَمِينُ، وَكَانُوا يُسَمُّونَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْأَمِينَ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، قَدْ رَضِينَا بِكَ، " فَدَعَا بِثَوْبٍ فَبَسَطَهُ وَوَضَعَ الْحَجَرَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لِهَذَا الْبَطْنِ، وَلِهَذَا الْبَطْنِ - غَيْرَ أَنَّهُ سَمَّى بُطُونًا -: لِيَأْخُذْ كُلُّ بَطْنٍ مِنْكُمْ بِنَاحِيَةٍ مِنَ الثَّوْبِ، فَفَعَلُوا، ثُمَّ رَفَعُوهُ، وَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ بِيَدِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ»

حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے میرے غلام عبداللہ بن سائب نے بتایا ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر کی ہے، میں نے حجراسودکو اٹھا کر بیت اللہ کی طرف رکھ دیا۔ وہ فرماتے ہیں : میں اس کی عبادت کیا کرتا تھا۔ ہمارے گھر میں کوئی بھی چیز ہوتی تو میں وہ اس کی طرف بھیج دیتا یہاں تک کہ ایک دن بہت عمدہ دودھ تھا، میں نے وہ بھی اس کی طرف بھیج دیا تولوگوں نے وہ دودھ اس کے او پر بہایا ۔اور جب حجر اسود کے رکھنے کا وقت آیا تو قریش کا آپس میں شدید اختلاف ہو گیا قریب تھا کہ ان کے درمیان ایک ہولناک جنگ چھٹر جاتی ،ایک شخص نے مشورہ دیا کہ جو شخص سب سے پہلے بیت اللہ کے دروازے سے داخل ہو ، اس سے فیصلہ کروالیا جائے ( اتفا قًاسب سے پہلے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے ۔لوگوں نے کہا: یہ امین ہیں ، زمانہ جاہلیت میں لوگ آپ کو امین کہا کرتے تھے ،سب نے کہا: اے محمد ! ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادرمنگوا کر بچھائی اور پتھر اٹھا کر اس میں رکھ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قبیلے والوں سے کہا: وہ چادر کے کنارے کو پکڑ لیں ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور چادرکوا ٹھالیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پکڑ کر اپنے ہاتھ سے نصب کر دیا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔اور اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار پر صحیح ہے۔

مُجَاهِدٍ ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ السَّرِيِّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1683

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1684

1684 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ ذُعِرَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ذُعْرًا شَدِيدًا، وَكَانَ سَلُّ السَّيْفِ فِينَا عَظِيمًا، فَقَعَدْتُ فِي بَيْتِي، فَعَرَضَتْ لِي حَاجَةٌ فِي السُّوقِ فَخَرَجْتُ، فَإِذَا فِي ظِلِّ الْقَصْرِ بِنَفَرٍ جُلُوسٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا، وَإِذَا سِلْسِلَةٌ مَعْرُوضَةٌ عَلَى الْبَابِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَمَنَعَنِي الْبَوَّابُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: دَعِ الرَّجُلَ، فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَشْرَافُ النَّاسِ وَوُجُوهُهُمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ جَمِيلٌ فِي حُلَّةٍ لَيْسَ عَلَيْهِ قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ، فَقَعَدَ، فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أَرَادَ بِنَاءَ الْبَيْتِ ضَاقَ بِهِ ذَرْعًا، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَصْنَعُ، فَأَرْسَلَ اللَّهُ السَّكِينَةَ: وَهِيَ رِيحٌ خَجُوجٌ، فَانْطَوَتْ فَجَعَلَ يَبْنِي عَلَيْهَا كُلَّ يَوْمٍ سَاقًا وَمَكَّةُ شَدِيدَةُ الْحَرِّ، فَلَمَّا بَلَغَ مَوْضِعَ الْحَجَرِ، قَالَ لِإِسْمَاعِيلَ اذْهَبْ فَالْتَمِسْ حَجَرًا فَضَعْهُ هَا هُنَا، فَجَعَلَ يَطُوفُ بِالْجِبَالِ فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ بِالْحَجَرِ، فَوَضَعَهُ فَجَاءَ إِسْمَاعِيلُ، فَقَالَ: مَنْ جَاءَ بِهَذَا؟ - أَوْ مِنْ أَيْنَ هَذَا؟، أَوْ مِنْ أَيْنَ أُتِيَ بِهَذَا؟ - فَقَالَ: جَاءَ بِهِ مَنْ لَمْ يَتَّكِلْ عَلَى بِنَائِي وَبِنَائِكَ فَبَنَاهُ، ثُمَّ انْهَدَمَ، فَبَنَتْهُ الْعَمَالِقَةُ، ثُمَّ انْهَدَمَ فَبَنَتْهُ جُرْهُمٌ، ثُمَّ انْهَدَمَ فَبَنَتْهُ قُرَيْشٌ، فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَضَعُوا الْحَجَرَ تَشَاجَرُوا فِي وَضْعِهِ، فَقَالَ: أَوَّلُ مَنْ يَخْرُجُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَهُوَ يَضَعُهُ، «فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ بَابِ بَنِي شَيْبَةَ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَبُسِطَ فَوَضَعَ الْحَجَرَ فِي وَسَطِهِ، ثُمَّ أَمَرَ رَجُلًا مِنْ كُلِّ فَخْذٍ مِنْ أَفْخَاذِ قُرَيْشٍ أَنْ يَأْخُذَ بِنَاحِيَةِ الثِّيَابِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَوَضَعَهُ» قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِصَّةُ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ أَوَّلُ مَا بَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ الْخَلِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهَذَا غَيْرُ ذَاكَ "

حضرت خالد بن عرعر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوشہید کیا گیا ، اس دن لوگوں میں شدید خوف و حراس پھیل گیا اور ایک بہت بڑافسادکھڑا ہو گیا تھا ، اس لئے میں گھر میں بیٹھ گیا ، اس دن ایک ضروری کام کی بناء پر میں گھر سے نکلا تو میں نے ایک عمارت کے سائے میں کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا ،ان کی تعداد چالیس کے قریب ہوگی ، میں نے دیکھا کہ دروازے پر ایک زنجیر لٹک رہی ہے ، میں نے اس میں داخل ہو نا چا ہالیکن در بانوں نے مجھے منع کر دیا ۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: اس شخص کو جانے دو (انہوں نے مجھے اجازت دے دی )تو میں اندر داخل ہو گیا، جہاں پر معززین علاقہ بیٹھے ہوئے تھے پھر ایک خوبصورت نو جوان وہاں پر آیا۔ جس نے ایک بڑی چادر اوڑھ رکھی تھی ۔ اورقمیص اور عمامہ نہیں پہنا تھاوہ آ کر بیٹھ گیا ( جب میں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ )وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے فرمایا: جب ابراہیم علیہ اسلام نے بیت اللہ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو وہ اس کی پیائش کے حوالے سے پریشان ہو گئے اور سمجھ نہ آئی کہ وہ (اس کی پیائش) کس طرح کر یں ۔ تب اللہ تعالٰی نے ان پر سکینہ (رحمت، تیز ہوا یا ایسی ہوا جس کا چہراہ بلی جیسا تھا ، اس کے دو پر تھے اور ایک دم تھی ، یا اس کی شکل انسان جیسی تھی )نازل فرمائی وہ ( کعبہ کے مقام پرآ کر) سمٹ گئی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ( سکینہ کی نشاندہی کے مطابق )روزانہ اس کا کچھ حصہ تعمیر کر لیا کرتے تھے اور مکہ میں موسم شدید گرم ہوتا ہے ۔ جب تعمیر حجر اسود کے مقام پر پہنچی تو( دیوار میں ایک پتھرکم رہ گیا) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کہا: آپ جاؤ اور کوئی پتھر ڈھونڈ کر لا ؤ اور اس کو یہاں پر رکھ دوحضرت اسماعیل علیہ السلام پہاڑوں میں جا کر پتھر ڈھونڈ نے لگے ، ان کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک پتھر لے کرآئے اور ان کو دے دیا حضرت اسماعیل علیہ السلام وہ پتھر لے کر آ گئے ،ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا: یہ پتھر کون لایا ہے؟ یا( شاید یہ کہا) یہ کہاں کا پتھر ہے ؟ یا ( شاید یہ کہا )یہ پتھر کہاں سے لایا گیا ہے؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا: یہ وہ لا یا ہے جومیری اور آپ کی تعمیر کا محتاج نہیں ۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تعمیر مکمل کر دی۔ پھر اس کو گرایا گیا۔ پھر عمالقہ نے اس کو بنایا۔ پھر منہدم ہوا تو جر ہم نے اسے بنایا، پھر منہدم ہوا تو قریش نے اس کی تعمیر کی ،انہوں نے جب حجراسود نصب کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے نصب کرنے میں وہ لوگ آپس میں لڑ پڑے، پھر یہ طے ہوا کہ جوشخص اس دروازے سے سب سے پہلے داخل ہو گا وہ اس کو نصب کرے گا (تو اتفاقاً سب سے پہلے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باب بنی شیبہ کی جانب سے تشریف لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا منگوا کر بچھاد یا اورحجراسوداس کے درمیان رکھ دیا ۔ پھر قریش کے قبیلوں میں سے ہر قبیلے کے سردارکو حکم دیا ۔ کہ وہ اس کپڑے کے کنارے کو پکڑ لے ( جب ان سب نے مل کر کپڑے کے کناروں سے پکڑ کر حجر اسوداٹھالیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کوخو دا پنے ہاتھوں سے اٹھا کر نصب کر دیا ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے ایوب سختیانی اور کثیر بن کثیر کی سند کے ہمراہ سعید بن جبیر کے واسطے سے تعمیر کعبہ کاتفصیلی قصہ نقل کیا ہے ۔ جس میں یہ ہے کہ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی جبکہ یہ حدیث اس سے کچھ مختلف ہے ۔

خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1684

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1685

1685 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مَكِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ وَالطَّوَافُ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ لَا لِغَيْرِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: شیطانوں کو کنکریاں مارنا اورطواف کرنا اور صفاء ومروہ کے درمیان سعی کر نا ، ذکر اللہ قائم کر نے کے لئے ہے ۔اس کی غرض کچھ اور نہیں ہے ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

اللَّهِ لَا لِغَيْرِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ← «إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ وَالطَّوَافُ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ لِإِقَامَةِ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1685

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1686

1686 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَحَلَّ لَكُمْ فِيهِ الْكَلَامَ، فَمَنْ يَتَكَلَّمُ فَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِخَيْرٍ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیت اللہ کا طواف بھی نماز ہے۔ فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دوران گفتگو جائز کی ہے۔ تو جو شخص بات کرے وہ اچھی بات کرے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1686

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1687

1687 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فَمَنْ تَكَلَّمَ فَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِخَيْرٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ أَوْقَفَهُ جَمَاعَةٌ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیت اللہ کا طواف، نماز کی طرح ہے۔ سوائے اس کے تم اس میں گفتگو کر سکتے ہو، اس لئے جو گفتگو کرے وہ اچھی کرے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کو محدثین رحمتہ اللہ کی ایک جماعت نے موقوف کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ ← طَاوْسٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1687

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1688

1688 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «الْحَجَرُ مِنَ الْبَيْتِ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مِنْ وَرَائِهِ» ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: 29] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حجر اسود بیت اللہ کا حصہ ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اس کے پیچھے سے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ولیطوفوا بالبیت العتیق ( اور اس آزاد گھر کا طواف کریں۔) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

الحجر من البيت لأن رسول الله طاف بالبيت من ورائه ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1688

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1689

1689 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَنْبَأَ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مَاءً فِي الطَّوَافِ» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے دوران پانی پیا۔ یہ حدیث صحیح غریب ہے لیکن انہوں نے لفظوں کےہمراہ اس کو نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← مالك بن إسماعيل أنبأ عبد السلام بن حرب ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1689

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1690

1690 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالْكَعْبَةِ بِرَجُلٍ يَقُودُ رَجُلًا بِحِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ "، قَالَ: «وَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَطُوفُ بِرَجُلٍ قَدْ رَبَقَ بِسَيْرٍ بِيَدٍ، أَوْ رِجْلٍ، أَوْ بِخَيْطٍ، أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، وَقَالَ: «قُدْهُ بِيَدِكَ» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي بِهَذَا أَجْمَعَ سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت طائوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو دوسرے آدمی کو نکیل کے ساتھ چلا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکیل کو اپنے ہاتھ سے توڑ دیا اور حکم دیا: اس کواپنے ہاتھ سے پکڑ کر چلائو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس کے پاس سے ) گزرے تو وہ اس آدمی کو طواف کرا رہا تھا اور تسمے یا دھاگے یا کسی اور چیز کے ساتھ اس نے اپنے ہاتھ یا پائوں سے باندھ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی کاٹ دیا اور فرمایا: اس کو ہاتھ سے چلاؤ۔ ابن جریج فرماتے ہیں: یہ تما م حدیث مجھے سلیمان الاحول نے سنائی ہے کہ طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، أَنَّ طَاوُسًا ← أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1690

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1691

1691 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: مکےکے تمام راستے طریق ہیں اور قربان گاہ ہیں۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَنَّهُ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1691

chevron_left Previous
1…678…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section