Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1656

1656 - حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، مِنْ شَجَرٍ وَحَجَرٍ حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ هَا هُنَا وَهَا هُنَا، عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: مومن جب تلبیہ کہتا ہے تو اس کے دائیں بائیں تمام درخت اور پتھر بھی تلبیہ کہتے ہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کر کے بتایا) یہاں سے یہاں تک ، دائیں بائیں جہاں پرز مین ختم ہو جاتی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عبيدة بن حميد ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنبأ الحسين بن إدريس الأنصاري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1656

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1657

1657 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَا ابْنَ الْعَبَّاسِ عَجِبْتُ لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ، إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً فَمَنْ هُنَاكَ اخْتَلَفُوا، " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبُهُ فِي مَجْلِسِهِ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظْنَهُ عَنْهُ، ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا، فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ، ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ، وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ، وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ، وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ " قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: «فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ مُفَسَّرٌ فِي الْبَابِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہ ! مجھے بڑی حیرانگی ہوتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تسبیح پڑھنے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا اختلاف ہے ، انہوں نے جواب دیا: اس سلسلہ میں میرے پاس سب سے زیادہ معلومات ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج میں یہ عمل کیا ہے، اس لئے صحا بہ رضی اللہ عنہ کا آپس میں اختلاف ہو گیا (اصل واقعہ میں آپ کو بتا تا ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے کر نے کیلئے روانہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے اندرمسجد میں جب دورکعتیں پڑھ لیں تو اسی مسجد میں احرام کا ایجاب کیا اور جب دورکعتیں پڑھ کے فارغ ہوئے تو حج کے لئے تسبیح پڑھی ۔ کچھ لوگوں نے اس وقت کی تسبیح سنی اور اسی کو یاد کر لیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوٹنی پر سوار ہوئے اور اونٹنی ( روانہ ہونے کے لئے اٹھ کر مکمل طور پر) کھڑی ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرتسبیح پڑھی ، کچھ لوگوں نے اس وقت آپ کی تسبیح سنی ، بات دراصل یہ تھی کہ لوگ گروہ در گروہ آتے تھے اور جب آپ کی اونٹنی اٹھتی تو وہ آپ کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے تو انہوں نے یہ سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تسبیح پڑھی ہے، جب آپ کی اونٹنی کھڑی ہوئی پھر آپ چلتے رہے اور جب آپ مقام بیداء کی اونچائی میں پہنچے تو اس وقت بھی تسبیح پڑھی کچھ لوگوں نے اس وقت بھی تسبیح سنی تو انہوں نے یہ کہہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ( فلاں) تسبیح کہی ہے۔اور خدا کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں پر نماز پڑھی تھی وہیں پرا حرام کا ایجاب کیا اور جب آپ کی اونٹنی مقام بیداء میں ( روانگی کے لئے اٹھ کر مکمل طور پر) کھڑی ہوئی تو اس وقت آپ نے تسبیح کہی ۔سعید بن جبیر فرماتے ہیں: جولوگ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول پرعمل کر تے ہیں وہ جب دورکعتیں پڑھ کر فارغ ہوتے ہیں ،تب تسبیح کہتے ہیں ۔ : اس باب میں یہ حدیث تفصیلی حدیث ہے جو کہ امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار پر صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← خصيف بن عبد الرَّحْمَن الْجَزرِي، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1657

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1658

1658 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي جُمَادَى الْآخِرَةِ سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مَائَةٍ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ طَرِيقَ الْفُرْعِ أَهَلَّ إِذَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چھوٹے راستے کی طرف نکلے، جب ان کی اونٹنی اس راستے پر سیدھی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسبیح کہی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1658

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1659

1659 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُهَاجِرِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عُمَرَ، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُمَا، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَحْمُ صَيْدِ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ، وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادَ لَكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : حالت احرام میں تمہارے لئے خشکی کے جانور کا گوشت حلال ہے، جب تک کہ اس کا شکارتم نے بذات خود نہ کیا ہو یا کسی دوسرے نے تمہارے لئے اس کا شکار نہ کیا ہو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عُمَرَ، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُمَا، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← الحسين بن الحسن المهاجرى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1659

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1660

1660 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، «هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِي لَهُ بَيْضَاتُ نَعَامٍ، وَهُوَ حَرَامٌ فَرَدَّهُنَّ» ؟ قَالَ: نَعَمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عطا فرماتے ہیں ، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں شتر مرغ کے انڈے ہدیہ کے طور پر پیش کیے گئے تھے لیکن آپ نے وہ واپس کر دیے تھے؟ انہوں نے جواب دیا:جی ہاں ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ! هَلْ عَلِمْتَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عَطَاءٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1660

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1661

1661 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الضَّبُعِ أَنَأْكُلُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»

حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری ملاقات حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا: کیا ہم’’ بجو‘کھا سکتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں

نَعَمْ ← الضَّبُعِ أَنَأْكَلُهَا؟ ← لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1661

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1662

1662 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُؤْكَلُ الضَّبُعُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ لَخَّصَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ كَبْشًا نَجْدِيًّا، وَجَعَلَهُ مِنَ الصَّيْدِ»

حضرت عبدالرحمٰن بن ابی عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے جابر سے کہا: کیا’’بجو‘‘ کھایا جا تا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ ( انہوں نے کہا: جی ہاں ۔) میں نے پوچھا: کیاتم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ جریر بن حازم نے عبداللہ بن عبید بن عمیر سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی عمار کے واسطے سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ اگر بجوکومحرم شکار کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نجدی مینڈ ھالا زم کیا ہے اور اس کو شکار قرار دیا ہے ۔

جَابِرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ وكيع ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1662

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1663

1663 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ بِمَرْوَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الضَّبُعُ صَيْدٌ فَإِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ فَفِيهِ جَزَاءً كَبْشٌ مُسِنٌّ وَيُؤْكَلُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ الصَّائِغُ زَاهِدٌ عَالِمٌ أَدْرَكَ الشَّهَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: بجوشکار ہے ، اگر کوئی اس کا شکار کرے تو اس کی سز ایک دوسالہ مینڈ ھا ہے اور اس کا گوشت کھایا جائے گا۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور ابراہیم بن میمونہ صائغ عبادت گزار تھے ، عالم تھے اورانہوں نے شہادت پائی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1663

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1664

1664 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى رَأْسِهِ» هَذَا حَدِيثٌ مُخَرَّجٌ بِإِسْنَادِهِ فِي الصَّحِيحَيْنِ دُونَ ذِكْرِ الرَّأْسِ، وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر پر بچھنے لگوائے ۔ یہ حدیث اسی سند کے ہمراہ صحیحین میں مذکورہ ہے ۔تا ہم اس میں سرکا ذکرنہیں ہے اور یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار پرصحیح ہے ۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1664

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1665

1665 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمَيْنِ، عَنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ "

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں پاؤں کی پشت پر درد کی وجہ سے پچھنے لگوائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1665

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1666

1666 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُحْرِمًا أَنْ يَقْتُلَ حَيَّةً فِي الْحَرَمِ بِمِنًى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا "

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں منٰی میں سانپ کو مارنے کا حکم دیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبِي ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1666

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1667

1667 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا، وَإِنَّ زِمَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزِمَالَةَ أَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةٌ، فَنَزَلْنَا الْعَرْجَ وَكَانَتْ زِمَالَتُنَا مَعَ غُلَامِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسَتْ عَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ، وَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي نَنْتَظِرُ غُلَامَهُ، وَزِمَالَتَهُ حَتَّى مَتَى يَأْتِينَا، فَاطَّلَعَ الْغُلَامُ يَمْشِي مَا مَعَهُ بَعِيرُهُ قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: أَضَلَّنِي اللَّيْلَةَ، قَالَتْ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ يَضْرِبُهُ وَيَقُولُ: بَعِيرٌ وَاحِدٌ أَضَلَّكَ، وَأَنْتَ رَجُلٌ، فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ يَتَبَسَّمَ وَيَقُولُ: «انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لئے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کا مال برداراونٹ ایک تھا ، ہم مقام عرج پر ٹھہرے اور ہمارا مال بردار اونٹ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے ساتھ تھا، آپ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ ایک جانب بیٹھ گئیں ۔اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی دوسری جانب بیٹھ گئے اور میں اپنے والد کے پاس بیٹھ گئی ، ہم لوگ ان کے غلام اور ان کے مال برادر اونٹ کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ کب ہم تک پہنچتے ہیں ۔ تو وہ غلام پیدل چلتے ہوئے آیا ، اس کے ہمراہ کوئی اونٹ وغیرہ نہیں تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سےپوچھا: تیرا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: رات کو وہ گم ہو گیا ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھ کر اس کو مارنے لگ گئے اور کہنے لگے: ایک اونٹ تھا وہ بھی تم سے گم ہو گیا۔تم کس کام کے مرد ہو ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوائے اس کے اور کچھ نہ کہا:اس محرم کودیکھو کیا کر رہا ہے؟ یہ حدیث غریب ہے اور یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1667

chevron_left Previous
1…456…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section