Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1633

1633 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ» فَلَمَّا مَضَى قَالَ: «اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ سفر کا ارادہ رکھتا تھا ، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور بلندی پر پڑھتے ہوئے تکبیر کہو۔ جب وہ چلا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے یوں دعا مانگی’’یا اللہ! اس کے لئے زمین لپیٹ دے اور سفر آسان فرما‘‘۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 1633

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1634

1634 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كَعْبًا حَدَّثَهُ، أَنَّ صُهَيْبًا صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ قَرْيَةً يُرِيدُ دُخُولَهَا إِلَّا قَالَ حِينَ يَرَاهَا: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت صہیب صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بستی میں داخل ہو نا چا ہتے تو جیسے ہی اس پر نظر پڑتی تو یوں دعا مانگتےاللهم رب السماوات السبع وما أظللن، ورب الأرضين الشبع وما أقللن، ورب الشياطين وما أضللن، ورب الرياح وما ذرين، فإنا نسألك خير هذه القرية وخير أهلها، ونعوذ بك من شرها وشر أهلها، وشر ما فیھا ”اے اللہ! اے ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کے رب ! اور وہ زمینیں کم نہ ہوں گی ، اور اے شیطانوں کے رب! اور وہ شیطان گمراہ نہ کرسکیں گے اوراے آندھیوں کے رب ! اوراند ھیریاں تباہی نہ کرسکیں گی ، ہم تجھ سے اس بستی کی اور بستی والوں کی خیریت مانگتے ہیں ۔اور اس بستی کے شر ، اس کے رہنے والوں کے شراور جو کچھ اس میں ہے ، اس تمام کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَنَّ صُهَيْبًا صَاحِبَ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ، أَنَّ كَعْبًا ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1634

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1635

1635 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَيَّاطُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا وَدَّعَهُ بِرَكْعَتَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں بھی قیام کرتے ، وہاں سے رخصت ہونے سے پہلےدورکعت نوافل ادا کر تے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَيَّاطُ بِبَغْدَادَ

Hadith 1635

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1636

1636 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَبَدَا لَهُ الْفَجْرُ قَالَ: «سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَنِعْمَتِهِ، وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا فَأفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں ہوتے اور فجر کا وقت ہوتا ،تو آپ فرماتے: سننے والے نے اللہ کی حمد اوراس کی نعمت سنی ہے اوراے اللہ ! ہم پراپنافضل فرما جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے ، آپ تین مرتبہ بلندآواز سے یہ کلمات دہراتے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان

Hadith 1636

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1637

1637 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْفَقِيهُ بِمَكَّةَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا، أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ قَالَ: «يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ أَسَدٍ، وَشَرِّ كُلِّ أَسْوَدَ، وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ سَاكِنِي الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ یاکسی سفر میں ہوتے اور رات ہو جاتی تو آپ فرماتے’’اے زمین ! تیرا اور میرارب اللہ ہے، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، ہر شیر اور کالے کے شر سے اور سانپ اور بچھو اور اس شہر کے باسیوں کے شر سے اور پیدا کر نے والے اور پیدا ہونے والے کے شر سے۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← إبراهيم بن فراس الفقيه بمكة

Hadith 1637

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1638

1638 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ وَأَنَا أَنْظُرُ فِي هَذَا الْكِتَابِ فَأَقَرَّ بِهِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَبِسَ ثِيَابَهُ فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، فَإِنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ مَنْ جَمَعَ أَئِمَّةُ الْإِسْلَامِ حَدِيثَهُ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا ، پھر کپڑے پہنے پھر جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو دو رکعتیں ادا کیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھ گئے پھر جب آپ مقام بیداء میں پہنچ گئے تو حج کا احرام باندھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔ یعقوب بن عطا بن ابی رباح کی احادیث ائمہ اسلام جمع کر تے ہیں ۔اور اس حدیث کی ایک شاہد بھی ہے جو کہ شیخین رحمتہ اللہ کے معیار پرصحیح ہے۔ ( وہ حدیث درج ذیل ہے )۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ← أَنْظُرُ فِي هَذَا الْكِتَابِ فَأَقَرَّ بِهِ ← قُرِئَ عَلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1638

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1639

1639 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَغْتَسِلَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آ دمی احرام کا ارادہ کرے یا مکہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو غسل کرناسنت ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← حُمَيْدٍ ← سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ

Hadith 1639

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1640

1640 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَاصِيَةُ الْخُزَاعِيُّ، صَاحِبُ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ بُدْنِي، «فَأَمَرَنِي أَنْ أَنْحَرَ كُلَّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ، ثُمَّ يُلْقِي نَعْلُهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ يُخَلِّي بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ فَيَأْكُلُونَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ناصیہ رضی اللہ عنہ خزاعی سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ جب میرا قربانی کا جانور تھک جائے تو میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ جو جانورتھک جائے ، اس کونحر کر دوں پھر اس کے کھروں کو اس کے خون میں ڈال دیا جائے ، پھر اس کے اورلوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں تا کہ لوگ اس کو کھالیں ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 1640

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1641

1641 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَهْدَى تَطَوُّعًا، ثُمَّ ضَلَّتْ فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ فِي نَذْرٍ فَلْيُبَدِّلْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص نفلی قربانی کا جانور بھیجے پھروہ گم ہو جائے تو اگر چاہے تو اس کے بدلے میں کوئی دوسرا جانور دے اور چاہے تو ر ہنے دے اور اگر وہ جانور نذ رکا تھا تو اس کے بدلے میں دوسرا جا نو رد ینا ضروری ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ،

Hadith 1641

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1642

1642 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْتَمْلِي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَا يُحْرَمُ بِالْحَجِّ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، فَإِنَّ مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ أَنْ يُحْرَمَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ جَرَتْ فِيهِ مُنَاظَرَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ شَيْخِنَا أَبِي مُحَمَّدٍ السَّبِيعِيِّ، فَإِنَّهُ أَنْكَرَهُ، وَقَالَ إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ «عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنِ الْحَكَمِ» فَمِنْ أَيْنَ جَاءَ بِهِ شَيْخُكُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، فَقُلْتُ: تَأَمَّلْ مَا تَقُولُ، فَإِنَّ شَيْخِنَا أَتَى بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا، فَكَأَنَّمَا أَلْقَمْتُهُ حَجَرًا "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حج کا احرام حج کے مہینوں میں ہی باندھا جائے ۔ حج کی سنت یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینے میں باندھا جائے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں گیا۔اوراس حدیث کے متعلق شیخ ابوسبیعی کے ساتھ میرامناظر ہ بھی ہوا تھا کیونکہ وہ اس کا انکار کر تے ہیں ۔انکا موقف یہ ہے کہ اس حدیث کو بہت سارے راویوں نے ابو خالد سے’’ حجاج بن ارطاۃ‘‘ کے واسطے سے’حکم‘‘ سے روایت کیا ہے ۔ تو تمہارے استاد نے اس حدیث کو شعبہ کے واسطے سے کیسے روایت کر دیا؟ میں نے کہا: آپ اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائیں۔ کیونکہ ہمارے استاد نے اس حدیث کو دونوں اسنادوں کے ہمراہ روایت کیا ہے تو ( وہ اس طرح خاموش ہو گئے ) گویا کہ ان کے منہ میں پتھر ڈال دیا گیا ہو۔

Hadith 1642

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1643

1643 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ، وَصَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ أَحَبَّ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جبیر بن مطعم بیان کر تے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : اے بنی عبد مناف ! تم کسی شخص کو دن اور رات میں کسی بھی وقت اس گھر کا طواف کر نے اور اس میں نماز پڑھنے سے منع مت کرو۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ ہی کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى

Hadith 1643

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1644

1644 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اسلام میں صرورۃ ( زندگی بھر شادی نہ کرنےاور حج نہ کر نے )کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Hadith 1644

chevron_left Previous
1234…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section