Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1788

1788 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَنْهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ عَنِ الْقُفَّازَيْنِ، وَالنِّقَابِ، وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ، وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ، وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَاكَ مَا أَحَبَّتْ مِنْ أَلْوَانِ الثِّيَابِ مِنْ مُعَصْفَرٍ، أَوْ خَزٍّ، أَوْ حُلِيٍّ، أَوْ سَرَاوِيلَ، أَوْ خُفٍّ، أَوْ قَمِيصٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا :عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے، نقاب کر نے اور ایسے کپڑے پہنے سے منع کیا جائے جس کو ورس ( ایک خاص قسم کی گھاس) اور زعفران سے رنگا گیا ہو اور اس (احرام کھولنے) کے بعد جس رنگ کا چاہیں کپڑا پہن سکتی ہیں ۔ یعنی زردرنگ کا یا ریشم کا کپڑا یا زیور یا شلوار یا موزے یا قمیص وغیرہ ۔( جو چاہیں پہن سکتی ہیں )۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

«يَنْهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ ← نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1788

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1789

1789 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَيَجِدُ الْحَاطِبَ مِنَ الْحُطَّابِ مَعَهُ شَجَرَةٌ رَطْبٌ قَدْ عَضَّدَهُ مِنْ بَعْضِ شَجَرِ الْمَدِينَةِ، فَيَأْخُذُ سَلَبَهُ فَيُكَلِّمُهُ فِيهِ، وَقَالَ بِشْرٌ: فَتَكَلَّمَ فِيهِ فَيَقُولُ: «لَا أَدَعُ غَنِيمَةً غَنَّمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ مَالًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مدینہ سے باہر نکل جایا کرتے تھے تو کسی لکڑ ہارے کود یکھتے ، جس کے پاس تر و تازہ درخت ہوتا جو اس نے مدینہ کے درختوں سے کا ٹا ہوتا ۔اگر چہ اس کو چھیل لیا ہوتا ۔اس سلسلے میں اگر وہ کوئی چون و چرا کرتا تو آپ فرماتے : میں ایسی کوئی چیزنہیں چھوڑوں گا جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی ہے حالانکہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوں ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ سَعْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1789

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1790

1790 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ أَبُو عَوْفٍ الْبُزُورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا، رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ، فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرَةً فَاسْتَلَبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ عَبْدِهِمْ قَالَ: «مَعَاذَ اللَّهِ، أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، فَلَمْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ شَيْئًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ( مقام عقیق میں) اپنے محل کی طرف سفر میں تھے کہ راستے میں ایک غلام کو دیکھا جو ( سرکاری ) درخت کاٹ رہا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ چھین لئے ۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ لوٹ کرآئے تو اس کے گھر والے ان کے پاس گئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ ان کے غلام سے جو درخت چھینے گئے ہیں وہ واپس کیے جائیں ۔سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی پناہ: ہم وہ چیزنہیں لوٹا سکتے جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کی ہے چنانچہ آپ نے ان کو کچھ بھی واپس نہیں دیا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ أَبُو عَوْفٍ الْبُزُورِيُّ، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1790

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1791

1791 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَرَجُلًا مِنْ بَنِي خُدْرَةَ اخْتَلَفَا وَامْتَرَيَا فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، فَقَالَ الْعَوْفِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ، وَقَالَ الْخُدْرِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ، فَقَالَ: «هُوَ مَسْجِدِي هَذَا، وَفِي ذَلِكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَأُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى بِخِلَافِ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ "

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنی عمرو بن عوف کے ایک آدمی اور بنی خدرہ کے ایک آدمی کے درمیان اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہوگیا جس کی بنیا دتقویٰ پر رکھی گئی عوفی شخص نے کہا: اس سے مرادمسجد قبا ہے اور خدری نے کہا: وہ مسجد نبوی ہے ۔ یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش ہو گئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میری یہی مسجد ہے اور اس میں بہت زیادہ بھلائی ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور انیس بن ابی یحیٰ کا اپنے بھائی سے اختلاف ہے ۔

الْخُدْرِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَيَا النَّبِيَّ فَسَأَلَاهُ، ← الْعَوْفِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ، ← رَجُلًا مِنْ بَنِي خُدْرَةَ اخْتَلَفَا وَامْتَرَيَا فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ← أَبِي ← أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1791

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1792

1792 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو الْأَبْرَدِ مُوسَى بْنُ سُلَيْمٍ مَوْلَى بَنِي قُطْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ كَعُمْرَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِلَّا أَنَّ أَبَا الْأَبْرَدِ مَجْهُولٌ "

حضرت اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھناعمرےکے برابر ثواب رکھتا ہے۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا مگر ابوالا بر دمجہول راوی ہیں ۔

النَّبِيِّ ← أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبُو الْأَبْرَدِ مُوسَى بْنُ سُلَيْمٍ مَوْلَى بَنِي قُطْبَةَ، أَنَّهُ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1792

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1793

1793 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الِاخْتِلَافَ إِلَى قُبَاءَ مَاشِيًا وَرَاكِبًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ "

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء کی طرف جاتے ہوئے کبھی پیدل چلا کر تے اور کبھی سوار ہوتے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1793

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1794

1794 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمُزَكِّي، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، قَالَا: ثنا الْعَقَبِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَبِسَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ خَرَجَ» ، فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي بَرِيرَةَ أَنْ تَتْبَعَهُ فَتَنْظُرَ أَيْنَ يَذْهَبُ، فَتَبِعَتْهُ حَتَّى «جَاءَ الْبَقِيعَ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا» ، فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَخْبَرَتْنِي، قَالَتْ: فَلَمْ أَذْكُرْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رات کے وقت) اٹھ کر کپڑے پہن کر باہر نکل گئے، میں نے اپنی لونڈی بریرہ سے کہا: وہ آپ کے پیچھے پیچھے جائے اور یہ دیکھتی رہے کہ آپ کہاں جاتے ہیں ۔ چنانچہ وہ لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلتے جنت البقیع میں پہنچ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پر کافی دیر ٹھہرے رہے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آنے کے لئے پلٹے تو بر یرہ آپ سے پہلے گھر پہنچ گئیں ۔ اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں بریرہ نے مجھے یہ سارا معاملہ بتا دیا۔ آپ فرماتی ہیں: میں نے ( رات میں) اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہیں کیا ، جب صبح ہو گئی تب میں نے آپ کو یہ بات بتائی ۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تا کہ میں ان کے دعائے مغفرت مانگوں ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

أُمِّهِ2، ← عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو يَحْيَى السَّمَرْقَنْدِيُّ ← الْعَقَبِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمُزَكِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1794

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1795

1795 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَرَأَى أَهْلَهُ، قَالَ: «أَوْبًا أَوْبًا إِلَى رَبِّنَا تَوْبًا لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ بَيْنَ الشَّيْخَيْنِ لِأَنَّ الْبُخَارِيَّ تَفَرَّدَ بِالِاحْتِجَاجِ بِعِكْرِمَةَ، وَمُسْلِمٌ بِسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے اور اپنے گھر والوں کو دیکھتے تو یوں فرماتےأوبا أوبا إلى ربنا توبا لا يغادر علينا خوبا’’ہم لوٹ آئے ، ہم لوٹ آئے ۔ ہم اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں، ہمارے اوپرکسی گناہ کا بوجھ نہ رہے‘‘یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ نے صرف عکرمہ کی روایات نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے صرف سماک بن حرب کی روایت نقل کی ہے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَرَأَى أَهْلَهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زَائِدَۃَ، ← يعقوب بن إسحاق الحضرمي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1795

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1796

1796 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الْمُزَكِّي، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ فِي حَجٍّ، أَوْ عُمْرَةٍ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَنَا غِلْمَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا يَتَلَقَّوْنَ أَهَالِيهِمْ إِذَا قَدِمُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : ہم حج یا عمرہ کر کے مکہ سے واپس آ رہے تھے ، اسید بن حضیر رسول اللہ رضی اللہ عنہ کے آگے آگے چل رہے تھے تو ہماری ملاقات کچھ انصاری بچوں سے ہوئی جو واپس آنے والوں کو خوش آمدید کہا کرتے تھے۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يزيد بن هارون أنبا محمد بن عمرو ← عبد الله بن روح المدائني ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الْمُزَكِّي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1796

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1797

1797 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: «قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزَاةٍ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَنْ يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجَ» ، فَأَتَى فَاطِمَةَ فَبَدَأَ بِهَا فَاسْتَقْبَلَتْهُ، فَجَعَلَتْ تُقَبِّلُ وَجْهَهُ وَعَيْنَيْهِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَعَكِ؟» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ قَدْ شَحَبَ لَوْنُكَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فَاطِمَةُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ أَبَاكٍ بِأَمْرٍ لَمْ يَبْقَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ بَيْتٍ مَدَرٍ، وَلَا شَعَرٍ، إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ بِهِ عِزًّا أَوْ ذُلًّا حَتَّى يَبْلُغَ حَيْثُ بَلَغَ اللَّيْلُ» هَذَا حَدِيثٌ رُوَاتُهُ مُجْمَعٌ عَلَيْهِمْ بِأَنَّهُمْ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَبَا فَرْوَةَ يَزِيدَ بْنَ سِنَانٍ "

حضرت ابوثعلبہ حشنی رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں دونفل ادا کئے اور آپ کو یہ بات بہت پسند تھی کہ آپ جب بھی کسی سفر سے واپس آتے تو ( سب سے پہلے) مسجد میں جا کر دور کعت نوافل ادا کر تے ۔ ( حسب معمول نوافل ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے ( بہت خندہ پیشانی کے ساتھ )آپ کا استقبال کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے اور آنکھوں پر بوسہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: اے فاطمہ! آپ کو کیا ہوا؟ ( آپ پریشان کیوں لگ رہی ہیں) انہوں نے جواب دیا : میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ کا رنگ تبدیل ہو چکا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوفر مایا: اے فاطمہ! اللہ تعالی نے تیرے والد کو ایسی چیز دے کر بھیجا ہے کہ ( روئے زمین کے گوشے گوشے میں حتی کہ) ہر کچے مکان ،اور گھاس پھوس کی جھونپڑی میں بھی اللہ تعالیٰ ( کچھ لوگوں کواس کی اطاعت کے سبب سے) عزت دے گا اور (کچھ لوگوں کو نافرمانی کی بناء پر) ذلت دے گا یہاں تک کہ یہ دین و ہاں تک پہنچ جائے جہاں رات پہنچتی ہے۔ اس حدیث کے تمام راویوں کے متعلق محد ثین کرام رحمتہ اللہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ ثقہ ہیں ،سوائے ابوفروہ یزید بن سنان کے ۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حد یث بھی موجود ہے ۔ جو کہ ابراہیم بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، ← أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1797

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1798

1798 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ فِي غَزَاةٍ كَانَ أَوَّلُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ» ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کے لئے روانہ ہوتے ( تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات فرماتے اور جب وہاں سے واپس آتے) تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لاتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اتنا بیان کرنے کے سابقہ حدیث نقل کی ہے تا ہم اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْسٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1798

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1799

1799 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّكَ تُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِ، قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا يَضَعُ قَدَمًا، وَلَا يَرْفَعُ أُخْرَى إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى مَا بَيَّنْتُهُ مِنْ حَالِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کر تے ہیں : ابن عمر رضی اللہ عنہ رکنوں پر پہنچنے میں بہت مزاحمت کیا کرتے تھے، میں نے کہا: آپ رکنوں میں پہنچنے میں جس قد رمزاحمت کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کواتنی مزاحمت کرتے نہیں دیکھا ،انہوں نے فرمایا :اگر میں یہ کام کر تا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ان کو چھونا گناہوں کے لئے کفارہ ہے اور میں نے آپ علیہ السلام کو یہ فرماتے بھی سنا ہے کہ’’ جوشخص تمام شرائط اور آداب کا لحاظ کر تے ہوئے بیت اللہ کا طواف کرے ، اس کو ایک غلام آزادکر نے کے برابر ثواب ملے گا‘‘اور میں نے آپ کو یہ فرماتے بھی سنا ہےکہ طواف کر نے والے کے ہر قدم کے عوض اللہ تعالی ایک گناہ بخشتا ہے اور اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ۔ یہ حدیث عطاء بن سائب کے متعلق بیان کردہ حال کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نےاس حدیث کو نقل نہیں کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1799

chevron_left Previous
1…14151617
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section