Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1776

1776 - أَخْبَرْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ حَبْسِ الْمُسْلِمِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُسِرَ، أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ» قَالَ عِكْرِمَةُ: فَحَدَّثْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَا: صَدَقَ الْحَجَّاجُ

اُم سلمہ رضی اللہ عنہ کے غلام عبداللہ بن رافع فرماتے ہیں: میں نے حجاج بن عمر وانصاری رضی اللہ عنہ سے مسلمان کی گرفتاری (یعنی جس مسلمان کو دشمن گرفتار کرلے) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنایا : جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یااس کے پاؤں میں ایسا زخم آ جائے جس کی وجہ سے وہ چلنے کے قابل نہ ر ہے ، اس کو احرام ختم کر دینا چاہیے اوراس پر دوسراحج فرض ہو گا۔ عکرمہ فرماتے ہیں : میں نے یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے حجاج کی تصدیق فرمائی ۔

حبس المسلم فقال ← سألت الحجاج بن عمرو الأنصاري ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1776

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1777

1777 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ زُرَيْقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ قُرَيْشٌ يُدْعُونَ الْحُمْسَ، وَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنَ الْأَبْوَابِ فِي الْإِحْرَامِ، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ وَسَائِرُ الْعَرَبِ لَا يَدْخُلُونَ مِنَ الْأَبْوَابِ فِي الْإِحْرَامِ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُسْتَانٍ، فَخَرَجَ مِنْ بَابِهِ، وَخَرَجَ مَعَهُ قُطْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قُطْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَجُلٌ فَاجِرٌ إِنَّهُ خَرَجَ مَعَكَ مِنَ الْبَابِ، فَقَالَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ فَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتَ، فَقَالَ: «إِنِّي أَحْمَسِيٌّ» قَالَ: «إِنَّ دِينِي دِينُكَ» ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا، وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا} [البقرة: 189] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریش کوحمس کہا جا تا تھا ( کیونکہ وہ دینی معاملات میں بہت شدت پسندتھے ) یہ لوگ حالت احرام میں دروازوں سے داخل ہوا کر تے تھے جبکہ اہل عرب احرام میں دروازوں سے داخل نہیں ہوا کر تے تھے ۔ چنانچہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تھے ، وہاں سے دروازے کے راستے باہر نکلے اور آپ کے ہمراہ قطبہ بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ بھی نکل آئے تو صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قطبہ بن عامر فا جرشخص ہے کیونکہ یہ آپ کے ہمراہ دروازے سے باہر نکلا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا:تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے آپ کو یہ عمل کر تےہوئے دیکھ کر وہ کہنے لگا: میں احمسی ہوں ( یعنی قریش ہوں) آپ نے فرمایا : تیرے اور میرے دین میں کوئی فرق نہیں ہے ،تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمادی ۔ليس البر بأن تأتوا البيوت من ظهورها ولكن البر من اتقى وأتوا البيوت من أبوابها (البقرة: 189 ) ’’ اور یہ کچھ بھلائی نہیں ہے کہ گھروں میں پچھیت تو ڑکر آؤ، ہاں بھلائی تو پر ہیز گاری ہے اور گھروں میں دروازوں سے آؤ (ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ) یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے یہ اضا فہ نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عمار بن زريق ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1777

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1778

1778 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِرُّ الْحَجُّ؟ قَالَ: «إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَطِيبُ الْكَلَامِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِأَنَّهُمَا لَمْ يَحْتَجَّا بِأَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ لَكِنَّهُ حَدِيثٌ لَهُ شَوَاهِدُ كَثِيرَةٌ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حج (کے موقع پر سب سے زیادہ اجر وثواب) کی نیکی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:’ ’کھانا کھلا نا اوراچھی گفتگوکر نا‘‘ ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہےلیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا کیونکہ شیخین رحمتہ اللہ نے ایوب بن سوید کی روایات نقل نہیں کیں تا ہم اس حدیث کی شاہد حدیثیں بہت ساری ہیں ۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الْاَوْزَاعِیُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1778

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1779

1779 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَحَجَّ بِي عَلَى نَاضِحِكَ، فَقَالَ: ذَاكَ نَعْتَقِبُهُ أَنَا وَوَلَدُكِ، قَالَتْ: فَحُجَّ بِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، قَالَ: ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَتْ: فَبِعْ تَمْرَ رِقِّكَ، قَالَ: ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ زَوْجَهَا فَقَالَتْ: أقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ، وَسَلْهُ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ فَأَتَى زَوْجُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَإِنَّهَا قَالَتْ أَنَّ أَحُجَّ بِهَا مَعَكَ، فَقُلْتُ لَهَا: لَيْسَ عِنْدِي، قَالَتْ: فَحَجَّ بِي عَلَى جَمَلِي فُلَانٍ فَقُلْتُ لَهَا: ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ حَجَجْتِ بِهَا كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» ، فَقَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِنْ حِرْصِهَا عَلَى الْحَجِّ، قَالَ: وَإِنَّهَا أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ قَالَ: «أقْرِئهَا مِنِّي السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا تو ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا: کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کراؤ ، اس نے کہا: میرے پاس ایسی کوئی سواری نہیں ہے جس پر میں تمہیں حج کرواؤں ،اس نے کہا: تو پھر مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کر وا د یں ،اس نے جواب دیا: اس کو میں نے راہ خدا کے لئے روک رکھا ہے، اس نے کہا: تو اپنی کھجور یں بیچ دیں ، اس نے کہا: وہ میرے اور تیرے کھانے کے لئے ہیں ، ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے لوٹ کر آئے ،تو اس خاتون نے اپنے شوہر کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور آپ سے پوچھنا کہ کوئی ایساعمل بتا دیں جس کا ثواب آپ کے ہمراہ حج کرنے کے برابر ہو ۔ اس کا شو ہر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیوی نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اس نے مجھے کہا تھا کہ میں اس کو آپ کے ہمراہ حج پر بھیجوں ۔ میں نے اس کو جواب دیا کہ میرے پاس گنجائش نہیں ہے ۔اس نے کہا کہ پھراپنے اونٹ پر مجھے حج کرادو، میں نے اس سے کہا: اس کو میں نے فی سبیل اللہ روک رکھا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر تو اس کو حج کرواد یتاتو یہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہوتا ۔ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس خاتون کے حج کے بارے میں حرص پر متعجب ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیئے ۔ اس شخص نے مزید کہا میری بیوی نے مجھے یہ بھی کہہ کر بھیجا ہے کہ میں آپ سے کوئی ایسا عمل پو چھ کر آؤں جس کا ثواب آپ کے ہمراہ حج کر نے کے برابر ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے بھی اس کو سلام کہنا اور اس کو بتانا کہ میرے ہمراہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

فَلَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ مِنْ مَكَّةَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ زَوْجَهَا ← ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ، ← فَبِعْ تَمْرَ رِقِّكَ، ← ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← فَحُجَّ بِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، ← وَوَلَدُكِ. ← ذاك نعتقبه ← فحج بي على ناضحك ← مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ. ← امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ الْحَجَّ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← عبد الوارث بن سعيد العنبري ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1779

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1780

1780 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي شَعْبَانَ سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مَائَةٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سال لوگوں کوحکم دیا اورفرمایا: جوشخص حج سے پہلے صرف عمر ہ کر کے لوٹنا چا ہے اس کوا جازت ہے ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1780

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1781

1781 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشْي أَرْبَعَةً حِينَ قَدِمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ حِينَ كَانَ اعْتَمَرَ» وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجِّهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَلَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا إِحْدَى عُمْرَتَيْهِ فِي رَمَضَانَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حج اور عمرہ کے لئےآئے تو عمرہ کے لئے تین طواف دوڑ کر اور چار چل کرکئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک حج کیا اور اس سے پہلے دو یا تین عمرے کئے ،جن میں سے ایک عمرہ رمضان المبارک میں کیا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1781

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1782

1782 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْوَاعٍ ثَلَاثَةٍ: فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَمَنْ كَانَ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ فَلَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ مِمَّا حَرُمَ عَلَيْهِ حَتَّى قَضَى مَنَاسِكَ الْحَجِّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى يَقْضِيَ مَنَاسِكَ الْحَجِّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ حَلَّ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْحَجَّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لئے نکلے تو ہم میں تین طرح کے لوگ تھے، کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا اور کچھ نے صرف عمرہ کی نیت کی ، چنانچہ جن لوگوں نے حج اورعمر ہ کا اکٹھا احرام باندھاتھا، وہ مناسک حج کی ادائیگی تک مسلسل احرام کی پابندیوں میں رہے اور جنہوں نے حج مفرد کی نیت کی تھی وہ بھی مناسک حج کی ادائیگی تک مسلسل احرام میں رہے اور جن لوگوں نے صرف عمرےکی نیت کی تھی ،انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفامروہ میں سعی کر کے احرام ختم کر دیا پھر حج کی طرف متوجہ ہوئے ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَائِشَةَ ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1782

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1783

1783 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، وَأَنَا سَأَلْتُهُ ثنا خَلَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ «تَحْمِلُ مَاءَ زَمْزَمَ، وَتُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ»

حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ اپنے ہمراہ آب زم زم رکھا کرتی تھیں اورفر مایا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔

أبيه أن عائشة كانت تحمل ماء زمزم وتخبر ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ← خلاد بن يزيد الجعفي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، وَأَنَا سَأَلْتُهُ ← الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1783

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1784

1784 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فَذَكَرَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ سے بھی مذکور ہ حدیث جیسی حدیث منقول ہے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فَذَكَرَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← خلاد بن يزيد الجعفي ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1784

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1785

1785 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو حَاضِرٍ عُثْمَانُ بْنُ حَاضِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: «إِنَّ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ أُمِرُوا بِإِبْدَالِ الْهَدْيِ فِي الْعَامِ الَّذِي دَخَلُوا فِيهِ مَكَّةَ فَأَبْدَلُوا، وَعَزَّتِ الْإِبِلُ، فَرُخِّصَ لَهُمْ فِيمَنْ لَا يَجِدُ بَدَنَةً فِي اشْتِرَاءِ بَقَرَةٍ» رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ مُفَسَّرًا مُلَخَّصًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اہل حدیبیہ جس سال مکہ میں داخل ہوئے ،ان کو قربانی کے جانور کے بدلے میں جانورذبح کر نے کا حکم دیا گیا۔ پھر بدل بھی لئے ۔ اور اونٹ کم پڑ گئے ۔ تو جن لوگوں کو قربانی کے لئے اونٹ یا بد نہ نہ مل سکا ،انہیں گائے خریدنے کی رخصت دی گئی ۔ اس حدیث کومحمد بن اسحاق بن یسار نے عمرو بن میمون سے مفسر او مختصر روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو حَاضِرٍ عُثْمَانُ بْنُ حَاضِرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1785

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1786

1786 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَاضِرٍ الْحِمْيَرِيَّ، يُحَدِّثُ أَبِي مَيْمُونِ بْنَ مِهْرَانَ، قَالَ: خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا عَامَ حَاصَرَ أَهْلُ الشَّامِ ابْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، وَبَعَثَ مَعِي رِجَالٌ مِنْ قَوْمِي بِهَدْيٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى أَهْلِ الشَّامِ مَنَعُونَا أَنْ نَدْخُلَ الْحَرَمَ، فَنَحَرْتُ الْهَدْيَ مَكَانِي، وَأَحْلَلْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ خَرَجْتُ لِأَقْضِيَ عُمْرَتِي، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: أَبْدِلْ الْهَدْيَ «فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ» قَالَ عَمْرٌو: " فَكَانَ أَبِي قَدْ أَهَمَّهُ ذَلِكَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ يَقُولُ: لَا أَدْرِي هَلْ أَبْدَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدَايَا الَّتِي نَحَرُوا بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ، أَمْ لَا حَتَّى حَدَّثَهُ أَبُو حَاضِرٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَأَبُو حَاضِرٍ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ مَقْبُولٌ صَدُوقٌ

حضرت ابو میمون بن مہران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس سال اہل شام نے ابن الزبیر کا مکہ میں محاصرہ کیا ، میں اس سال عمرہ کے لئے نکلا اور میرے قبیلے کے بہت سارے لوگوں نے میرے ہمراہ قربانی کے جانور بھی بھیجے تھے ، جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو اہل شام نے ہمیں حرم شریف میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔ میں نے اسی جگہ پر جانور ذبح کر دیئے اور احرام کھول دیا اور لوٹ آ یا پھر اگلے سال میں عمرہ کی قضاء کر نے کے لئے نکلا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ان قربانیوں کے بدلے قربانیاں دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو عمرہ قضاء میں دوبارہ قربانیاں کر نے کا حکم دیا تھا جنہوں نے حدیبیہ کے سال جانورذبح کئے تھے،عمرو بن میمون فرماتے ہیں: جن لوگوں نے حدیبیہ کے سال جانور ذبح کئے تھے،ان کو اس پرعمل کر نا بہت دشوار تھا۔ وہ فرماتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحا بہ رضی اللہ عنہ نے عمرہ قضاء میں ان قربانیوں کا بدل دیا تھایا نہیں؟ جوانہوں نے حدیبیہ کے سال ذبح کی تھیں یہاں تک کہ ابو حاضر نے ان کو یہ حدیث سنائی ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اورابو حاضر اہل یمن سے ہیں شیخ الحدیث ہیں ۔مقبول اور صدوق ہیں۔

خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا عَامَ حَاصَرَ أَهْلُ الشَّامِ ابْنَ الزُّبَيْرِ ← أَبِي مَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ ← أَبَا حَاضِرٍ الْحِمْيَرِيَّ ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1786

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1787

1787 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: «مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلْدَةٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ أَخْرَجُونِي مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے کہا: اے شہر مکہ! تجھ سے بڑھ کر کوئی شہر مجھے زیادہ عزیز نہیں ہے اور میں سب سے زیادہ تجھ سے محبت کرتا ہوں ، اگر تیرے باشندے مجھے ہجرت پر مجبور نہ کرتے تو میں تیرے سوا کسی شہر میں سکونت اختیا نہیں کرتا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1787

chevron_left Previous
1…14151617
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section