المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1764
1764 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ، لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أُدْخِلَ فِيهِ مَا أَخْرَجُوا مِنْهُ فِي الْحِجْرِ، فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ نَفَقَتِهِ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ، بَابًا شَرْقِيًّا، وَبَابًا غَرْبِيًّا، وَأَلْصَقْتُهُ بِالْأَرْضِ، وَلَوَضَعْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ» قَالَ: فَكَانَ الَّذِي دَعَا ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى هَدْمِهِ وَبِنَائِهِ، قَالَ: يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ فَشَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدْمَهُ، فَاسْتَخْرَجَ أَسَاسَ الْبَيْتِ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ مُتَدَاخِلَةٍ، فَقُلْتُ لِيَزِيدَ بْنِ رُومَانَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَطُوفُ مَعَهُ: أَرِنِي مَا أَخْرَجُوا مِنَ الْحِجْرِ مِنْهُ، قَالَ: أُرِيكَهُ الْآنَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْهِ، قَالَ: هَذَا الْمَوْضِعُ، قَالَ جَرِيرٌ: فَحَزَرْتُهُ نَحْوًا مِنْ سِتَّةِ أَذْرُعٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا»
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: اے عائشہ! اگر تیری قوم جاہلیت کے زمانے کے قریب ترین نہ ہوتی ( یعنی اگر تیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوئی ہوتی) تو میں بیت اللہ کو منہدم کر کے وہ حصہ اس میں داخل کر دیتا جوانہوں نے اس سے ( باہر) نکال دیا ہے ( یعنی میں حطیم کو دوبارہ کعبہ کی عمارت کی شامل کر دیتا) کیونکہ یہ لوگ اس پر خر چہ کرنے سے عاجز تھے اور میں اس کے دو دروازے رکھتا ، ایک دروازہ مشرق کی جانب اورایک درواز ہ مغرب کی جانب ۔اور اس کو زمین کے ساتھ متصل رکھتا اور اس کو ان بنیادوں پر بنا تا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم کی تھیں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی فرمان کی وجہ سے ) حضرت عبداللہ بن زبیر نے اس کو گرایا اور دوبارہ تعمیر کیا، یزید بن رومان فرماتے ہیں: جب ابن زبیر نے بیت اللہ کو گرایا تو میں ابن زبیر کے پاس گیا ،انہوں نے بیت اللہ کی بنیاد یں نکال لی تھیں جیسا کہ بختی اونٹوں کی کوہانیں ایک دوسرے میں پیوست ہوں ، میں نے یزید بن رومان سے کہا: ( اور میں اس دن ان کے ہمراہ طواف کر رہا تھا) اس کی بنیادوں میں جہاں سے حجراسودنکالا گیا ہے وہ جگہ مجھے دکھا ئیں ،انہوں نے کہا: میں ابھی تمہیں وہ دکھا تا ہوں ، جب اس مقام پر پہنچے تو انہوں نے کہا: یہ وہ جگہ ہے ۔ جریر فر ماتے ہیں : میں نے اس کی پیمائش کی تو یہ تقر یبًا۶ ذراع تھا۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔
عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← يزيد بن هارون أنبأ جرير بن حازم ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1764
