Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1752

1752 - أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ الْأَحْجَارُ الَّتِي تَرْمِي بِهَا تُحْمَلُ، فَتَحْسِبُ أَنَّهَا تَنْقَعِرُ، قَالَ: «إِنَّهُ مَا يُقْبَلُ مِنْهَا يُرْفَعُ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَيْتَهَا مِثْلَ الْجِبَالِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ لَيْسَ بِالْمَتْرُوكِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کنکریاں جو ہم مارتے ہیں ( یہ تو بہت زیادہ ہوتی ہیں لیکن جمرات کے پاس اتنی مقدار میں کنکریاں موجو دنہیں ہوتیں بلکہ) ہمارا خیال ہے کہ یہ کم ہوتی ہیں ، یہ کہاں جاتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: جس کی کنکر یاں قبول ہو جاتی ہیں وہ اٹھالی جاتیں ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ کنکریاں پہاڑوں کے برابر ہو جاتیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور یزید بن سنان متروک راوی نہیں ہیں ۔

قُلْنَا ← أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← أبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1752

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1753

1753 - أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الذُّهْلِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ حَجَّهُ فَلْيَجْعَلِ الرِّحْلَةَ إِلَى أَهْلِهِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص حج پورا کر لے وہ اپنے گھر والوں کے پاس آ جائے ۔ کیونکہ اس میں اس کے لئے بہت بڑا اجر ہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو ضَمْرَةَ اللَّيْثِيُّ ← أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانَيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ ← أبو الطيب محمد بن أحمد الذهلي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1753

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1754

1754 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ بِهِ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ فَانْفَرَجَ لَهُ ثَبِيرٌ، فَدَخَلَ مِنًى فَأَرَاهُ الْجِمَارَ، ثُمَّ أَرَاهُ عَرَفَاتٍ فَنَبَغَ الشَّيْطَانُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَرُمِيَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، ثُمَّ نَبَغَ لَهُ فِي الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ، ثُمَّ نَبَغَ لَهُ فِي جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فَذَهَبَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ کے رسول ( حضرت ابراہیم) رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کو مناسک حج دکھانے کیلئے اپنے ساتھ لے گئے تو نرم زمین ان کے لئے کھل گئی ، وہ منیٰ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرات دکھائےپھران کو میدان عرفات دکھایا ، پھر جمرہ کے پاس شیطان نے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو ورغلانے کی کوشش کی ،انہوں نے اس کوسات کنکریاں مار یں ، جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا ، اس کے بعد دوسرے جمرہ کے پاس بھی شیطان نے وہی حرکت کی حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ نے پھر اس کو سات کنکریاں مار یں، وہ پھر زمین میں دھنس گیا پھر تیسری مرتبہ جمرہ عقبہ کے پاس شیطان نے وہی حرکت کی ،انہوں نے پھر اس کو سات کنکریاں مار یں ، وہ پھر زمین میں دھنس گیا پھر وہ چلا گیا ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن علي الغزال ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري ← الفضل بن عبد الجبار ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1754

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1755

1755 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْخَصِيبُ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْخُوَارِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: لَا أَرْمِي حَتَّى تَزِيغَ الشَّمْسُ، إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ الزَّوَالِ، فَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَعِنْدَ الزَّوَالِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عطاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں زوال سے پہلے رمی نہیں کر تا ہوں ، بیشک حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن زوال سے پہلے اور اس کے بعد والے دنوں میں زوال کے وقت رمی کیا کر تے تھے ۔: یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

لَا أَرْمِي حَتَّى تَزِيغَ الشَّمْسُ، إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حُمَيْدُ بْنُ الْخُوَارِ، ← الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْخَصِيبُ الصُّوفِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1755

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1756

1756 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ فَمَكَثَ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى، وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری دن ظہر کی نماز پڑھ کر طواف زیارت کیا پھر لوٹ آئے اورمنیٰ میں ایام تشریق کی تین راتیں ٹھہرے، جب سورج ڈھلتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ، ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہرکنکری پھینکتے وقت تکبیر کہتے ۔ پہلے اور دوسرے جمرہ کے پاس ٹھہرتے ، وہاں طویل قیام کرتے اور خوب گڑ گڑاتے پھر تیسرے جمرہ کی رمی کرتے لیکن اس کے پاس کھڑے نہ ہو تے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1756

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1757

1757 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي مَسْجِدَ مِنًى يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا، فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ، كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقُومُ عِنْدَهَا» قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْبَلُهُ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت زہری رضی اللہ عنہ روایت کر تے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمی کر تے تو اس جمرہ سے آغاز کر تے جومنیٰ میں مسجد سے متصل ہے ، آپ اس کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کو مارتے ہوئے تکبیر کہتے پھر تھوڑا آگے کی جانب بڑھ کر قبلہ روکھڑے ہو جاتے اور ہاتھ بلند کر کے دعا مانگا کر تے تھے اور آپ بہت دیر تک یہاں کھڑے رہتے پھر آپ دوسرے جمرہ کے پاس آتے ،اس کوسات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری مارتے ہوئے تکبیر پڑھتے ہوئے پھر بائیں جانب ہٹ کر وادی کے ساتھ متصل قبلہ رو ہو کر ہاتھ بلند کئے بہت دیر تک کھڑے رہتے پھر اس جمرہ کے پاس آ تے جوعقبہ کے قریب ہے ، اس کو سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری مارتے ہوئے تکبیر کہتے ، پھر پلٹ جاتے اور اس کے پاس نہ ٹھہر تے ۔ زہری فرماتے ہیں: میں نے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی جیسی حدیث بیان کر تے ہوئے سنا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوتے تھے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔

الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1757

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1758

1758 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا الْجِمَارَ يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا» أَبُو الْبَدَّاحِ هُوَ ابْنُ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ وَهُوَ مَشْهُورٌ فِي التَّابِعِينَ، وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ مَشْهُورٌ فِي الصَّحَابَةِ، وَهُوَ صَاحِبُ اللِّعَانِ، فَمَنْ قَالَ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ فَإِنَّهُ نَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ وَبِصِحَّةِ مَا ذَكَرْتُهُ "

حضرت ابوالمبداح بن عدی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کر تے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو یہ رخصت دی تھی کہ وہ ایک دن رمی کر یں اور دوسرے دن ناغہ کر لیں ۔ابوالبداح ، عاصم بن عدی کے بیٹے ہیں اور یہ مشہور تابعین میں سے ہیں ۔اور یہ صاحب لعان تھے ۔اس لئے جس نے (اپنی سند میں ) ” عن ابی البداح بن عدی “ کہا تو اس نے ان کے دادا کی طرف نسبت کی ہے اور درج ذیل حدیث سےاس کی صحت ثابت ہوتی ہے ۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1758

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1759

1759 - حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَرِيرٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ، أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ، ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ»

حضرت ابن عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے نگہبانوں کو رات گزارنے کی رخصت عنایت فرمائی کہ وہ نحر والے دن رمی کر یں ، پھر اگلے دن یا اس سے اگلے دن رمی کر یں پھرروانگی کے دن رمی کر یں ۔

أَبِيهِ ← أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← الحارث بن مسكين ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَرِيرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، بِمَكَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1759

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1760

1760 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْأَبْطَحِ صَلَاةَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے روایت کر تے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام ابطح ( مکہ اورمنٰی کے درمیان ایک وادی )میں عصر کی دورکعتیں پڑھے دیکھا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کونقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1760

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1761

1761 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا مَالِكٌ التَّنُوخِيُّ بِتِنِّيسَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ التِّنِّيسِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ عَجَبًا لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ إِذْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ حَتَّى يَرْفَعَ بَصَرَهُ قِبَلَ السَّقْفِ يَدَعُ ذَلِكَ إِجْلَالًا لِلَّهِ وَإِعْظَامًا، «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ مَا خَلَفَ بَصَرُهُ مَوْضِعَ سُجُودِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اُم­ المونین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتی تھیں : حیرانگی ہے اس مسلمان شخص پر جو کعبہ میں چھت کی جانب نگا ہیں اٹھائے داخل ہوتا ہے ، اس کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی تعظیم اور بزرگی کے پیش نظر نگاہ او نچی کرنا چھوڑ دے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے آپ نے نکلنے تک مقام سجد ہ سے نگا ہیں او پرنہیں اٹھائیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيِّ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ التِّنِّيسِيُّ، ← مَالِكٌ التَّنُوخِيُّ بِتِنِّيسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1761

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1762

1762 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، طَيِّبُ النَّفْسِ، ثُمَّ رَجَعَ لِي وَهُوَ حَزِينٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي وَأَنْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: «إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُهُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اُم المونین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : رسول اللہ میرے پاس سے گئے تو بہت مطمئن اور پرسکون گئے تھے پھر جب آپ لوٹ کر میرے پاس آئے تو بہت پریشان تھے ، میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے پاس سے گئے تو بہت ہشاش بشاش تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبہ میں داخل ہوا اور میں چاہتا تھا کہ میں یہ عمل نہ کروں تا کہ اس سے میرے بعد میری امت مشقت میں مبتلا نہ ہو جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أحمد بن مهران بن خالد، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1762

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1763

1763 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَانَا عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْبَيْتِ، وَقَالَ: «هَذِهِ الْقِبْلَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا "

حضرت ابن جریج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عطاء سے پوچھا: کیا آپ نے ابن عباس کا یہ ارشاد سنا ہے ؟ تمہیں ( کعبداللہ کے) طواف کا حکم دیا گیا ہے،اسکے اندر داخل ہونے کا حکم نہیں دیا‘‘ ۔ ابن عباس جھا نے جواب دیا: آپ علیہ السلام ہمیں اس میں داخل ہونے سے منع کیا کرتے تھے تا ہم میں نے ان کی یہ بات سن رکھی ہے: آپ فرماتے ہیں: مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے پھر جب وہاں سے باہر نکلے تو بیت اللہ کی جانب رخ کر کے دورکعتیں ادا کیں اور فرمایا :’’یہ قبلہ ہے‘‘ ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمرا ہ نقل نہیں کیا۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← دُخُولِهِ وَلَكِنْ ← لَمْ يَكُنْ يَنْهَانَا ← إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1763

chevron_left Previous
1…121314…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section