المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1752
1752 - أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ الْأَحْجَارُ الَّتِي تَرْمِي بِهَا تُحْمَلُ، فَتَحْسِبُ أَنَّهَا تَنْقَعِرُ، قَالَ: «إِنَّهُ مَا يُقْبَلُ مِنْهَا يُرْفَعُ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَيْتَهَا مِثْلَ الْجِبَالِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ لَيْسَ بِالْمَتْرُوكِ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کنکریاں جو ہم مارتے ہیں ( یہ تو بہت زیادہ ہوتی ہیں لیکن جمرات کے پاس اتنی مقدار میں کنکریاں موجو دنہیں ہوتیں بلکہ) ہمارا خیال ہے کہ یہ کم ہوتی ہیں ، یہ کہاں جاتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: جس کی کنکر یاں قبول ہو جاتی ہیں وہ اٹھالی جاتیں ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ کنکریاں پہاڑوں کے برابر ہو جاتیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور یزید بن سنان متروک راوی نہیں ہیں ۔
قُلْنَا ← أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← أبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1752
