Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1740

1740 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ عَلَى الْحَجَرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پر سجدہ کیا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← يحيى بن اليمان ← أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1740

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1741

1741 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ يَحْيَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَطِيعُوا رَبَّكُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ، وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ» قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: مُنْذُ كَمْ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی جد عاء اونٹنی پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمار ہے تھے : اے لوگو! اپنے رب کی اطاعت کرو، نماز پنجگانہ ادا کرو، اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرواور ماہ رمضان کے روزے رکھواورا پنے امیر کی اطاعت کرو تو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو گے ( سلیم بن عامرفرماتے ہیں) میں نے ابوامامہ سے پوچھا آپ نے یہ حدیث کب سے سن رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ حدیث اس وقت سے سن رکھی ہے جب میری عمرتیس برس تھی ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبَا أُمَامَةَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ يَحْيَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1741

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1742

1742 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَثُرَتِ الْقَالَةُ مِنَ النَّاسِ فَخَرَجْنَا حُجَّاجًا حَتَّى لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ أَنْ نَحِلَّ إِلَّا لَيَالِيَ قَلَائِلَ أُمِرْنَا بِالْإِحْلَالِ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى عَرَفَةَ، وَفَرْجُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: «أَبَاللَّهِ تُعَلِّمُونِي أَيُّهَا النَّاسُ، فَأَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ، وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ هَدْيًا، وَلَحَلَلْتُ كَمَا أَحَلُّوا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَمَنْ وَجَدَ هَدْيًا فَلْيَنْحَرْ، فَكُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ، عَنْ سَبْعَةٍ» قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا، فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسٌ فَذَبَحَهُ عَنْ نَفْسِهِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ أَمَرَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، فَقَامَ تَحْتَ يَدَيْ نَاقَتِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْرُخْ أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ تَدْرُونَ أَيَّ شَهْرٍ هَذَا؟» قَالُوا: الشَّهْرُ الْحَرَامُ. قَالَ: «فَهَلْ تَدْرُونَ أَيَّ بَلَدٍ هَذَا؟» قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا» فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهُ " وَقَالَ حِينَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ: «هَذَا الْمَوْقِفُ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ» وَقَالَ حِينَ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ: «هَذَا الْمَوْقِفُ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَفِيهِ أَلْفَاظٌ مِنْ أَلْفَاظِ حَدِيثِ جَعْفَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَفِيهِ أَيْضًا زِيَادَةُ أَلْفَاظٍ كَثِيرَةٍ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں لوگوں میں چہ میگوئیاں زیادہ ہوگئیں کیونکہ ہم حج کرنے کے لئے نکلے تھے تقریبا ًتمام مناسک حج ادا کر لئے تھے اور احرام کھولنے میں ابھی چند دن باقی تھے ۔لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا ، (ایک صحابی نے کہا) ہم میں سے کوئی شخص عرفہ کی طرف اس حال میں روانہ ہوگا کہ اس کے آلہ تناسل سے منیٰ کے قطرے ٹپک رہے ہوں ( دراصل وہ لوگ حج کے ایام میں عمرہ نا جائز سمجھتے تھے اور یہ بات کر نے کا مقصد یہ تھا کہ ابھی تو ہم بیویوں سے جماع کر کے آ ئیں ہیں گویا کہ ابھی تو جماع کے اثرات باقی ہیں اوران کے ذکر سے قطرے ٹپک رہے ہیں )۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے کھڑے ہوکر خطبہ دیا اورفر مایا:اے لوگو! تم مجھے اللہ کے بارے علم سکھاتے ہو؟ خدا کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالی کے بارے میں جانتا ہوں اور تم سب سے زیادہ ڈرتا ہوں اور جو معاملہ تمہارے ساتھ پیش آیا ہے اگر اس بات کے متعلق پہلے ہی حکم نازل ہو گیا ہوتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لا تا اور میں احرام کھول دیتا جیسا کہ ان لوگوں نے کھولا ، اس لئے جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو ، اس کو چاہئے کہ تین روزے و ہیں پر اور سات روزے اپنے گھر والوں کے پاس جب لوٹے تب رکھ لے اور جس کو قربانی کا جانور میسر ہو، اس کو چاہیے کہ وہ قربانی کرے ۔ چنانچہ ہم نے ایک اونٹ سات افراد کی جانب سے قربان کیا ۔ عطاءفرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ میں مال غنیمت تقسیم کیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک بکرا آیا جوانہوں نے اپنی طرف سے ذبح کر دیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا تو ربیعہ بن امیہ بن خلف کوحکم دیا تو وہ آپ کی اونٹنی کے آگے کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا تم بلند آواز میں لوگو ں سے کہو اے لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سامہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ حرمت والامہینہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ حرمت والا شہر ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ یہ جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح یہ مہینہ ، یہ شہر اور یہ دن حرمت والا ہے، اسی طرح اللہ تعالی نے تم پر تمہارے مال اور خون حرام کئے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا کیا اور جب عرفات میں ٹھہرے تو فرمایا: یہ ٹھہر نے کی جگہ ہے اور پورامیدان عرفات ٹھہر نے کی جگہ ہے، اور جب آپ مزدلفہ میں ٹھہرے تو فرمایا : یہ ٹھہر نے کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ٹھہر نے کی جگہ ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔اور اس حدیث میں اس کے بھی الفاظ موجود ہیں: جس کو جعفر بن محمد صادق نے اپنے والد کے واسطے سے جابر سے روایت کیا ہے اور اس میں کئی الفاظ کا اضافہ بھی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1742

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1743

1743 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: «لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، وَنَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهَ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَهُ بَيْنَ النَّاسِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت انس بن ما لک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شیطان کو کنکریاں مار لیں اور اپنا قربانی کاجانور ذبح کر لیا اورحلق کروالیا تو ابوطلحہ کو بلا کر وہ( موئے مبارک )لوگوں میں تقسیم کر نے کا حکم دیا ۔ یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1743

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1744

1744 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ، «شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَنْحَرِ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَعْطَاهُ فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَاهُ صَاحِبِهِ» ، قَالُوا: فَإِنَّهُ عِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ، وَالْكَتَمِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت محمد بن عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے والد اور ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ قربان گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کر وا کر بال ایک کپڑے میں ڈال کر ان کو دے دیے اور انہوں نے وہ با ل لوگوں میں تقسیم کر دیے ۔ اور آپ نے اپنے ناخن تراش کر ایک صحابی کو عطا فرمائے ۔صحابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ بال اب بھی ہمارے پاس کتم اور مہندی سے رنگے ہوئے موجود ہیں ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أن محمد بن عبد الله بن زيد ← يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1744

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1745

1745 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى» ، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ «يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى» ، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن طواف زیارت کیا پھر لوٹ کر آئے اورمنٰی میں ظہر کی نماز پڑھی ۔ نافع فرماتے ہیں ، ابن عمر رضی اللہ عنہ قربانی کے دن طواف زیارت کیا کر تے تھے پھر لوٹتے اور ظہر کی نمازمنیٰ میں ادا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی عمل تھا۔ یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1745

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1746

1746 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ» وَقَالَ عَطَاءٌ: «لَا رَمَلَ فِيهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کے سات چکروں میں سے کسی میں بھی رمل نہیں کیا ۔اور عطاءفرماتے ہیں اس میں رمل نہیں ہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1746

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1747

1747 - أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ، فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ: «اسْقِنِي» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ، فَقَالَ: «اسْقِنِي» فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ، وَهُمْ يَسْتَقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ: «اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ» ، ثُمَّ قَالَ: «لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ» - يَعْنِي عَاتِقَهُ - وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حوض کے پاس آئے اور پانی پینا چاہا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اے فضل ! اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پانی لے کر آؤ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانی پلاؤ، انہوں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں نے اس میں ہاتھ ڈالے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانی پلاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوض سے پانی پیا پھر آب زم زم پر تشریف لائے ، اس وقت لوگ وہاں سے پانی پی رہے تھے اور اس میں کام بھی کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کام کرتے رہو کیونکہ تم نیک کام کر رہے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے مغلوب ہونے کا خدشہ نہ ہوتا ( اس طرح کہ یہاں پر لوگ کثرت سے آئیں اورعوام کی بھیٹر کی وجہ سے تم مغلوب ہو جاؤ) آپ نے اپنے کند ھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :تو میں نیچے اتر کر رسی اس پر رکھ لیتا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يحيى بن يحيى أنبا خالد بن عبد الله ← أبو عبد الله محمد بن نصر الإمام ← أبو يحيى أحمد بن محمد السمرقندي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1747

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1748

1748 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُمَا، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَحْمُ صَيْدِ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرٍو مُتَّصِلًا مُسْنَدًا، وَأَمَّا حَدِيثُ مَالِكٍ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : حالت احرام میں تمہارے لئے خشکی کے جانور کا گوشت حلال ہے جب تک کہ تم خوداس کا شکار نہ کر و یاوہ تمہارے لئے شکارنہیں کیا جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اوراسی طرح مالک بن انس اورسلیمان بن بلال نے عمرو سے متصل مسند روایت نقل کی ہے ۔مالک کی حدیث: -

يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قرئ على ابن وهب ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1748

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1749

1749 - فَأَخْبَرَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، حَدَّثَنِي خَالِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، بِمِصْرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، أَمَّا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ

حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ کی سند کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جیسا فر مان منقول ہے ۔ سلیمان بن بلال کی حدیث:

النَّبِيِّ نَحْوَهُ، أَمَّا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← مالک بن أنس ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، بِمِصْرَ، ← خَالِي، ← فَأَخْبَرَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1749

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1750

1750 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا جَدِّي، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.» هَذَا حَدِيثٌ لَا يُعَلِّلُ حَدِيثَ مَالِكٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ وَيَعْقُوبَ الْإِسْكَنْدَرَانِيِّ فَإِنَّهُمْ وَصَلُوهُ وَهُمْ ثِقَاتٌ "

حضرت سلیمان بن بلال صلی اللہ علیہ وسلم کی سند کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان منقول ہے ۔ اس حدیث کو مالک ،سلیمان بن بلال اور یعقوب اسکند رانی کی احادیث معلل نہیں کرتیں ۔ کیونکہ انہوں نے حدیث کومتصل کیا ہے اور یہ ثقہ لوگ ہیں ۔

جَابِرٍ ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← جَدِّي، ← أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1750

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1751

1751 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ النَّاسُ يَنْفِرُونَ مِنْ مِنًى إِلَى وُجُوهِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ، وَرَخَّصَ لِلْحَائِضِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :لوگ منیٰ سے ( ہی) اپنے گھروں کو چلے جایا کرتے تھے ،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوحکم دیا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہواورحیض والی عورتوں کے لئے رخصت عطافرمائی ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُسًا ← سليمان الأحول أنه ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ← إِسْحَاقُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ ← عمرو بن محمد بن منصور العدل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1751

chevron_left Previous
1…111213…17
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section