المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1592
1592 - أَخْبَرَنَا أَبُو حُمَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ الْعَدْلُ بِالطَّابرَانِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أُخْتِهِ الصَّمَّاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ، أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ مُعَارِضٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ: وَقَدْ أَخْرَجَاهُ حَدِيثُ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْعَتَكِيِّ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ: «صُمْتِ أَمْسِ؟» قَالَتْ: لَا، قَالَ: «فَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟» الْحَدِيثَ. فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا ذُكِرَ لَهُ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ «وَلَهُ مُعَارِضٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ» :
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت صماء رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ہفتہ کے دن فرض روزے کے علاوہ اور کوئی روزہ مت رکھو۔ ( اس دن کھانے کے لئے )انگور کی بیل کے چھلکوں کے سوا یا کسی درخت کی چال کے سوااورکوئی چیز میسر نہ ہوتو یہی چبالو۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔اورسند صحیح کے ہمراہ اس کی ایک معارض حدیث بھی موجود ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )اس کو امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے ہمام کی سند کے ہمراہ قتادہ کے واسطے سے ابوایوب عتکی سے یوں روایت کیا ہے جو یر یہ بنت حارث کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ان کے پاس آئے ، اس دن وہ روزہ دارتھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو نے کل روزہ رکھا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں ۔ آپ نے فرمایا : تو کیاتم کل روز در کھنے کا ارادہ رکھتی ہو؟ ( اس کے بعد پوری حدیث بیان کی ۔ ( امام حاکم فرماتے ہیں) محمد بن صالح بن ہانی نے اپنی سند کے ہمراہ لیث کا یہ بیان نقل کیا ہے: کہ جب بھی ابن شہاب کے پاس یہ تذکرہ کیا جا تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے تو فرماتے :یہ حمصی حدیث ہے اوراسنادصحیح کے ہمراہ اس کی ایک معارض حد یث بھی ہے ۔
أخته الصماء ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو حُمَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ الْعَدْلُ بِالطَّابرَانِ،
Hadith 1592
