Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1592

1592 - أَخْبَرَنَا أَبُو حُمَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ الْعَدْلُ بِالطَّابرَانِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أُخْتِهِ الصَّمَّاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ، أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ مُعَارِضٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ: وَقَدْ أَخْرَجَاهُ حَدِيثُ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْعَتَكِيِّ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ: «صُمْتِ أَمْسِ؟» قَالَتْ: لَا، قَالَ: «فَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟» الْحَدِيثَ. فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا ذُكِرَ لَهُ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ «وَلَهُ مُعَارِضٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ» :

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت صماء رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ہفتہ کے دن فرض روزے کے علاوہ اور کوئی روزہ مت رکھو۔ ( اس دن کھانے کے لئے )انگور کی بیل کے چھلکوں کے سوا یا کسی درخت کی چال کے سوااورکوئی چیز میسر نہ ہوتو یہی چبالو۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔اورسند صحیح کے ہمراہ اس کی ایک معارض حدیث بھی موجود ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )اس کو امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے ہمام کی سند کے ہمراہ قتادہ کے واسطے سے ابوایوب عتکی سے یوں روایت کیا ہے جو یر یہ بنت حارث کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ان کے پاس آئے ، اس دن وہ روزہ دارتھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو نے کل روزہ رکھا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں ۔ آپ نے فرمایا : تو کیاتم کل روز در کھنے کا ارادہ رکھتی ہو؟ ( اس کے بعد پوری حدیث بیان کی ۔ ( امام حاکم فرماتے ہیں) محمد بن صالح بن ہانی نے اپنی سند کے ہمراہ لیث کا یہ بیان نقل کیا ہے: کہ جب بھی ابن شہاب کے پاس یہ تذکرہ کیا جا تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے تو فرماتے :یہ حمصی حدیث ہے اوراسنادصحیح کے ہمراہ اس کی ایک معارض حد یث بھی ہے ۔

أخته الصماء ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو حُمَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ الْعَدْلُ بِالطَّابرَانِ،

Hadith 1592

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1593

1593 - أَخْبَرْنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ أَيِّ الْأَيَّامِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لَهَا صِيَامًا؟ فَقَالَتْ: يَوْمُ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ إِلَيْهَا فَقَالُوا: إِنَّا بَعَثْنَا إِلَيْكِ هَذَا فِي كَذَا وَكَذَا، فَذَكَرَ أَنَّكِ قُلْتِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَتْ: صَدَقَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ يَوْمُ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، وَكَانَ يَقُولُ: «إِنَّهُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَهُمْ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام’’کریب‘‘بیان کر تے ہیں:حضرت ( عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہ اور کچھ دیگر اصحاب رسول نے ان کوام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تا کہ میں ان سے یہ بات پوچھ کر آؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سے دنوں میں زیادہ روزے رکھا کرتے تھے؟ ( میں نے جا کر ان سے پوچھا: تو) انہوں نے جواب دیا: ہفتے اور اتوار کے دن ( آپ زیادہ تر روزہ رکھا کرتے تھے )میں نے واپس آ کران کو یہ بات بتائی تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور پھر وہ سب اکٹھے اُمّ المومنین اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور عرض کی کہ ہم نے اس شخص کو آپ کے پاس فلاں بات پوچھنے کے لئے بھیجا تھا تو آپ نے اس کو فلاں جواب دیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ اس نے سچ کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر طور پر ہفتہ اور اتوار کے دن روزہ رکھا کر تے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ دونوں دن مشرکوں کی عید کے دن ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ ان کی مخالفت کروں ۔

أَبِيهِ

Hadith 1593

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1594

1594 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ، وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا: يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ، فَإِنَّهَا تَقْرَأُ سُورَتَيْنِ نَهَيْتُهَا عَنْهُمَا، وَقُلْتُ لَوْ كَانَ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ، وَأَمَّا قَوْلُهَا: يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ فَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: «لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» ، وَأَمَّا قَوْلُهَا: بِأَنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: «فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (ایک دفعہ) ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک خاتون آپ کے پاس آئی اور عرض کر نے گی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میراشو ہر صفوان بن المعطل رضی اللہ عنہ ہے ۔ میں نماز پڑھوں تو یہ مجھے مارتا ہے اور جب میں روز ہ رکھوں تو یہ میراروزہ چھٹر وادیتا ہے ۔ اور یہ نماز فجر بھی طلوع آفتاب کے بعد پڑھتا ہے ۔ ( ابوسعید ) فرماتے ہیں: اس وقت صفوان رضی اللہ عنہ یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ۔ آپ علیہ السلام نے ان سے اس خاتون کی شکایت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جہاں تک اس کی اس بات کا تعلق ہے کہ جب یہ نماز پڑھتی ہے تو میں اسے مارتا ہوں (اس کی وجہ یہ ہے کہ) یہ دوسورتیں پڑھتی ہے اور میں اس کو اس کام سے منع کرتا ہوں کیونکہ میرا کہنا یہ ہے: اگر سورۃ ایک بھی ہوتو وہ کافی ہے۔اور جہاں تک اس کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ یہ جب روزہ رکھتی ہے تو میں اس کا روزہ ختم کر وا دیتا ہوں (تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں جوان آدمی ہوں ، مجھ سے رہانہیں جا تا ۔ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: کوئی عورت اپنے شو ہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزے نہ ر کھے ۔ اور جہاں تک اس کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ میں طلوع آفتاب کے بعد نماز فجر پڑھتا ہوں ۔ ( تواس کی وجہ یہ ہے کہ )میر اتعلق ایسے خاندان سے ہے جن کے بارے میں مشہور ہے( کہ یہ لوگ دیر سے اٹھتے ہیں ) طلوع آفتاب سے پہلے میری آنکھ ہی نہیں کھلتی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( ٹھیک ہے) جب سوکر اٹھوتو اس وقت نماز پڑھ لیا کرو۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ: ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 1594

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1595

1595 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَوْمُ الْجُمُعَةِ عِيدٌ فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامِكُمْ إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِلَّا أَنَّ أَبَا بِشْرٍ هَذَا لَمْ أَقِفْ عَلَى اسْمِهِ، وَلَيْسَ بِبَيَانِ ابْنِ بِشْرٍ وَلَا بِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَشَاهِدٌ هَذَا بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ مُخَرَّجٌ فِي الْكِتَابَيْنِ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جمعہ کا دن عید کا دن ہے ۔ اس لیے اپنی عیدکےدن کو روز ہ کا دن مت بناؤ ۔ البتہ اس کے بعد یا پہلے بھی روزہ رکھو (تو ٹھیک ہے ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔ اس کی سند میں جوابوبشر ہیں مجھے ان کا نام معلوم نہیں ہے کیونکہ یہ نہ تو’’ بیان بن بشر‘‘ ہیں اور نہ ہی’’جعفر بن ابی وحشیہ‘‘ ہیں ۔واللہ اعلم ۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث ہے جس کو بخاری اور مسلم میں نقل کیا گیا ہے تا ہم اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں ۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي بِشْرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Hadith 1595

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1596

1596 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ فَقُلْتُ: أَسَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: أَنَا كُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ عَنْهَا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ، أَوْ فِي غَيْرِهِ؟ قَالَ: «بَلْ هِيَ فِي رَمَضَانَ» . قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا فَإِذَا قُبِضَ الْأَنْبِيَاءُ رُفِعَتْ، أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . قَالَ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ؟ قَالَ: «الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ وَالْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ» قَالَ: ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ فَاهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي أَيِّ الْعِشْرِينَ؟ قَالَ: «الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا» ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ فَاهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي، أَوْ لَمَا أَخْبَرَتْنِي فِي أَيِّ الْعَشْرِ هِيَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا مَا غَضِبَ عَلَيَّ مِثْلَهُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَوْ شَاءَ لَأَطْلَعَكُمْ عَلَيْهَا، الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت مالک بن مرثد رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کر تے ہیں : ( وہ فرماتے ہیں) میں نے حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیاتم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے متعلق پوچھاتھا ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اس کے متعلق سب لوگوں سے زیاد ہ پو چھا کرتا تھا۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیے کہ لیلة القدر رمضان المبارک میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رمضان المبارک میں ہوتی ہے ۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ خاص طور پر انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات تک ہی ہوتی ہے اور جب وہ وفات پا جاتے ہیں تو اس کو اٹھالیا جا تا ہے یا یہ قیامت تک رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انبیاء کرام کی حیات تک محد ود نہیں ہوتی) بلکہ قیامت تک رہے گی ۔آپ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ رمضان المبارک کے کن ایام میں ہوتی ہے؟ اس کے بعد آپ ( کسی دوسرے موضوع پر )گفتگو کر تے رہے، میں نے آپ کی اس عدم تو جہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بہانے سے پھر پوچھ لیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون سے دوعشروں میں ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھلے عشروں میں ۔ اور آج کے بعد مجھ سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھنا۔( یک عرصہ بعد) میں نے پھر ایک بہانے سےپوچھ لیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کوقسم دیتا ہوں آپ مجھے ضرور بتایئے کہ یہ کون سے عشرے میں ہوتی ہے؟ ( ابوذرفر ماتے ہیں ) اس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس قد رسخت ناراض ہوئے کہ اس سے پہلے کبھی بھی اتناسخت ناراض نہیں ہوئے تھے ۔ اور نہ ہی اس کے بعد کبھی اتنا ناراض ہوئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگراللہ کومنظور ہوتا تو وہ تمہیں اس کی اطلاع دے دیتا۔ اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

قُلْتُ ← كُنْتُ أَسْأَلَ النَّاسِ عَنْهَا. ← لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: ← سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ فَقُلْتُ: أَسَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Hadith 1596

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1597

1597 - حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَرَوَيْهِ الْمُؤَذِّنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدْعُونِي مَعَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ لِي: لَا تَتَكَلَّمْ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا، قَالَ: فَدَعَاهُمْ وَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ: أَرَأَيْتُمْ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ أَيُّ لَيْلَةٍ تَرَوْنَهَا؟» قَالَ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْلَةَ إِحْدَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْلَةَ ثَلَاثٍ، وَقَالَ آخَرُ: خَمْسٍ، وَأَنَا سَاكِتٌ فَقَالَ: مَا لَكَ لَا تَتَكَلَّمُ؟ فَقُلْتُ: إِنْ أَذِنْتَ لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ تَكَلَّمْتُ، قَالَ: فَقَالَ: مَا أَرْسَلْتُ إِلَيْكَ إِلَّا لِتَتَكَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أُحَدِّثُكُمْ بِرَأْيِي؟ قَالَ: عَنْ ذَلِكَ نَسْأَلُكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: السَّبْعُ، رَأَيْتُ اللَّهَ ذَكَرَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، وَمَنَ الْأَرَضِينَ سَبْعًا، وَخَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ سَبْعٍ، وَبَرَزَ نَبْتُ الْأَرْضِ مِنْ سَبْعٍ، قَالَ: فَقَالَ: هَذَا أَخْبَرَتْنِي مَا أَعْلَمُ، أَرَأَيْتَ مَا لَا أَعْلَمُ مَا قَوْلُكَ نَبْتُ الْأَرْضَ مِنٍ سَبْعٍ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا} [عبس: 26] إِلَى قَوْلِهِ {وَفَاكِهَةً وَأَبًّا} [عبس: 31] وَالْأَبُّ نَبْتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُهُ الدَّوَابُّ وَلَا يَأْكُلُهُ النَّاسُ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي لَمْ يَجْتَمِعْ شُئُونُ رَأْسِهِ بَعْدُ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَرَى الْقَوْلَ إِلَّا كَمَا قُلْتَ، قَالَ: وَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَمَرْتُكَ أَنْ لَا تَتَكَلَّمَ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا، وَإِنِّي آمُرُكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ مَعَهُمْ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: فَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِهِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے عمر بن خطاب، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کے اجلاس میں بلایا کر تے تھے اور مجھے کہا کرتے تھے کہ جب تک دوسرے لوگ بات نہ کر لیں تم نے گفتگونہیں کرنی ۔ ( ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو بلایا اوران سے ليلة القدر کے بارے میں دریافت کر تے ہوئے فرمایا : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے متعلق کہ’’ تم اس کو آخری عشرے میں تلاش کرو‘‘ تمہارا کیا خیال ہے؟ اس سے مرادکون سی رات ہے؟ (ابن عباس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: کچھ لوگوں نے کہا: پہلی رات ۔ کچھ نے کہا: تیسری رات ۔ ایک نے کہا: پانچویں ۔ آپ فرماتے ہیں: میں خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے )فرمایا تمہیں کیا بات ہے؟ تم گفتگو کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے جواب دیا: اے امیر المومنین ! آپ جب مجھے اجازت دیں گے میں تب بولوں گا ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے )فرمایا: میں نے آپ کو یہاں پر بولنے کے لئے ہی بلا یا ہے ۔ ( ابن عباس رضی اللہ عنہ )فرماتے ہیں : میں نے کہا: میں تمہیں اپنی رائے بیان کروں گا ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا: ہم وہی تو پو چھ ر ہے ہیں ۔ ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں میں نے کہا: ساتویں ( شب میں) کیونکہ میں نےدیکھا ہے کہ اللہ تعالی نے سات آسمانوں اور ساتھ زمینوں کا ذکر کیا ہے ۔اور انسان کو سات دنوں میں پیدا کیا ہے ۔اور ز مین بھی بیج کوسات دنوں میں اگاتی ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ )نے فرمایا: یہ بات جو آپ نے ہمیں بتائی ہے یہ تو ہم جانتے ہیں آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیں جس کو ہم نہیں جانتے اور آپ نے جو کہا ہے کہ زمین سات دنوں میں بیج اگاتی ہے اس کا کیا مطلب؟ (ابن عباس رضی اللہ عنہ )فرماتے ہیں میں نے جواب میں یہ آیات: ’’شققنا الأرض شقا ‘‘ پڑھناشروع کیں اور وفا کھۃ وآبا‘‘ تک پڑھیں ، اور ان کو بتایا کہ اس میں ’’الاب‘‘ سے مرادز مین کی وہ پیداوار ہے جس کو جانور کھاتے ہیں ، انسان نہیں کھاتے ۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( حاضرین کی جانب متوجہ ہوکر) فرمایا: کیاتم لوگ اس نو جوان کی سی گفتگو کر نے سے عاجز ہو، جس کے سر کے جوڑ بھی ابھی پوری طرح نہیں جمے ۔ جبکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس نے میرے مؤقف کی موافقت میں بات کی ہے ۔ ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں کہا کرتا تھا کہ جب تک سب لوگ اپنی بات مکمل نہ کر لیں تب تک آپ اپنی بات شروع نہ کیا کر یں اور آج میں ہی آپ سے کہ رہا ہوں کہ آپ ان کی گفتگو میں شامل ہو جایا کر یں ۔ ابن ادریس فرماتے ہیں: عبدالملک نے سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عاصمِ بنِ كليبٍ الجرميِّ، ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَرَوَيْهِ الْمُؤَذِّنُ، ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ،

Hadith 1597

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1598

1598 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذَكَرْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ، فَقَالَ: «مَا أَنَا بِطَالِبِهَا إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تِسْعٍ أَوْ فِي سَبْعٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ خَمْسٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ فِي ثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ» ، فَكَانَ لَا يُصَلِّي فِي الْعِشْرِينَ إِلَّا صَلَاتَهُ سَائِرَ السَّنَةِ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عینہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابوبکرہ کے پاس لیلة القدر کا ذکر کیاتو انہوں نے فرمایا: میں تو اس کو آخری دس ( راتوں) میں ڈھونڈ تا ہوں ، جب ۹ را تیں باقی ہوں یا ۷ باقی ہوں یا ۵ باقی ہوں یا ۳ باقی ہوں یا آخری رات میں ۔ آپ ۲۰ را تیں تو عام طور عبادت کیا کرتے تھے ۔لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ عبادت بڑھادیتے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

مَا ← ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Hadith 1598

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1599

1599 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو يُونُسَ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، يَقُولُ: «الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ، وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ»

حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے نفلی روز ہ ر کھنے والے شخص کو اختیار ہے، وہ چا ہےتو روزہ رکھے اور چاہے تو ڑ دے۔

أُمِّ هَانِئٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أبو يونس حاتم بن أبي صغيرة ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ القَاضِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1599

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1600

1600 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ الْخَاقَانِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَطَوِّعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ صَامَ، وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَتِلْكَ الْأَخْبَارُ الْمُعَارِضَةُ لِهَذَا لَمْ يَصِحَّ مِنْهَا شَيْءٌ "

حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نفلی روزہ رکھنے والے کو اختیار ہے چاہے روزہ پورا کرے اور چاہے تو ڑ دے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اوروہ احادیث جو اس کے معارض ہیں ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے ۔

أُمِّ هَانِئٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ الْخَاقَانِيُّ ← بُنْدَارٌ ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ ← الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ،

Hadith 1600

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1601

1601 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ الْعَدْلُ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَنْبَأَ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دن اعتکاف کیا کر تے تھے ۔ پھر ایک سال اعتکاف نہ کر سکے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف کیا ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اورایک صحیح حدیث اس کی شاہد موجود ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَنْبَأَ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ الْعَدْلُ،

Hadith 1601

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1602

1602 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَسَافَرَ عَامًا، فَلَمْ يَعْتَكِفْ، وَاعْتَكَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِينَ لَيْلَةً»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ایک سال آپ سفر میں تھے جس کی وجہ سے اعتکاف نہ کر سکے ،اس لئے اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۰ دن کا عتکاف کیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Hadith 1602

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1603

1603 - أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الرَّمْلِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي سَهْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ عَلَى الْمُعْتَكِفِ صِيَامٌ إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ عَلَى نَفْسِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلِفُقَهَاءِ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي ضِدِّ هَذَا حَدِيثَانِ أَذْكُرُهُمَا، وَإِنْ كَانَا لَا يُقَاوِمَانِ هَذَا الْخَبَرَ فِي عَدَالَةِ الرُّوَاةِ " الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : معتکف پر روز وہ لازم نہیں ہے الا یہ کہ وہ خوداپنےاوپر لازم کر لیتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور اس کے مقابلے میں فقہاء اہل کوفہ سے دو حدیثیں مروی ہیں ، ان کا بھی میں ذکر کروں گا اگر چہ وہ دونوں حدیثیں راویوں کی عدالت کے حوالے سے اس کےبرابر کی نہیں ہیں ۔پہلی حدیث:

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← أَبِي سَهْلِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الرَّمْلِيُّ ← أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الرَّمْلِيُّ بِمَكَّةَ،

Hadith 1603

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section