المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1568
1568 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلَانِ فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا فَقَالَا لِي: اصْعَدْ فَقُلْتُ: «إِنِّي لَا أُطِيقُهُ» ، فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ فَصَعِدْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا أَنَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ فَقُلْتُ: «مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟» قَالُوا: هَذَا عَوَىُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ مُشَقَّقَةُ أَشْدَاقُهُمْ تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا، قَالَ: قُلْتُ: «مَنْ هَؤُلَاءِ؟» قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ایک رات میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے ،انہوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑا اور مجھے ایک خوفناک پہاڑ پر لے گئے اور مجھے کہنے لگے : اس پر چڑھیئے : میں نے کہ میں اس پرنہیں چڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا: ہم اس پر چڑھنا آپ کے لئے آسان کر دیتے ہیں ۔ پھر میں اس پر چڑھنا شروع ہوگیا، جب میں اس کے اوپر پہنچ گیا تو مجھے بہت خوفناک آواز یں سنائی دیں ، میں نے پوچھا: یہ کیسی آواز یں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ دوزخیوں کی آواز یں ہیں ۔ پھر میں چلتا رہا تو ایک ایسی قوم کو دیکھا جن کو الٹا لٹکا یا ہوا تھا اور ان کے جبڑے پھٹے ہوتے تھے ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے جواب دیا : یہ وہ لوگ ہیں جو افطاری کے وقت سے پہلے ہی روز ہ افطارلیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
قلت من هؤلاء ← بقوم معلقين بعراقيبهم مشققة أشداقهم تسيل أشداقهم دما ← هَذَا عَوَىُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا ← بأصوات شديدة فقلت ما هذه الأصوات ← سنسهله لك فصعدت حتى إذا كنت في سواء الجبل إذا ← لي اصعد فقلت إني لا أطيقه ← نائم إذ أتاني رجلان فأخذا بضبعي فأتيا بي جبلا وعرا ← بَيْنَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ← سليم بن عامر أبي يحيى الكلاعي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Hadith 1568
