Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1568

1568 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِي يَحْيَى الْكَلَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلَانِ فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا فَقَالَا لِي: اصْعَدْ فَقُلْتُ: «إِنِّي لَا أُطِيقُهُ» ، فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ فَصَعِدْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا أَنَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ فَقُلْتُ: «مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟» قَالُوا: هَذَا عَوَىُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ مُشَقَّقَةُ أَشْدَاقُهُمْ تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا، قَالَ: قُلْتُ: «مَنْ هَؤُلَاءِ؟» قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ایک رات میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے ،انہوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑا اور مجھے ایک خوفناک پہاڑ پر لے گئے اور مجھے کہنے لگے : اس پر چڑھیئے : میں نے کہ میں اس پرنہیں چڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا: ہم اس پر چڑھنا آپ کے لئے آسان کر دیتے ہیں ۔ پھر میں اس پر چڑھنا شروع ہوگیا، جب میں اس کے اوپر پہنچ گیا تو مجھے بہت خوفناک آواز یں سنائی دیں ، میں نے پوچھا: یہ کیسی آواز یں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ دوزخیوں کی آواز یں ہیں ۔ پھر میں چلتا رہا تو ایک ایسی قوم کو دیکھا جن کو الٹا لٹکا یا ہوا تھا اور ان کے جبڑے پھٹے ہوتے تھے ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے جواب دیا : یہ وہ لوگ ہیں جو افطاری کے وقت سے پہلے ہی روز ہ افطارلیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

قلت من هؤلاء ← بقوم معلقين بعراقيبهم مشققة أشداقهم تسيل أشداقهم دما ← هَذَا عَوَىُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا ← بأصوات شديدة فقلت ما هذه الأصوات ← سنسهله لك فصعدت حتى إذا كنت في سواء الجبل إذا ← لي اصعد فقلت إني لا أطيقه ← نائم إذ أتاني رجلان فأخذا بضبعي فأتيا بي جبلا وعرا ← بَيْنَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ← سليم بن عامر أبي يحيى الكلاعي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1568

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1569

1569 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلَا كَفَّارَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جو رمضان میں بھول کر روزہ توڑ بیٹھے، اس پرقضاء ہے نہ کفارہ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ،

Hadith 1569

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1570

1570 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الصِّيَامُ مِنَ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ، وَجَهِلَ عَلَيْكَ فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: روز ہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ لغواور بے ہودہ باتوں سے بچنا ، اصل روزہ ہے ۔اگر کوئی تمہیں گالی دے اور برا بھلا کہے ، تو تم آگے سے صرف اتنا کہ دو: میں روزے سے ہوں ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمِّہٖ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← أَبِي ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيُّ،

Hadith 1570

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1571

1571 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہر یہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : بہت سارے روز ہ دارایسے ہوتے ہیں۔ ان کوروزے سے بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سارے رات کا قیام کر نے والے ایسے ہوتے ہیں ان کو تھکاوٹ کےسوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہیں لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قتيبة بن سعيد البلخي ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو بكر بن أبي نصر المروزي،

Hadith 1571

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1572

1572 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الرَّازِيَانِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ مَاءً وَأَنْتَ صَائِمٌ؟» قَالَ: فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا» حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن مجھے خواہش ہوئی اور میں نے (اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، حالانکہ میں اس وقت روزے سے تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں آج بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہو گیا ہوں ، میں نے روزہ کی حالت میں بوسہ لیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے، روزہ کہ حالت میں کلی کرنا کیسا ہے؟ میں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( بوسہ لینے )میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔یہ حد یث امام بخاری اورامام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ. ← رَسُولُ اللَّهِ «أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ مَاءً وَأَنْتَ صَائِمٌ؟» ← صَائِمٌ» ← صَائِمٌ، وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا فَقَبَّلْتُ ← هَشَشْتُ يَوْمًا، فَقَبَّلْتُ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ سَعِیْد، بْنِ سُوَیْدٍ الْاَنْصَارِیُّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أبو حاتم وإبراهيم بن نصر الرازيان ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ

Hadith 1572

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1573

1573 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، لِأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : یہ دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہودونصاری دیر سے روزہ افطار کر تے ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 1573

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1574

1574 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ، وَمَنْ لَا فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ فَإِنَّهُ طَهُورٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جس شخص کو کجھورمیسر ہو، وہ اس کےساتھ افطاری کر لے اور جس کو کھجور میسر نہ ہووہ پانی سے افطاری کرے کیونکہ یہ بھی پاک کر نے والا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رضی اللہ عنہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1574

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1575

1575 - أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى التَّمْرِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ التَّمْرَ فَعَلَى الْمَاءِ، فَإِنَّهُ الْمَاءُ طَهُورُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ "

حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : جب کوئی روز ہ سے ہوتو اس کو چاہئے کہ کھجور کے ہمراہ روزہ افطار کرے اورا گر کھجور میسر نہ ہوتو پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاک کر نے والا ہے ۔ تبصر : یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← الرَّبَابِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ

Hadith 1575

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1576

1576 - أَخْبَرْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رُطَبَاتٍ فَعَلَى تَمَرَاتٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ تَمَرَاتٍ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب پڑھنے سے پہلے رطب کھجوروں کے ساتھ افطاری کیا کرتے تھے،اگر رطب میسر نہ ہوتیں تو تمر سے کر لیتے اور اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو چند گھونٹ پانی پی لیا کرتے تھے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، أَنَّهُ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 1576

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1577

1577 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي الْمَغْرِبَ حَتَّى يُفْطِرَ، وَلَوْ عَلَى شَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب پڑھنے سے پہلے افطاری ضرور کیا کرتے تھےاگر چہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پیتے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ← محمد بن إسحاق الإمام، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى،

Hadith 1577

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1578

1578 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ الْهَيَّاجِ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ السَّعْدِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْمَاءِ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ» هَذَا حَدِيثٌ لَهُ أَصْلٌ فِي الْمُوَطَّأِ، فَإِنْ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ السَّعْدِيُّ حِفْظَهُ هَكَذَا، فَإِنَّهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام )عرج میں ، روزہ کی حالت میں دو پہر کے وقت، گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہاتے دیکھا ہے۔ اس حدیث کی اصل مؤطا میں موجود ہے ۔ چنانچہ اگرمحمد بن نعیم السعد ی نے اس حدیث کو ایسے ہی محفوظ کیا ہے تو پھرامام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مالک بن أنس ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ السَّعْدِيُّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ الْهَيَّاجِ، ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Hadith 1578

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1579

1579 - فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ بِالْفِطْرِ عَامَ الْفَتْحِ، وَقَالَ: «تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ» وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَقَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي لَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ» ، أَوْ قَالَ: مِنَ الْحَرِّ

حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے سال لوگوں کو حالت سفر میں روزہ چھوڑ نے کاحکم دیا اور فر مایا: اپنے دشمن کے لئے طاقتور رہو ۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود روز و رکھا تھا۔ ابوبکر بن عبد الرحمٰن فرماتے ہیں: جس شخص نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے اس کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام) عرج میں شدت پیاس یا ( شاید یہ کہا) گرمی کی وجہ سے دو پہر کے وقت روزہ کی حالت میں اپنے اوپر پانی بہاتے دیکھا ہے۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، ← القعنبي فيما قرئ على مالك ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أبو بكر بن أبي نصر المروزي، ← فَقَدْ

Hadith 1579

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section