المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1532
1532 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ، وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجِنَانِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَنَادَى مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ "
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو سرکش شیاطین اور جنات کو باندھ دیا جا تا ہے ۔ دوزخ کے دروازوں کو بند کر دیا جا تا ہے پھران میں سے کوئی کھولا نہیں جا تا۔اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جا تا ہے اور ان میں سے کسی کو بند نہیں کیا جا تا ۔ اور ایک نداء دینے والا یوں نداء دیتا ہے’’اے بھلائی سے بھاگنے والے! متوجہ ہواوراے برائی سے بھاگنے والے! تو رُکا رہ ، اوراللہ کے لئے ان کو جہنم سے رہا کر دیا جا تا ہے‘ ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نہیں کیا
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1532
