Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1521

1521 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَخْرُجُ رَجُلٌ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ حَتَّى يُفَكَّ عَنْهَا لَحْيَيْ سَبْعِينَ شَيْطَانًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: آدمی جو چیز بھی صدقہ کرتا ہے وہ اس کو شیطانوں کے ۷۰ قبیلوں سے بچاتی ہے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 1521

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1522

1522 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّازُ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مِنْ كُلِّ حَائِطٍ بِقِنْوٍ لِلْمَسْجِدِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَاهِدُهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر باغ سے مسجد کے لئے ( ایک گچھہ حصہ بھیجنے کا حکم دیا۔یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم م رحمتہ اللہ کے معیار پر ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ ( شاہد حد یث درج ذیل ہے )

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّازُ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 1522

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1523

1523 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حِبَّانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا الْوَسْقَ، وَالْوَسْقَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، وَالْأَرْبَعَةَ وَقَالَ: «فِي جَاذِّ كُلِّ عَشَرَةِ أَوْسُقٍ قِنْوٌ يُوضَعُ لِلْمَسَاكِينِ فِي الْمَسْجِدِ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے ایک وسق ، دو وسق ، تین اور میں رخصت عطا فرمائی ہے اور کٹی ہوئی کھجوروں میں ہر دس میں ایک وسق ، اسی کی قسم سے مسکینوں کے لئے مسجد میں رکھا جائے گا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 1523

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1524

1524 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، أَخِي بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ جَدَّتَهُ حَدَّثَتْهُ وَهِيَ أُمُّ بُجَيْدٍ، وَكَانَتْ زَعَمَتْ أَنَّهَا مِمَّنْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا نَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ: لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِيَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت اُمّ بجید رضی اللہ عنہ ( آپ کہا کرتی تھی کہ میں ان عورتوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پربیعت کی تھی) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! خدا کی قسم : ( کئی مرتبہ ایسے ہوتا ہے )کوئی مسکین میرے دروازے پرآ کر سداد یتا ہے لیکن میرے پاس اس کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تیرے پاس اس کو دینے کے لئے جلا ہوا کھر ہی ہوتو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو ۔ ( سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹا ؤ ) ۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے نقل نہیں کیا۔

سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى،

Hadith 1524

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1525

1525 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّغَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَادَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيْرَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ، وَمَخِيلَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ، فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ يُبْغِضُهَا اللَّهُ، وَالْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْمَخِيلَةُ مِنَ الْكِبْرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: غیرتیں دوطرح کی ہیں ۔ان میں سے ایک کو اللہ تعالی پسند کر تا ہے اور دوسری کو نا پسند ۔اور خود پسندی بھی دوطرح کی ہے ان میں سے ایک کو اللہ پسند کرتا ہے اور دوسری کو ناپسند ۔ چنانچہ تہمت کے متعلق غیرت کو اللہ تعالی پسند کرتا ہے ۔اس کے غیر کو اللہ تعالی نا پسند کر تا ہے اور خود پسندی والاشخص جب صدقہ کرے تو اللدا سے پسند کرتا ہے اور وخود پسندی جوتکبر کی بناء پر ہواس کو اللہ تعالی نا پسند کر تا ہے ۔حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْدِيِّ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَادَةَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصغاني بمكة

Hadith 1525

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1526

1526 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اسْتَقْرَضْتُ عَبْدِي فَلَمْ يُقْرِضْنِي، وَشَتَمَنِي عَبْدِي وَهُوَ لَا يَدْرِي يَقُولُ: وَادَهْرَاهُ، وَادَهْرَاهُ، وَأَنَا الدَّهْرُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: میں نے اپنے بندے سے قرضہ مانگالیکن اس نے مجھے قرضہ نہیں دیا اور میرا بندہ مجھے گالیاں دیتا ہے لیکن اس کو پتہ نہیں ۔ بند ہ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے حالانکہ زمانہ( کو قائم رکھنے والا) تو میں ہوں ۔یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

وَادَهْرَاهُ، وَادَهْرَاهُ، وَأَنَا الدَّهْرُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ← اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اسْتَقْرَضْتُ عَبْدِي فَلَمْ يُقْرِضْنِي، وَشَتَمَنِي عَبْدِي وَهُوَ لَا يَدْرِي ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ،

Hadith 1526

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1527

1527 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ أَبُو عُثْمَانَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ شُفَيًّا حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَدِينَةَ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَلَمَّا سَكَتَ وَخَلَا قُلْتُ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ بِحَقٍّ، وَحَقٍّ لَمَا حَدَّثَتْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِمْتَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَفْعَلُ، لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتُهُ وَعَلِمْتُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً، فَمَكَثَ قَلِيلًا، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى فَمَكَثَ بِذَلِكَ، ثُمَّ أَفَاقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ، فَقَالَ: أَفْعَلُ لَأُحَدِّثَنَّكَ بِحَدِيثٍ حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى، ثُمَّ مَالَ خَارًّا عَلَى وَجْهِهِ وَأَسْنَدْتُهُ طَوِيلًا، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَزَلَ إِلَى الْعِبَادِ لِيَقْضِيَ بَيْنَهُمْ، وَكُلُّ أُمَّةٍ جَاثِيَةٌ، فَأَوَّلُ مَنْ يَدْعُو بِهِ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ، وَرَجُلٌ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِلْقَارِئِ: أَلَمْ أُعَلِمْكَ مَا أَنْزَلْتُ عَلَى رَسُولِي؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: كَذَبْتَ وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ لَهُ: كَذَبْتَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ فُلَانٌ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْمَالِ فَيَقُولُ: أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ حَتَّى لَمْ أَدَعَكَ تَحْتَاجُ إِلَى أَحَدٍ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَصِلُ الرَّحِمَ وَأَتَصَدَّقُ، فَيَقُولُ اللَّهُ: كَذَبْتَ وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ فُلَانٌ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَلِكَ، وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ الَّذِي قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقَالُ لَهُ: فِيمَ قُتِلْتَ؟ فَيَقُولُ: أُمِرْتُ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِكَ فَقَاتَلْتُ حَتَّى قُتِلْتُ فَيَقُولُ اللَّهُ: كَذَبْتَ، وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ لَهُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ فُلَانٌ جَرِيءٌ فَقَدْ قِيلَ ذَلِكَ "، ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتِي، فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أُولَئِكَ الثَّلَاثَةُ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تُسَعَّرُ بِهِمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا «وَالْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ الْعُذْرِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ لَمْ يَحْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ، وَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى شَوَاهِدِ هَذَا الْحَدِيثِ بِغَيْرِ هَذِهِ السِّيَاقَةِ»

حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ مد ینہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے اردگرد بہت سارے لوگ جمع ہیں ۔ انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں : میں ان کے قریب ہوا،اوران کے پاس جا کر بیٹھ گیا ، وہ لوگوں کو حد یثیں سنارہے تھے ۔ جب وہ حدیثیں سنا کر فارغ ہوئے اور لوگ چلے گئے ، تو میں نے کہا: میں تم سے اور کوئی چیز طلب نہیں کرتا سوائے اس کے کہ تم مجھے کوئی ایسی بات سناؤ جوتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی اورسیکھی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بولے: میں بھی صرف ایک حدیث سنانا چاہتا ہوں جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی ہے ۔ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کافی دیر تک سسکیاں بھرتے رہے حتی کہ بے ہوش ہو گئے ۔ پھر جب ان کو افاقہ ہوا، تو کہنے لگے : میں تمہیں وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی ہے (ایک مرتبہ) میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر میں تھے ،میرے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تیسرا کوئی آدمی ہمارے پاس نہ تھا پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سسکیاں بھرنے لگے پھر آپ گر پڑے اور میں نے آپ کو بہت دیر تک سہارادیئے رکھا پھر جب افاقہ ہوا: تو فرمانے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا: قیامت کے دن اللہ تعالٰی بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے ان کی طرف نزول فرمائے گا ، جبکہ سب امتیں انگلیوں کے بل کھڑی ہوں گی تو سب سے پہلے جن کوطلب فرمائے گا (ان میں سے ایک )وہ شخص ہو گا جس نے قرآن حفظ کیا ( اور ایک ایسا شخص ہوگا) جو جہاد فی سبیل اللہ کرتارہا( اور ایک ایسا شخص ہوگا جو بہت زیادہ مال و دولت والا ہوگا۔ اللہ تعالی قاری قرآن سے پوچے گا: کیا میں نے تجھے نہیں سکھایا تھاجو میں نے اپنے رسول پر نازل کیا ؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں اے میرے رب! اللہ تعالی فرمائے گا: تو نے اپنے علم پر کیا عمل کیا ؟ وہ جواب دے گا : میں دن رات اسی کی تلاوت میں مشغول رہا۔ اللہ تعالی فرمائےگا تو جھوٹا ہے ۔ اورفر شتے کہیں گے تو جھوٹا ہے ۔ اللہ تعالی فرمائے گا تیراتو یہ ارادہ تھا کہ تیرے بارے میں کہا جائے کہ ’’فلاں شخص قاری ہے‘‘ وہ کہہ لیا گیا ہے۔ پھر مالدار کولا یا جائے گا اس کو اللہ تعالی فرمائے گا کیا میں نے تجھے اتنی دولت نہیں دی تھی کہ تجھے کسی انسان کا محتاج نہیں رہنے دیا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ۔ اللہ تعالی فرمائے گا جو کچھ میں نے تجھے دیا تھا تو نے اس میں (میری رضا کے لئے) کیاعمل کیا؟ وہ جواب دے گا میں صلہ رحمی کرتا رہا اور صدقہ کرتارہا، اللہ تعالی فرمائےگا تو جھوٹا ہے اور فرشتے کہیں گے تو جھوٹا ہے ۔ اور اللہ تعالی فرمائے گا : بلکہ تیری نیت تو یہ تھی (کہ تیرے بارے میں) کہا جائے ’’فلاں شخص سخی ہے‘‘سووہ کہہ لیا گیا ۔ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا ، اس کو کہا جائے گا: تو کیوں قتل ہوا؟ وہ جواب دے گا تو نے اپنے راستے میں جہاد کا حکم دیا تھا، میں جہاد کر تا رہا یہاں تک قتل کر دیا گیا۔ اللہ تعالی فرمائے گا تو جھوٹا ہے اور فر شتے اس کو کہیں گے :تو جھوٹا ہے۔ اللہ تعالی فرمائے گا: بلکہ تیری نیت تو یہ تھی ( کہ تیرے بارے میں) کہا جائے ’’ فلاں شخص بہت بہادر ہے‘‘ سو وہ کہہ لیا گیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ مارا اورفرمایا: اللہ کی مخلوق میں سب سے پہلے یہ تین لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو اس سند کے ہمر ا نقل نہیں کیا اور ولید بن ابی ولید عذری اہل شام کے شیخ ہیں ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے ان کی روایات نقل نہیں کیں ۔ حالانکہ دونوں نے اس حدیث کی شاہد حدیث نقل کی ہیں ۔ تاہم انکی سند کچھ مختلف ہے۔

الوليد بن أبي الوليد أبو عثمان ← عبد الله بن المبارك أنبأ حيوة بن شريح ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ،

Hadith 1527

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1528

1528 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً، إِلَّا بَغْلَتَهُ وَسِلَاحَهُ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ " وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ

حضرت جویر یہ بنت حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: خدا کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے وقت کوئی درہم و دینار اورکوئی لونڈی اور غلام ( وراثت میں) نہیں چھوڑ ے۔سوائے آپ کے ایک خچر اور ہتھیار کے اور کچھ زمین چھوڑی ،وہ بھی صدقہ تھی۔ یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری رحمتہ اللہ نے اسے نقل کیا ہے ۔

جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Hadith 1528

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1529

1529 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا حُضِرَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ دَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: «أذَكِّرُكُمَ اللَّهَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا بِثَمَنٍ فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِي فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ وَابْنِ السَّبِيلِ؟» قَالُوا: نَعَمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا گیا ،تو آپ اپنے مکان کے اوپر چڑھ کر اونچے ہوکر یہ کہنے لگے میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ۔ کیا تم جانتے ہو؟ کہ رومہ ( نامی کنویں) سے کوئی شخص پیسوں کے بغیر پانی نہیں پی سکتاتھا، میں نے اپنے مال سے اس کو خرید کر ہرغنی اور محتاج اور مسافروں کے لئے وقف کیا تھا ؟ سب نے کہا: جی ہاں ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

لَمَّا حُضِرَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ دَارِهِ، ثُمَّ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Hadith 1529

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section