Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1509

1509 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «جَهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تنگ دستی کے باوجودمحنت کر کے صدقہ دینا اور رشتہ داروں سے آغاز کرو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1509

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1510

1510 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» فَقُلْتُ: مِثْلَهُ، وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» فَقَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں صدقہ کر نے کاحکم دیا ، اتفاق سے اس دن میرے پاس کافی مال تھا ، میں نے سوچا کہ اگر میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے سبقت کر نا چا ہوں تو آج کرسکتا ہوں ، تو میں اپنا آدھا مال لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا؟ میں نے کہا: ( جتنا لے کر آیا ہوں )اتنا ہی ( گھر والوں کے لئے چھوڑ اہے ) ۔ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ا پنا سارا مال لےآئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے ان کے لئے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ ا ہے ۔ میں نے سوچ لیا کہ میں کسی بھی معاملے میں کبھی بھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے آگے نہیں نکل سکتا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أحمد بن محمد بن نصير، ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1510

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1511

1511 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْجَبُ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «سَقْيُ الْمَاءِ» تَابَعَهُ هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور پوچھا: آپ کوکون سا صدقہ سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : پانی پلا نا ۔ اس حدیث کو قتادہ سے روایت کر نے میں ہمام نے شعبہ کی متابعت کی ہے ۔( ہمام کی روایت کردہ حد یث درج ذیل ہے )

قَتَادَةَ ← «سَقْيُ الْمَاءِ» تَابَعَهُ هَمَّامٌ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْجَبُ إِلَيْكَ؟ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَالْحَسَنِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1511

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1512

1512 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعْدًا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْجَبُ إِلَيْكَ؟ فَقَالَ: «الْمَاءُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ہمام رضی اللہ عنہ نے قمادہ کے واسطے سے سعید کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور کہنے لگے (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کو کون سا صدقہ سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پانی ( پلانا)۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أي الصدقة أعجب إليك ← سَعِيدٍ، أَنَّ سَعْدًا، أَتَى النَّبِيَّ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← عثمان بن سعيد، ومحمد بن أيوب، ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1512

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1513

1513 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ فَأَعْتَقْتُهَا، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «آجَرَكِ اللَّهُ، أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِيهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محتر مہ ام المومنین حضرت میمونہ فرماتی ہیں: میری ایک باندی تھی ، میں نے اس کو آزادکر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو فرمانے لگے : اللہ تعالی اس کا ثواب دے گالیکن اگر تم یہ باندی اپنے بھائیوں کودیتی ہو تو تجھے اس سے بھی زیادہ ثواب ملتا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

كَانَتْ لِي جَارِيَةٌ فَأَعْتَقْتُهَا، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ← مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدَةُ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1513

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1514

1514 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرْزَةَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: «تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ» قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ» . قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: «تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجِكَ» - أَوْ قَالَ: «عَلَى زَوْجَتِكَ» - قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: «تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ» . قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: «أَنْتَ أَبْصَرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ"

حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے صدقہ کر نے کاحکم دیا تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک دینا ر ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اپنے او پر خرچ کر لے ۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی اولا د پرخرچ کر ،اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بیوی پر خرچ کر ۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے خادم پر خرچ کر ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور دینار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے( بھی تو) نظر آرہا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رضی اللہ عنہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَمَرَ النَّبِيُّ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ رَجُلٌ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← محمد بن كثير أنبأ سفيان ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ← قَبِيصَةُ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1514

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1515

1515 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا قَبِيصَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ وَهُوَ الثَّوْرِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ الْخَيْوَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَوَهْبُ بْنُ جَابِرٍ مِنْ كِبَارِ تَابِعِيِّ الْكُوفَةِ "

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: آدمی کے گنہگار ہونے کے لئے اتناہی کافی ہے کہ وہ ا پنی لگی ہوئی روزی بلا وجہ چھوڑ دے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور وہب بن جابر کوفہ کےکبار تابعین میں سے ہیں۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ الْخَيْوَانِيِّ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← سُفْيَانُ وَهُوَ الثَّوْرِيُّ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ غَالِبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← قَبِيصَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1515

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1516

1516 - أَخْبَرَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالشُّحِّ، أَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَأَبُو كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيُّ مِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ»

حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں ارشادفر مایا: حرص سے بچو، کیونکہ تم سے پہلی قو میں حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ۔اس ( حرص ) نے ان کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخل کر نے لگ گئے ۔اس نے ان کوقطع رحمی کا حکم دیا توقطع رمی کر نے لگے ،اس نے ان کو فجو رکاحکم دیا تو فجو رکر نے لگ گئے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور ابوکثیر الزبیدی کبارتابعین میں سے ہے۔

خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي کَثِيرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← بشر بن عمر ووهب بن جرير ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← مكرم بن أحمد القاضي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1516

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1517

1517 - أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ» أَوْ قَالَ: «حَتَّى يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ» قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ «لَا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ لَا يَتَصَدَّقُ فِيهِ بِشَيْءٍ وَلَوْ كَعْكَةً وَلَوْ بَصَلَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہرشخص اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا ۔ یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا۔ یزید کہتے ہیں :ابوالخیرکسی دن بھی صدقہ کا ناغہ نہیں ہونے دیتے تھے ۔اگر چہ ایک روٹی یا ایک پیاز ہی دیتے ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، ← أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1517

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1518

1518 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ قُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " ذُكِرَ لِي أَنَّ الْأَعْمَالَ تَبَاهَى فَتَقُولُ الصَّدَقَةُ: أَنَا أَفْضَلُكُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے یہ بتایا گیا کہ اعمال ایک دوسرے کے ساتھ بحث کر تے ہیں تو صدقہ کہتا ہے : میں تم میں سب سے افضل ہوں ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَفْضَلُكُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ← لي: أن الأعمال تَباهى، فتقول الصدقةُ: ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قُرَّۃَ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← الفضل بن عبد الجبار ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1518

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1519

1519 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَسْبِقُ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ؟ قَالَ: «رَجُلٌ لَهُ دِرْهَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ، وَآخَرُ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَخَذَ مِنْ عُرْضِهَا مِائَةَ أَلْفٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک درہم ایک لاکھ سے بڑھ گیا۔ صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک درہم : لا کھ درہم سے کیسے بڑھ گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص ایسا ہے جس کے پاس کل دو در ہم ہی ہیں ، اس نے ان میں سے ایک درہم صدقہ کر دیا اور ایک دوسرا شخص ہے جس کے پاس بہت سارامال ( دولا کھ سے زیادہ )ہے وہ اپنے مال میں سے ایک لاکھ صدقہ کرتا ہے۔یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← أبو بكرة بكار بن قتيبة القاضي بمصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1519

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1520

1520 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ، أَمَّا الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ، وَلَمْ يَسْأَلُهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْ أَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ فَنَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَامَ رَجُلٌ يَتَمَلَّقُنِي، وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ، أَوْ يُفْتَحَ لَهُ، وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی محبت کر تاہے اور تین شخص ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے جن تین سے اللہ محبت کرتا ہے ( وہ یہ ہیں )۔ ۱)ایسا شخص جواپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے اللہ کے نام پر سوال کیا اوراس نے رشتہ داری کی بنا ء پر سوال نہیں کیا جو اس کے اور قوم کے درمیان موجودتھی ،تو ایک شخص الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گیا اور اس شخص کو اس طرح خفیتہ عطیہ دیا کہ کسی دوسرے آدمی کو پتا بھی نہیں چلنے دیا۔۲ ) ایسی قوم جورات بھر سفر کرتی رہی اور جب ان کو نیند کا شد ید غلبہ ہوا تو ایک جگہ پر پڑاؤ ڈال کر سو گئے ۔تو ان میں سے ایک شخص کھڑ اہوکران پر پہراد یتارہا اور میری آیات کی تلاوت کر تار ہا۔ ۳) ایساشخص جوکسی جنگ میں ہواور دشمن سے مڈ بھیڑ ہو جائے اور وہ شکست دے دیں لیکن یہ اپنےقتل ہونے تک یافتح ہونےتک سینہ تان کر لڑ تار ہے ۔ اور جن تینوں کواللہ تعالی ناپسند کرتا ہے وہ یہ ہیں: ۱ ) بوڑ ھازانی ۲ ) متکبر فقیر ۳ ) نظالم مالدار حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1520

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section