Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1449

1449 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلَهُ ثَوْبَ مَعَافِرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کویمن کا عامل بنا کر بھیجا اوران کو حکم دیا کہ گائیوں کہ زکوٰۃ ہر ۳۰ میں سے ایک سالہ بچھڑا ہے اور ہر ۴۰ گائیوں میں ایک ۲ سالہ بچھڑا ہے اور ہر جوان سے ایک دینار یا اس کے برابر یمنی کپڑے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1449

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1450

1450 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ سَاعِيًا، فَقَالَ أَبُوهُ: لَا تَخْرُجْ حَتَّىْ تُحْدِثَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا، فَلَمَّا أَرَادَ الْخُرُوجَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا قَيْسُ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِكَ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ، وَلَا تَكُنْ كَأَبِي رِغَالٍ» فَقَالَ: سَعْدٌ وَمَا أَبُو رِغَالٍ؟ قَالَ: " مُصَدِّقٌ بَعَثَهُ صَالِحٌ فَوَجَدَ رَجُلًا بِالطَّائِفِ فِي غُنَيْمَةٍ قَرِيبَةٍ مِنَ الْمِائَةِ شِصَاصٍ إِلَّا شَاةً وَاحِدَةً، وَابْنَ صَغْبَرٍ لَا أُمَّ لَهُ، فَلَبَنُ تِلْكَ الشَّاةِ عَيْشُهُ، فَقَالَ صَاحِبُ الْغَنَمِ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ وَقَالَ: هَذِهِ غَنَمِي فَخُذْ بِمَا أَحْبَبْتَ فَنَظَرَ إِلَى الشَّاةِ اللَّبُونِ، فَقَالَ: هَذِهِ. فَقَالَ الرَّجُلُ: هَذَا الْغُلَامُ كَمَا تَرَى لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ، وَلَا شَرَابٌ غَيْرُهَا، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ اللَّبَنَ فَأَنَا أُحِبُّهُ، فَقَالَ: خُذْ شَاتَيْنِ مَكَانَهَا فَأَبَى، فَلَمْ يَزَلْ يَزِيدُهُ، وَيَبْذُلُ حَتَّى بَذَلَ لَهُ خَمْسَ شِيَاهٍ شِصَاصٍ مَكَانَهَا فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَمَدَ إِلَى قَوْسِهِ فَرَمَاهُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ: مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ أَحَدٌ قَبْلِي فَأَتَى صَاحِبُ الْغَنَمِ صَالِحًا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ صَالِحٌ: اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ، اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ ". فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْفُ قَيْسًا مِنَ السِّقَايَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ مُخْتَصَرٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ»

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوز کوٰ ۃ اور صدقات وغیرہ جمع کرنے کی ذمہ داری دے کر بھیجاتو ان کے والد نے کہا: جاتے ہوئے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کر کے روانہ ہونا ،انہوں نے نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوفر مایا: اے قیس! قیامت کے دن تم اس حال میں نہ آنا کہ تیری گردن پر اونٹ سوار ہوں اور وہ آواز یں نکال رہے ہوں یا تمہاری گردن پر گائے سوار ہواور وہ آواز یں نکال رہی ہو یا کوئی بکری سوار ہو جومنمنا رہی ہواور تم ابور غال کی طرح نہ ہو جا نا ۔ سعد نے پوچھا: ابور غال کون ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زکوۃ وصول کر نے والا تھا جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ وغیر جمع کرنے کے لئے بھیجا تھا، اس نے طائف میں ایک شخص کو پایا جس کے پاس ۱۰۰ کے قریب خشک دودھ والی بکریاں تھیں ۔صرف ایک بکری دودھ والی تھی اور اس ( چروا ہے ) کا ایک چھوٹا بچہ بھی تھا ، جس کی ماں نہیں تھی اور اس بچے کا کھانا پینا صرف بکری کا دودھ تھا، بکریوں کے مالک نے پو چھا تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں اللہ کے رسول حضرت صالح رضی اللہ عنہ کا سفیر ہوں ۔ اس نے خوش آمدید کہا: اورعرض کی : یہ میرار یوڑ ہے، اس میں سے جو جا نو ر آپ کو پسند ہے، وہ لے لیں ۔اس نے دودھ والی بکری کو پسند کر لیا۔ وہ شخص بولا : یہ ایک بچہ ہے جیسا کہ آپ دیکھ بھی رہے ہیں کہ اس بکری کے دودھ کے سوا اس کی کوئی خوراک نہیں ہے ۔اس نے کہا: اگر تمہیں دودھ پسند ہے تو مجھے بھی پسند ہے، اس نے جواب دیا: آپ اس بکری کی بجائے مجھ سے دو بکر یاں لے لیں ، وہ مسلسل انکار کرتا رہا اور یہ اس کے لیے بکریاں بڑھا تار ہاحتیٰ کہ اس نے اس بکری کے عوض پانچ بکریاں دینے کی پیشکش کر دی (وہ اس پر بھی راضی نہ ہوا )، جب اس (ریوڑ کے مالک) نے اس کی ضد دیکھی تو اپنے ترکش سے تیر نکالا اور اس کو مارکرقتل کر دیا۔ پھر اس نے سوچا کہ کوئی شخص یہ خبر مجھ سے پہلے اللہ کے رسول حضرت صالح علیہ السلام تک نہ پہنچائے اس لئے وہ بکریوں کا مالک اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کے پاس آیا اور یہ خبر سنائی تو حضرت صالح علیہ السلام نے یوں دعا مانگی’’اے اللہ ! ابورغال پرلعنت فرما،اے اللہ ! ابور غال پرلعنت فرما‘اس پر سعد بن عبادہ نے عرض کی یارسول اللہ! قیس کو معاف فرمادیجئے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ مذکورہ حدیث کی ایک مختصر شاہد حدیث ہے جو کہ امام مسلم رحمتہ اللہ ور امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار پرصحیح ہے۔

قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ: ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Hadith 1450

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1451

1451 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ مُصَدِّقًا، فَقَالَ: «يَا سَعْدُ إِيَّاكَ أَنْ تَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ تَحْمِلُهُ لَهُ رُغَاءٌ» قَالَ: لَا أَجِدُهُ، وَلَا أَجِيءُ بِهِ فَعَفَاهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن عبادہ کوزکوۃ اور صدقات وصول کر نے والا بنا کر بھیجا تو فرمایا: اے سعد ! قیامت کے دن ایسی حالت میں آنے سے بچنا کہ تم اونٹ اٹھائے ہوئے ہواور وہ چیخ رہا ہو ۔ انہوں نے جواب دیا : نہ میرے پاس اونٹ ہیں نہ میں اس حالت میں آؤں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عافیت کی دعا دی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ،

Hadith 1451

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1452

1452 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَجَمَعَ لِي مَالَهُ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهَا إِلَّا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدِّ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا صَدَقَتُكَ، فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرٌ، وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُؤْمَرْ بِهِ، وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرَضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ فَافْعَلْ، فَإِنْ قَبْلَهُ مِنْكَ قَبِلْتُهُ، وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَدْتُهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ، قَالَ: فَخَرَجَ مَعِي، وَخَرَجَ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتَانِي رَسُولٌ لَكَ لِيَأْخُذَ مِنْ صَدَقَةِ مَالِي، وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا رَسُولُهُ قَطُّ قَبْلَهُ فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي، فَزَعَمَ أَنَّ مَا عَلَيَّ فِيهِ إِلَّا ابْنَةُ مَخَاضٍ، وَذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرٌ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً عَظِيمَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ، وَهَا هِيَ ذِهْ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ أَجَرَكَ اللَّهُ فِيهِ وَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ» . قَالَ: فَهَا هِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا، وَدَعَا فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابی کعب صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصدق ( زکوۃ وصدقات وصول کر نے والا بنا کربھیجا۔ میں ایک شخص کے پاس گیا ،اس نے سارا مال میرے سامنے جمع کر دیا ۔ اس کے اس تمام مال پر ایک سال اونٹنی’’ز کوٰ ۃ‘‘ بنتی تھی ۔ میں نے اس سے کہا:ایک یکسالہ اونٹنی ادا کر دو کیونکہ تیری زکوۃ یہی بنتی ہے ۔اس نے جوابا کہا: اس میں نہ دودھ ہے نہ گوشت جبکہ یہ بڑی اور موٹی تازی اونٹنی ہے، آپ یہ لے لیں ۔ ( حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے )کہا: مجھے جس کا حکم نہیں دیا گیا ہے، وہ میں نہیں لے سکتا ۔البتہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے قریب ہی ہیں ،اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کی بارگاہ میں حاضر ہوکر یہی صورت حال بیان کر دیں ،اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے یہ اونٹنی قبول کر لیں تو مجھے بھی منظور ہے ، لیکن اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبول نہ کر یں تو پھر میں بھی اس بات پر راضی نہیں ہوں ۔اس نے کہا (ٹھیک )ہے میں ایسے کرتا ہوں ۔ ( حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ )فرماتے ہیں: وہ میرے ہمراہ چل دیا اور ساتھ ہی وہ اونٹنی بھی لے لی جو اس نے مجھے پیش کی تھی ۔ ہم ( چلتے چلتے) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس آپ کا یہ سفیر میرے مال کی زکوٰۃ وصول کرنے آیا تھا۔ خدا کی قسم ! اس سے قبل نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور نہ ہی ان کا کوئی سفیر میرے مال میں تشریف لائے ہیں ۔ میں نے سارا مال اس کے سامنے جمع کر دیا اور یہ سمجھتے ہیں کہ میرے اس تمام مال میں میرے ذمہ صرف یکسالہ اونٹنی’’ زکوۃ‘‘ ہے ۔اور اس میں نہ دودھ ہے نہ گوشت ۔ جبکہ میں نے ان کو بہترین اونٹنی پیش کی ہے لیکن یہ ا نکار کر رہے ہیں ، وہ اونٹنی یہ ہے ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ۔ میں اس کو اپنے ساتھ ہی آپ کی خدمت میں لے آیا ہوں ۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کو قبول فرمالیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تیرے ذمہ واجب تو وہی ( یکسالہ اونٹنی) تھی لیکن اگر تم اپنی خوشی سے اس سے اچھی چیز پیش کر رہے ہوتو اللہ تعالی تمہیں اس کا اجر دے گا۔ اور ہم نے تم سے یہ ( اونٹنی) قبول کی ۔ اس نے کہا لیجیئے ! یہ ہے وہ اونٹنی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹنی وصول کر لینے کی اجازت عطافرمائی اور اس کے مال میں برکت کی دعا فرمائی ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 1452

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1453

1453 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَدَقَةَ فِي الرِّقَةِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَاهِدُهُ بِالشَّرْحِ بِحَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:’’چاندی کے بنے ہوئے در ہموں میں اس وقت تک زکوٰۃ نہیں ہے جب تک ان کی قیمت ۲۰۰ درہم تک نہ پہنچ جائے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ مذکورہ حدیث کی تفصیلی حدیث شاہد ہے جو کہ عاصم بن ضمر ہ سے مروی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ الحسن بن علي بن زياد

Hadith 1453

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1454

1454 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ»

حضرت عاصم بن ضمر ہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فر مان نقل کر تے ہیں : ۱۹۹ در ہموں میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے اور جب ۲۰۰ ہو جائیں تو ان میں ۵ در ہم زکو ۃ ہے ۔

"ليس في تسعين ومائة شيء، فإذا بلغت مائتين، ففيها خمسة دراهم" ← النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 1454

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1455

1455 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو قِلَابَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَاءَهُ مُصَدِّقُ اللَّهِ، وَمُصَدِّقُ رَسُولِهِ، فَبَعَثَ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ، اللَّهُمَّ لَا تُبَارِكْ لَهُ فِيهِ، وَلَا فِي إِبِلِهِ» فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلَغَ فُلَانًا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک آدمی کے پاس ( زکوٰۃ وصول کر نے کے لئے) بھیجا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اونٹنی کا ایک دبلا سا بچہ ( جس نے ابھی دودھ پینا چھوڑ ا تھا ) بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس اللہ کا مصدق اور اللہ کے رسول کا مصدق آیا اور اس نے اونٹنی کا یہ دبلا سا بچہ بھیجا ہے ۔ یا اللہ ! اس میں برکت نہ دے اور نہ ہی اس کے اونٹوں میں برکت دے ۔ اس بات کی خبر اس شخص کو بھی ہوگئی تو اس نے ایک اونٹنی انتہائی تندرست اور خوبصورت آپ کی طرف بھیج دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :فلاں شخص تک وہ بات پہنچ گئی جو اللہ کے رسول نے کہی: تو اس نے انتہائی تندرست اور خوبصورت اونٹنی بھیج دی ہے ۔ یا اللہ ! اس میں اوراس کے اونٹوں میں برکت عطا فرما۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، ← أحمد بن يونس الضبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 1455

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1456

1456 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا: خَيْلًا وَرَقِيقًا نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ، قَالَ: مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي فَأَفْعَلُهُ، فَاسْتَشَارَ عُمَرُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا رَاتِبَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ عَنْ حَارِثَةَ، وَإِنَّمَا ذَكَرْتُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ لِلْمُحْدَثَاتِ الرَّاتِبَةِ الَّتِي فُرِضَتْ فِي. . . "

حضرت حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اہل شام میں سے کچھ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ہمیں بہت سارا مال ملا ہے جس میں گھوڑے اور غلام شامل ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان میں سے ہمارے لئے زکوٰۃ ہو آپ نے فرمایا : مجھ سے پہلے میرے دونوں ساتھیوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر )نے جو کیا تھا میں بھی وہی کروں گا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول کی ایک جماعت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اگر ان سے مستقل جز یہ نہیں لیا جا تا ،تو ٹھیک ہے (ان سے زکوٰۃ وصول کی جائے )۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو حارثہ کے حوالے سے نقل نہیں کیا۔ میں نے اس کو اس کے مقام پر نئے مقر رکر دہ ٹیکسوں کی وجہ سے ذکر کیا ہے (اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے )

حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← محمد بن موسى الصيدلاني

Hadith 1456

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1457

1457 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ إِنَّمَا «أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ» هَذَا حَدِيثٌ قَدِ احْتَجَّ بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَمُوسَى بْنُ طَلْحَةَ تَابِعِيٌّ كَبِيرٌ لَمْ يُنْكَرْ لَهُ أَنَّهُ يُدْرِكُ أَيَّامَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی تحریر موجودہے کہ آپ گندم، جو،انگور اور کھجوروں کی زکوۃ دیا کرتے تھے۔جب اس حدیث کے تمام راویوں کی احادیث نقل کی گئی ہیں لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس حدیث کونقل نہیں کیا۔ اور موسیٰ بن طلحہ کبیر تابعی ہیں اوران کے لیے کسی سے بھی اس بات کا انکار ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے معاذ کا زمانہ پایا ہے۔

عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 1457

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1458

1458 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْبَعْلُ وَالسَّيْلُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ، وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ فِي التَّمْرِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالْحُبُوبِ، وَأَمَّا الْقِثَّاءُ وَالْبَطِّيخُ وَالرُّمَّانُ وَالْقَصَبُ فَقَدْ عَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ "

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن زمینوں کو بارش سے سیراب کیا جائے یاچشموں کے پانی سے سیراب کیا جائے ان میں عُشر ہے اور جن کور ہٹ وغیرہ سے سیراب کیا جائے ، ان میں آدھاعُشر ہے۔اور یہ بھی کھجوروں ، گندم اور دالوں میں ہے لیکن کھیرے ،خر بوز ہ، انا راور گنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشر معاف فرمایا ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔سند صحیح کے ہمراہ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے( جو کہ درج ذیل ہے)

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ← إسحاق بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ← عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ،

Hadith 1458

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1459

1459 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، حِينَ بَعَثَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ يُعَلِّمَانِ النَّاسَ أَمْرَ دِينِهِمْ «لَا تَأْخُذُوا الصَّدَقَةَ إِلَّا مِنْ هَذِهِ الْأَرْبَعَةِ، الشَّعِيرِ، وَالْحِنْطَةِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ»

حضرت ابو ہریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابوموسٰی اور معاذ بن جبل کو یمن کی طرف لوگوں کو دین کے معاملات سکھانے کے لئے (معلم بنا کر بھیجا۔ ( تو ان سے فرمایا ) ز کوٰۃ صرف ان چار چیزوں سے لینی ہے۔ جو، گندم، خشک انگوراورکھجور۔

أَبِي بُرْدَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ

Hadith 1459

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1460

1460 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ زَكَاةٌ فِي كَرْمِهِ، وَلَا فِي زَرْعِهِ إِذَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:مسلمان پر اس وقت تک اس کی کھیتی اور پھلوں وغیرہ میں ز کوٰۃ نہیں ہے جب تک یہ ۵ وسق سے کم ہوں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 1460

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section