المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1437
1437 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدِي سِخَابًا مِنْ وَرِقٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟» فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ فِيهِنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: «أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ؟» فَقُلْتُ: لَا، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: «هِيَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "
حضرت عبداللہ بن شداد بن الھاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ (ام المومنین) عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ،انہوں نے فر مایا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ،انہوں نے میرے ہاتھ میں چاندی کا ایک ہار دیکھا تو پوچھا: اے عائشہ رضی اللہ عنہ یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے یہ اس لیے بنوایا ہے تا کہ یہ پہن کر آپ کے لیے زینت اختیار کروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیاتم ان کی زکوٰ ۃ ادا کرتی ہو؟ میں نے کہا نہیں یا جواس میں سے اللہ چاہے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: تیرے جہنمی ہونے کے لئے یہی کافی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔
دخل علي رسول الله فرأى في يدي سخابا من ورق ← دَخَلْنَا عَلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ: أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ،
Hadith 1437
