Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1530

1530 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَخَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَحَضَرَتْ أُمَّ سَعْدٍ الْوَفَاةُ فَقِيلَ لَهَا: أَوْصِي قَالَتْ: فِيمَا أُوصِي؟ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ ذُكِرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا، الْحَائِطُ قَدْ سَمَّاهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ»

سعید بن عمر وبن شرجیل بن سعد بن عباداپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں تھے کہ اُمّ سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آ گیا ، ان سے کہا گیا کہ تم کوئی وصیت کرد ۔انہوں نے جواب دیا: میں کس چیز کی وصیت کروں؟ مال تو سارے کا سارا سعد کا ہے ۔ پھر وہ سعد کے واپس آنے سے پہلے ہی انتقال کر گئیں ۔ جب سعد واپس آئے تو ان کو یہ بات بنائی گئی تو انہوں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اگر میں ان کی طرف سے کوئی صدقہ کروں تو ان کو کوئی فائدہ ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، سعد نے کہاں فلاں فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار پر صحیح حد یث اس کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبَّادٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أبو بكر بن أبي نصر المروزي، ← مَالِكٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَخَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1530

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1531

1531 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا، وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا

حضرت (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان کی والدہ فوت ہوگئی ہیں ، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کوکوئی فائدہ پہنچے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔اس نے کہا: میرا ایک باغ ہےمیں آپ کو گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے وہ ان کی طرف سے صدقہ کر دیا۔

فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا، وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ← نَعَمْ ← لِرَسُولِ اللَّهِ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1531

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1427

1427 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ الْعَرَبَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُقَاتِلُهُمْ عَلَيْهِ» قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَأْيَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ شُرِحَ عَلَيْهِ عَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَا عِمْرَانَ الْقَطَّانَ، وَلَيْسَ لَهُمَا حُجَّةٌ فِي تَرْكِهِ، فَإِنَّهُ مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ، وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ أَبِي الْعَنْبَسِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

۱۴۲۷-حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو اہل عرب مرتد ہونے لگ گئے ۔تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمابا: اے ابو بکر! کیا تم اہل عرب سے جنگ کرنا چاہتے ہو؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے جہاد کر نے کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبونہیں ہے۔ اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز قائم کر یں اور زکوٰۃ دیں ۔ خدا کی قسم ! اگر یہ مجھ سے ایک رسی بھی روکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے،تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو دیکھا کہ اس پر ان کوشرح صدر حاصل ہے تو میں جان گیا کہ ان کی یہ رائےبرحق ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ امام بخاری رضی اللہ عنہ اور امام مسلم رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کے علاوہ عمران القطان کی اور کوئی روایت نقل نہیں کی ،حالانکہ شیخین رحمتہ اللہ کے پاس ان کو ترک کر نے کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ مستقیم الحدیث ہیں ۔ ابوعنبس سے مروی ایک حدیث اس کی شاہد بھی ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا ← عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا أَبَا بَكْرٍ! أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ الْعَرَبَ؟ ← لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ارْتَدَّتْ الْعَرَبُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1427

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1428

1428 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، ثُمَّ حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

حضرت ابو ہر یہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نماز ادا کر یں اور زکوۃ دیں پھر میرے اوپران کے خون اور مال حرام کر دیئے گئے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ← أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1428

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1429

1429 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَبِيبٍ الْعُقَيْلِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ، فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: فَالشَّهِيدُ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عُبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَعَفِيفٌ، مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ، وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ: فَأَمِيرٌ مُسَلَّطٌ، وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِي مَالِهِ، وَفَقِيرٌ فَجُورٌ «عَامِرُ بْنُ شَبِيبٍ الْعُقَيْلِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ، وَهَذَا أَصْلٌ فِي هَذَا الْبَابِ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :میرے سامنے وہ تین شخص پیش کیے گئے جوسب سے پہلے جنت میں جائیں گے اور تین ایسے لوگ پیش کیے گئے جو سب سے پہلے دوزخ میں جائیں گے ۔سب سے پہلےجنت میں جانیوالے تین آدی یہ ہیں:(۱ ) شہید۔(۲) غلام جواپنے رب کی خو ب عبادت کرے اور اپنے آقا کی خیر خواہی کرے ۔(۳) پاکباز عیال دار۔ اور سب سے پہلے دوزخ میں جانے والے تین آدمی یہ ہیں: ( ۱ ) لوگوں پر مسلط ہونے والا امیر ۔(۲) ایسا مال دار جواپنے مال میں سے ماں باپ کاحق ادانہ کرے۔(۳ ) گنا کر نے والافقیر۔ عامر بن شعیب اہل مدینہ کے شیوخ میں سے ہیں ، مستقیم الحدیث ہیں ۔ اور اس باب میں یہ اصل ہے۔ ان سےروایت کرنے میں یحیٰ بن ابی کثیر منفر د ہیں ۔مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حد یث بھی موجود ہے ۔ جو کہ اعمش نے عبداللہ بن مرہ سے روایت کی ہے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← عَامِرُ بْنُ شَبِيبٍ الْعُقَيْلِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ← أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1429

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1430

1430 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: «مَا عَبَدَ اللَّهُ آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ، وَشَاهِدَاهُ إِذَا عَلِمَاهُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُوتَشِمَةُ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِيَحْيَى بْنِ عِيسَى الرَّمْلِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا: سود کھانے والا اور کھلا نے والا اور دونوں کی گواہی دینے والا جبکہ اس کاعلم رکھتے ہوں ۔اور گود ھنے والی اور گودھوانے والی اور صدقہ میں ٹال مٹول کر نے والا اور ہجرت کے بعد لوٹ جانے والا ( یہ سب لوگ) قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے لعنت زدہ ہوں گے ۔حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔امام مسلم رحمتہ اللہ نے یحیٰ بن عیسٰی رضی اللہ عنہ کی روایات نقل کی ہیں ۔

مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1430

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1431

1431 - أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ، وَمَنْ رَفَعَ دَنَانِيرَ وَدَرَاهِمَ أَوْ تِبْرًا وَفِضَّةً لَا يَعُدُّهَا لِغَرِيمٍ، وَلَا يُنْفِقُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ كَنْزٌ يُكْوَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» تَابَعَهُ: ابْنُ جَرِيرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: اونٹوں میں ان کا صدقہ ہے، بھیڑ بکریوں میں ان کا صدقہ ہے اور گندم میں اس کا صدقہ ہے۔ مذکورہ دونوں اسناد یں امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمر انقل نہیں کیا ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هشام بن علي السدوسي، ← دعلج بن أحمد السجزي ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1431

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1432

1432 - أَخْبَرَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ» كِلَا الْإِسْنَادَيْنِ صَحِيحَانِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: اونٹوں میں ان کا صدقہ ہے، بھیڑ بکریوں میں ان کا صدقہ ہے اور گندم میں اس کا صدقہ ہے۔ مذکورہ دونوں اسناد یں امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمر انقل نہیں کیا ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أبو قتيبة سالم بن الفضل الآدمي بمكة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1432

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1433

1433 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: «خُذِ الْحَبَّ مِنَ الْحَبِّ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ، وَالْبَعِيرَ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْبَقَرَةَ مِنَ الْبَقَرِ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، إِنْ صَحَّ سَمَاعُ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَإِنِّي لَا أُتْقِنُهُ "

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تو فرمایا: گندم میں سے گندم لینا ، بھیٹر بکر یوں میں سے بکری لینا ،اونٹ میں سے اونٹ لینا اور گائے میں سے گائے لینا۔ اگر عطا بن یسار کا معاذ بن جبل سے سماع صحیح ہے تو یہ اسناد شیخین کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن مجھے اس سند پریقین نہیں ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1433

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1434

1434 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُ فَاهُ فَيَقُولُ: وَيْلَكَ أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي تَرَكْتَهُ بَعْدَكَ، فَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ يَدَهُ، فَيَقْضَمُهَا، ثُمَّ يَتْبَعُهُ سَائِرَ جَسَدِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ أَيْضًا»

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص اپنے بعد خزانہ چھوڑے، قیامت کے دن و خزانہ اس کے لئے گنجا سانپ بن کر آئے گا ،جس کی آنکھ پر دوسیاہ نشان ہوں گے اور وہ منہ کھولے ہوئے اپنے مالک کے پیچے آئے گا ، اور اس سے کہے گا : تیرے لیے ہلاکت ہو، میں تیراخزانہ ہوں جس کو تو اپنے بعد چھوڑ آیا ہے، وہ سانپ مسلسل اس کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ وہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے لے گا اور چبائے گا پھر اس کا پورا جسم نگل لے گا۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے وہ بھی امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار پرصحیح ہے ۔( وہ حدیث درج ذیل ہے )

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1434

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1435

1435 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ذُو زَبِيبَتَيْنِ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُ، فَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ إِصْبَعَيْهِ» قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَمْرٍو فِي هَذَا الْبَابِ عَلَى سَبِيلِ الِاخْتِصَارِ، وَفِي التَّغْلِيظِ الْمَانِعِ مِنَ الزَّكَاةِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَا حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَثَوْبَانَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا تمہارا خزانہ قیامت کے دن آ نککوں کے اوپر دونشانوں والاگنجا سانپ بن کر اپنے مالک کے تعاقب میں آئے گا اور وہ اس سے پناہ مانگے گا۔لیکن وہ مسلسل اس کے پیچھے آئےگا اور یہ اس سے بھاگے گا یہاں تک کہ وہ اس کی انگلیوں کو کھا جائے گا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں نے اس باب میں اور زکوٰۃ نہ دینے والے پرسختی کرنے میں ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مختصر روایات نقل کی ہیں ۔ تا ہم انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ثو بان کی روایات نقل کیں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← أبو صالح وابن بكير ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي.

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1435

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1436

1436 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ قَدْ جَعَلَ رِجْلَيْهِ فِي غَرْزَيِ الرِّكَابِ يَتَطَاوَلُ، يُسْمِعُ النَّاسَ، فَقَالَ: «أَلَا تَسْمَعُ صَوْتِي؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ طَوَائِفِ النَّاسِ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ فَقَالَ: «اعْبُدُوا رَبَّكُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ، تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ» قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ فَمِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «أَنَا يَا ابْنَ أَخِي يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً أُزَاحِمُ الْبَعِيرَ أُدَحْرِجُهُ قُرْبًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پراپنی جد عا اونٹنی پر کھڑے تھے ۔ آپ اس کی رکابوں میں دونوں پاؤں ڈال کر او نچے ہوکر بلند آواز سے کہ رہے تھے : کیا تم لوگ میرے آواز سن رہے ہو؟ ایک شخص نے کہا: آپ ہمیں کیا پیغام دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو گے ۔ ( ابویحیٰ بن عامر کلائی کہتے ہیں) میں نے کہا: اے ابوامامہ! اس دن تمہاری عمر کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا : اے میرے بھتیجے ! اس دن میں تیں سال کا نو جوان تھا ( اوراتناطاقت ور تھا کہ) اونٹ سے لڑتا تھا تو اسے بھی پچھاڑ دیتا تھا،( یہ سب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب ( کی برکت )سے (تھا)۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبَا أُمَامَةَ، ← أَبِي يَحْيَى بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1436

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section