Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين

Isbat Azab Al Qabar

by Imam Baihaqee

240 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ جَوَازِ الْحَيَاةِ فِي جُزْءٍ مَنْفَرِدٍ وَأَنَّ الْبَنِيَّةَ لَيْسَتْ مِنْ شَرْطِ الْحَيَاةِ، كَمَا لَيْسَتْ مِنْ شَرْطِ الْحَيِّ، وَفِي ذَلِكَ جَوَازُ تَعْذِيبِ الْأَجْزَاءِ الْمُتَفَرِّقَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَ · حديث 73

73 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُؤَمَّلٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، نَا سَعِيدُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَقْتَلَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَلَمَّا بَانَ رَأْسُهُ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ وَلَمْ يُتْمِمْهَا»

اس آیت کی تشریح میں ( مفسر قرآن ) مجاہد ( تابعی ) نے فرمایا: بی کلام ) موت کے وقت ہے

شَهِدْتُ مَقْتَلَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَلَمَّا بَانَ رَأْسُهُ ← أَبِيهِ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ دَاوُدَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › Door passport of life in a single part and that the structure is not a life condition, and not from the neighborhood condition, and in that passport torture parts scattered, said God Almighty {And your Lord creates what He wills and chooses} [Stories: 68] · Hadith 73

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 74

74 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنٍ الْقَاضِي، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسَ، ثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فَذَكَرَهُ

سفیان (ثوری) سے روایت ہے کہ ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں ۔ یعنی موت کے وقت، نہ ڈرو۔ اپنے آگے، اور نہ غم کرو جو اپنے پیچھے مال ومتاع چھوڑ آئے ہو، اور اس جنت کی تمھیں بشارت ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا جاتا تھا۔ فرمایا: اسے تین بشارتیں (خوشخبریاں دی جاتی ہیں، ایک ، موت کے وقت، (دوسری) جب قبر سے نکلے گا ( تیسری ) جب محشر میں ڈر جائے گا۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے دوست ہیں۔ وہ اُن کے ساتھ تھے اور جنہیں اللہ نے شہادت نصیب کی ، اُن کے بارے میں فرمایا: پس جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو جا ئیں انھیں مردے مت سمجھو، بلکہ واللہ کے ہاں زندہ ہیں ، انھیں رزق دیا جا تا ہے۔ اللہ نے انھیں جو فضیلت بخشی ہے وہ اس پر ناز کر رہے ہیں ۔ اللہ نے اُن کے بارے میں قطعی فیصلہ کر دیا کہ وہ زندہ ہیں اور انھیں دنیا میں خون میں لت پت دیکھا جاتا ہے۔ اور ان کے جسم بے جان لاشے بن چکے ہوتے ہیں۔ پرندے اور درندے انھیں کھاتے ہیں ( اور پھر بھی وہ برزخی طور پر زندہ ہیں) اس میں دلیل ہے کہ اللہ ان پر ایسے احوال طاری کر دیتا ہے جس میں انھیں مسرت ہوتی ہے۔ اگر چہ ہم ان حالات کو محسوس نہیں کر سکتے ۔ سراج ختم ہوا۔

مُجَاهِدٍ، فَذَكَرَهُ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 74

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 75

75 - أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّيِّبِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْجَعْفَرِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي قُتَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ " فِي قَوْلِهِ {تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ} [فصلت: 30] أَيْ عِنْدَ الْمَوْتِ {أَلَّا تَخَافُوا} [فصلت: 30] أَمَامَكُمْ {وَلَا تَحْزَنُوا} [آل عمران: 139] عَلَى مَا خَلْفَكُمْ مِنْ ضَيْعَاتِكُمْ {وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ} [فصلت: 30] قَالَ: يُبَشَّرُ بِثَلَاثِ بِشَارَاتٍ، عِنْدَ الْمَوْتِ، وَإِذَا خَرَجَ مِنَ الْقَبْرِ، وَإِذَا فَزِعَ {نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [فصلت: 31] كَانُوا مَعَكُمْ " [ص:67] وَقَالَ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالشَّهَادَةِ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ} [آل عمران: 170] فَقَطَعَ عَلَيْهِمْ بِأَنَّهُمْ أَحْيَاءُ وَهُمْ ذَا يُرَوْنَ فِي دَارِ الدُّنْيَا مُتَشَحِّطِينَ فِي الدِّمَاءِ قَدْ صَارُوا جِيفَةً تَأْكُلَهُمْ سِبَاعُ الطُّيُورِ وَالْوحُوشِ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِمْ أَحْوَالًا يَسْتَمْتِعُونَ فِيهَا وَإِنْ كُنَّا لَا نَقِفُ عَلَيْهَا

مسروق (تابعی) سے روایت ہے کہ ہم نے عبد اللہ بن مسعود جل اللہ سے اس آیت ولا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتَا بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ اور جولوگ اللہ کی راہ میں قبل کئے جائیں انھیں مردے نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، انھیں رزق دیا جاتا ہے ۔ ( آل عمران :۱۲۹) کے بارے میں سوال کیا تھا ، ان کی روحیں سبز پرندوں کی طرح جنت میں سیر کرتی رہتی ہیں۔ جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں۔ پھر عرش کے نیچے انکی ہوئی قند یاوں کی طرف لوٹ جاتی ہیں۔ فرمایا: وہ اسی حالت میں ہوتی ہیں. اتنے میں اُن کا رب اُن کے سامنے ظاہر ہوتا ہے، پھر فرماتا ہے، جو چاہتے ہو مجھ سے مانگو، تو وہ (شہداء) کہتے ہیں : اسے ہمارے رب ! ہم تجھ سے اور کیا مانگیں، جبکہ ہم جنت میں جہاں چاہیں میریں کرتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ انھیں ( رب کی طرف سے ) سوال مانگے بغیر چھوڑ انہیں جارہا تو وہ کہتے ہیں: ہم تجھ سے اس کا سوال کرتے ہیں کہ ہماری روحوں کو، دنیا میں ہمارے جسموں میں لوٹا دے تا کہ ہم تیری راہ میں قتل کئے جائیں۔ جب (رب) یہ دیکھتا ہے کہ وہ صرف اسی ( دنیا میں دوبارہ لوٹائے جانے ) کے بارے میں سوال کر رہے ہیں، تو پھر انھیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← أبو أحمد عبيد الله بن موسى بن أبي قتيبة ← أَبُو الطَّيِّبِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْجَعْفَرِيُّ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 75

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 76

76 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} [آل عمران: 169] قَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " أَرْوَاحُهُمْ كَطَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شَاءَتْ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً فَقَالَ: سَلُونِي مَا شِئْتُمْ، فَقَالُوا: يَا رَبَّنَا، مَا نَسْأَلُكَ وَنَحْنُ نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شِئْنَا؟ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَا يُتْرَكُونَ مِنْ أَنْ يَسْأَلُوا قَالُوا: نَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا إِلَى أَجْسَادِنَا فِي الدُّنْيَا تُقْتَلُ فِي سَبِيلِكَ قَالَ: فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُمْ لَا يَسْأَلُونَ إِلَّا هَذَا تُرِكُوا «،

ایک دوسری سند سے بھی یہی روایت مروی ہے، بعض رادیوں نے سبز پرندوں کے پیٹ میں“ کے الفاظ کہے ہیں۔

مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو بكر بن الحسن القاضي

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 76

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 77

77 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْمِهْرَجَانِيُّ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَبُو مُوسَى فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَهَكَذَا قَالَهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ وَجَمَاعَةٌ الْأَعْمَشِ» كَطَيْرٍ خُضْرٍ " وَقَالَ بَعْضُهُمْ: «فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ»

ابن عباس بھی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللیم نے فرمایا: " شہداء ، جنت کے دروازے پر ستر ہے (چوترے ) میں نہر کے کنارے پر ہوتے ہیں۔ ان کا رزق صبح و شام انھیں پیش ہوتا ہے۔شیخ ( امام بہتی ) رحمہ اللہ نے فرمایا: پہلی حد یہ ہے اس سے زیادہ صحیح ہے اور ابن عباس سے عبد اللہ بن مسعود بھی ایم کی حدیث کی طرح نہیں سلام سے مروی ہے۔ اور اگر یہ صحیح ہو تو گویا یہ حدیث ( حدیث ابن عباس پایین ) ایک گروہ کے بارے میں ہے اور پہلی حدیث ( حدیث ابن مسعود یا دوسری قوم کے بارے میں ہے۔ جنتیوں کے (مختلف) مقامات اور درجے ہیں۔ اسی طرح جہنمیوں کے مختلف حالات ہوتے ہیں جن میں انھیں عذاب دیا جاتا ہے۔ اور اس پر ہماری روایت کردہ ، عذاب و ثواب کی اقسام کو معمول کیا جائے گا۔ ایک قوم کے ساتھ یہ ہوتا ہے تو دوسری قوم کے ساتھ وہ ہوتا ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ ان احادیث میں باہم تناقض ( یا تضاد ) کا سا اختلاف ہے بلکہ یہ روایتیں مختلف اقسام کی حالتوں پر محمول ہیں جن میں ثواب و عذاب دیا جاتاہے۔

بَعْضُهُمْ: «فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ» ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ وَجَمَاعَةٌ الْأَعْمَشِ» كَطَيْرٍ خُضْرٍ ← هَكَذَا قَالَهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ← أَبِي مُعَاوِيَةَ، ← يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ ← مَعْنَاهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ ← أَبُو مُوسَى، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْمِهْرَجَانِيُّ،

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 77

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 78

78 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مَحْمُودَ بْنِ لُبَيْدٍ الأَنْصَارِىُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ - نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ - فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزَقُهُمْ بُكْرَةً وَعَشِيًّا» قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ مِنْ هَذَا، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَإِنْ صَحَّ هَذَا فَكَأَنَّهُ فِي قَوْمٍ مِنْهُمْ، وَالْحَدِيثُ الْأَوَّلُ فِي آخَرِينَ وَلِأَهْلِ الْجَنَّةِ مَنَازِلُ وَدَرَجَاتٌ، وَكَذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ أَحْوَالُهُمْ فِيمَا يُعَذَّبُونَ بِهِ مُخْتَلِفَاتٌ، وَعَلَى ذَلِكَ يُحْمَلُ مَا رُوِّينَا فِي أَنْوَاعِ الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ، فَيُصْنَعُ بِقَوْمٍ هَكَذَا وَبِقَوْمٍ كَذَلِكَ لَا أَنَّ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْأَخْبَارِ يُخَالِفُ صَاحِبَهَا خِلَافَ تَنَاقُضٍ وَلَكِنَّ أَحْوَالَهُمْ تَخْتَلِفُ فِي أَنْوَاعِ مَا يُجْزَوْنَ بِهِ مِنَ الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ

جابر بن عبداللہ (الانصاری عالی فرماتے تھے کہ جب احد کے دن میرے ابا جان قتل ہو گئے تو میں (آنسو بہا کر) رونے لگا۔ میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاتا تھا۔ نبی سرای ایلام کے (کبار ) صحابہ مجھے اس سے منع کرتے تھے اور نبی سل علایم مجھے منع نہیں کر رہے تھے ۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہ رسول اللہ کی تعلیم نے ( شفقت سے ) فرمایا : " ندرو ( فرمایا تجھے کیا چیز رلا رہی ہے؟ فرشتے اسے پروں کے ساتھ سائے میں رکھے ہوئے تھے حتی کہ وہ اسے اٹھالے گئے ۔ اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 78

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 79

79 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنْبَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأُسْفَاطِيُّ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: لَمَّا قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ جَعَلْتُ أَبْكِي وَأَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ وَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَنْهَوْنِي عَنْ ذَلِكَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي عَنْ ذَلِكَ، وَجَعَلَتْ عَيْنَيَّ تَبْكِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْكِ، أَوْ مَا يُبْكِيكَ، مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ» رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ

براء بن عازب ) اللہ سے روایت ہے کہ جب ( نبی سلام کے بیٹے ابراہیم عالیم فوت ہوئے تو رسول اللہ ملی ایم نے فرمایا: اس کو جنت میں ایک دودھ پلانے والی ( دودھ پلا رہی ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ عُيَيْنَةَ ← أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ← ذَلِكَ، وَجَعَلَتْ عَيْنَيَّ تَبْكِي ← ذَلِكَ وَالنَّبِيُّ لَا يَنْهَانِي ← وَجْهِهِ وَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ يَنْهَوْنِي ← لما قتل أبي يوم أحد جعلت أبكي وأكشف الثوب ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 79

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 80

80 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمٌ، وَأَبُو عُمَرَ قَالُوا: نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ» ،

دوسری سند سے بھی یہی روایات مروی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں کہ جب رسول اللہ سلام کا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو الح راوی نے ( آخر تک پوری ) حدیث ذکر کی اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ( بیٹے ) ابراہیم علیم کے بارے میں بتایا کہ اسے جنت میں دودھ پلایا جاتا ہے اور (حالانکہ وہ ) مدینے کے قبرستان : الجمیع میں دفن ہے۔ اور آپ نے عبد اللہ بن عمرو بن حرام دی ﷺ کے بارے میں خبر دی کہ فرشتوں نے انھیں سائے میں رکھا ہوا ہے، حالانکہ آپ کے صحابہ میں سے کسی نے بھی اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ یہ روایات یا ان جیسی دوسری روایات جنہیں ہم نے تخفیف کے لئے اور طوالت کے خوف سے ترک کر دیا ہے ہماری کہی ہوئی اس بات کی دلیل ہے کہ جو آدمی اس دنیا سے (موت کے بعد ) چلا جاتا ہے تو اس پر مختلف حالتیں آتی ہیں جن کا ہم نہ مشاہدہ کرتے ہیں اور نہ کوئی ( بظاہر ) واقفیت ہوتی ہے۔ صحیح حدیث کے آنے کے بعد ان پر عقیدہ رکھنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جن پر اُس نے عذاب کا فیصلہ کر دیا ہے: وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا السَليْكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَادْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ )اور اگر تو دیکھے جب فرشتے کافروں ( کی روحوں ) کو قبض کرتے ہیں۔ وہ اُن کے چہروں اور پٹھوں کو مارتے ہیں (اور کہتے ہیں: ) جلانے والے عذاب کا مزہ چکھ۔ یہ وہی ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور بے شک اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں ۔ الانتقال: ۱۵۰ اور فرمایا: وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّلِمُونَ فِي غَمَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَيْكَةُ بَاسِطُوا أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا الفُسَكُمْ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَ كُنتُمْ عَنْ أَيْتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ ) اور اگر تو ظالموں کو موت کی سختیوں میں دیکھے اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے کہہ رہے ہوئے ہیں۔ اپنی جانوں کو آج کا لو تم اللہ پر جو نا حق باتیں کرنے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے تو اس کی وجہ سے آج تمھیں رسوا کن عذاب ملے گا ۔ الانعام ۱۹۳(دلیل) ہے۔اور (اللہ تعالیٰ نے ال فرعوں کے بارے میں فرمایا : النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُةً وَعَشِنًا ۚ وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا إِلَى فِرْعَوْنَ اشد العذاب "(جہنم کی) آگ پر وہ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت قائم ہوگی ( تو کہا جائے گا ) آج آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو المؤمن: ۳۶) پس بتایا کہ جب انھیں موت دی جاتی ہے تو فرشتے ان کے چہرے اور پیٹھیں پیٹتے ہیں۔ اگر چہ فرشتے موت کے وقت اپنے ہاتھ پھیلا کر انھیں جو کچھ کہتے ہیں، ہم اس کا مشاہدہ نہیں کرتے اور نہ اسے سنتے ہیں اور جب تک دنیا ر ہے گی۔ آل فرعون کو صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا رہے گا ۔ اگر چہ ہم اس کی کیفیت نہیں جانتے ، ان باتوں میں ہماری کہی ہوئی بات کی دلیل ہے اور آنے والی حدیث بھی اس جیسی ۔

لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيٌّ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمٌ، وَأَبُو عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 80

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 81

81 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُسْلِمٍ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، فَحَكَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ وَهُوَ مَدْفُونٌ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فِي مَقْبَرَةِ الْمَدِينَةِ، وَأَخْبَرَ عَنْ إِظْلَالِ الْمَلَائِكَةِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَإِنْ كَانَ أَصْحَابُهُ لَا يَقِفُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ مُعَايَنَةً وَفِي كُلِّ ذَلِكَ، وَفِيمَا رُوِيَ مِنْ أَمْثَالِهِ، تَرَكْنَاهُ لِأَجْلِ التَّخْفِيفِ وَتَرْكِ التَّطْوِيلِ، دَلَالَةٌ عَلَى مَا قَصَدْنَاهُ مِنْ جَوَازِ حُدُوثِ هَذِهِ الْأَحْوَالِ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا وَإِنْ كُنَّا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نَقِفُ عَلَيْهَا وَوَجَبَ إِسْنَادُهَا عِنْدَ وُرُودِ الْخَبَرِ الصَّحِيحِ بِهَا، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ حُكِمَ عَلَيْهِ بِالْعَذَابِ {وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ "} [الأنفال: 51] وَقَالَ {وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُوا أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ "} [الأنعام: 93] [ص:70] وَقَالَ فِي آلِ فِرْعَوْنَ {النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا، وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ} [غافر: 46] فَحَكَمَ عَلَيْهِمْ بِضَرْبِ الْمَلَائِكَةِ وُجُوهَهَمْ وَأَدْبَارَهُمْ حِينَ تَتَوِفَّاهُمُ وَإِنْ كُنَّا لَا نُشَاهِدُهُ، وَبِمَا تَقُولُ لَهُمُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَهُمْ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ، وَإِنْ كُنَّا لَا نَسْمَعُهُ، وَعَلَى آلِ فِرْعَوْنَ بِعَرْضِهِمْ عَلَى النَّارِ غُدُوًّا وَعَشِيًّا مَا دَامَتِ الدُّنْيَا، وَإِنْ كُنَّا لَا نَقِفُ عَلَيْهِ، وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى مَا قُلْنَاهُ

ابو ہریرہ (﷜) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: " میں نے عمرو بن عامر الخزاعی کو جہنم میں دیکھا وہ اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا۔ اس نے سب سے پہلے سوائب (بتوں کے لئے جانور چھوڑ نے ) کا طریقہ جاری کیا تھا۔ بی روایت صحیح بخاری وصحیح مسلم میں زہری کی سند سے ہے۔ ایسی روایت عائشہ اور جابر سے بھی مروی ہے۔

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 81

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 82

82 - وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَا أَبِي، وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ قَالَا: ثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: «رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصَبَهُ فِي النَّارِ كَانَ أَوَّلَ مِنْ سَيَّبَ السَّائِبَةَ» مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَمِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ فِي كِتَابِ الْبُخَارِيِّ وَثَبَتَ ذَلِكَ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عائشہ ﷞ نے فرمایا: سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ سلم کھڑے ہوئے الحدیث اور آپ نے فرمایا ” میں نے ہم کو دیکھا وہ ایک دوسرے کو جلا رہی تھی۔ جب تم نے مجھے پیچھے بنتے دیکھا تھا۔" اور میں نے عمرو بن لھی کو دیکھا وہ آگ میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا۔ اس نے سب سے پہلے سائیوں کی رسم شروع کی تھی ۔ اسے نبی عالی ہم نے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنِ الْهَادِي ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وَفِى مِثْلِ ذَلِكَ مَا

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 82

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 83

83 - أَمَّا حَدِيثُ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِينَارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، ثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْحَدِيثُ. قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي أَتَأَخَّرُ، وَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ يَجُرُّ قُصَبَهُ فِي النَّارِ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ» رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ

جابر بن عبد الله (الانصاری بی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا پھر راوی نے (لمبی ) حدیث بیان کی ۔ فرمایا: آپ سال پر نماز میں (کبھی) آگے اور (کبھی پیچھے ہو رہے تھے۔ پھر آپ نے اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کرفرمایا " مجھے جنت اور دوزخ دکھائی گئی تو میں جنت کے (اتنا) نزدیک ہوا کہ اگر میں اسکے کچھ خوشے توڑنا چاہتا تو تو ڑ لیتا، اور مجھے (جہنم کی) آگ دکھائی گئی ۔ میں اس ڈرے پیچھے ہونے لگا کہ وہ تمھیں آنہ لے۔ اور میں نے حمیر (قبیلے ) کی ایک کالی لمبی عورت کو دیکھا جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا۔ اس بلی کو اس نے باندھ دیا تھا۔ نہ کھانا دیا نہ پانی دیا اور نہ اسے ( کھلا چھوڑ کر ) زمین میں کھانے پینے کی اجازت دی ( تو وہ بلی مرگئی ) اور میں نے ابو نا مہ عمرو بن مالک کو دیکھا وہ اپنی آنتیں آگ میں گھسیٹ رہا تھا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِينَارٍ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أَمَّا حَدِيثُ عَائِشَةَ،

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 83

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 84

84 - وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، فَأَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، ابْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: " إِنَّهُ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقُرِّبْتُ مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا قُصِرَتْ يَدِي عَنْهُ، أَوْ قَالَ: نِلْتُهُ، شَكَّ هِشَامٌ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةً أَنْ تَغْشَاكُمْ، وَرَأَيْتُ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ وَرَأَيْتُ فِيهَا أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ " مُخَرَّجٌ فِي كِتَابِ مُسْلِمٍ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ

جابر (﷜) سے (وہی) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا۔ پھر راوی نے (لمبی ) حدیث ذکر کی جس میں یہ ہے کہ نبی سلام نے فرمایا: " جب تم اس طرح کی کوئی چیز ( گرہن وغیرہ ) دیکھو تو ( نفل نماز پڑھو تا کہ وہ مصیبت ٹل جائے ۔ تمھیں جن چیزوں کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ ساری چیزیں میں نے ( آج) اپنی نماز میں دیکھ لی ہیں حتی کہ جہنم لائی گئی ۔ یہ اس وقت تھا جب تم نے مجھے پیچھے بہتے دیکھا تھا۔ مجھے یہ خوف تھا کہ اس کی تپش تمھیں نہ پہنچ جائے۔ میں نے کہا: اے میرے رب ! میں ان لوگوں میں ہوں ( اور یہ جہنم کا عذاب ) ؟ حتی کہ میں نے ٹہنی والی کو دیکھا جو جہنم میں اپنی آنتیں گھیٹ رہا تھا۔ وہ حاجیوں کا سامان اپنی منی کے ساتھ چرا لیتا تھا۔ جب اسے کوئی آدمی ( چوری کرتے) دیکھ لیتا تو وہ کہتا یہ تو میری چھڑی کے ساتھ اٹک گیا تھا۔ اور جب آدمی غافل ہوتا تو سامان لے کر نو دو گیارہ ہو جاتا۔ میں نے اس میں بلی والی کو دیکھا جس نے بلی کو باندھ دیا تھا اور کھانا نہیں دیا تھا اور نہ اسے چھوڑا تھا، تا کہ زمین میں چل پھر کر کھائے تو وہ قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔

وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ ← الْحَدِيثَ. ← كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، ابْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، ← جَابِرٍ ← وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ،

Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 84

chevron_left Previous
1…678…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Concerning what this verse promises to the disbelievers with the torment of the graves, God Almighty says: “May God be deceived by the unjust, and God will do.”3. The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed.4. The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were5. The door to hastening the funeral, as long as it is good for you to do it6. Chapter on informing the Mustafa, peace and blessings of God be upon him, by saying the funeral after the examination7. The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them8. Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46]9. What is the door of the hypocrites from the torment in the grave before the torment in the fire, said Allah exalted {and those around you of the Bedouins are hypocrites and the people of the city Mrdoa hypocrisy we do not teach them to teach them Snazbhm10. What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124]11. Door passport of life in a single part and that the structure is not a life condition, and not from the neighborhood condition, and in that passport torture parts scattered, said God Almighty {And your Lord creates what He wills and chooses} [Stories: 68]12. The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d13. The door of intimidating the people of faith in the torment of the grave God said to His Prophet peace be upon him {and not Thbtnak I almost left them a little something, if Ozguenak weakness of life and the weakness of death and then do not find you we h14. The door to the torment of graves in grace and urine15. Concerning the fear of the torment of the graves in the slaying of the dead,16. The door to the fear of the torment of the graves in the shadows17. The door to the fear of the torment of the graves in religion18. Concerning the punishment of the grave that God Almighty says: “From the security of the grave” He said: “And God Almighty says:19. The door to what is hoped for in the safety of the temptation of graves20. The door to the security of God’s punishment in the grave is what is required in the testimony21. Chapter on what is requested in the reading of Surat Al-Mulk, to prevent the torment of the graves.22. The door to the torment of the grave hope for those who are safe23. The door to what is required in death on Friday night from the innocence of the temptation of the graves24. The chapter on the supplication of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, during the funeral prayer25. Chapter on what was hoped in the prayers of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, for the funerals from the light in the graves and the darkness of God over him26. The door to the supplication of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, to the participants with the torment of the graves27. The door to seek refuge and command of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, from the torment of the graves and his command28. The door to supplication for the believer in confirmation after the completion of the burial29. The door wishing to forgive him to teach his people what God has honored him by God, said the bulk of Hereafter those who blessed him for forgiveness {was said to Paradise, said Oh national know what forgave me my Lord and made me of the honored} [Yassin:30. The door of the interpretation of the words of God Almighty {and breathed in the pictures, if they are from the graves to their Lord slipping said O Wilna of We sent Mrkdna} [Yassin: 52] verse said Professor Abu al-Qasim al-Hasan ibn Muhammad ibn Habib Ex31. The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror.