إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُمْ مِنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ قَالُوا يَا وَيْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا} [يس: 52] الْآيَةُ ذَكَرَ الْأُسْتَاذُ أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُح · حديث 217
217 - أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ، أنبا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ الْحَسَنِ السَّقَطِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الْهُذَيْلِ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَنْ رَوَى تَفْسِيرَهُ عَنْهُ مِنَ التَّابِعِينَ فِي قَوْلِهِ {يَا وَيْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا} [يس: 52] " وَذَلِكَ أَنَّ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ كَانُوا يُعْرَضُونَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ مِنَ النَّارِ طَرَفَيِ النَّهَارِ، فَلَمَّا كَانَ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ رُفِعَ عَنْهُمُ الْعَذَابُ، فَرَقَدَتْ تِلْكَ الْأَرْوَاحُ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ، فَلَمَّا بُعِثُوا فِي النَّفْخَةِ الْأُخْرَى وَعَايَنُوا فِي يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا كَانُوا يُكَذِّبُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا مِنَ الْبَعْثِ وَالْحِسَابِ دَعَوْا بِالْوَيْلِ، فَقَالُوا {يَا وَيْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا} [يس: 52] وَفِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ: «مِنْ مَبِيتِنَا» قَالَتْ لَهُمْ حَفَظَتُهُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ {هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ} [يس: 52] عَلَى أَلْسِنَةِ الرُّسُلِ أَنَّهُ يَبْعَثُكُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ، فَكَذَّبْتُمْ بِهِ {وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ} [يس: 52] بِأَنَّ الْبَعْثَ حَقٌّ وَقَالَ فِي قَوْلِهِ {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ} [الزمر: 68] وَهُوَ الْقَرْنُ، {فَصَعِقَ} [الزمر: 68] يَعْنِي فَمَاتَ {مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ} [يونس: 66] مِنَ الْحَيَوَانِ مِنْ شِدَّةِ الْخَوْفِ وَالْفَزَعِ ثُمَّ اسْتَثْنَى {إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ} [النمل: 87] فَاسْتَثْنَى جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ وَمَلَكَ الْمَوْتِ، ثُمَّ يَأْمُرُ مَلَكَ الْمَوْتِ أَنْ يَقْبِضَ رُوحَ مِيكَائِيلَ، ثُمَّ رُوحَ جِبْرِيلَ، ثُمَّ رُوحَ إِسْرَافِيلَ، ثُمَّ يَأْمُرُ مَلَكَ الْمَوْتِ فَيَمُوتُ، ثُمَّ يَلْبَثُ الْخَلْقُ بَعْدَ النَّفْخَةِ الْأُولَى فِي الْبَرْزَخِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ تَكُونُ النَّفْخَةُ الْأُخْرَى فَيُحَيِي اللَّهُ إِسْرَافِيلَ فَيَأْمُرُهُ أَنْ يَنْفُخَ الثَّانِيَةَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ {ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ} [الزمر: 68] عَلَى أَرْجُلِهِمْ يَنْظُرُونَ إِلَى الْبَعْثِ الَّذِي كَذَّبُوا بِهِ فِي الدُّنْيَا [ص:129]، وَذَكَرَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَعَانِي أَنَّ الْكُفَّارَ إِذَا عَايَنُوا جَهَنَّمَ وَأَنْوَاعَ عَذَابِهَا صَارَ مَا عُذِّبُوا بِهِ فِي الْقُبُورِ فِي جَنْبِهَا كَالنَّوْمِ، فَقَالُوا: {مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا} [يس: 52] قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ: قُلْتُ أَنَا: وَفِي التَّنْزِيلِ مِنْ قَوْلِهِ {النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ} [غافر: 46] ثُمَّ فِي الْأَخْبَارِ الصَّحِيحَةِ مَا دَلَّ عَلَى صِحَّةِ مَا قَالَ أَهْلُ التَّفْسِيرِ فِي تَأْوِيلِ هَذِهِ الْآيَةِ، مِنْهَا مَا مَضَى وَصْفُهَا
مقاتل بن سلیمان (کذاب مفسر) نے اپنی تفسیر میں تابعین سے اس آیت : ہائے افسوس! کس نے ہمیں اپنی خواب گاہ سے اٹھا دیا، کی تشریح میں نقل کیا کہ ہر دن کافروں کی روحوں کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ پھر جب نفحہ اولی اور نفخہ ثانیہ کے درمیان اُن سے عذاب اٹھا لیا جائے گا تو جب انھیں فتحہ کا نیہ میں اٹھایا جائے گا اور وہ اپنی آنکھوں سے قیامت کے دن اسے دیکھ لیں گے جسے دو دنیا میں جھوٹ سمجھتے تھے، دوبارہ زندگی اور حساب کتاب کو تو وہ اپنی تباہی کو پکاریں گے : ہائے ہماری تباہی کس نے ہمیں خواب گاہ سے اٹھا دیا۔ اور ابن مسعود (عالی) کی قرآت میں ہماری موت سے " ہے تو انھیں نگہبان فرشتے کہیں گے: یہ وہ ہے جس کا رحمن نے اپنے رسولوں کی زبانوں پر تم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تمھیں موت کے بعد زندہ کرے گا تو تم نے اسے جھوٹ سمجھا اور رسولوں نے بیچ کہا تھا کہ دوبارہ اٹھنا حق ہے، اور اس (مفسر) نے ونفخ فی الصور کی تشریح میں کہا۔ اور دو سینگ ہے (جس میں پھونک ماری جائے گی ) پس آسمانوں اور زمینوں میں جو حیوان بھی ہے وہ آواز کی شدت کی وجہ سے مدہوش ہو کر مر جائے گا۔ پھر وہ مستی رہیں گے جنہیں اللہ مستثنیٰ رکھےگا، یعنی جبریل، میکائیل، اسرافیل اور موت کا فرشتہ زند دور ہیں گے : پھر موت کے فرشتے کو حکم دیا جائے گا کہ میکائیل کی روح قبض کرے، پھر جبرئیل اور پھر اسرافیل کی روح قبض کی جائے گی۔ پھر موت کے فرشتے کو حکم دیا جائے گا تو وہ بھی مر جائے گا۔ پھر تمام مخلوق نفقہ اولیٰ کے بعد چالیس سال تک مقام برزخ میں رہے گی۔ پھر دوسرا فتحہ ہوگا تو اللہ اسرائیل کو زندہ کر کے حکم دے گا کہ دوسرا صور پھونکو ، تو یہ ہے اللہ کی بات پھر ( دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہو کر دیکھیں گے ۔ اس دوبارہ زندگی کی طرف جسے وہ دنیا میں جھٹلاتے تھے۔بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ جب کفار جہنم اور اس کے مختلف عذابوں کو دیکھ لیں گے تو قبروں والے عذاب کو نیند کی طرح تصور کریں گے۔ پھر کہیں گے: کس نے ہمیں اپنی خواب گاہ سے اٹھا دیا۔ الشیخ ( امام بیہقی ) رحمہ اللہ نے فرمایا: میں کہتا ہوں کہ قرآن میں جو ہے کہ آگ پر وہ صبح وشام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت واقع ہوگی ( کہا جائے گا ) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کرو۔ پھر صحیح احادیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ مفسرین نے اس آیت کی جو تشریح کی ہے وہ صحیح ہے اور انھی احادیث میں سے یہ بھی ہے۔
مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← الْهُذَيْلِ ← أَبِي ← عَبْدِ اللہِ بْنِ ثَابِتٍ،
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the interpretation of the words of God Almighty {and breathed in the pictures, if they are from the graves to their Lord slipping said O Wilna of We sent Mrkdna} [Yassin: 52] verse said Professor Abu al-Qasim al-Hasan ibn Muhammad ibn Habib Ex · Hadith 217
