إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُخَافُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الدَّيْنِ · حديث 135
135 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ، أَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَزَالُ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةً بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ»
سید نا سمرہ بن جندب اللہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یہاں بنو فلاں کا کوئی آدمی ہے؟ آپ نے یہ بات تین دفعہ فرمائی کسی نے جواب نہیں دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: " تم میں سے جو شخص فوت ہوا ہے اسے اس کے قرض کی وجہ سے جنت میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ اگر چاہتے ہو تو فدیہ دے دو ( یعنی اس کا قرض اتار دو) اور اگر چاہتے ہو تو اسے اللہ کے عذاب کے لیے چھوڑ دو۔
«لَا تَزَالُ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةً بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سعيد بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to the fear of the torment of the graves in religion · Hadith 135
