Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين

Isbat Azab Al Qabar

by Imam Baihaqee

240 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 33

33 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، أَنَا عَلِيُّ بْنُ الصَّقْرِ بْنِ نَصْرٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثَنَا بُدَيْلٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا، وَذَكَرَ الْمِسْكَ قَالَ: وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدِ مَنْ تَعْمُرِينَهُ، فَيَنْطَلِقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ: وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ قَالَ حَمَّادٌ: ذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا، وَذَكَرَ لَعْنًا، وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ خَبِيثَةٌ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ قَالَ: وَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ عَلَى أَنْفِهِ هَكَذَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيِّ

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جب مومن کی روح نکلتی ہے تو دوفرشتے اسے لےکر (اوپر چڑھتے ہیں ۔ حماد بن زید، راوی ) نے اس روح کی خوشبوؤں اور مشک و کستوری کا ذکر کیا۔ آسمان والے کہتے ہیں : یہ پاک روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے، اللہ تجھ پر اور جس جسم میں تو رہتی تھی امتیں نازل فرمائے ، پھر اسے اپنے رب کے پاس لے جایا جا تا ہے تو ( رب فرماتا ہے: اسے آخری وقت ( یعنی قیامت تک کے لیے واپس لے جاؤ۔ فرمایا: اگر کافر تھا تو جب اس کی روح نکلتی ہے ۔حماد بن زید ) نے اس کی بد ہو اور لعنت کا ذکر کیا۔ آسمان والے کہتے ہیں : یہ خبیث روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے، پھر کہا جا تا ہے اسے آخری وقت (یعنی قیامت تک کے لیے واپس لے جاؤ ۔ ابو ہر بیوی نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے (ناپسندیدگی کی وجہ سے اپنا کپڑا اپنی ناک پر رکھا۔اے مسلم نے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بُدَيْلٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← علي بن الصقر بن نصر ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 33

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 34

34 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا احْتُضِرَ حَضَرَهُ مَلَكَانِ يَقْبِضَانِ رُوحَهُ فِي حَرِيرَةٍ، فَيَصْعَدَانِ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَصْعَدَانِ بِهِ، فَيُقَالُ: أَبْشِرْ بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، ثُمَّ يُقَالُ: رُدُّوهُ إِلَى آخِرِ الْأَجَلَيْنِ، وَإِنْ كَانَ كَافِرًا يَقْبِضَانِ رُوحَهُ فِي مِسَحٍّ، ثُمَّ يَصْعَدَانِ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَتَأْخُذُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَنْفِهَا وَيَقُولُونَ: رِيحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنَ الْأَرْضِ فَيَصْعَدَانِ بِهِ فَيُقَالُ: أَبْشِرْ بِعَذَابِ اللَّهِ وَهَوَانِهِ، ثُمَّ يُقَالُ: رُدُّوهُ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ أَوِ الْأَجَلَيْنِ "

ابو ہریرہ سے (ہی ) روایت ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت آ تا ہے تو اس کے پاس دوفرشتے آتے ہیں، وہ اس کی روح کو ریشم کے کپڑے میں قبض کرتے ہیں ، پھر اسے آسان کی طرف لے کر چڑھتے ہیں تو فرشتے کہتے ہیں: زمین سے پاک روح آئی ہے۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے جاتے ہیں تو کہا جا تا ہے : خوشبوؤں اور خوشیوں کی تجھے خوشخبری ہو ۔ ( تیرا رب غضب میں نہیں ہے ( یعنی تجھ سے بہت خوش ہے ) پھر فرمایا: اسے قیامت تک کے لیے ( زمین میں واپس بھیج دو اور اگر کافر تھا تو اس کی روح گندے کپڑے میں قبض کرتے ہیں ، پھر اسے لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو ( اس کی بد بوکی وجہ سے فرشتے اپنی ناکوں کو پکڑتے ہیں اور کہتے ہیں بری روح ،زمین سے آئی ہے۔ پھراسے لے کر چڑھتے ہیں تو کہا جا تا ہے: مجھے اللہ کے عذاب اور تیری رسوائی کی خوشخبری ہو، پھر کہا جا تا ہے کہ (اسے قیامت تک کے لئے ( واپس بھیج دو )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 34

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 35

35 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ، اخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَمَا يَزَالُ يُقَالُ لَهُ ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ فَيَعْرُجَ بِهَا حَتَّى يَنْتَهِيَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُسْتَفْتَحَ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يَنْتَهِيَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، أَظُنُّهُ أَرَادَ السَّمَاءَ السَّابِعَةَ قَالَ: وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ، فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهُ ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ فَيَنْتَهِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهُ لَا تُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ "

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک جب مرنے والےکی وفات کے وقت فرشتے آتے ہیں تو اگر نیک آدمی ہوتو وہ کہتے ہیں: اے پاک ،اطمینانوالی روح! ( جسم سے باہر نکل آ ، تو پاک جسم میں تھی ۔ نکل آ تو قابل تعریف ہے اور تجھے ( جنت کی خوشبوؤں اور خوشیوں کی خوشخبری ہو۔ تیرارب ناراض نہیں ہے ۔ اسے یہی کہا جاتا ہے حتی کہ وہ ( جسم سے نکل جاتی ہے ، پھر وہ اسے لے کر آسمان تک چڑھ جاتے ہیں تو دروازہ کھلتا ہے اور کہا جاتا ہے: یکون ہے؟ کہا جا تا ہے : فلاں کا بیٹا اور فلاں ہے، تو کہا جا تا ہے : پاک روح کوخوش آمدید ہو، پاک جسم میں تھی ، داخل ہو جا تو قابل تعریف ہے، اور تجھے (جنت کی ) کی خوشبوؤں اور خوشیوں کی خوشخبری ہو ۔ تیرارب ناراض نہیں ہے ۔اسے اسی طرح کہا جا تا ہے تھی کہ میرے خیال کے مطابق ،اسے ساتو میں آسمان تک لے جاتے ہیں۔اور اگر برا آدمی تھا تو اسے کہتے ہیں نکل ، اے بری روح ! تو برے جسم میں تھی ، کل ذلیل ورسوا ہو کر ، تجھے کھولتے پانی ، زخموں کی پیپ اور قسم قسم کے عذابوں کی ”خوشخبری“ ہو۔ اسےاسی طرح کہا جا تا ہے حتی کہ وہ ( جسم سے نکل آتی ہے ، پھر وہ اسے آسمان کی طرف لےکر جاتے ہیں تو کہا جا تا ہے:یہ کون ہے؟کہتے ہیں فلاں کا بیٹا اور فلاں ہے۔ تو کہا جا تا ہے: خبیث روح کو خوش آمدید نہ ہو ، وہ برے جسم میں تھی ، ذلیل و رسوا ہو کر لوٹ جا۔ تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھلیں گے ۔ پھراسے زمین کی طرف بھیج دیا جا تا ہے، پھر اسے قبر کی طرف بھیج دیا جا تا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ذِئْبٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 35

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 36

36 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ، فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيّةً عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ مِسْكٍ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَشُمُّونَهُ حَتَّى يَأْتُوا بِهِ بَابَ السَّمَاءِ، فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحَ، جَاءَتْكُمْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ، فَكُلَّمَا أَتَوْا سَمَاءً قَالُوا ذَلِكَ حَتَّى يَأْتُوا بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَهُمْ أَفْرَحُ بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِ، وَيَسْأَلُونَهُ: مَا فَعَلَ فُلَانٌ فَيَقُولُونَ: دَعْهُ حَتَّى يَسْتَرِيحَ، فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا، فَإِذَا قَالَ لَهُمْ: أَمَا أَتَاكُمْ فَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ يَقُولُونَ: ذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَإِنَّ مَلَائِكَةَ الْعَذَابِ تَأْتِيهِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي سَاخِطَةً مَسْخُوطةً عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ، فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى بَابِ الْأَرْضِ، فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنُ هَذِهِ الرِّيحَ، كُلَّمَا أَتَوْا عَلَى أَرْضٍ قَالُوا ذَلِكَ حَتَّى يَنْتَهُوا بِهِ إِلَى أَرْوَاحِ الْكُفَّارِ "

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جب مومن کی موت کا وقت آ تا ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں: نکل جاؤ ( جسم سے ) تو اللہ سے راضی وہ تجھ سے راضی ، اللہ کی ( پیدا کردہ ) خوشبوؤں اور خوشیوں کی طرف، تیرارب ناراض نہیں ہے ۔ تو وہ ( روح ) اس طرح نکلتی ہے گویا مشک ( کافور ) کی ب سے بہترین خوشبو ہے حتی کہ وہ اسے ایک دوسرے سے لے کر سونگھتے ہیں ۔ وہ اسےلے کر آسمان کے دروازے کے پاس آتے ہیں ( تو در بان یا دوسرے فرشتے ) کہتے ہیں: سی زمین سے کتنی پاک خوشبو کی ہے ؟ جس آسمان پر وہ آتے ہیں اس آسمان والے ہی بات کہتے ہیں حتی کہ وہ اسے مومنوں کی روحوں کے پاس لے آتے ہیں تو وہ اتنے زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنا کوئی کسی نائب ( اور گمشدہ شخص کے (گھر) آ جانے پر بھی خوش نہیں ہوتا ،اور وہ اس سے پوچھتے ہیں : فلاں آدمی کا کیا حال ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: اسے چھوڑ و تا کہ آرام کر لے، کیونکہ بے شک وہ دنیا کے غموں میں ( مجبور تھا۔ پھر جب وہ ان سے کہتا ہے: ( جس کا تم پوچھ رہے ہو کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا ؟ وہ تو ( کافی عرصہ پہلے مر گیا تھا؟ تو وہ کہتے ہیں : وہ اپنے ٹھکانے جہنم کی طرف چلا گیا ہے، اور کافر کے پاس عذاب کے فرشتے، چیتھڑوں کا گندا کفن لے کر آتے ہیں ، پھر کہتے ہیں : ( باہر نکلو ، تو اپنے سے ناراض ، رب تجھ سے ناراض، اللہ کے عذاب اور ناراضی کی طرف ۔ پس وہ اس طرح نکلتی ہے گویا سڑی ہوئی لاش کی بو ہے۔ پھر اسے زمین کے دروازے کی طرف لے جاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں یہ کتنی گندی بد بو ہے ۔ وہ زمین کی طرف آتے ہوۓ یہی کہتے ہیں حتی کہ وہ اسے کافروں کی روحوں کے پاس پہنچا دیتے ہیں ۔پہلے جز ء کا آ خرختم ہوا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا،

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 36

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 37

37 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللَّهُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثَنَا هَمَّامٌ ح، أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نَا هُدْبَةُ، ثَنَا هَمَّامٌ، ثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ» قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ: إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ، فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ أَحَبَّ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ، فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ لَهُ مِمَّا أَمَامَهُ، فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ فَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ» لَفْظُ حَدِيثِ هُدْبَةَ [ص:47]

عبادہ بن الصامت ﷺ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے ،اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ کی ملاقات کو نا پسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے ۔عائشہ (یا) یا آپ کو بیویوں میں سے کسی نے کہا: ہم موت کو نا پسند کرتے ہیں ۔ آپ نےفرمایا: یہ بات نہیں ہے لیکن مومن کی جب موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کی رضامندی اور اچھے سلوک کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو اسکے سامنے اس سے زیادہ پیاری کوئی چیز ہیں ہوتی ۔ پس وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ کافر کی موت کا جب وقت آ تا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور سزا کی خبر دی جاتی ہے تو اس کے سامنے اس سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ پس وہ اللہ سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے ۔ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ ← تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← هَمَّامٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 37

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 38

38 - رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَمُّويَهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثَنَا آدَمُ، ثَنَا شُعْبَةُ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: «لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا» رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسَ

عائشہ دنیا سے روایت ہے کہ رسول اللہ سلم نے فرمایا: ”مرے ہوۓ لوگوں کو برا نہ کہو، کیونکہ بے شک انھوں نے آگے جو بھیجا ہے اس تک پہنچ گئے ہیں ۔ اسے بخاری نےروایت کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ حَمُّويَهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، كِلَاهُمَا ← حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ ← رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ،

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 38

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 39

39 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تُذْكَرُ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ» قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَمَنْظَرُ الْقَبْرِ أَفْظَعُ مِنْهُ

عثمان کے غلام ہانی سے روایت ہے کہ : عثمان ؛ جب کسی قبر کے پاس گھڑے ہوتے تو اتنا روتے حتی کہ آپ کی داڑھی بھیگ جاتی ۔ آپ سے کہا گیا: آپ جنت اور جہنم کو یا دکر کے اتنانہیں روئے جتنا اس ( قبر ) سے روتے ہیں؟انھوں نے فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے ۔ اگر آدمی اس سے بچ گیا تو اس کے بعد بہت آسانی ہے ۔اور اگر اس میں بیچ نہ سکا تو اس کے بعد بہت ہی برا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”میں نے جتنے منظر دیکھے ہیں ان میں قبر ( کا منظر سب سے زیادہ ہولناک ہے ۔

هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 39

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 40

40 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِجِنَازَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَصَاحِبُهُ يُدْفَنُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: «اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ لَهُ التَّثْبِيتَ فَإِنَّهَ الْآنَ يُسْأَلُ»

عثمان﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ میم ایک جنازے کے ساتھ ایک قبر کے پاس سے گزرے۔میت کو دفن کیا جار ہاتھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اللہ سے اس کی ثابت قدمی کا سوال کرو، کیونکہ اب اس سے سوال و جواب ہونے والے ہیں ۔

مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ بِجِنَازَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَصَاحِبُهُ يُدْفَنُ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← هَانِئٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، ← هشام بن يوسف الصنعاني، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 40

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Concerning what this verse promises to the disbelievers with the torment of the graves, God Almighty says: “May God be deceived by the unjust, and God will do.”3. The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed.4. The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were5. The door to hastening the funeral, as long as it is good for you to do it6. Chapter on informing the Mustafa, peace and blessings of God be upon him, by saying the funeral after the examination7. The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them8. Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46]9. What is the door of the hypocrites from the torment in the grave before the torment in the fire, said Allah exalted {and those around you of the Bedouins are hypocrites and the people of the city Mrdoa hypocrisy we do not teach them to teach them Snazbhm10. What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124]11. Door passport of life in a single part and that the structure is not a life condition, and not from the neighborhood condition, and in that passport torture parts scattered, said God Almighty {And your Lord creates what He wills and chooses} [Stories: 68]12. The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d
13. The door of intimidating the people of faith in the torment of the grave God said to His Prophet peace be upon him {and not Thbtnak I almost left them a little something, if Ozguenak weakness of life and the weakness of death and then do not find you we h
14. The door to the torment of graves in grace and urine
15. Concerning the fear of the torment of the graves in the slaying of the dead,
16. The door to the fear of the torment of the graves in the shadows
17. The door to the fear of the torment of the graves in religion
18. Concerning the punishment of the grave that God Almighty says: “From the security of the grave” He said: “And God Almighty says:
19. The door to what is hoped for in the safety of the temptation of graves
20. The door to the security of God’s punishment in the grave is what is required in the testimony
21. Chapter on what is requested in the reading of Surat Al-Mulk, to prevent the torment of the graves.
22. The door to the torment of the grave hope for those who are safe
23. The door to what is required in death on Friday night from the innocence of the temptation of the graves
24. The chapter on the supplication of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, during the funeral prayer
25. Chapter on what was hoped in the prayers of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, for the funerals from the light in the graves and the darkness of God over him
26. The door to the supplication of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, to the participants with the torment of the graves
27. The door to seek refuge and command of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, from the torment of the graves and his command
28. The door to supplication for the believer in confirmation after the completion of the burial
29. The door wishing to forgive him to teach his people what God has honored him by God, said the bulk of Hereafter those who blessed him for forgiveness {was said to Paradise, said Oh national know what forgave me my Lord and made me of the honored} [Yassin:
30. The door of the interpretation of the words of God Almighty {and breathed in the pictures, if they are from the graves to their Lord slipping said O Wilna of We sent Mrkdna} [Yassin: 52] verse said Professor Abu al-Qasim al-Hasan ibn Muhammad ibn Habib Ex
31. The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror.