Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين

Isbat Azab Al Qabar

by Imam Baihaqee

240 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَكُونُ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذَكَرِ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أ · حديث 61

61 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ الْمَعِيشَةَ الضَّنْكَ أَنْ يُسَلَّطَ عَلَيْهِ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا يَنْهَشُهُ فِي الْقَبْرِ»

ابوسعید الخدری ﷺ سے روایت ہے کہ بے شک تنگ زندگی ( کا مفہوم یہ ہے کہ اس پر نانو میں کیڑے سانپ ) مسلط کر دیے جاتے ہیں جو قبر میں اسے ڈستے نوچتے رہتےہیں۔

«إِنَّ الْمَعِيشَةَ الضَّنْكَ أَنْ يُسَلَّطَ عَلَيْهِ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا يَنْهَشُهُ فِي الْقَبْرِ» ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو

Isbat Azab Al Qabar · Book › What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124] · Hadith 61

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَكُونُ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذَكَرِ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أ · حديث 62

62 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، نَا مَخْلَدٌ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، نَا أَبُو الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخَارِقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ {مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: 124] قَالَ: «عَذَابُ الْقَبْرِ»

عبداللہ بن مسعود نے تنگ زندگی کی تشریح میں فرمایا: وہ عذاب قبر ہے۔

عَذَابُ الْقَبْرِ. ← عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ {مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخَارِقِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مَخْلَدٌ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ

Isbat Azab Al Qabar · Book › What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124] · Hadith 62

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَكُونُ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذَكَرِ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أ · حديث 63

63 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، نَا مُحَمَّدٌ، نَا قَبِيصَةُ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: 124] قَالَ: «عَذَابُ الْقَبْرِ»

ابوصالح ( تابعی ) نے کہا: تنگ زندگی ( سے مراد ) عذاب قبر ہے ۔

عَذَابُ الْقَبْرِ. ← أَبِي صَالِحٍ، {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: ← إِسْمَاعِيلُ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ

Isbat Azab Al Qabar · Book › What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124] · Hadith 63

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَكُونُ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذَكَرِ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أ · حديث 64

64 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، نَا مُحَمَّدُ، نا قُرَادِ بْنِ نُوحٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنِ السُّدِّيِّ فِي قَوْلِهِ {مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: 124] قَالَ: «عَذَابُ الْقَبْرِ»

السدی ( اسماعیل بن عبدالرحمن ، تابعی ،مفسر ) نے کہا: تنگ زندگی ( سے مراد )عذاب قبر ہے۔

عَذَابُ الْقَبْرِ. ← السُّدِّيِّ فِي قَوْلِهِ {مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: ← شُعْبَةُ، ← قُرَادِ بْنِ نُوحٍ، ← مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ

Isbat Azab Al Qabar · Book › What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124] · Hadith 64

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَكُونُ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذَكَرِ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أ · حديث 65

65 - وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ مِثْلُ ذَلِكَ

تنگ زندگی کے بارے میں مجاہد(تابعی، مفسر) سے مروی ہے کہ :اس سے قبر کی تنگی مراد ہے، اس پر قبرتنگ کر دی جاتی ہے ۔

الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ مِثْلُ ذَلِكَ ← وَرُوِيَ

Isbat Azab Al Qabar · Book › What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124] · Hadith 65

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَكُونُ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذَكَرِ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أ · حديث 66

66 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا آدَمُ، نَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ {مَعِيشَةَ ضَنْكًا} [طه: 124] قَالَ: ضَيِّقَةٌ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ "

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک جب میت کو قبر میں رکھ دیا جا تا ہے تو وہ لوگوں کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے جب وہ اس سے والیں جاتے ہیں ۔اگر و مومن تھا تو نماز اس کے سر کے پاس روڑے اس کی دائیں طرف ، ڈکلو بائیں طرف اور خیر کے کام ( مثلا ) صدقہ ،صلہ رہی ، نیکی اور لوگوں کے لئے احسان اس کے پاؤں کے پاس یہاں ہو سکتے ۔ اگر دائیں طرف سے جائے تو روزے کہتے ہیں ۔ یہاں سے داخل سامر کی طرف سے تمہارے لئے داخلہ منع ہے ۔ اگر بائیں طرف سے آیا جائے تو زکوۃ کہتی ہے: میری طرف سے تم داخل نہیں ہو سکتے۔ پھر اس کے قدموں کی طرف سے آیا جا تا ہے تو خیر کے کام ( مثلا ) صدقہ ،صلہ رحمی ، نیکی اور لوگوں کے لئے احسان کہتے ہیں کہ یہاں سے تم نہیں آ سکتے ۔ (لہذا عذاب والے فرشتوں ایسا ہی حسن بصری سے بھی مروی ہے۔ ٦٣) تنگ زندگی کے بارے میں مجاہد ( تابعی مفسر ) سے مروی ہے کہ: اس سے قبر کی تنگی پر چاروں طرف سے راستہ بند ہے ) پھر اسے کہا جا تا ہے بیٹھ جا، تو وہ بیٹھتا ہے ۔اسے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ گویا سورج غروب ہونے کے قریب ہے ۔ پھر اسے کہا جا تا ہے : اس آدمی کے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟ تو وہ کہتا ہے : مجھے چھوڑ وتا کہ میں ( عصر کی نماز پڑھ لوں ۔ وہ اسے کہتے ہیں تو ایسا جلدی کرے گا۔ پہلے ہمیں وہ بتا جس کا ہم پوچھ رہے ہیں ۔ وہ کہتا ہے تم مجھ سے کس کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ وہ کہتے ہیں: تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا ہے جو تم میں بھیجا گیا ہے اور اس کے بارے میں کیا گواہی دیتا ہے۔ تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول سی ہیں اور بے شک وہ اللہ سے حق لے کر آتے ہیں۔ تو اسے کہا جا تا ہے: اس پر تو زندہ تھا اور اس پر تو مرا ہے اور جب اللہ چاہے گا تو اسی پر زندہ ہو گا۔ پھر جنت کے دروازوں میں سے ایک درواز ہ اس کے لئے کھول دیا جا تا ہے اور اسے کہا جاتا ہے: دیکھو اپنے لٹکانے کی طرف اور جو پڑھا اس ( جنت میں اللہ نے تیرے لئے تیار کر رکھا ہے۔ تو وہ بے پناہ خوشی اور سرور سے لبریز ہو جاتا ہے ۔ پھر اس کی قبر ستر ہاتھ کھل جاتی ہے اور اس کے لئے منور ہو جاتی ہے اور جسم شروع کی حالت پر لوٹ جا تا ہے۔اس کی روح کو پاک روحوں میں شامل کر کے ، ایک پرندے کی صورت میں جنت میں معلق کر دیا جا تا ہے ۔“ محمد بن عمر واللی ، راوی ) نے کہا: میں نے عمر بن حکم بن ثوبان کو میفرماتے سنا کہ دواس دلہن کی طرح سو جاتا ہے جسے اس کا محبوب ترین شخص ہی اٹھاتا ہے حتی کہ (قیامت کے دن ) اللہ سے زندہ کرے گا۔ پھر وہ ( محمد بن عمرو ابو ہریرہ کی ( بیان کردہ حدیث کی طرف لوٹ گئے ۔ فرمایا: اور یہ ہے اللہ کا فرمان : ويثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت في الحيوة الدنيا و في الأخرة ويضل الله الظليين و يفعل الله مايشاء اللہ ، ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے ۔ ( ابراهیم ۲۷)اور اگر کافر تھا تو اس کے سر کی طرف سے آیا جا تا ہے تو ( نیکی کی کوئی چیز نہیں ملتی ، پھر دائیں طرف سے آتا ہے تو کوئی چیز نہیں ملتی ۔ پھر بائیں طرف سے آ تا ہے تو کچھ بھی نہیں ملتا، پھر قدموں کی طرف سے (فرشتہ ) آ تا ہے تو کوئی چیز نہیں پاتا ۔ پھراسے کہا جا تا ہے : بیٹھ جاتو وہ ڈرا سہما ہوا بیٹھ جاتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے : یہ آدمی جو تمہارے درمیان ( بھیجا گیا تھا۔ تیرا کیا خیال ہے، کیسا آدمی تھا؟ اس کے بارے میں تو کیا کہتا ہے اور کیا گواہی دیتا ہے؟ تو وہ کہتا ہے : کون سا آدمی؟ تو کہا جا تا ہے: جو تمہارے درمیان ( بھیجا گیا تھا۔ تو اسے نام نہیں آتا حتی کہ اسے بتایا جاتا ہے کہ محد سلام تو وہ کہتا ہے : مجھے پیا نہیں ۔ میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تو وہی بات کہہ دی۔اسے کہا جا تا ہے تو اسی پر زندہ تھا اور اس پر مرا اور جب اللہ چاہے گا تو اس پر زندہ کیا جاۓ گا۔ پھر آگ کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اس کے لئے کھول دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ تیرا جہنم میں ٹھکانہ ہے اور ( جہنم میں ) جو کچھ اللہ نے تیرے لئے تیار کر رکھا ہے (اسے دیکھتے رہو تو وہ حسرت و ہلاکت سے بھر جاتا ہے ۔ پھر اس کی قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے حتی کہ اس کی پہلیاں ایک دوسرے میں دھنے لگتی ہیں ۔ ابو ہریرہ نے فرمایا: یہ ہےاللہ تعالی کا فرمان : « فإن له معيشة ضنكا و نحشرة يوم القيمة أعلى ” بے شک اس کی زندگی تنگ ہوتی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔“ (طه: ١٢٤)

ضَيِّقَةٌ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ ← مُجَاهِدٍ {مَعِيشَةَ ضَنْكًا} [طه: ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124] · Hadith 66

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَكُونُ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذَكَرِ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أ · حديث 67

67 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلَّوْنَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَانَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَكَانَ الصِّيَامُ عَنْ يَمِينِهِ وَكَانَتِ الزَّكَاةُ عَنْ يَسَارِهِ، وَكَانَ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَتَقُولُ الصَّلَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ فَيَقُولُ الصِّيَامُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَسَارِهِ فَتَقُولُ الزَّكَاةُ " مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، فَتَقُولُ: فَعَلَ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، فَيُقَالُ لَهُ: اجْلِسْ فَيَجْلِسُ قَدْ مُثِّلَتْ لَهُ الشَّمْسُ قَدْ دَنَتْ لِلْغُرُوبِ، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَا تَقُولُ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: دَعُونِي أُصَلِّي قَالَ: فَيَقُولَانِ: إِنَّكَ سَتَفْعَلُ هَذَا فَأَخْبِرْنَا عَمَّا نَسْأَلُكَ عَنْهُ قَالَ: عَمَّا تَسْأَلُونِي؟ قَالَ: مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي فِيكُمْ وَبِمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُ: عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنْهَا وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ فِيهَا فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُنَوَّرُ لَهُ وَيُعَادُ الْجَسَدُ كَمَا بَدَأَ، وَتُجْعَلُ نَسْمَتُهُ مِنَ النَّسِيمِ الطَّيِّبِ وَهُوَ طَائِرٌ يَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَسَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ: «فَيَنَامُ نَوْمَةَ الْعَرُوسِ لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» ثُمَّ عَادَ إِلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ} [إبراهيم: 27] وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَلَمْ يُوجَدْ شَيْءٌ ثُمَّ أُتِيَ عَنْ يَمِينِهِ فَلَمْ يُوجَدْ شَيْءٌ ثُمَّ، أُتِيَ عَنْ يَسَارِهِ فَلَمْ يُوجَدْ شَيْءٌ، ثُمَّ أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَلَمْ يُوجَدْ شَيْءٌ فَيُقَالُ لَهُ: اجْلِسْ فَيَجْلِسُ خَائِفًا مَرْعُوبًا، فَيُقَالُ لَهُ: أَرَأَيْتَكَ هَذَا الرَّجُلَ [ص:62] الَّذِي كَانَ فِيكُمْ أَيُّ رَجُلٍ هُوَ، مَاذَا تَقُولُ فِيهِ وَمَاذَا تَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: أَيُّ رَجُلٍ؟ فَيُقَالُ: الَّذِي كَانَ فِيكُمْ، فَلَا يَهْتَدِي لِاسْمِهِ حَتَّى يُقَالُ: مُحَمَّدٌ، فَيَقُولُ: مَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ قَالُوا قَوْلًا فَقُلْتُ كَمَا قَالَ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ، وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ، فَيُقَالُ لَهُ: ذَلِكَ مَقْعَدُكَ مِنَ النَّارِ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهَا، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ مِنَ الْجَنَّةِ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهَا لَوْ أَطَعْتَهُ، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا، ثُمَّ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى} [طه: 124] "

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤمن اپنی قبر میں سر سبز و شاداب باغ میں ہوتا ہے ۔اس کی قبر ستر ہاتھ کھل جاتی ہے اور چودھویں کے چاند کی طرح منور کر دی جاتی ہے ۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت: «فإن له معيشة ضنكا و نحشرة يوم القيمة أعلى ” پس بے شک اس کی زندگی تنگ ہوگی اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے ۔(طہ: ١٢٤) کس بارے میں نازل ہوئی ہے؟ کیا جانتے ہو کہ تنگ 17.زندگی سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ، سب سے زیادہ جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا " کافرکو اس کی قبر میں عذاب دیا جاتا ہے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کافر ) پر نانو میں سانپ ہیں ، ہر سانپ کے نوسر ہیں ۔ وہ اس کے جسم میں (زہریلی ) پھونکیں مارتے ہیں اور اسے ڈستے ہیں (اور ) وہ قیامت تک اسے نوچتے رہیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ،

Isbat Azab Al Qabar · Book › What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124] · Hadith 67

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَكُونُ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذَكَرِ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أ · حديث 68

68 - أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أَنَا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلَيُّ، نَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ وَيَرْحُبُ قَبْرُهُ سَبْعِينَ ذِرَاعًا، وَيُنَوَّرُ لَهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، أَتَدْرُونَ فِيمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى أَتَدْرُونَ مَا الْمَعِيشَةُ الضَّنْكُ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: عَذَابُ الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيُسَلَّطُ عَلَيْهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا، أَتَدْرُونَ مَا التِّنِّينُ؟ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ حَيَّةً لِكُلِّ حَيَّةٍ تِسْعَةُ رُءُوسٍ يَنْفُخُونَ فِي جِسْمِهِ وَيَلْسَعُونَهُ وَيَخْدُشُونَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "

زاذان ( تابعی ) سے روایت ہے کہ انھوں نے (آیت: ) هو ان يتزين ظلموا عذابا دون ذلت کا ” اور بے شک ظالموں کے لئے اس سے نچلا عذاب ہو گا ۔“ (الطور: ۴۷ ) کے بارے میں فرمایا:( یہ ) عذاب قبر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حُجَيْرَةَ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلَيُّ، ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Isbat Azab Al Qabar · Book › What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124] · Hadith 68

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَكُونُ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذَكَرِ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أ · حديث 69

69 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَقَبِيصَةُ قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ أَبِي كُرْبَةَ أَوْ كُرْمَةَ. قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: هَكَذَا قَالَ سُفْيَانُ، عَنْ زَاذَانَ، {وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَلِكَ} [الطور: 47] قَالَ: «عَذَابُ الْقَبْرِ»

اس آیت کی تشریح میں ابن عباس پی سے روایت ہے کہ (اس سے مراد ) قیامت سے پہلے قبر کا عذاب ہے ۔ باب 11: (جسم کے منفر وٹکڑے میں ( برزخی زندگی کا جواز اور ( عالم برزخ میں ) خاکی جسم کا ہونا زندگی کی شرط میں سے نہیں ہے۔ جیسے کہ زندہ کے لئے خا کی جسم کا ہوناشر انہیں،اس سے معلوم ہوا کہ جسم کے مختلف ٹکڑوں میں عذاب کا محسوس ہو ناممکن ہے ۔اللہ تعالی نے فرمایا: و و ريك يخلق ما يشاء ويختار ، اور تیرا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور چن لیتاہے۔ (القصص: ٦٨) اور فرمایا: ويثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الحيوة الثانيا وفي الأخرة - ويضل الله الظالمين ويفعل الله مايشاء اللہ، ایمان والوں کو مضبوط قول کے ساتھ دنیا کی زندگی میں ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں ( بھی ) اور ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ ابراہیم :۲۷]اور فرمایا: ﴿ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں (وہ) زندہ جاوید ( اور ) قائم دائم ہے۔“ (البقرہ: ۱۳۵۵ اور فرمایا: تیس گیله فى وَهُوَ الشويع البصير اس کی مثل کوئی نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے ۔

عَذَابُ الْقَبْرِ. ← زَاذَانَ، {وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَلِكَ} [الطور: ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ: هَكَذَا ← أَبِي كُرْبَةَ أَوْ كُرْمَةَ. ← الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ وَقَبِيصَةُ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ،

Isbat Azab Al Qabar · Book › What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124] · Hadith 69

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يَكُونُ عَلَى مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذَكَرِ اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الْعَذَابِ فِي الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أ · حديث 70

70 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِقِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَلِكَ} [الطور: 47] يَقُولُ: «عَذَابُ الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

انس بن مالک بھی اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صل اللہ نے بدر کے (کافر) مقتولین کو تین دن چھوڑے رکھا۔ پھر آپ اُن ( مقتولین کی لاشوں ) کے پاس آکر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اے ابو جہل بن ہشام، اے امیہ بن خلف ، اے عتبہ بن رہیہ، اے شیبہ بن ربیعہ! کیا تم نے (اب) اس وعدے کو سچا نہیں پالیا جو تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا تھا ؟ بے شک میں نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے جو اس نےمیرے ساتھ کیا ہے۔تو عمر بی اللہ نے نبی انم کی بات سن کر کہا: اے اللہ کے رسول ! یہ کیسے سنتے ہیں اور کس طرح جواب دے سکتے ہیں، جبکہ وہ مر کز مردار ہو چکے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے امیں انھیں جو کہہ رہا ہوں وہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں، الیکن وہ جواب نہیں دے سکتے ۔" پھر آپ نے حکم دیا تو انھیں (مشرکین کی لاشوں کو ) گھسیٹ کر بدر کے کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

«عَذَابُ الْقَبْرِ قَبْلَ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَلِكَ} [الطور: ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِقِيُّ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Isbat Azab Al Qabar · Book › What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124] · Hadith 70

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ جَوَازِ الْحَيَاةِ فِي جُزْءٍ مَنْفَرِدٍ وَأَنَّ الْبَنِيَّةَ لَيْسَتْ مِنْ شَرْطِ الْحَيَاةِ، كَمَا لَيْسَتْ مِنْ شَرْطِ الْحَيِّ، وَفِي ذَلِكَ جَوَازُ تَعْذِيبِ الْأَجْزَاءِ الْمُتَفَرِّقَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَ · حديث 71

71 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَعَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالُوا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا» فَسَمِعَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَسْمَعُونَ وَأَنَّى يُجِيبُونَ وَقَدْ جَيَّفُوا؟ فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُوْلُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا» ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ [ص:65]، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ثُمَّ قَالَ قَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ بَأَعْيَانِهِمْ حَتَّى يَسْمَعُوا قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَصَغَارًا وَنِقْمَةً وَنَدَامَةً،

قاده بن دعامہ (تابعی) نے انس بن مالک بھی اللہ سے ایسی روایت بیان کر کے فرمایا: اللہ نے انھیں ( عالم برزخ میں ) کہندہ کر دیا تا کہ وہ آپ کی بات سنیں جس میں اُن (مشرکوں) کے لئے ڈانٹ ، ذلت، انتقام، حسرت اور ندامت ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَعَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Isbat Azab Al Qabar · Book › Door passport of life in a single part and that the structure is not a life condition, and not from the neighborhood condition, and in that passport torture parts scattered, said God Almighty {And your Lord creates what He wills and chooses} [Stories: 68] · Hadith 71

إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ جَوَازِ الْحَيَاةِ فِي جُزْءٍ مَنْفَرِدٍ وَأَنَّ الْبَنِيَّةَ لَيْسَتْ مِنْ شَرْطِ الْحَيَاةِ، كَمَا لَيْسَتْ مِنْ شَرْطِ الْحَيِّ، وَفِي ذَلِكَ جَوَازُ تَعْذِيبِ الْأَجْزَاءِ الْمُتَفَرِّقَةِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَ · حديث 72

72 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَرَ الْمُقْرِئُ، وَأَبُوبَكْرٍ الْفَقِيهُ قَالَا: أَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَهُ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ تَغَيُّرَهُمْ عَنْ حَالِهِمْ لَمْ يَمْنَعْ خَلْقَ الْحَيَاةِ فِيهِمْ حَتَّى سَمِعُوا كَلَامَهُ كَذَلِكَ إِذَا تَفَتَّتُوا

ابو خلف خلیفہ سے روایت ہے کہ: میں نے سعید بن جبیر کی شہادت کا منظر دیکھاہے۔ جب ان کا سر جدا ہوا تو وہ لا الہ الا اللہ کہ رہے تھے، دو دفعہ کہا اور تیسری دفعہ اسے مکمل نہ پڑھ سکے۔باب ۱۲: اس بات کی دلیل کہ بے شک اللہ، دنیا سے رخصت ہونے والے آدمی کے لئے ایسے احوال پیدا کرتا ہے جن کا ہم مشاہدہ نہیں کرتے اور نہ ان کا اور اک کرتے ہیں ۔ ایک گروہ کو نعمتیں ملتی ہیں اور دوسرا گروہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے بارے میں، جن پر ایمان اور استقامت کا فضل و کرم کیا ، فرمایا ہے: تتنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُم توعدون ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں ( اور کہتے ہیں :) نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور اس جنت کی تمھیں بشارت ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا جاتا تھا۔ تم اسجدہ ۳۰)

حَالِهِمْ لَمْ يَمْنَعْ خَلْقَ الْحَيَاةِ فِيهِمْ حَتَّى سَمِعُوا كَلَامَهُ كَذَلِكَ إِذَا تَفَتَّتُوا ← قَتَادَةَ فَذَكَرَهُ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ تَغَيُّرَهُمْ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو عُمَرَ الْمُقْرِئُ، وَأَبُوبَكْرٍ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Isbat Azab Al Qabar · Book › Door passport of life in a single part and that the structure is not a life condition, and not from the neighborhood condition, and in that passport torture parts scattered, said God Almighty {And your Lord creates what He wills and chooses} [Stories: 68] · Hadith 72

chevron_left Previous
1…567…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Concerning what this verse promises to the disbelievers with the torment of the graves, God Almighty says: “May God be deceived by the unjust, and God will do.”3. The door to inform the chosen one, may God’s prayers and peace be upon him, that the believer and unbeliever are all asked, then the pain is affirmed.4. The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were5. The door to hastening the funeral, as long as it is good for you to do it6. Chapter on informing the Mustafa, peace and blessings of God be upon him, by saying the funeral after the examination7. The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them8. Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46]9. What is the door of the hypocrites from the torment in the grave before the torment in the fire, said Allah exalted {and those around you of the Bedouins are hypocrites and the people of the city Mrdoa hypocrisy we do not teach them to teach them Snazbhm10. What is the door to introduce from the remembrance of Allah Almighty from the torment in the grave before the torment of the Day of Resurrection Allah Almighty {and introduce him is a life of hardship and Nhacrh the Day of Resurrection blind} [Taha: 124]11. Door passport of life in a single part and that the structure is not a life condition, and not from the neighborhood condition, and in that passport torture parts scattered, said God Almighty {And your Lord creates what He wills and chooses} [Stories: 68]12. The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d
13. The door of intimidating the people of faith in the torment of the grave God said to His Prophet peace be upon him {and not Thbtnak I almost left them a little something, if Ozguenak weakness of life and the weakness of death and then do not find you we h
14. The door to the torment of graves in grace and urine
15. Concerning the fear of the torment of the graves in the slaying of the dead,
16. The door to the fear of the torment of the graves in the shadows
17. The door to the fear of the torment of the graves in religion
18. Concerning the punishment of the grave that God Almighty says: “From the security of the grave” He said: “And God Almighty says:
19. The door to what is hoped for in the safety of the temptation of graves
20. The door to the security of God’s punishment in the grave is what is required in the testimony
21. Chapter on what is requested in the reading of Surat Al-Mulk, to prevent the torment of the graves.
22. The door to the torment of the grave hope for those who are safe
23. The door to what is required in death on Friday night from the innocence of the temptation of the graves
24. The chapter on the supplication of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, during the funeral prayer
25. Chapter on what was hoped in the prayers of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, for the funerals from the light in the graves and the darkness of God over him
26. The door to the supplication of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, to the participants with the torment of the graves
27. The door to seek refuge and command of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, from the torment of the graves and his command
28. The door to supplication for the believer in confirmation after the completion of the burial
29. The door wishing to forgive him to teach his people what God has honored him by God, said the bulk of Hereafter those who blessed him for forgiveness {was said to Paradise, said Oh national know what forgave me my Lord and made me of the honored} [Yassin:
30. The door of the interpretation of the words of God Almighty {and breathed in the pictures, if they are from the graves to their Lord slipping said O Wilna of We sent Mrkdna} [Yassin: 52] verse said Professor Abu al-Qasim al-Hasan ibn Muhammad ibn Habib Ex
31. The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror.