إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ إِخْبَارِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِ الْجِنَازَةِ بَعْدَ الْمُعَايَنَةِ · حديث 42
42 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحمَدَ بْنُ عَبْدَانَ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا مِلْحَانُ، نَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، ثَنَا أَحْمَدُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا: ثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ، وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ
ابوسعید الخدری پانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جب جنازے کو ( میت کو چار پائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گروٹوں ( کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں ، پھر اگر وہ نیک تھا تو کہتا ہے : مجھے جلدی لے جاؤ ۔ اگر برا تھا تو کہتا ہے : ہاۓ خرابی کہاں لے جا رہے ہو؟ اس کی آواز کو انسان ( اور جن کے علاوہ ( اردگرد کی ہر چیز سنتی ہے اور اگر اسے انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے ۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے ۔ باب : اس کی دلیل کہ میت کے جسم میں ( برزخی طور پر ) اس کی روح لوٹائی جاتی ہے، پھر مومن کو ثواب اور کافر کو عذاب ملتا ہےاللہ تعالی نے شہیدوں کے بارے میں فرمایا: ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون و فرحين بما أنهم الله من فضله ويستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الاخوف عليهم ولا هم يحزنون * * ” جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں انھیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں انھیں رزق دیا جا تا ہے ۔ اللہ نے انھیں جونعمتیں بخشی ہیں ان پرو و خوش ہیں اور ان لوگوں کو خو شہر کی دینا چاہتے ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں اور ( شہید ہوکر )ان سے مل نہیں سکے کہ انھیں نہ کوئی خوف ہے نہ کوئی غم ہے (ال عمران:۱۲۹۔۱۷۰) اور (اللہ تعالی نے ) کافروں کے بارے میں فرمایا: و إن الذين كفروا ينادون لمقت الله أكبر من مقتكم أنفسكم إذ تدعون إلى الإيمان فتكفرون قالوا ربنا أمتنا اثنتين و أحييتنا اثنتين فاعترفنا بذنوبنا فهل إلى خروج من سبيل نھیں پکار کر کہا جاۓ گا: اللہ کی ناراضی و بیزاری ( آج) تمھاری اپنے آپ پر ناراضی و بیزاری سے بڑھ کر تھی ۔ جب ( دنیا میں تمھیں ایمان کی طرف بلا یا جا تا تھا تو تم انکار کر دیتے تھے۔ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دوبارہ موت دی اور تو نے ہمیں دوبارہ زندہ کیا تو ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں ، پھر گیا ( اس عذاب سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ (المؤمن : ۱۰۔۱۱) محمد بن کعب القرظی سے نقل کیا جا تا ہے کہ انھوں نے کہا: میکافروں کا قول ہے ۔ پس کافر کی پہلی موت دنیا میں اس کی زندگی کے بعد کفر پر موت ہے ۔اور دوسری ( قیامت والی موت ہے ۔ اور دوزندگیوں سے مراد ایک زندگی موت کے بعد قبر والی ہے اور دوسری زندگی قیامت کے دن والی ہے۔
أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← أَحْمَدُ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← مِلْحَانُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Isbat Azab Al Qabar · Book › Chapter on informing the Mustafa, peace and blessings of God be upon him, by saying the funeral after the examination · Hadith 42
