تمیم بن سلمہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابو الدرداء دین کے پاس آیا۔ آپ بیمار تھے تو اس نے کہا: اے ابو درداء ! آپ آج ، دنیا سے جدائی کے کنارے پر ہیں، لہذا مجھے کسی ایسی بات کا حکم دیجئے جسے میں یاد رکھوں اور اللہ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے تو انھوں نے فرمایا: تو عافیت میں ہے ۔ پس نماز قائم کر ، اگر تیرے پاس مال ہے تو اس کی زکوۃ ادا کر اور رمضان کے روزے رکھ اور فاحش (بے حیائی کے ) کاموں سے بیچ جا، پھر تجھے (جنت کی ) خوشخبری ہے۔ اس آدمی نے اپنی بات دہرائی تو ابو درداء (ع) نے فرمایا: بیٹھ اور جو میں کہتا ہوں اسے یاد رکھ۔ ایک دن تیرے اوپر ایسا آئے گاکہ زمین میں سے تجھے صرف دو ہاتھ چوڑی چار ہاتھ لمبی جگہ ہی میسر آئے گی۔ تیرے گھر والے دوست اور بھائی جو تیری جدائی نہیں چاہتے ، وہ تیرے لئے ایک عمارت ( یعنی قبر ) بنا کر اس پر مٹی زیادہ ڈالیں گے ۔ پھر تجھے چھوڑ کر چلے جائیں گے ۔ پھر تیرے پاس کالے، نیلے، گھنگھریالے بالوں والے دو فرشتے آئیں گے جن کے نام منکر اور نکیر ہیں وہ تجھے بٹھا کر سوالات کریں گے۔ تو کیا ہے؟ یا تو کس ( دین اور عقیدے) پر تھا؟ یا تو اس آدمی کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ پس اگر تو نے یہ کہہ دیا کہ اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں ، میں نے لوگوں کو ایک بات کرتے سنا تو لوگوں کی بات میں نے کہہ دی تو اللہ کی قسم! تو گر گیا اور ہلاک ہو گیا۔ اور اگر تو نے کہہ دیا: محمد (س ) اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے ان پر اپنی کتاب نازل کی تو میں آپ پر اور جو دین آپ لے کر آئے ایمان لے آیا تو اللہ کی قسم ! تو بچ گیا اور ہدایت یافتہ بن گیا اور تو اس کی طاقت نہیں رکھے گا۔ مگر صرف اس حالت میں کہ اللہ تجھے ثابت قدم رکھے۔ تو بڑی سختی اور خوفناک حالت دیکھے گا۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 229
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 230
عائشہ () نے فرمایا: بے شک کا فر پر اس کی قبر میں ایک گنجا سانپ مسلط کیا جاتا ہے جو اس کے سر سے لے کر اس کے پاؤں تک کا گوشت کھاتا ہے ، پھر اسے دوسرا ( نیا) گوشت دے دیا جاتا ہے تو وہ پاؤں سے لے کر سر تک کھاتا ہے اور یہی حالت جاری رہتی ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 231
اسماء بنت ابی بکر () سے روایت ہے کہ وہ ایک عورت کے پاس حاضر تھیں جو کہ مر رہی تھی تو وہ اسے کہنے لگیں : بے شک تجھ سے تیرے رب اور نبی ﷺکے بارے میں سوال ہوگا تو تو اس کا اقرار کرنا ( اور مثبت جواب دینا۔)
أُمِّ خَارِجَةَ مَوْلَاةِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ← عمر بن عبد الله بن عروة بن الزبير ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْأَسْلَمِيُّ ← مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُوسَعِيدٍ
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 232
ابن عباس () سے روایت ہے کہ انھوں نے آیت : يُثْتُ الله الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّلِمِينَ )) اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول کے ساتھ دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ اور ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے ۔ " (١٤/ ابراهیم : ۲۷) کی تشریح میں فرمایا: جب مومن پر موت (قریب) آتی ہے تو اس کے پاس فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اسے سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبریاں دیتے ہیں۔ پھر جب وہ فوت ہو جاتا ہے وہ اس کے جنازے کے ساتھ چلتے ہیں، پھر لوگوں کے ساتھ اس کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔ جب اسے دفن کیا جاتا ہے تو وہ قبر میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ اسے کہا جاتا ہے: تیرا رسول کون ہے؟ وہ کہتا ہے : محمد سی ایام ہیں۔ کہا جاتا ہے : تیری گواہی کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں تو اس کی قبر تا حد نظر کھول دی جاتی ہے اور کافر پر فرشتے نازل ہوتے ہیں تو اس کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں ، پھیلانے سے مراد مارنا ہے ۔ وہ موت کے وقت ان کے چہروں اور پٹھوں کو مارتے ہیں۔ جب اسے قبر میں داخل کیا جاتا ہے ، اسے کہا جاتا ہے : تیرا رب کون ہے؟ وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ اللہ اسے اس کا ذکر بھلا دیتا ہے اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ تیری طرف جو رسول بھیجا گیا تھا وہ کون ہے؟ تو اسے نام نہیں آتا۔ وہ انھیں کوئی (صحیح جواب نہیں دیتا۔ اس کے لئے اللہ فرماتا ہے کہ: وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ "الله ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے۔"
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 233
ابن عمر () سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں غزوہ ابواء سے واپس لوٹ رہا تھا کہ میں ( کچھ ) قبروں کے پاس سے گزرا ۔ ایک آدمی ( اچانک ) قبر سے نکل کر میری طرف آیا۔ اسے آگ لگی ہوئی تھی ۔ اور اس کی گردن میں ایک زنجیر تھی جسے وہ گھسیٹ رہا تھا اور کہہ رہا تھا: اے عبداللہ ! ( اللہ کے بندے) مجھے پانی پلاؤ، اللہ تجھے پانی پلائے۔ اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ اس نے مجھے (پہچان کر ) عبداللہ کہا یا ویسے ہی کہہ دیا جیسے ایک آدمی دوسرے آدمی کو : اے اللہ کے بندے! کہہ کر پکارتا ہے۔ اس شخص کے پیچھے ایک کالا شخص نکلا جس کے ہاتھ میں کانوں والی ٹہنی تھی اور وہ کہ رہا تھا۔ اے عبداللہ! اسے پانی نہ پلانا کیونکہ یہ کافر ہے ۔ پھر اس ( کالے) شخص نے اسے پکڑ کیا ۔ اس کی زنجیر لے کر اس ٹہنی سے اسے مارتا ہوا دوبارہ قبر میں لے گیا۔ میں ان دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا حتی کہ وہ قبر میں غائب ہو گئے ۔ یہ قصہ ایک دوسری سند سے بھی مردی ہے اور صحیح آثار کافی ہیں۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 234
انس بن مالک () سے ایک آدمی نے کہا: اے ابو حمزہ ! بے شک کچھ لوگ عذاب قبر کا انکار ( تکذیب ) کرتے ہیں تو انھوں نے فرمایا: پس تم ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔ اور راوی نے (لمبی) حدیث بیان کی۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 235
الحسن بن ابی الحسن البصری (تابعی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنےسفید خچر پر (جارہے) تھے کہ وہ بدک گیا تو آپ نے فرمایا: " ( یہ ) بدک گیا ہے اورکسی بڑی بات سے نہیں ۔ یہ اس آدمی سے بد کا ہے جسے چغلی کی وجہ سے قبر میں عذاب ہو رہا ہے اور دوسرے کو غیبت کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 236
اس سند کے ساتھ ابراہیم مخفی سے روایت ہے کہ بے شک دو آدمیوں پر قبر میں عذاب ہو رہا تھا، ان کے ہمسایوں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی تو آپ نے فرمایا: " دو بنیاں لے کر ہر ایک قبر میں رکھ دو، جب تک یہ تازہ (سبز ) رہیں گی ان کا عذاب اٹھ جائے گا ( یعنی موقوف رہے گا۔ )‘ ان سے پوچھا گیا کہ انھیں کس وجہ سے عذاب ہوا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: " چغلی اور پیشاب کی وجہ سے ۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 237
اسی سند کے ساتھ سعید ( ابن ابی عروبہ ) سے روایت ہے کہ مادہ (تابعی) نے فرمایا: (مسلمانوں کے لئے ) عذاب قبر تین چیزوں سے ہوتا ہے۔ نیبت، چغلی اورپیشاب سے ، ہر ایک کا حصہ ایک تہائی ہے۔
قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← وَبِإِسْنَادِهِ
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 238
ابو ہریرہ () سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: " بے شک عذاب قبر کے تین اسباب ہیں، غیبت، چغلی اور پیشاب اور تم ان تین چیزوں سے بچو۔“ ( بہتی نے کہا: ) صحیح روایت قتادہ والی ہے ( جو رقم: ۲۳۶ کے تحت گزر چکی ہے ) اور اس معنی کی صحیح احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 239
یزید بن عبد الله بن الشخير (تابعی) سے روایت ہے کہ آدمی ایک زمین کے کسی حصے میں چل رہا تھا کہ وہ ایک قبر تک پہنچا تو اس نے قبر والے کو آہ آہ کرتے سنا، پھر وہ اس کی قبر پر کھڑے ہو گئے تو کہا: تجھے تیرے عمل نے ذلیل کر دیا اور تو ذلیل ہو گیا۔ ترجمه ختم (۲۳/ اگست ۲۰۰۲) الرياض جزيرة العرب
Isbat Azab Al Qabar · Book › The chapter of what the sack of the predecessors brought to me, may God be pleased with them, attested to the proof of the torment of the graves, and what they feared from the horror of the horror. · Hadith 240