إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَمَنِّي مَنْ غُفِرَ لَهُ أَنْ يُعْلِمَ قَوْمَهُ بِمَا أَكْرَمَهُ اللَّهُ بِهِ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ {قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي · حديث 213
213 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثَنَا تَمْتَامٌ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثَنَا أَبُو عُمَرَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالَهُ حَرَامَ بْنَ عُثْمَانَ أَخَا أُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى بَنِي عَامِرٍ فَلَمَّا قَدِمُوا قَالَ لَهُمْ خَالُهُ: أَتَقَدَّمُكُمْ فَإِنْ أَمَّنُونِي حَتَّى أُبَلِّغَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَّا كُنْتُمْ قَرِيبًا، فَتَقَدَّمَ فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَوْمَؤُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَطَعَنَهُ فَأَنْفَذَهُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ مَالُوا عَلَى بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ فَقَتَلُوهُمْ، إِلَّا رَجُلٌ أَعْرَجُ كَانَ فِيهِمْ، فَصَعِدَ الْجَبَلَ قَالَ: فَحَدَّثَنَا أَنَسٌ " أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَأَخْبَرْهُ أَنَّهُمْ لَقُوا رَبَّهَمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ قَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ «بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا» قَالَ: ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ أَبِي عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ إِسْحَاقَ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ
انس سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہﷺ نے ان کے ماموں حرام بن عثمان، ام سلیم کے بھائی کو بنو عامر کی طرف ستر آدمیوں کے ساتھ بھیجا۔ جب وہ آئے تو انھیں ان کے ماموں نے کہا: میں تم سے پہلے جا کر انھیں رسول اللہ ﷺ کی دعوت پہنچاتا ہوں تم قریب رہنا، اگر انھوں نے مجھے کچھ نہ کہا ( تو تم بھی آ جانا ) پھر دو ان کے پاس گئے اور انھیں ( بنو عامر ) کو رسول اللہ سلام کی دعوت پہنچانے لگے۔ اس دوران میں ان لوگوں نے ایک آدمی کو اشارہ کیا تو اس نے (حرام بن عثمان پر حملہ کر کے زخمی کر دیا۔ گرتے وقت انھوں نے کہا: اللہ اکبر، کعبہ کے رب کی قسم ! میں جیت گیا ہوں۔ پھر اس قبیلے والوں نے بقیہ صحابہ پر حملہ کر کے انھیں بھی شہید کر دیا، سوائے ایک لنگڑے آدمی کے جو کہ پہاڑ پر چڑھ گیا تھا۔ پھر انس میں ہوا بیان کرتے ہیں کہ جبریل نے آ کر نبی ﷺ کو ان ( شہداءکی خبر دی اور بتایا کہ وہ اپنے رب سے ملے، ان کا رب ان سے راضی ہے اور اس نے انھیں راضی کر دیا ہے۔ انس جی ہنڈا نے فرمایا: قرآن میں یہ بھی تلاوت کیا جاتا تھا کہ ہماری قوم کو بتاؤ کہ ہماری اپنے رب سے ملاقات ہوئی تو وہ ہم سے راضی ہے اور ہم اس سے راضی ہیں۔ بعد میں اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔ نبی صلی الہ ہم چالیس دن صبح کی نماز میں، ان (کافر قبائل ) ریل ، ذکوان اور عصیہ ، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی پر بددعا فرمائی۔ اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔
أَنَسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامٌ، ← أَبُو عُمَرَ ← تَمْتَامٌ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door wishing to forgive him to teach his people what God has honored him by God, said the bulk of Hereafter those who blessed him for forgiveness {was said to Paradise, said Oh national know what forgave me my Lord and made me of the honored} [Yassin: · Hadith 213
