إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا يُرْجَى فِي قِرَاءَةِ سُورَةِ الْمُلْكِ مِنَ الْمَنْعِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ · حديث 147
147 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَأُتِيَ مِنْ جَوَانِبِ قَبْرِهِ، فَجَعَلَتْ سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ تُجَادِلُ عَنْهُ حَتَّى مَنَعَتْهُ قَالَ: فَنَظَرْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ فَإِذَا هِيَ سُورَةُ الْمُلْكِ "
سید نا عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ سورۃ تبارک الملک ) روکنے والی ہے۔ وہ اللہ کے اذن سے عذاب قبر سے روکے گی۔ جب آدمی کے سر کی طرف سے آیا جاتاہے تو یہ اسے ( عذاب کے فرشتے کو ) کہتی ہے: تجھے اس پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس نے سورت الملک میں دعا کی ہے۔ اس کے پاؤں کی طرف سے آیا جاتا ہے تو پاؤں کہتے ہیں: یہاں سے تم نہیں آسکتے۔ بلاشبہ یہ رات کو قیام کرتا تھا، پھر اس نے زیادہ کیا اور بہت اچھا کیا۔
عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Isbat Azab Al Qabar · Book › Chapter on what is requested in the reading of Surat Al-Mulk, to prevent the torment of the graves. · Hadith 147
