إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَخْلُقُ عَلَى مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا أَحْوَالًا لَا نُشَاهِدُهَا وَلَا نُدْرِكُهَا يَتَنَعَّمُ فِيهَا قَوْمٌ وَيَتَأَلَّمُ آخَرُونَ قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِيمَنْ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ بِالْإِيمَانِ وَا · حديث 97
97 - وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟» قَالَ: فَإِنْ رَأَى أَحَدٌ قَصَّهَا، فَيَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ: «هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟» قُلْنَا: لَا قَالَ: " لَكِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُقَدَّسَةٍ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَرَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدِهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ يُدْخِلُهُ فِي شِدْقِهِ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ ثُمَّ يَفْعَلُ بِشِدْقِهِ الْآخَرِ مِثْلَ ذَلِكَ وَيَلْتَئِمُ شِدْقُهُ هَذَا فَيَعُودُ فَيَضَعُ الْكَلُّوبَ مِثْلَهُ، قُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى قَفَاهُ وَرَجُلٍ قَائِمٍ عَلَى رَأْسِهِ بِفِهْرٍ أَوْ صَخْرَةٍ فَيَشْدَخُ بِهِ [ص:77] رَأْسَهُ، فَإِذَا ضَرَبَهُ تَدَهْدَهَ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ لِيَأْخُذَهُ فَلَا يَرْجِعُ إِلَى هَذَا حَتَّى يَلْتَئِمَ رَأْسُهُ وَعَادَ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ فَعَادَ إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقِ انْطَلَقْ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى بَيْتٍ مِثْلِ التَّنُّورِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَّدُ تَحْتَهُ نَارًا، فَإِذَا اقْتَرَبْتِ ارْتَفَعُوا حَتَّى كَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا، فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا وَفِيهَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى شَاطِئِ النَّهَرِ وَرَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَأَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ؛ فَرَمَى الرَّجُلَ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ، فَجَعَلَ كُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ؛ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَفِي أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ، وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنَ الشَّجَرَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يُوقِدُهَا فَصَعِدُوا بِيَ إِلَى الشَّجَرَةِ وَأَدْخِلَانِي دَارًا لَمْ أَرْ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا، فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ، وَشَبَابٌ وَنِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ، ثُمَّ أَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةِ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَفْضَلُ وَأَحْسَنُ، فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ، قُلْتُ: طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ قَالَا: نَعَمْ، الَّذِي رَأَيْتَهُ يَشُقُّ شِدْقَهُ فَكَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْكَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعَ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يَشْدَخُ رَأْسَهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ، يَفْعَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُوا الرِّبَا وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهُ أَوْلَادُ النَّاسِ، وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ، وَالدَّارُ الْأُولَى الَّتِي دَخَلْتَ دَارَ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ، وَأَنَا جِبْرِيلُ، وَهَذَا مِيكَائِيلُ، فَارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ قَالَا: ذَاكَ مَنْزِلُكَ، قُلْتُ: دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي قَالَا: إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَهُ أَتَيْتَ مَنْزِلُكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ
ابوامامہ البائلی () سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ( یہ ) فرماتے سنا :’ ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا کہ دو آدمی آئے اور مجھے بازو سے پکڑ کر ( اوپر ) لے گئے وہ ایک بے آب و گیاہ پہاڑ کے پاس پہنچے تو مجھے کہا، پڑھو۔ میں نے کہا. میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، تو انھوں نے کہا ہم اسے آپ کے لیے آسان کر دیں گے ( آپ کوشش تو کریں) پھر جب میں چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں پہاڑ کے درمیان میں بڑی سخت آواز میں ہیں۔ میں نے کہا یہ کون کی آوازیں ہیں ؟ انھوں نے کہا یہ دوزخیوں کی جیتیں ہیں۔ پھر وہ مجھے لے گئے تو ہمارا گزر ایک ایسی قوم سے ہوا جنہیں الٹا لٹکایا گیا تھا۔ ان کے ہونٹ چیرے جا رہے تھے جن سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: ( رمضان میں ) روزہ کھلنے سے پہلے ہی کھاتے پیتے رہتے تھے (یعنی روزے نہیں رکھتے تھے ) ابو امامہ (یہ) نے فرمایا: یہود اور نصاری تباہ ہو گئے۔ ﷺ ( بن عامر ، تابعی) نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں کہ یہ الفاظ ابو امامہ (لاہور) کے اپنے الفاظ ہیں یا انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کئے ہیں۔ پھر وہ مجھے ایک قوم کے پاس لے گئے جن کے پیٹ پھولے ہوئے اور سخت بدبودار تھے۔ ان کا انتہائی برا منظر تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ کہا۔ یہ وہ کافر ہیں جو میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ پھر وہ مجھے ایک ایسی قوم کے پاس لے گئے جن کے پیٹ پھولے ہوئے تھے حال انتہائی برا تھا اور پاخانے سے زیادہ گندی ہوتی۔ میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ زانی مرد اور زانی عورتیں ہیں، پھر وہ مجھے ایک جگہ لے گئے جہاں عورتوں کے پستانوں کو سانپ نوچ رہے تھے۔ میں نے کہا: یہ کون ہیں؟انھوں نے کہا: یہ وہ عورتیں جو ( جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے ) اپنی اولاد کو دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ پھر وہ مجھے بچوں کے پاس لے گئے جو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے۔میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: یہ مؤمنوں کے بچے ہیں۔ پھر وہ مجھے اوپر لے گئے۔ دیکھا کہ تین آدمی (جنت کی ) شراب پی رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ جعفر بن ابی طالب ) ، زید بن حارثہ ) اور ( عبداللہ بن رواحہ ہیں ۔ پھر وہ مجھے اور اوپر لے گئے تو میں نے تین آدمی دیکھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں ؟ کہا: یہ ابراہیم ، موسٰی اور عیسی علیہم السلام ہیں اور آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
فَإِنْ رَأَى أَحَدٌ قَصَّهَا ← مَنْ رَأَى مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ← کَانَ النَّبِيُّ إِذَا صَلَّی صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وَذَلِكَ فِيمَا
Isbat Azab Al Qabar · Book › The evidence that God Almighty door creates a worldly difference in conditions of life do we see and reckon with the sumptuously people and suffer others Allah exalted one who said blessed them with faith and righteousness: {descend upon them the angels d · Hadith 97
