عبادہ بن الصامت ﷺ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے ،اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ کی ملاقات کو نا پسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے ۔عائشہ (یا) یا آپ کو بیویوں میں سے کسی نے کہا: ہم موت کو نا پسند کرتے ہیں ۔ آپ نےفرمایا: یہ بات نہیں ہے لیکن مومن کی جب موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کی رضامندی اور اچھے سلوک کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو اسکے سامنے اس سے زیادہ پیاری کوئی چیز ہیں ہوتی ۔ پس وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ کافر کی موت کا جب وقت آ تا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور سزا کی خبر دی جاتی ہے تو اس کے سامنے اس سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ پس وہ اللہ سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے ۔ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے ۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 37
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 38
عائشہ دنیا سے روایت ہے کہ رسول اللہ سلم نے فرمایا: ”مرے ہوۓ لوگوں کو برا نہ کہو، کیونکہ بے شک انھوں نے آگے جو بھیجا ہے اس تک پہنچ گئے ہیں ۔ اسے بخاری نےروایت کیا ہے ۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 38
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 39
عثمان کے غلام ہانی سے روایت ہے کہ : عثمان ؛ جب کسی قبر کے پاس گھڑے ہوتے تو اتنا روتے حتی کہ آپ کی داڑھی بھیگ جاتی ۔ آپ سے کہا گیا: آپ جنت اور جہنم کو یا دکر کے اتنانہیں روئے جتنا اس ( قبر ) سے روتے ہیں؟انھوں نے فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے ۔ اگر آدمی اس سے بچ گیا تو اس کے بعد بہت آسانی ہے ۔اور اگر اس میں بیچ نہ سکا تو اس کے بعد بہت ہی برا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”میں نے جتنے منظر دیکھے ہیں ان میں قبر ( کا منظر سب سے زیادہ ہولناک ہے ۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 39
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 40
عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ میم ایک جنازے کے ساتھ ایک قبر کے پاس سے گزرے۔میت کو دفن کیا جار ہاتھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اللہ سے اس کی ثابت قدمی کا سوال کرو، کیونکہ اب اس سے سوال و جواب ہونے والے ہیں ۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of the descent of the angels at death Bbhry the believer and intimidation infidel Allah said Hereafter {those who say, our Lord God, and true to descend upon them the angels do not be afraid and do not grieve and rejoice in Paradise that you were · Hadith 40
إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ التَّرْغِيبِ فِي السِّوَاكِ · حديث 41
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: '' جنازے کو جلدی لے جاؤ ، کیونکہ اگر وہ نیک تھا تو تم اسے خیر ( اور بہتری کی طرف لے جار ہے ہوا اور اگر وہ اس کے علاوہ ( یعنی برا تھا تو تم ( جلدی ) اپنی گردنوں سے برا بو جھا تار رہے ہو۔‘ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔باب ۲ : مصطفی ﷺ کا خبر دینا کہ (مرنے والا معاینے کے بعد کلام کرتا ہے
ابوسعید الخدری پانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جب جنازے کو ( میت کو چار پائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گروٹوں ( کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں ، پھر اگر وہ نیک تھا تو کہتا ہے : مجھے جلدی لے جاؤ ۔ اگر برا تھا تو کہتا ہے : ہاۓ خرابی کہاں لے جا رہے ہو؟ اس کی آواز کو انسان ( اور جن کے علاوہ ( اردگرد کی ہر چیز سنتی ہے اور اگر اسے انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے ۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے ۔ باب : اس کی دلیل کہ میت کے جسم میں ( برزخی طور پر ) اس کی روح لوٹائی جاتی ہے، پھر مومن کو ثواب اور کافر کو عذاب ملتا ہےاللہ تعالی نے شہیدوں کے بارے میں فرمایا: ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون و فرحين بما أنهم الله من فضله ويستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الاخوف عليهم ولا هم يحزنون * * ” جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں انھیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں انھیں رزق دیا جا تا ہے ۔ اللہ نے انھیں جونعمتیں بخشی ہیں ان پرو و خوش ہیں اور ان لوگوں کو خو شہر کی دینا چاہتے ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں اور ( شہید ہوکر )ان سے مل نہیں سکے کہ انھیں نہ کوئی خوف ہے نہ کوئی غم ہے (ال عمران:۱۲۹۔۱۷۰) اور (اللہ تعالی نے ) کافروں کے بارے میں فرمایا: و إن الذين كفروا ينادون لمقت الله أكبر من مقتكم أنفسكم إذ تدعون إلى الإيمان فتكفرون قالوا ربنا أمتنا اثنتين و أحييتنا اثنتين فاعترفنا بذنوبنا فهل إلى خروج من سبيل نھیں پکار کر کہا جاۓ گا: اللہ کی ناراضی و بیزاری ( آج) تمھاری اپنے آپ پر ناراضی و بیزاری سے بڑھ کر تھی ۔ جب ( دنیا میں تمھیں ایمان کی طرف بلا یا جا تا تھا تو تم انکار کر دیتے تھے۔ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دوبارہ موت دی اور تو نے ہمیں دوبارہ زندہ کیا تو ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں ، پھر گیا ( اس عذاب سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ (المؤمن : ۱۰۔۱۱) محمد بن کعب القرظی سے نقل کیا جا تا ہے کہ انھوں نے کہا: میکافروں کا قول ہے ۔ پس کافر کی پہلی موت دنیا میں اس کی زندگی کے بعد کفر پر موت ہے ۔اور دوسری ( قیامت والی موت ہے ۔ اور دوزندگیوں سے مراد ایک زندگی موت کے بعد قبر والی ہے اور دوسری زندگی قیامت کے دن والی ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › Chapter on informing the Mustafa, peace and blessings of God be upon him, by saying the funeral after the examination · Hadith 42
محمد بن کعب ( القرظی ) سے مروی ہے کہ کافر کا جسم زندہ اور دل مردہ ہوتا ہے اور یہ ہے اللہ کے فرمان: « آو من كان ميتا فأحيينہ کہ کیا ایک ایسا شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندی کیا ۔“ (انعام:۱۲۲) کا مطلب ہے ۔ ( پھر کہا: کیا پس جو کافر تھا تو ہم نے اسے ہدایت دے دی۔ پس کافر کی موت اور زندگی ، اس کی مرنے کے بعد کی زندگی ہے جس میں نہ کھا تا ہے اور نہ پیتا ہے ، پھر اس کی قیامت کے دن کی زندگی ہے۔ ( امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا: ) اور دوسروں سے مروی ہے کہ دوموتوں میں سے ایک اس کی دنیا کی زندگی کے بعد والی موت اور دوسری موت اس وقت ہوگی جب صور میں پہلی دفعہ پھونک ماری جائے گی ۔اور اس کی دو زندگیوں میں سے ایک زندگی موت کے بعد ( قبروالی ) ہے جس میں دوفرشتے سوال جواب کرتے ہیں اور اسے عذاب کا احساس ہوتا ہے اور دوسری زندگی قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے والی زندگی ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them · Hadith 43
براء بن عازب ان سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری آدمی کے جنازے کے لئے نکلے ( جنازے سے فارغ ہو کر ہم قبر تک پہنچ گئے ۔ قبر کھودی جارہی تھی ، پھر رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے ۔ ( ہم ایسے چپ تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ (زمین کو کرید رہے تھے ۔ پھر آپ نے سراٹھایا اورفرمایا: دو عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو ، کیونکہ جب مؤمن آدمی دنیا سے خاتمے اور آخرت کی پہلی منزل پر ہوتا ہے (تو) آسمان سے اس کے پاس سفید چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں ۔(انکے چہرے چمک رہے ہوتے ہیں گویا کہ سورج کی طرح ہیں ۔ ان کے پاس جنت کی خوشبوئیں اور جنتی کفن ہوتے ہیں ۔ (فرشتہ ) اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے: اے نفس مطمئنہ!اللہ کی مغفرت اور رضامندی کی طرف نکل آ ۔ اس کی روح اس طرح ( آسانی سے نکلتی ہے جس طرح ( پانی کی ) مشک سے ( پانی کا قطرہ بہہ جا تا ہے ۔ پھر وہ اسے لیتا ہے ۔ جب وہ اسے لے لیتا ہے تو وہ اس کے ہاتھ میں پلک جھپکنے تک بھی نہیں چھوڑ تے حتی کہ وہ اس کو لے کر اس کفن اور خوشبو میں رکھتے ہیں ، پھر اس سے بہترین مشک ( کافور ) کی خوشبو ، جو کہ زمین پر پائی جاتی ہے نکلتی ہے۔ پھر وہ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں وہ یہی کہتے ہیں ، یہ پاک خوشبو کون سی ہے؟ تو وہ کہتے ہیں : فلاں کا بیٹا فلاں ہے وہ دنیا میں اس کے اچھے نام کے ساتھ پکارتے ہیں حتی کہ وہ اسے آسمان دنیا تک لے جاتے ہیں ۔ درواز ہ اس کے لئے کھل جاتا ہے ، پھر ہر آسمان سے اس کے مقرب فرشتے دوسرے آسمان تک لے جاتے ہیں حتی کہ وہ اسے ساتو میں آسمان کے دروازے تک لے جاتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالی فرماتا ہے: میرے بندے کی کتاب کو ساتو میں آسمان میں علمین میں درج کرو۔ اور اسے زمین پر واپس لے جاؤ، بے شک میں نے انھیں اس ( زمین سے پیدا کیا اور میں اس میں انھیں لوٹاؤں گا اور اسے اس سے دوبارہ نکالوں گا ۔ پھر اس کی روح ( برزخی طور پر ) اسکے جسم میں لوٹائی جاتی ہے تو دوفرشتے آ کر اسے بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے : میرا رب اللہ ہے ، وہ کہتے ہیں : تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے۔ وہ کہتے ہیں: میں آدمی کون ہے جو تمہارے درمیان بھیجا گیا ؟ تو وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں تجھے اس کا علم کس طرح ہوا ؟ تو وہ کہتا ہے : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی تو اس پر ایمان لے آیا اور تصدیق کی ۔ پھر آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، اس کے نیچے جنت کا بچھونا پھیلا دواور اسے جنت کا لباس پہنا دو ۔ اور جنت کی طرف اس کے لئے دروازہ کھول دو تا کہ جنت کی بہترین ہوائیں اور خوشبوئیں اس کے پاس آ ئیں اور اس کی قبر کو حد نظر تک ( کھول کر پھیلا دیا جا تا ہے۔ اور اس کے پاس خوبصورت چہرے اور پاک خوشبو والا ایک آدمی آ تا ہے اور کہتا ہے: مجھے اس چیز کی خوشخبری ہو جو تجھے خوش کر دے گیا ۔ یہ ہے تیرا دن جس کا تجھ سے وعد و کیا جا تا تھا۔ وہ کہتا ہے : تو کون ہے؟ تیرا چہرہ ایسا ہے جیسے کوئی خیر (اور بہت اچھی خبر لے کر آ تا ہے؟ تو وہ کہتا ہے : میں تیرا نیک عمل ہوں ۔ تو وہ کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت کھڑی کر دے تا کہ میں اپنے گھر والوں اور ( مال ومتاع ) کے پاس لوٹ جاؤں ۔ فرمایا: اور کافر جب دنیا سے اختتام اور آخرت کے شروع میں ہوتا ہے ( تو آسمان سے اس کے پاس کالے چہروں والے فرشتے ، ایک گندا کفن لے کر اتر تے ہیں حتی کہ وہ اس سے تاحد نظر تک بیٹھ جاتے ہیں ، پھر موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتا ہے : اے خبیث روح ! اللہ کے غصے اور غضب کی طرف نکل آ ۔ وہ ( روح ) اس کے جسم میں تڑپتی ہے تو وہ اسے نکالتے ہیں ۔ اس کے ساتھ پیچھے اور رگیں بھی کبھی چلی آتی ہیں جس طرح کہ لوہے کی (گرم) سلاخ کو گیلی اون ( میں ) سے ( رکھ کر ) نکالا جاتا ہے ۔ پھر وہ اسے لے کر اس گندے کپڑوں کے کفن میں رکھتے ہیں۔ فرمایا: و وزمین پر ملنے مردار ہیں ان سے زیادہ بد بودار حالت میں اس کے جسم سے نکلتی ہے ۔ پھر وہ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں ۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ کون سی خبیث روح ہے؟ تو وہ کہتے ہیں : فلاں کا بیٹا فلاں ہے ۔ وہ اس کا وہ نام لیتے ہیں جو دنیا میں (اس کے نزدیک انتہائی برا تھا۔ پھر اس کے لئے ( آسمان کا دروازہ کھلوایا جا تا ہے تو ( دروازہ نہیں کھلتا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت : ولا تفتح لهم أبواب السماء ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں : (الاعراف: ۴۰ ) آخر تک پڑھی۔ فرمایا: تو اللہ کہتا ہے : اس کی کتاب کو ساتو میں زمین کے نچلے حصے میں رکھ دو۔ اسے زمین پر لے جاؤ۔ میں نے یقینا انھیں اس سے پیدا کیا اور اس میں لوٹاؤں گا اور دوبارہ اسی سے زندہ کروں گا۔ پھر اس کی روح کونتی سے پھینک دیا جا تا ہے، پھر رسول اللہ ﷺ نے ( یہ آیت تلاوت فرمائی: «و من يشرك بالله فكانما خر من الشماء فتخطفة القير أو تهوى به الريح في القير أو تهوى به الريح في مكان سحیقہ اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آسمان سے گرا، پھر اسے پرندوں نے اچک لیا، اور ہوا اسے دور دراز مقام پر گرا دیتی ہے ۔ (الج (۳) پھر اس کی روح اس کے جسم میں ( برزخی طور پر لوٹائی جاتی ہے ۔ فرمایا : پھر دوفرشتے آ کر اسے بٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں: تیرارب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے : ہائے ہاۓ ! مجھے پیڈ نہیں ،تو وہ اسے کہتے ہیں۔ یہ آدمی کون ہے جو تمہارے اندر بھیجا گیا تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : ہاۓ ہاۓ ! مجھے پیڈ نہیں ۔ پھر آسان سے آواز دینے والا آ واز دیتا ہے اس نے جھوٹ کہا: اس کے نیچے آگ کا بچھونا بچھا دو، اور اسے آگ کا لباس پہنا دو اور ( جہنم کی ) آگ کی طرف اس کے لئے دروازہ کھول دو۔ جہنم کی گرمی اور مسموم ( زہریلی ہوائیں اس کے پاس آتی ہیں ۔ اور اس پر اس کی قبر تنگ ہو جاتی ہے۔ حتی کہ اس کی پہلیاں ایک دوسرے میں دھنے لگتی ہیں اور ایک بدصورت اور بد بودار آدمی اس کے پاس آ کر کہتا ہے : تجھے اس بات کی خوشخبری ہو جو تجھے (انتہائی بری لگے گی ۔ یہ ہے تیرا وہ دن جس کا تجھے سے وعدہ کیا جا تا تھا۔ ( تو وہ کہتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ ایسے آدمی کا چہرہ ہے جو بری خبر لے کر آتا ہے ) وہ کہتا ہے، میں تیرا خبیث عمل ہوں ۔ تو وہ کہتا ہے : اے میرے رب! قیامت نہ کھڑی کرنا ۔ اے میرے رب ! قیامت کھڑی نہ کرنا ۔
الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ← سعدان بن نصر المخرمي ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد عبد الله بن يوسف بن أحمد الأصبهاني
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them · Hadith 44
حذیفہ نے فرمایا: روح فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور جسم بھڑک رہا ہوتا ہے ۔ پھر وہ جب اسے اٹھاتے ہیں تو (اس کی نظر ان کے پیچھے جاتی ہے ۔ پھر جب (لاش کو قبر میں رکھ دیا جا تا ہے تو روح کو اس میں لوٹا دیا جا تا ہے۔ باب ۸: اس بات کی دلیل کہ ( میت سے ) سوال و جواب کے بعد صبح و شام اس پر اس کا ٹھکانہ پیش کیا جا تا ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا: النار يعرضون عليها غدوا وعشيا و يوم تقوم الساعة أدخلوا إلى فرعون اشد العذاب ) اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا ۔ آگ پر وہ صبح وشام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت قائم ہوگی ( تو کہ جاۓ گا ) آل فرعون کو (آج ) سب سے سخت عذاب میں داخل کر دو ۔ [المومن:۴۷ ]
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door of proof that his spirit returned to his body and then asks Withab insured and punishes the infidel God, said the bulk of Hereafter {Think not of those killed in the way of Allah dead, but alive with their Lord rejoice in what God hath given them · Hadith 45
Isbat Azab Al Qabar · Book › Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46] · Hadith 46
قادہ بن دعامہ ( تابعی ) نے فرمایا: (اس پر پیدوارد ہے کہ انھیں کہا جا تا ہے :اے آل فرعون ! یہ ہیں تمہارے ٹھکانے ، تاکہ انھیں ڈانٹا جاۓ ، ذلیل کیا جائے اور ان سے ( ان کے کفر کا انتقام لیا جاۓ ۔ ٤٣) حســـــن، سالم بن ابی الجعد کے حد این بلال سے سارع میں نظر ہے لیکن اس روایت کے بہت سے شواہد ہیں مثلا دیکھئے حدیث سابق:19 44) اس کی سند عبد اللہ بن ابی شیخ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن اس کا مفہوم دوسرے دلائل کی رو سے صحیح ہے، اسے ابن جریر طبری ( ۴۴/ ۱۱/۲۷) نے بھی روایت کیا ہے ۔ ٤٥) سیروایت سعید بن ابی عروبہ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن اس کا مفہوم دوسری احادیث سے ثابت ہے۔ اس روایت کو ابن جریر ( ۲۴/ ۴۷ ) نے بھی بیان کیا ہے ۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46] · Hadith 47
ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک جب تم میں سے کوئی مر جا تا ہے تو صبح وشام اس پر اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اسے کہا جا تا ہے : تیرامی ل کا نہ قیامت تک ہے بھی کہ اللہ تجھے دو بار وزندہ کر دے ۔ اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔
Isbat Azab Al Qabar · Book › Guide the door on that after the question presented to his seat morning and evening, said Allah exalted {and catch Pharaoh ill torment fire offering them incapacitated, morning and evening and on the time admitted to Pharaoh the most torment} [Ghafir: 46] · Hadith 48