إثبات عذاب القبر وسؤال الملكين · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي النَّمِيمَةِ وَالْبَوْلِ · حديث 121
121 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ، فَتَنَزَّهُوا مِنَ الْبَوْلِ»
ابوہریرہ () سے (ہی) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺایک قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے رک گئے ۔ پھر فرمایا: " دو شبنیاں (کھجور کی ) لے آؤ۔ پھر آپ نے ایک مبنی قبر کے سر کی طرف اور دوسری اس کے قدموں کی طرف رکھ دی۔ ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! کیا اسے (میت کو ) اس کا فائدہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: " جب تک ان میں تر و تازگی ( اور نمی ) رہے گی اس کے عذاب میں کمی رہے گی ۔"
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي يَحْيَى، ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو
Isbat Azab Al Qabar · Book › The door to the torment of graves in grace and urine · Hadith 121
