Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المعجم الصغیر للطبرانی - سنن

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan

by Tibrani

1,197 Hadith92 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 901

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما جنّت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 901

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 902

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بُرا بھلا مت کہو کیوں کہ تم میں سے کوئی آدمی اگر اُحد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کرے تو وہ ان کے ایک مد یا اس کے نصف مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 902

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 903

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام گناہ کرنے لگے جو گناہ انہوں نے کیا تھا تو اپنا سر عرش کی طرف اٹھایا اور کہا: اے اللہ! میں تجھ سے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ”محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کیا اور کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا: تیرا نام بابرکت ہے، جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا تو اچانک وہاں یہ لکھا ہوا دیکھا: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلَ اللّٰهِ تو میں نے جان لیا کہ جس کے نام کو تو نے اپنے نام کے ساتھ کیا اس سے زیادہ قدر و منزلت والا تیرے نزدیک اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: ”اے آدم! تیری اولاد سے وہ آخری نبی ہیں اور ان کی امّت تیری اولاد سے تمام امتوں سے آخر میں ہو گی، اور اے آدم! اگر وہ نہ ہوتے تو میں تجھ کو پیدا بھی نہ کرتا۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 903

Mozu

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 904

سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عز و جل نے اسراء کی رات کو مجھے علی رضی اللہ عنہ کے متعلق تین چیزوں کی وحی کی: (1) وہ تمام مومنوں کے سیّد ہیں، (2) وہ متقین کے امام ہیں، (3) اور وہ سفید ہاتھ پاؤں اور منہ والے لوگوں کے قائد ہوں گے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 904

Mozu

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 905

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میرے اہل و عیال اور بھید کی جگہ والے ہیں، ان کے نیکی کرنے والے سے ان کی نیکی قبول کرو اور ان کے برائی کرنے والے سے درگزر کرو۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 905

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 906

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی، مجھے معلوم نہیں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کی موافقت یا مخالفت کی ہو، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ اللہ کی رضا مطلوب ہوتی، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں یہ کہتی تھیں: کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے، اور یوں بھی کہتی تھیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیوں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اسے چھوڑ دو کیونکہ وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔“ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی اپنی ذات کے لیے انتقام لیتے نہیں دیکھا مگر جب اللہ کی کوئی حرمت توڑی جائے تو سخت غضبناک ہوتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب دو معاملے پیش کئے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے آسان کو لے لیتے مگر شرط یہ تھی کہ اس میں اللہ کی ناراضگی نہ ہوتی۔ اگر اللہ کی ناراضگی ہوتی تو پھر اس سے، تمام لوگوں سے بہت دور ہوتے۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 906

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 907

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مدینہ کے لیے یہ دعا کی: ”اے اللہ! ان کے صاع اور مد میں برکت ڈال۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 907

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 908

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنّت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، اور میرا منبر جنّت کے دروازوں میں ایک دروازے پر ہے۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 908

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 909

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن انبیاء چوپاؤں پر اکٹھے کئے جائیں گے تاکہ اپنی قبروں سے میدانِ حشر میں آئیں۔ صالح علیہ السلام اونٹنی پر سوار ہوں گے، میرے بیٹے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما میری اونٹنی عضباء پر جائیں گے، اور میں براق پر اٹھایا جاؤں گا جس کا ایک قدم اس کی نظر کی انتہا تک ہو گا، اور بلال جنّت کی اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی پر ہو گا، وہ اذان خالص دے گا اور شہادت کے کلموں کا بھی سچا سچا اعلان کرے گا، جب أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ کہے گا تو اگلے پچھلے تمام مومن اس کے لیے شہادت دیں گے تو جس کے لیے قبول کی گئی اس کے لیے قبول کی گئی اور جس سے واپس کی گئی اس سے واپس کی جائے گی۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 909

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 910

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر ہونا معلوم ہوا تو میں اپنی قوم کی طرف سے وفد لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینے آیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو ملا تو وہ مجھے کہنے لگے: آپ کے آنے سے تین دن قبل انہوں نے ہمیں آپ کے متعلق خوشخبری دی تھی، اور کہا: ”تمہارے پاس وائل بن حجر آئے گا۔“ (وائل کہتے ہیں) پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خوش آمدید کہا اور مجھے اپنے قریب بٹھایا اور میرے لیے اپنی چادر بچھائی اور اس پر مجھے بٹھایا، پھر لوگوں کو بلایا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور مجھے بھی منبر پر چڑھایا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور فرمایا: ”لوگو! یہ وائل بن حجر ہیں، یہ تمہارے پاس بڑے دور کے شہروں سے آیا ہے، اور یہ اپنی خوشی سے آیا ہے، اسے کسی نے مجبور نہیں کیا، اور یہ بادشاہوں کی اولاد سے باقی رہے ہوئے ہیں۔ اے وائل! تجھ میں اور تیری اولاد میں اللہ تعالیٰ برکت ڈال دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر آئے اور مجھے بھی اتار لیا، اور مجھے مدینے سے دور ایک جگہ میں مہمان رکھا اور سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مجھے ٹھہرائے، میں نکلا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی میرے ساتھ تھے، جب ہم کچھ راستہ طے کر چکے تو انہوں نے مجھے کہا: وائل! میرے پاؤں کے اندر تک شدید گرمی پہنچ چکی ہے اس لیے آپ مجھے بھی ساتھ پیچھے بٹھا لیں، میں نے کہا: میں تم پر اس اونٹنی سے بخل نہیں کرتا لیکن میں بادشاہوں کے ارداف سے نہیں، اور میں نہیں چاہتا کہ یہ عار دلایا جاؤں کہ اس پر تجھے بھی سوار کروں۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنا جوتا ہی دے دو تاکہ میں سورج کی گرمی سے بچ سکوں۔ تو میں نے کہا: میں ان جوتوں سے تجھ سے بخل نہیں کرتا لیکن میں بادشاہوں کا لباس تمہیں پہناؤں تو مجھے عار دلائی جائے گی کہ یہ شاہی لباس گھٹیا لوگوں کو پہنا رہا ہے۔ جب میں نے اپنی قوم کے پاس واپس آنا چاہا تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین گرامی نامے عطا کئے۔ ایک میرا تھا جس میں مجھے خصوصی طور پر فضیلت دی، اور ایک میرے اہلِ بیت کے لیے تھا جس میں ان کے لیے وہاں کے اموال ہوں گے، اور ایک میرے لیے اور میری قوم کے لیے تھا۔ جو خط صرف میرے لیے تھا اس میں تھا: ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مہاجرین ابی امیہ کی طرف کہ وائل صدقات وغیرہ وصول کریں گے، اور قوم کے سردار ہوں گے، وہ حضرموت سے جس جگہ بھی ہوں سردار ہوں گے۔“ جو خط میرے لیے اور میرے اہلِ بیت کے لیے تھا اس میں یہ تھا: ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مہاجرین ابی امیہ کی طرف جو معشر، ضمعاج، اور شنوئہ کے سردار ہیں، ان کے لیے بادشاہی اور راستے، اسی طرح آبادی، سمندر، نمک، اور حفاظتی مقامات بھی ان کے ہیں۔ ان کے جو مال ہیں وہ ان کے وارث ہوں گے، اور جو بھی حضرموت کی اوپر والی جانب یا نیچے والی وہ مال ان کے ہیں۔ میری طرف سے یہ معاہدہ اور پناہ ہے، اے اللہ! تو ان کا ہمسایہ ہے اور مسلمان بھی ان کے معاون ہوں گے۔“ اور جو خط ان کے اور ان کی قوم کے متعلق تھا اس میں یہ تھا: ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وائل کی طرف اور مہاجرین ابوامیہ کے سرداروں اور بڑے لوگوں کی طرف جو حضرموت میں ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، جو اونٹوں اور بکریوں وغیرہ کے ریوڑ سے اور ان کے بچوں سے بھی لی جائے۔ عامل اور حاکم مال کو ادھر ادھر کھینچ کر نہ لے جائیں، اور عامل لوگوں کو اپنے پاس نہ بلائے، نکاحِ شغار بلا مہر جائز نہیں، دھوکہ نہ کریں نہ کسی کو فریب دیں، یہ اسلام میں درست نہیں۔ سرایا میں سے ہر دسی کے لیے جو کچھ وہ اٹھا کر برابر برابر کھجوریں ہیں جس نے پکنے سے پہلے کھیتی بیچی تو اس نے گویا سود کا معاملہ کیا، اور ہر مسکر حرام ہے۔“ پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بادشاہ بنے تو بسر بن ارطاۃ نام کا قریش سے ایک آدمی لشکر دے کر بھیجا اور کہا: میں نے اس علاقے کو اپنے کنٹرول میں لیا ہوا ہے، تم اپنا لشکر لے کر شام کے مونہوں سے نکل جاؤ، جب شام تم سے پیچھے رہ جائے تو دیکھو جو شخص بھی میری اطاعت سے انکار کرے اسے مار ڈالو، جب مدینے میں جاؤ تو وہاں بھی جو شخص میری اطاعت سے انکار کرے اس کو مار ڈالو، پھر حضرموت جاؤ وہاں بھی جو شخص میری اطاعت سے انکار کرے اسے مار ڈالو، اگر تمہیں وائل نظر آئے تو اس کو میرے پاس لے آؤ، بسر بن ارطاۃ نے اسی طرح کیا اور دیکھا وائل زندہ ہیں تو انہیں وہ ان کے پاس لے آیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے ملاقات کے لیے بلایا اور اجازت دی اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا یہ میرا تخت بہتر ہے یا تیری اونٹنی کی پیٹھ؟ تو میں نے کہا: امیر المؤمنین! میں نیا نیا جاہلیت سے مسلمان ہوا تھا اور جاہلیت کا رسم و رواج یہی تھا، اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام سے سرفراز فرمایا تو آپ نے اسلام کی سیرت اور طریقے کی وجہ سے مجھ سے یہ سلوک کیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اچھا ہماری مدد کرنے سے تمہیں کیا چیز مانع ہے اور تو نے عثمان پر اعتماد کیا انہیں اپنا سسرال بنایا؟ میں نے کہا: آپ نے ایسے آدمی سے جنگ کی جو بہ نسبت عثمان تمہارا زیادہ حق دار تھا۔ اور عثمان کا مجھ سے زیادہ حقدار اور کون ہو سکتا ہے۔ اور میں اس کا زیادہ حق دار ہوں کیونکہ بھائی نسبت چچازاد کے زیادہ حق دار ہوتا ہے۔ اور میں مہاجرین سے جنگ نہیں کرتا۔ تو انہوں نے کہا: کیا ہم مہاجرین نہیں ہیں؟ میں نے کہا: اسی لیے ہم تم سب سے الگ رہے، اور ایک اور دلیل ہے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک مشرق کی طرف اٹھایا، بہت سارے لوگ وہاں تھے، پھر اپنی نظر واپس کر لی اور فرمایا: ”تمہارے پاس ایسے فتنے آئیں گے جو اندھیری رات کو توڑ دیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فتنوں کی بات کو بہت شدت سے ذکر کیا، اور ان کے جلدی آنے کی بات اور ان کی برائی ذکر کی، میں کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہوں گے اور کون سے فتنے ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے وائل! جب اسلام میں دو تلواریں مختلف چلنا شروع کر دیں تو دونوں سے الگ رہنا۔“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم شیعہ ہو گئے ہو، میں نے کہا: نہیں! بلکہ میں مسلمانوں کا خیر خواہ بن گیا ہوں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو یہ جانتا تھا اور تو نے یہ بات سنی تھی، تو پھر مجھے کونسی چیز لائی تھی، میں کہا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ محمد بن مسلمہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے وقت کیا کہا تھا؟ وہ اپنی تلوار لے کر گئے، جاکر ایک پتھر پر ماری اور توڑ دی۔ پھر انہوں نے کہا: یہ لوگ ہم پر حملہ کرتے ہیں، میں نے کہا: پھر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے متعلق کیا کرو گے: ”جس نے انصار کو دوست رکھا تو وہ مجھے دوست رکھنے کی وجہ سے ہے، اور جس نے انصار کو برا سمجھا تو اس نے مجھے برا سمجھنے کی وجہ سے برا سمجھا۔“ انہوں نے کہا: اب میں تمہیں حضرموت نہیں بھیجوں گا، اس لیے کوئی شہر پسند کر لو، میں تمہیں وہاں بھیجوں گا۔ میں نے کہا: میرے قبیلے کے لوگ شام میں ہیں اور میرے گھر والے کوفے میں ہیں، انہوں نے کہا: قبیلے والے دس آدمیوں سے تیرے گھر والا ایک آدمی بہتر ہے۔ میں نے کہا: میں حضرموت کو خوشی سے نہیں جاتا اور مسلمان مہاجر کو لائق نہیں کہ وہ اپنی ہجرت کی جگہ کو واپس جائے، ہاں کوئی وجہ ہو تو جاسکتا ہے۔ انہوں نے پوچھا: تیرے لیے کونسی وجہ ہے؟ میں نے کہا: میرے لیے اس کی وجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فتنوں کے متعلق فرمان ہے۔ تو تم نے جہاں بھی اختلاف کیا ہم تم سے الگ ہو گئے، اور جب تم اکٹھے ہو گئے تو ہم تمہارے پاس اکٹھے ہو گئے، تو یہ علت ہے۔ پھر وہ کہنے لگے: میں تجھے کوفے کا حاکم بناتا ہوں، لہٰذا ادھر چلے جاؤ، میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھ سے اس چیز کا ارادہ کیا مگر میں نے انکار کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہی ارادہ کیا تو میں نے ان سے بھی انکار کر دیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی چاہا تھا مگر میں نے پھر انکار کر دیا اور میں نے ان کی بیعت بھی ترک نہیں کی۔ میرے پاس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خظ آیا تھا جب کہ ہمارے علاقے کے لوگ مرتد ہو گئے تھے، تو میں کھڑا ہوگیا یہاں تک اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام کی طرف ولایت کے بغیر ہی واپس کر دیا۔ پھر انہوں نے عبدالرحمٰن بن الحکم کو بلاکر کہا: میں تمہیں کوفے کا گورنر بناتا ہوں اور وائل کو لے جاؤ، ان کی عزت افزائی کرو اور ان کی ضرورتیں پوری کرو۔ انہوں نے کہا: امیر صاحب! آپ نے نے میرے متعلق اچھا گمان نہیں رکھا، تم مجھے ایسے شخص کی عزت افزائی کا حکم دے رہے ہو جس کی عزت افزائی کرتے ہوئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیکھا اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کو اور آپ کو بھی، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات سے بڑے خوش ہوئے۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں ان کے ساتھ کوفے میں آیا، پھر تھوڑے عرصہ بعد وہ فوت ہو گئے۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 910

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 911

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ اللہ کے نزدیک بنو اسد، غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 911

المعجم الصغیر للطبرانی - سنن · كِتَابُ الْمَنَاقِبُ ‹ باب · حديث 912

سیدنا حارث بن ربعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے بہترین سواروں میں ابوقتادہ ہیں اور بہترین پیدل چلنے والوں میں سلمہ بن اکوع۔“

Al Muajam Al Sagheer Tibrani - Sunan · The niqab book › Chapter · Hadith 912

chevron_left Previous
1…757677…100
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Faith
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The Book of Purity
    0. Chapter
4. The Azan Book
    0. Chapter
5. Book of mosques
    0. Chapter
6. The Book of Prayer
    0. Chapter
7. The Asc'a Book
    0. Chapter
8. The funeral book and the remembrance of death
    0. Chapter
9. The fasting book
    0. Chapter
10. The Book of Zakat
    0. Chapter
11. Snapshot book
    0. Chapter
12. The Hajj and Umrah Book
    0. Chapter