Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 85

8 - عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَكِّرُوا بِصَلَاةِ الْعَصْرِ» ، وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَكِّرُوا بِصَلَاةِ الْعَصْرِ فِي يَوْمِ غَيْمٍ، فَإِنَّ مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ»

حضرت ابن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز عصر جلدی ادا کر لیا کرو‘ ایک روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جس دن ابر چھایا ہوا ہو‘ اس دن نماز عصر جلدی پڑھ لیا کرو‘ کیونکہ جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے گویا اس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے۔

بُرَيْدَةَ ← يَحْيَى ← شَيْبَانَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 85

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 86

9 - عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ»

حضرت ابن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے ‘ گویا اس سے اس کے اہل خانہ اور اس کا مال و دولت چھین لیا گیا۔

ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← يَحْيَى ← شَيْبَانَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 86

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 87

10 - عنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَزْعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ، وَلَا يُصَامُ هَذَانِ الْيَوْمَانِ: الْأَضْحَى وَالْفِطْرُ، وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا، وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ يَوْمَيْنِ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ "

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے‘ اسی طرح عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے‘ ان دو دنوں یعنی عید الفطر اور عیدالاضحٰی کے دن روزہ نہ رکھا جائے‘ سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت کے ساتھ رخت سفر نہ باندھا جائے۔ (۱) مسجد حرام (۲) مسجد اقصیٰ (۳) اور میری یہ مسجد (مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور کوئی عورت دو دن کی مسافت کسی محرم کے بغیر سفر طے نہ کرے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← قَزَعَةَ ← عَبْد الْمَلِكِ؛

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 87

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 88

11 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآهُ حَزِينًا، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَعِمَ يَجْتَمِعُ إِلَيْهِ، فَانْطَلَقَ حَزِينًا بِمَا رَأَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَرَكَ طَعَامَهُ وَمَا كَانَ يَجْتَمِعُ إِلَيْهِ، وَدَخَلَ مَسْجِدَهُ يُصَلِّي، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ نَعَسَ، فَأَتَاهُ آتٍ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ: " هَلْ عَلِمْتَ حُزْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهُوَ لِهَذَا التَّأْذِينِ، فَأْتِهِ فَمُرْهُ أَنْ يَأْمُرَ بِلَالًا أَنْ يُؤَذِّنَ لِلَّهِ، فَعَلَّمَهُ الْأَذَانَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ عَلَّمَهُ الْإِقَامَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ فِي أُخْرَى: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَأَذَانِ النَّاسِ وَإِقَامَتِهِمْ، فَأَقْبَلَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَعَدَ عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اسْتَأْذِنْ لِي، وَقَدْ رَأَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الْأَنْصَارِيُّ، فَدَخَلَ فَأَخْبَرَ بِالَّذِي رَأَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَمَرَ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِذَلِكَ "، وَفِي رِوَايَةٍ: " أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآهُ حَزِينًا، وَكَانَ الرَّجُلُ ذَا طَعَامٍ يُعَشَّى، فَانْصَرَفَ لِمَا رَأَى مِنْ حُزْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ طَعَامَهُ، فَدَخَلَ مَسْجِدَهُ يُصلِّي، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ نَعَسَ، فَأَتَاهُ آتٍ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ لَهُ: تَدْرِي مَا أَحْزَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: هُوَ النِّدَاءُ، فَأْتِهِ بِأَنْ يَأْمُرَ بِلَالًا، قَالَ الرَّجُلُ: فَعُلِّمَ الْأَذَانَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ علَمَّهُ الْإِقَامَةَ كَذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ فِي آخِرِهِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ كَأَذَانِ النَّاسِ وَإِقَامَتِهِمْ، فَاسْتَنْبَهَ الْأَنْصَارِيُّ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ بِالْبَابِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: اسْتَأْذِنْ لِي، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخْبَرَ أَبُو بَكْرٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ، ثُمَّ دَخَلَ الْأَنْصَارِيُّ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: مُرْ بِلَالًا بِمِثْلِ ذَلِكَ "

حضرت ابن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کا نبی علیہ السلام کے پاس سے گزر ہوا تو اس نے نبی علیہ السلام کو غمگین دیکھا‘ اس انصاری کی یہ عادت تھی کہ جب وہ کھانا کھانے کے لیے بیٹھتا تو اس کے پاس ایک مجمع لگ جاتا تھا‘ نبی علیہ السلام کو غمگین دیکھ کر وہ بھی غمگین ہو کر چلا گیا‘ اور کھانا بھی چھوڑ دیا اور وہ مجمع بھی جو اس کے پاس لگا کرتا تھا‘ اور مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگا۔ وہ اسی حال میں تھا کہ اسے اونگھ آ گئی‘ خواب میں اس کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں نبی علیہ السلام کے غمگین ہونے کی وجہ معلوم ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں! اس نے کہا کہ دراصل وہ اس اذان کے معاملے میں متفکر ہیں اس لیے ان کے پاس جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ بلال کو اذان کا حکم دیں‘ پھر اس نے خواب ہی میں اذان کے یہ کلمات سکھا دیے اللہ اکبر اللہ اکبر (دو مرتبہ) اشهد ان لا الہ الا الله (دو مرتبہ) اشھد ان محمدا رسول اللہ (دو مرتبہ) حی علی الصلوٰۃ (دو مرتبہ) حی علی الفلاح (دومرتبہ) اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔ اس کے بعد اسے اقامت کے کلمات بھی اسی طرح سکھائے اور کہا کہ آخر میں یوں کہنا قد قامت الصلوٰۃ‘ قد قامت الصلوٰۃ‘ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ‘ یہ اذان و اقامت کے وہی کلمات ہیں جولوگوں میں آج تک رائج ہیں‘ بہر حال جب وہ انصاری اپنے خواب سے بیدار ہوا تو نبی علیہ السلام کے دروازے پر آ کر بیٹھ گیا۔ اتفاقاً وہاں سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گزر ہوا تو انصاری سے کہا کہ میرے لیے بھی اجازت لیجیے گا‘ خود حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا تھا‘ چنانچہ انہوں نے نبی علیہ السلام کو اس سے مطلع کر کے انصاری کے لیے اجازت مانگی ‘ چنانچہ انصاری نے اندر آ کر خواب کا سارا واقعہ سنایا‘ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ ابو بکر نے بھی ہمیں ایسی ہی بات بتائی ہے‘ پھر نبی علیہ السلام نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح اذان دینے کا حکم دیا‘ اور ایک روایت میں ہے کہ بلال کو یہ الفاظ اسی طرح سکھا دو۔

ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 88

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 89

12 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول مبارک تھا کہ موذن جب اذان دیتا تو نبی علیہ السلام بھی وہی جملے کہتے جو مؤذن کہتا تھا۔

المؤذن ← مِثْلَ مَا ← كَانَ النَّبِيُّ «إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 89

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 90

13 - قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمِفْحَصِ قَطَاةٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ»

امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا جوشخص تعمیر مسجد میں حصہ لے‘ اگرچہ قطا پرندہ کے گھونسلے کے برابر ہی ہو‘ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 90

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 91

14 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ جَمَلًا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «لَا وَجَدْتَ» ، وَفِي رِوَايَةٍ: " سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ بَعِيرًا، فَقَالَ: لَا وَجَدْتَ، إِنَّ هَذِهِ الْبُيُوتَ بُنِيَتْ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ "

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں ایک آدمی کو گمشدہ اونٹ کا اعلان کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: اللہ کرے تجھے تیرا اونٹ نہ ملے‘ اور ایک روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ یہ گھر تو اس مقصد کے لیے ہیں جس کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں اپنا سر داخل کیا اور کہنے لگا کہ مجھے میرے سرخ اونٹ کا پتہ کون بتائے گا؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ کرے وہ تجھے نہ ملے‘ یہ مسجدیں تو اس مقصد کے لیے ہیں جس کے لیے بنائی گئی ہیں۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 91

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 92

15 - عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ يُحَاذِي بِهِمَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ» ، وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ «كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ وَائِلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ «يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُحَاذِيَ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ»

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام اپنے ہاتھوں کو نماز شروع کرتے وقت اتنا بلند کرتے تھے کہ انہیں کانوں کی لو کے برابر کر لیتے تھے۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 92

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 93

16 - عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَيَسَارِهِ» عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: " وَأَعْرَابِيٌّ لَمْ يُصَلِّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً قَبْلَهَا قَطُّ، هُوَ أَعْلَمُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأَصْحَابِهِ، حَفِظَ وَلَمْ يَحْفَظُوا، يَعْنِي: رَفْعَ الْيَدَيْنِ "، وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ ذَكَرَ حَدِيثَ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، فَقَالَ: أَعْرَابِيٌّ مَا أَدْرِي صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً قَبْلَهَا، هُوَ أَعْلَمُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: ذُكِرَ عِنْدَهُ حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَفَعَ يَدَيْهِ عِنْدَ الرُّكُوعِ وَعِنْدَ السُّجُودِ» ، فَقَالَ: هُوَ أَعْرَابِيٌّ لَا يَعْرِفُ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ، لَمْ يُصَلِّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا صَلَاةً وَاحِدَةً. وَقَدْ حَدَّثَنِي مَنْ لَا أُحْصِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي بَدْءِ الصَّلَاةِ فَقَطْ، وَحَكَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَبْدُ اللَّهِ عَالِمٌ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ وَحُدُودِهِ، مُتَفَقِّدٌ لِأَحْوَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُلَازِمٌ لَهُ فِي إِقَامَتِهِ وَفِي أَسْفَارِهِ، وَقَدْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَا يُحْصَى

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی علیہ السلام کو تکبیر کہتے وقت رفع یدین کرتے ہوئے اور اختتام نماز پر دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے دیکھا ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← يَمِينِهِ، وَيَسَارِهِ. ← «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ، وَيُسَلِّمُ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ ← عَاصِمٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 93

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 94

18 - قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حَنِيفَةَ وَالْأَوْزَاعِيُّ فِي دَارِ الْحَنَّاطِينَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ لِأَبِي حَنِيفَةَ: مَا بَالُكُمْ لَا تَرْفَعُونَ أَيْدِيَكُمْ فِي الصَّلَاةِ عِنْدَ الرُّكُوعِ وَعِنْدَ الرَّفْعِ مِنْهُ؟ فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: لِأَجْلِ أَنَّهُ لَمْ يَصِحَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْءٌ، قَالَ: كَيْفَ لَا يَصِحُّ، وَقَدْ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَعِنْدَ الرُّكُوعِ، وَعِنْدَ الرَّفْعِ مِنْهُ»

حماد سے منقول ہے کہ ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ دیہات میں رہنے والے صحابی تھے‘ نبی علیہ السلام کے ساتھ انہیں اس سے پہلے کوئی نماز پڑھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا‘ کیا عبداللہ بن مسعود اور ان جیسے دوسرے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بڑے عالم ہو سکتے ہیں کہ انہوں نے رفع یدین کا مسئلہ یاد کر لیا ہو اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ یاد نہ کر سکے ہوں؟ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب ابراہیم نخعی کے سامنے حدیث وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا گیا کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کو رکوع اور سجود کے وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے تو فرمایا کہ وہ دیہات کے رہنے والے تھے‘ اسلام کے بارے میں مکمل معرفت نہ رکھتے تھے‘ نبی علیہ السلام کے ساتھ صرف ایک نماز پڑھ سکے تھے اور مجھے اتنے راویوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث پہنچائی ہے کہ میں انہیں شمار نہیں کر سکتا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف ابتداء نماز میں رفع یدین کیا کرتے تھے اور اسے نبی علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے نقل کیا کرتے تھے‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کے شرائع و حدود سے واقف تھے‘ نبی علیہ السلام کے احوال کی جستجو میں رہا کرتے تھے‘ ان کے ساتھ سفرو حضر میں چمٹے رہا کرتے تھے اور نبی علیہ السلام کے ساتھ بے شمار نمازیں پڑھنے کا شرف رکھتے تھے۔

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 94

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 95

18 - فَقَالَ لَهُ أَبُو حَنِيفَةَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، وَلَا يَعُودُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ» ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: أُحَدِّثُكَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَتَقُولُ: حَدَّثَنِي حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ! فَقَالَ لَهُ أَبُو حَنِيفَةَ: كَانَ حَمَّادٌ أَفْقَهَ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ أَفْقَهُ مِنْ سَالِمٍ، وَعَلْقَمَةُ لَيْسَ بِدُونِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْفِقْهِ، وَإِنْ كَانَتْ لِابْنِ عُمَرَ صُحْبَةٌ، أَوْ لَهُ فَضْلُ صُحْبَةٍ، فَالْأَسْوَدُ لَهُ فَضْلٌ كَثِيرٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ، فَسَكَتَ الْأَوْزَاعِيُّ

حضرت سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے دارالحناطین میں امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ اکٹھے ہو گئے‘ امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے کہا کہ آپ لوگ نماز میں رکوع کرتے ہوئے‘ اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع یدین کیوں نہیں کرتے ؟ امام صاحب نے فرمایا: اس لیے کہ اس سلسلے میں نبی علیہ السلام کی کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے‘ امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مجھے خود امام زہری رحمتہ اللہ علیہ نے سالم کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی علیہ السلام نماز شروع کرتے وقت رکوع کرتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کیا کرتے تھے۔ امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس کے برعکس ہمارے پاس یہ حدیث اس سند سے موجود ہے ’’حدثنا حماد عن ابراھیم عن علقمۃ والاسود عن ابن مسعود‘‘ کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ابتداء نماز میں رفع یدین کیا کرتے تھے‘ امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ یہ سن کر فرمانے لگے کہ میں آپ کے سامنے ’’عن الزہری عن سالم عن ابیہ‘‘کہتا ہوں اور آپ’’حدثنی حماد عن ابراہیم ‘‘ کہتے ہیں (آپ کی سند سے زیادہ میری سند قوی اور مشہور ہے) تو امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حماد زہری سے بڑے فقیہ تھے‘ ابراہیم نخعی‘ سالم سے بڑے فقیہ تھے‘ علقمہ فقہ کے معاملے میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کم نہ تھے گو کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی علیہ السلام کی صحابیت کا شرف حاصل ہے‘ لیکن اسود کو بہت سے دوسرے فضائل حاصل ہیں اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں‘ یہ سن کر امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ خاموش ہو گئے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← فَقَالَ لَهُ أَبُو حَنِيفَةَ:

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 95

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ باب · حديث 96

19 - عَنْ طَرِيفٍ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوُضُوءُ مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ، وَالتَّكْبِيرُ تَحْرِيمُهَا، وَالتَّسْلِيمُ تَحْلِيلُهَا، وَفِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَسَلِّمْ وَلَا تُجْزِي صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَمَعَهَا غَيْرُهَا» ، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقْرِي، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ مِثْلُهُ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: قُلْتُ لِأَبِي حَنِيفَةَ: مَا يَعْنِي بِقَوْلِهِ: «فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَسَلِّمْ» ؟ قَالَ: يَعْنِي: التَّشَهُّدَ. قَالَ الْمُقْرِي: صَدَقَ. وَفِي رِوَايَةٍ: نَحْوُهُ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: «وَلَا تُجْزِي صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَمَعَهَا شَيْءٌ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وضو نماز کی کنجی ہے‘ تکبیر کے ذریعے حلال چیز میں بھی نماز میں حرام ہو جاتی ہیں اور سلام کے ذریعے حلال ہو جاتی ہیں‘ اور ہر دو رکعت پر سلام پڑھا کرو‘ اور کوئی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت نہ ملا لی جائے‘ اسی سند سے ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ہر دو رکعت پر سلام پھیرنے سے کیا مراد ہے؟ تو فرمایا: تشہد۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← طَرِيفٍ أَبِي سُفْيَانَ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · prayer book › Door · Hadith 96

chevron_left Previous
1…789…45
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door