Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 1

1 - عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ صَاحِبٍ لِي بِمَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَ بَصُرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: هَلْ لَكَ أَنْ نَأْتِيَهُ، فَنَسْأَلَهُ عَنِ الْقَدَرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْأَلُهُ، فَإِنِّي أَعْرَفُ بِهِ مِنْكَ. قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، وَقَعَدْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّا نَتَقَلَّبُ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ، فَرُبَّمَا قَدِمْنَا الْبَلْدَةَ بِهَا قَوْمٌ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، فَبِمَا نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ: أَبْلِغْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَلَوْ أَنِّي وَجَدْتُ أَعْوَانًا لَجَاهَدْتُهُمْ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، قَالَ: " بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، إِذْ أَقْبَلَ شَابٌّ جَمِيلٌ، أَبْيَضُ، حَسَنُ اللَّمَّةِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، عَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَدَدْنَا مَعَهُ، فَقَالَ: أَدْنُو يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ادْنُ، فَدَنَا دَنْوَةً، أَوْ دَنْوَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ مُوَقِّرًا لَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَدْنُو يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: ادْنُهْ، فَدَنَا حَتَّى أَلْصَقَ رُكْبَتَيْهِ بِرُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، فَقَالَ: الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَلِقَائِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللَّهِ. قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا مِنْ تَصْدِيقِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَوْلِهِ: صَدَقْتَ، كَأَنَّهُ يَعْلَمُ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ مَا هِيَ؟ قَالَ: إِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَحَجُّ الْبَيْتِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَالِاغْتِسَالُ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَ: صَدَقَتَ، فَعَجِبْنَا لِقَوْلِهِ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ مَا هُوَ؟ قَالَ: الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، مَتَى هِيَ؟ ، قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ لَهَا أَشْرَاطٌ، فَقَالَ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: 34] . قَالَ: صَدَقْتَ، وَانْصَرَفَ وَنَحْنُ نَرَاهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَقُمْنَا عَلَى أَثَرِهِ فَمَا نَدْرِي أَيْنَ تَوَجَّهَ، وَلَا رَأَيْنَا شَيْئًا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ، وَاللَّهِ مَا أَتَانِي فِي صُورَةٍ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ فِيهَا، إِلَّا هَذِهِ الصُّورَةَ "

یحیی بن یعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مدینہ منورہ میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک ہماری نگاہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جا پڑی‘ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ کیا خیال ہے ان کے پاس جا کر تقدیر کے متعلق سوال کریں‘ اس نے کہا ٹھیک ہے‘ میں نے کہا کہ پھر سوال مجھے ہی کرنے دینا کیونکہ میں ان کی طبیعت کو زیادہ جانتا ہوں۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ پھر ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے‘ وہاں پہنچ کر میں نے عرض کیا: اے ابو عبدالرحمٰن! (یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت تھی) ہم لوگ زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں‘ اس دوران بعض اوقات ہمارا ایسے شہروں میں بھی آنا جانا ہوتا ہے جہاں کے لوگ تقدیر کو نہیں مانتے‘ ایسے لوگوں کو ہم کیا جواب دیا کریں؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دو کہ میں ان سے بیزار ہوں اور اگر مجھے کچھ مددگار میسر آ گئے تو میں ان سے ضرور جہاد کروں گا۔ اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں یہ حدیث سنانا شروع کی کہ ایک مرتبہ ہم نبی مکرم‘ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی ایک گروہ تھا‘ اچھانک سامنے سے ایک خوبصورت نوجوان آیا جس کا رنگ سفید اور بال خوبصورت تھے‘ اس سے انتہائی عمدہ خوشبو مہک رہی تھی اور اس نے سفید کپڑے زیب بدن کر رکھے تھے‘ اس نے آتے ہی کہا: ”السلام علیک یا رسول اللہ‘‘ پھر سب کو مخاطب کر کے انہیں بھی سلام کیا‘ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے بھی اس کے سلام کا جواب دیا اور ہم نے بھی۔ اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! کیا میں قریب ہو سکتا ہوں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہو جاؤ‘ چنانچہ وہ ایک دو قدم آگے ہو گیا‘ پھر نبی علیہ السلام کے سامنے تعظیماً کھڑا ہو گیا اور دوبارہ عرض کیا یارسول اللہ! کیا میں قریب آ سکتا ہوں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا آ جاؤ‘ چنانچہ اس مرتبہ وہ اتنا قریب ہوا کہ اپنے گھٹنے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا لیے اور کہنے لگا کہ مجھے ”ایمان“ کے بارے بتائے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ آپ اللہ پر‘ اس کے فرشتوں کتابوں اور پیغمبروں‘ اس سے ملنے پر‘ آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر کے اللہ کی طرف سے ہونے پر یقین رکھیں‘ اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا‘ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے نبی علیہ السلام کی تصدیق کرنے اور ’’صدقت ‘‘ کہنے سے ہمیں تعجب ہوا کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ پہلے سے یہ بات جانتا تھا (پھر سوال چہ معنی دارد؟) پھر اس نے کہا کہ مجھے ’’احکام اسلام‘‘ کے بارے بتائیے کہ وہ کیا کیا ہیں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج کرنا بشرطیکہ وہاں پہنچنے کی استطاعت بھی ہو‘ رمضان کے روزے رکھنا اور غسل جنابت کرنا۔ یہ سن کر اس نے پھر تصدیق کی اور ہمیں پھر تعجب ہوا۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ مجھے ’’احسان‘‘ کے بارے میں بتایئے کہ اس کی تعریف کیا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ آپ ہر عمل اللہ کے لیے اس طرح کریں کہ گویا آپ اللہ کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھ رہے ہیں‘ اگر یہ تصور نہیں کر سکتے تو یہ تصور کر لیجیے کہ اللہ تو آپ کو دیکھ رہا ہے‘ اس نے پوچھا کہ اگر میں اس طرح کرنا شروع کر دوں تو کیا میں ’’محسن‘‘ کہلاؤں گا؟ نبی علیہ السلام نے اثبات میں جواب دیا اور اس نے اس کی بھی تصدیق کی۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے ’’قیامت‘‘ کے بارے بتائیے کہ وہ کب آئے گی؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس سے یہ سوال پوچھا گیا ہے‘ وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا (دونوں ہی کو معلوم نہیں ہے) البتہ قیامت کی کچھ علامات ہیں‘ اس کے بعد نبی علیہ السلام نے (اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ آپ کو قیامت کا وقت کیوں معلوم نہیں؟ سورۃ لقمن کی آخری آیت کی تلاوت کرتے ہوئے) فرمایا: بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے‘ وہی بارش برساتا ہے‘ وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ اگلے دن وہ کیا کمائے گا اور کوئی شخص بھی نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا‘ بیشک اللہ ہی علیم وخبیر ہے‘ اس نے نبی علیہ السلام کی تصدیق کی اور واپس چلا گیا۔ ہم اسے جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے‘ تھوڑی دیر کے بعد نبی علیہ السلام نے فرمایا ذرا اس آدمی کو میرے پاس بلا کر لانا‘ ہم اس کے پیچھے پیچھے گئے تو ہمیں کچھ پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں چلا گیا اور ہمیں کچھ نظر نہیں آیا‘ ہم نے آخر سارا ماجرا نبی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کر دیا۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا یہ جبریل تھے‘ تمہارے پاس دین کی بنیادی باتیں تمہیں سکھانے آئے تھے‘ بخدا! وہ جب بھی میرے پاس کسی بھی شکل وصورت میں آتے تھے‘ میں انہیں پہچان لیتا تھا‘ لیکن اس مرتبہ نہیں پہچان سکا۔

بَيْنَمَا ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 2

2 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورَةِ شَابٍّ عَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْنُو؟ فَقَالَ: ادْنُهْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ. قَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجِبْنَا لِقَوْلِهِ: صَدَقْتَ، كَأَنَّهُ يَدْرِي! ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا شَرَائِعُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَغُسْلُ الْجَنَابَةِ. قَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجْبِنَا لِقَوْلِهِ: صَدَقْتَ، كَأَنَّهُ يَدْرِي! ثُمَّ قَالَ: فَمَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ. قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: فَمَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ. فَقَفَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَطَلَبْنَاهُ، فَلَمْ نَرَ لَهُ أَثَرًا، فَأَخْبَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، جَاءَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل نبی علیہ السلام کی خدمت میں ایک ایسے نوجوان کی صورت میں حاضر ہوئے جس نے سفید لباس زیب تن کر رکھا تھا‘ اس نے آ کر کہا ”السلام علیک یارسول اللہ‘‘ نبی علیہ السلام نے سلام کا جواب مرحمت فرمایا اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! کیا میں قریب آ سکتا ہوں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا آ جاؤ (چنانچہ وہ قریب ہو گیا) اب اس نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! ”ایمان“ کیا ہے؟ فرمایا کہ اللہ پر‘ اس کے فرشتوں‘ کتابوں پیغمبروں اور اچھی بری تقدیر (کے اللہ کی طرف سے ہونے) پر یقین رکھو‘ اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا‘ ہمیں اس کی اس بات پر تعجب ہوا کیونکہ اس سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس بات کو جانتا تھا پھر سوال کا کیا مطلب؟ اس کے بعد اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! احکام اسلام کیا ہیں؟ فرمایا نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا‘ رمضان کے روزے رکھنا اور غسل جنابت کرنا۔ اس نے پھر تصدیق کی اور ہمیں اس کی تصدیق پر تعجب بھی ہوا‘ پھر اس نے پوچھا کہ ’’احسان کیا ہے؟‘‘ فرمایا کہ ہر عمل اللہ کے لیے اس طرح کرنا کہ گویا تم اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو‘ اور اگر یہ تصور نہ ہو سکے تو کم از کم یہی تصور کر لو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے‘ اس نے نبی علیہ السلام کی تصدیق کی‘ پھر کہنے لگا کہ قیامت کب آئے گی؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا: جس سے سوال پوچھا گیا ہے‘ وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ یہ سن کر اس نے پیٹھ پھیری اور چلا گیا‘ اس کے جانے کے بعد نبی علیہ السلام نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس بلا کر لاؤ‘ ہم نے اسے تلاش کیا لیکن ہمیں اس کا کوئی نشان نظر نہ آیا‘ ہم نے نبی علیہ السلام کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جبریل تھے جو تمہارے پاس اس لیے آئے تھے کہ تمہیں تمہارے دین کی بنیادی باتیں سکھا دیں۔

السَّلَامُ عَلَيْكَ ← جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ فِي صُورَةِ شَابٍّ عَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 2

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 3

3 - عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثُوهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ كَانَتْ لَهُ رَاعِيَةٌ تَتَعَاهَدُ غَنَمَهُ، وَأَنَّهُ أَمَرَهَا تَتَعَاهَدُ شَاةً، فَتَعَاهَدَتْهَا حَتَّى سَمِنَتِ الشَّاةُ، وَاشْتَغَلَتِ الرَّاعِيَةُ بِبَعْضِ الْغَنَمِ، فَجَاءَ الذِّئْبُ، فَاخْتَلَسَ الشَّاةَ وَقَتَلَهَا، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ، وَفَقَدَ الشَّاةَ، فَأَخْبَرَتْهُ الرَّاعِيَةُ بِأَمْرِهَا فَلَطَمَهَا، ثُمَّ نَدِمَ عَلَى ذَلِكَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَظَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَقَالَ: " ضَرَبْتَ وَجْهَ مُؤْمِنَةٍ! فَقَالَ: إِنَّهَا سَوْدَاءُ لَا عِلْمَ لَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا: أَيْنَ اللَّهُ؟ فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: فَمَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ، فَأَعْتِقْهَا، فَأَعْتَقَهَا "

عطاء بن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ السلام کے کئی صحابہ نے ان سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک باندی تھی جو ان کی بکریوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کیا کرتی تھی‘ انہوں نے اسے ایک خاص بکری پر خصوصی توجہ دینے کا حکم دے رکھا تھا‘ چنانچہ وہ باندی اس بکری کا زیادہ خیال رکھتی تھی جس کی وجہ سے وہ بکری خوب صحت مند ہوگئی۔ ایک دن وہ باندی دوسری بکریوں کی دیکھ بھال میں مشغول تھی کہ اچانک ایک بھیٹریا آیا اور اسی بکری کو اچک کر لے گیا اور اسے مار ڈالا‘ جب حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر واپس آئے تو بکری کو نہ پایا (باندی سے پوچھا) اس نے سارا واقعہ سنا دیا‘ انہوں نے غصہ میں آ کر اس کے منہ پر ایک طمانچہ زور سے مار دیا‘ بعد میں انہیں اس پر ندامت ہوئی اور انہوں نے نبی علیہ السلام سے اس واقعہ کا ذکر کیا‘ نبی علیہ السلام پر یہ چیز بہت گراں گزری‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ایک مؤمن عورت کے چہرے پر مارا؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو حبشن ہے اسے ”ایمان“ سے متعلق کچھ نہیں پتہ (وہ مؤمنہ نہیں ہے) نبی علیہ السلام نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمان میں! نبی علیہ السلام نے پھر پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے کہا اللہ کے پیغمبر! نبی علیہ السلام نے فرمایا یہ مؤمنہ ہے اس لیے تم اسے آزاد کر دو‘ چنانچہ انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔

إِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ، فَأَعْتِقْهَا، فَأَعْتَقَهَا ← فمن ← فِي السَّمَاءِ ← إِنَّهَا سَوْدَاءُ لَا عِلْمَ لَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ فَسَأَلَهَا: أَيْنَ اللَّهُ؟ ← ضَرَبْتَ وَجْهَ مُؤْمِنَةٍ!

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 3

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 4

4 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " انْهَضُوا بِنَا نَعُودُ جَارَنَا الْيَهُودِيَّ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَوَجَدَهُ فِي الْمَوْتِ، ثُمَّ قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ أَبُوهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: اشْهَدْ لَهُ، فَقَالَ الْفَتَى: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهُ الَّذِي أَنْقَذَ بِي نَسَمَةً مِنَ النَّارِ "، وَفِي رِوَايَةٍ، أَنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ: انْهَضُوا بِنَا نَعُودُ جَارَنَا الْيَهُودِيَّ، قَالَ: فَوَجَدَهُ فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: فَنَظَرَ الرَّجُلُ إِلَى أَبِيهِ، قَالَ: فَأَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَصَفَ الْحَدِيثَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى آخِرِهِ عَلَى هَذِهِ الْهَيْئَةِ إِلى قَوْلِهِ: فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَ بِي نَسَمَةً مِنَ النَّارِ

حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: آؤ‘ ذرا ہم اپنے یہودی ہمسائے کی عیادت کر آئیں‘ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے گھر میں داخل ہوئے تو اسے حالت نزع میں پایا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا حال دریافت کرنے کے بعد فرمایا: ’’اللہ کے علاوہ کسی معبود کے نہ ہونے اور میرے پیغمبر خدا ہونے کی گواہی دے دو (میں قیامت کے دن تمہاری سفارش کر دوں گا)‘‘ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا لیکن اس نے کوئی بات نہیں کی‘ نبی علیہ السلام نے اس سے پھر یہی فرمایا اور اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا ‘ اس دوسری مرتبہ میں اس کے باپ نے اسے کلمہ شہادت پڑھنے کی اجازت دے دی اور اس نوجوان نے یہ کلمہ پڑھ لیا اشھد ان لا الٰہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ یہ سن کر نبی علیہ السلام نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے میری وجہ سے ایک شخص کو جہنم کی آگ سے بچا لیا۔ اسی مضمون کی ایک دوسری روایت میں یہ واقعہ اس طرح مذکور ہے کہ نبی علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودنہیں؟ اس نے کہا جی ہاں پھر نبی علیہ السلام نے پوچھا کیا تم اس بات کی بھی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں؟ تو اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا‘ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا‘ پھر کہیں جا کر اس کے باپ نے اسے اجازت دی اور اس نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔

أَتَشْهَدُ ← فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَوَجَدَهُ فِي الْمَوْتِ، ثُمَّ ← لِأَصْحَابِهِ: انْهَضُوا بِنَا نَعُودُ جَارَنَا الْيَهُودِيَّ، ← كنا جلوسا عند رسول الله ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 4

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 5

5 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، قِيلَ: فَمَنْ مَاتَ صَغِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر بچہ فطرت صحیحہ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے اس کے بعد اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں‘ کسی نے پوچھا کہ یارسول اللہ! جو بچے حالت صغر سنی میں ہی فوت ہو جاتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ انہوں نے بڑے ہو کر جو کام سر انجام دینے تھے‘ اللہ کو ان کا زیادہ علم ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ الْاَعْرَجِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 5

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 6

6 - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وجَلَّ "

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا اقرار نہ کر لیں‘ جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو سمجھ لیں کہ انہوں نے اپنی جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا‘ سوائے اس کلمے کے حق کے‘ اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہو گا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 6

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 7

7 - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: مَا كُنْتُمْ تَعُدُّونَ الذُّنُوبَ شِرْكًا؟ قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ذَنْبٌ يَبْلُغُ الْكُفْرَ، قَالَ: «لَا، إِلَّا الشِّرْكَ»

ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا آپ لوگ گناہوں کو شرک نہیں سمجھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! کیونکہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مرتبہ پوچھا تھا یا رسول اللہ! کیا اس امت میں کوئی ایسا گناہ بھی کیا جائے گا جو حد کفر تک پہنچتا ہو؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا: نہیں ! سوائے شرک کے۔

أَبُو سَعِيدٍ: قُلْتُ: ← قُلْتُ لِجَابِرٍ: مَا كُنْتُمْ تَعُدُّونَ الذُّنُوبَ شِرْكًا؟ ← أَبِي الزُّبَيْرِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 7

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 8

8 - عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ الَّذِينَ يَكْسِرُونَ أَعْلَاقَنَا، وَيَنْقُبُونَ بُيُوتَنَا، وَيُغِيرُونَ عَلَى أَمْتِعَتِنَا، أَكَفَرُوا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَرَأَيْتَ الَّذِينَ يَتَأَوَّلُونَ عَلَيْنَا وَيَسْفِكُونَ دِمَاءَنَا، أَكَفَرُوا؟ قَالَ: لَا، حَتَّى يَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ شَيْئًا "، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أُصْبُعِ ابْنِ عُمَرَ، وَهُوَ يُحَرِّكُهَا، وَهُوَ يَقُولُ: سُنَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، فَرَفَعُوهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے سوال پوچھتے ہوئے عرض کیا کہ اے ابو عبدالرحمٰن ! یہ تو بتائیے کہ وہ لوگ جو ہمارے تالے توڑ دیتے ہیں‘ ہمارے گھروں میں نقب لگا کر گھس جاتے ہیں اور ہمارے سازوسامان کو تاخت و تاراج کر دیتے ہیں‘ کیا یہ لوگ کافر ہو گئے؟ فرمایا: نہیں‘ اس نے پھر پوچھا کہ یہ بتائیے‘ یہ لوگ ہمارے قتل کے جواز پر تاویلیں کرتے ہیں اور ہمارا خون تک بہاتے ہیں‘ کیا یہ کافر ہیں؟ فرمایا: نہیں‘ جب تک اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں‘ طاؤس کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ انگلی اب تک میری نظروں کے سامنے ہے جسے وہ حرکت دیتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے کہ نبی علیہ السلام کی سنت یہی ہے۔ اس حدیث کو ایک بڑی جماعت نے نبی علیہ السلام سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔

طَاوْسٍ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 8

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 9

9 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ. قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي سَاعَةً، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، فَقَالَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجِنَّةُ. قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: فَكَسَتَ عَنِّي سَاعَةً، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ، وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ "، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أُصْبُعِ أَبِي الدَّرْدَاءِ السَّبَّابَةِ يُومِئُ إِلَى أَرْنَبَتِهِ

عبداللہ بن حبیبہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک دن اس دوران کہ میں نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک سواری پر پیچھے سوار تھا‘ نبی علیہ السلام نے فرمایا: اے ابو درداء! جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں‘ تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی‘ میں نے عرض کیا خواہ اس سے زنا اور چوری کا ارتکاب بھی جائے ؟ یہ سن کر نبی علیہ السلام ایک لحظہ خاموش رہے اور کچھ دیر چلنے کے بعد پھر وہی بات فرمائی‘ میں نے پھر وہی سوال کیا‘ تین مرتبہ اس طرح ہونے کے بعد نبی علیہ السلام نے فرمایا: ہاں! اگر اس سے زنا اور چوری کا ارتکاب بھی ہو جائے‘ اور اگرچہ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ناک خاک آلود ہی ہو جائے‘ راوی کہتے ہیں کہ آج بھی حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت والی انگلی مجھے اپنے سامنے نظر آتی ہے جبکہ انہوں نے اسے اپنی ناک کے نرم حصے پر رکھا تھا۔

يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، مَنْ شَهِدَ ← رديف رسول الله ← بَيْنَا ← أبا الدرداء صاحب رسول الله ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 9

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 10

10 - عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ مُعَاذٌ حِمْصَ، أَتَاهُ رَجُلٌ شَابٌّ، فَقَالَ: " مَا تَرَى فِي رَجُلٍ وَصَلَ الرَّحِمَ، وَبَرَّ، وَصَدَقَ الْحَدِيثَ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ، وَعَفَّ بَطْنَهُ وَفَرْجَهُ، وَعَمِلَ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ خَيْرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ شَكَّ فِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ: إِنَّهَا تُحْبِطُ مَا كَانَ مَعَهَا مِنَ الْأَعْمَالِ، قَالَ: فَمَا تَرَى فِي رَجُلٍ رَكِبَ الْمَعَاصِيَ، وَسَفَكَ الدِّمَاءَ، وَاسْتَحَلَّ الْفُرُوجَ وَالْأَمْوَالَ، غَيْرَ أَنَّهُ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ مُخْلِصًا، قَالَ مُعَاذٌ: أَرْجُو، وَأَخَافُ عَلَيْهِ، قَالَ الْفَتَي: وَاللَّهِ، إِنْ كَانَتْ هِيَ الَّتِي أَحْبَطَتْ مَا مَعَهَا مِنْ عَمَلٍ، مَا تَضُرُّ هَذِهِ مَا عُمِلَ مَعَهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ مُعَاذٌ: مَا أَزْعُمُ أَنَّ رَجُلًا أَفْقَهُ بِالسُّنَةِ مِنْ هَذَا "

ابو مسلم خولانی کہتے ہیں کہ جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ’’حمص‘‘ میں نزول اجلال فرمایا تو ایک نو جوان شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا‘ اور کہنے لگا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو صلہ رحمی کرتا ہو‘ نیکی کے کام کرتا ہو‘ سچ بولتا ہو‘ امانت ادا کرتا ہو‘ اپنے پیٹ اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہو اور حسب توفیق نیکی کے دیگر کاموں میں بھی حصہ لیتا ہو لیکن اللہ اور رسول کے بارے میں شک وشبہ کا شکار ہو؟ فرمایا اس کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ پھر اس نے پوچھا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو معاصی کے گھوڑے پر سوار رہا‘ لوگوں کے خون بہاتا رہا‘ لوگوں کی عزتوں اور مال و دولت کو پامال کرنا حلال سمجھتا رہا لیکن خلوص دل کے ساتھ اس بات کی گواہی ؟ دیتا رہا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں؟ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کہ مجھے اس کے بارے میں امید بھی ہے اور اندیشہ بھی‘ یہ سن کر اس نو جوان نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں شک وشبہ اس کے پاس موجود اعمال کی ساری پونجی کو برباد کر سکتا ہے تو اس کی موجودگی میں یہ اعمال اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے‘ یہ کہہ کر وہ نو جوان چلا گیا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ آدمی سنت کو اتنا جاننے اور سمجھنے والا ہے۔

أبى مسلم الخولاني ← الْحَارِثِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 10

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 11

11 - أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: " يَدْرُسُ الْإِسْلَامُ كَمَا يَدْرُسُ وَشْيُ الثَّوْبِ، وَلَا يَبْقَى إِلَّا شَيْخٌ كَبِيرٌ، أَوْ عَجُوزٌ فَانِيَةٌ، يَقُولُونَ: قَدْ كَانَ قَوْمٌ يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَهُمْ مَا يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: فَقَالَ صِلَةُ بْنُ زُفَرَ: فَمَا يُغْنِي عَنْهُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَهُمْ لَا يَصُومُونَ، وَلَا يُصَلُّونَ، وَلَا يَحُجُّونَ، وَلَا يَتَصَدَّقُونَ، قَالَ: يَنْجُونَ بِهَا مِنَ النَّارِ. ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ: يَا صِلَةُ، يَنْجُونَ بِهَا مِنَ النَّارِ " وَمَسْعُودٌ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ، فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَنِي: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِخِلَافِ مَا كُنْتُ أَقُولُ» ، فَأَنْقَذَنِي اللَّهُ تَعَالَى بِكَ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلْقَمَةَ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، فَسَأَلَهُ عَلْقَمَةُ، فَقَالَ: " يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنَّ بِبِلَادِنَا لَا يُثْبِتُونَ الْإِيمَانَ لِأَنْفُسِهِمْ، وَيَكْرَهُونَ أَنْ يَقُولُوا: إِنَّا مُؤْمِنُونَ، بَلْ يَقُولُونَ: إِنَّا مُؤْمِنُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ: وَمَا لَهُمْ لَا يَقُولُونَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: إِنَّا إِذَا شِئْنَا لِأَنْفُسِنَا الْإِيمَانَ، جَعَلْنَا لِأَنْفُسِنَا الْجَنَّةَ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، هَذَا مِنْ خِدَعِ الشَّيْطَانِ وَحَبَائِلِهِ، وَحِيَلِهِ أَلْجَأَهُمْ إِلَى أَنْ دَفَعُوا أَعْظَمَ مِنَّةِ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِمْ، وَهُوَ الْإِسْلَامُ، وَخَالَفُوا سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ تَعَالَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَضِيَ عَنْهُمْ، يُثْبِتُونَ الْإِيمَانَ لِأَنْفُسِهِمْ، وَيَذْكُرُونَ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْ لَهُمْ: يَقُولُونَ: إِنَّا مُؤْمِنُونَ، وَلَا يَقُولُوا: إِنَّا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ، وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَوْ عَذَّبَ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ لَمْ يَعْصُوهُ طَرْفَةَ عَيْنٍ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَذَا عِنْدَنَا عَظِيمٌ، فَكَيْفَ نَعْرِفُ هَذَا؟ قَالَ: يَابْنَ أَخِي، مِنْ هُنَا ضَلَّ أَهْلُ الْقَدَرِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَقُولَ بِقَوْلِهِمْ، فَإِنَّهُمْ أَعْدَاءُ اللَّهِ الرَّادُّونَ عَلَى اللَّهِ، أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ} [الأنعام: 149] ، فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ: اشْرَحْ يَا أبَا مُحَمَّدٍ شَرْحًا يُذِهْبُ عَنْ قُلُوبِنَا هَذِهِ الشُّبْهَةَ، فَقَالَ: أَلَيْسَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دَلَّ الْمَلَائِكَةَ عَلَى تِلْكَ الطَّاعَةِ، وَأَلْهَمَهُمْ إِيَّاهَا، وَعَزَمَهُمْ عَلَيْهَا، وَجَبَرَهُمْ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَوْ طَالَبَهُمْ بِشُكْرِ هَذِهِ النِّعَمِ مَا قَدَرُوا عَلَى ذَلِكَ وَقَصَّرُوا، وَكَانَ لَهُ أَنْ يُعَذِّبَهُمْ بِتَقْصِيرِ الشُّكْرِ، وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ "

امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علقمہ اور عطاء بن ابی رباح کی خدمت میں حاضر تھے‘ اس دوران علقمہ نے عطاء سے پوچھتے ہوئے کہا اے ابو محمد! ہمارے شہروں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے لیے ایمان کو ثابت نہیں کرتے اور وہ اپنے آپ کو صراحۃ مومن کہنے سے گھبراتے ہیں اور وہ یوں کہتے ہیں کہ انشاء اللہ ہم مومن ہیں‘ عطاء نے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں نہیں کہتے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب ہم اپنے لیے ایمان کو ثابت کریں گے تو گویا جنت کو اپنے لیے (خود کو اس کا مستحق) سمجھنے لگیں گے۔ عطاء نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو شیطان کا دھوکہ اور اس کا مکرو فریب ہے جس میں شیطان نے انہیں مبتلا کر کے اللہ کی عظیم نعمت ”اسلام“ سے دور کر رکھا ہے اور وہ نبی علیہ السلام کی سنت کی مخالفت کر رہے ہیں‘ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے لیے ایمان کو ثابت کرتے تھے اور اسے نبی علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے ذکر کرتے تھے۔ پھر عطاء نے فرمایا کہ وہ یہ تو کہتے تھے کہ ہم مؤمن ہیں لیکن یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم یقینی طور پر اہل جنت میں سے بھی ہیں کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ آسمان و زمین میں تمام بسنے والوں کو عذاب میں مبتلا کر دیں تو وہ ان پر ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے‘ علقمہ نے ان سے پوچھا اے ابو محمد ! اگر اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو ’’جو پلک جھپکنے کی مقدار بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کر تے ‘‘ عذاب میں مبتلا کر دیں تو وہ ظالم نہیں ہوں گے؟ فرمایا‘ ہاں! ایسی ہی بات ہے‘ علقمہ نے کہا کہ ہمارے خیال میں تو یہ بہت بڑی بات ہے‘ ہم اسے کیسے پہچانیں؟ فرمایا: اے بھتیجے! یہیں سے تو قدریہ گمراہ ہوئے‘ تم ان کے عقائد اختیار کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ‘ کیونکہ وہ اللہ کے دشمن اور اس کی بات نہ ماننے والے ہیں‘ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام سے نہیں فرمایا تھا کہ آپ اعلان کر دیجیے! واضح اور بلیغ ترین حجت اللہ ہی کی ہے سواگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت سے نواز دیتا۔ علقمہ نے عرض کیا کہ اے ابو محمد ! اس کی اچھی طرح وضاحت فرما دیں تاکہ ہمارے دلوں سے سارے شکوک وشبہات دور ہو جائیں‘ فرمایا: کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے اس فرمانبرداری کی طرف ملائکہ کو متوجہ فرمایا‘ ان کے ذہن میں یہ بات ڈالی اور اسے ان پر لازم کر دیا؟ علقمہ نے کہا کہ ایسا ہی ہے‘ عطاء نے پھر پوچھا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ یہ نعمتیں اللہ ہی نے ان پر انعام فرمائی ہیں؟ علقمہ نے کہا کہ ایسا ہی ہے‘ فرمایا کہ اب اگر اللہ ان سے اپنی عطاء کردہ نعمتوں پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے تو یقیناً وہ اس کا حق ادا کرنے پر قادر نہ ہو سکیں گے اور اس میں ان سے ضرور کوتاہی ہو گی اور اس کوتاہی پر انہیں سزا دینا اللہ کا حق ہو گا اور اس میں دو ان پر ظلم کرنے والا نہیں ہو گا۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 11

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 12

14 - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا عَنْ دِينِنَا كَأَنَّنَا وُلِدْنَا لَهُ، أَنَعْمَلُ الشَّيْءَ قَدْ جَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، وَجَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، أَمْ فِي شَيْءٍ نَسْتَقْبِلُ فِيهِ الْعَمَلَ؟ قَالَ: «بَلْ فِي شَيْءٍ قَدْ جَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، وَجَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ» ، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ» ، {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى {5} وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى {6} فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى {7} وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى {8} وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى {9} فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: 5-10]

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ نبی علیہ السلام سے سوال پوچھتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہمیں ہمارے دین کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیے جس پر ہمیں ایسا اطمینان ہو کہ گویا یہ ہمارا پیدائشی دین ہے‘ کیا ہم جو کام اور عمل کرتے ہیں تقدیر ان پر چل چکی ہوتی ہے اور قلم نہیں لکھ کر خشک ہو چکے ہوتے ہیں؟ یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارے اعمال ان چیزوں میں سے ہیں جن پر تقدپر چل چکی اور قلم انہیں لکھ کر خشک ہو چکے‘ انہوں نے عرض کیا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ؟ فرمایا کہ تم عمل کرتے رہو‘ اس لیے کہ ہر انسان جن کاموں کے لیے پیدا کیا گیا ہے‘ اس کے لیے وہ کام آسان بھی کر دیے گئے ہیں‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جوشخص اپنا مال راہ خدا میں دوسروں کو دیتا ہے‘ اللہ سے ڈرتا ہے اور اچھی باتوں کی تصدیق کرتا ہے‘ ہم اس کے لیے آسانیاں مہیا کر دیں گے اور جو شخص بخل کرتا ہے‘ بے نیازی برتتا ہے اور اچھی باتوں کی تکذیب کرتا ہے‘ ہم اس کے لیے مشکلات کو مہیا کر دیں گے۔

جابر أن سراقة بن مالك ← أَبِي الزُّبَيْرِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 12

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door