مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 1
1 - عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ صَاحِبٍ لِي بِمَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَ بَصُرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: هَلْ لَكَ أَنْ نَأْتِيَهُ، فَنَسْأَلَهُ عَنِ الْقَدَرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْأَلُهُ، فَإِنِّي أَعْرَفُ بِهِ مِنْكَ. قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، وَقَعَدْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّا نَتَقَلَّبُ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ، فَرُبَّمَا قَدِمْنَا الْبَلْدَةَ بِهَا قَوْمٌ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، فَبِمَا نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ: أَبْلِغْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَلَوْ أَنِّي وَجَدْتُ أَعْوَانًا لَجَاهَدْتُهُمْ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، قَالَ: " بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، إِذْ أَقْبَلَ شَابٌّ جَمِيلٌ، أَبْيَضُ، حَسَنُ اللَّمَّةِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، عَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَدَدْنَا مَعَهُ، فَقَالَ: أَدْنُو يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ادْنُ، فَدَنَا دَنْوَةً، أَوْ دَنْوَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ مُوَقِّرًا لَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَدْنُو يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: ادْنُهْ، فَدَنَا حَتَّى أَلْصَقَ رُكْبَتَيْهِ بِرُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، فَقَالَ: الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَلِقَائِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللَّهِ. قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا مِنْ تَصْدِيقِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَوْلِهِ: صَدَقْتَ، كَأَنَّهُ يَعْلَمُ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ مَا هِيَ؟ قَالَ: إِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَحَجُّ الْبَيْتِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَالِاغْتِسَالُ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَ: صَدَقَتَ، فَعَجِبْنَا لِقَوْلِهِ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ مَا هُوَ؟ قَالَ: الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، مَتَى هِيَ؟ ، قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ لَهَا أَشْرَاطٌ، فَقَالَ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: 34] . قَالَ: صَدَقْتَ، وَانْصَرَفَ وَنَحْنُ نَرَاهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَقُمْنَا عَلَى أَثَرِهِ فَمَا نَدْرِي أَيْنَ تَوَجَّهَ، وَلَا رَأَيْنَا شَيْئًا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ، وَاللَّهِ مَا أَتَانِي فِي صُورَةٍ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ فِيهَا، إِلَّا هَذِهِ الصُّورَةَ "
یحیی بن یعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مدینہ منورہ میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک ہماری نگاہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جا پڑی‘ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ کیا خیال ہے ان کے پاس جا کر تقدیر کے متعلق سوال کریں‘ اس نے کہا ٹھیک ہے‘ میں نے کہا کہ پھر سوال مجھے ہی کرنے دینا کیونکہ میں ان کی طبیعت کو زیادہ جانتا ہوں۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ پھر ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے‘ وہاں پہنچ کر میں نے عرض کیا: اے ابو عبدالرحمٰن! (یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت تھی) ہم لوگ زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں‘ اس دوران بعض اوقات ہمارا ایسے شہروں میں بھی آنا جانا ہوتا ہے جہاں کے لوگ تقدیر کو نہیں مانتے‘ ایسے لوگوں کو ہم کیا جواب دیا کریں؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دو کہ میں ان سے بیزار ہوں اور اگر مجھے کچھ مددگار میسر آ گئے تو میں ان سے ضرور جہاد کروں گا۔ اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں یہ حدیث سنانا شروع کی کہ ایک مرتبہ ہم نبی مکرم‘ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی ایک گروہ تھا‘ اچھانک سامنے سے ایک خوبصورت نوجوان آیا جس کا رنگ سفید اور بال خوبصورت تھے‘ اس سے انتہائی عمدہ خوشبو مہک رہی تھی اور اس نے سفید کپڑے زیب بدن کر رکھے تھے‘ اس نے آتے ہی کہا: ”السلام علیک یا رسول اللہ‘‘ پھر سب کو مخاطب کر کے انہیں بھی سلام کیا‘ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے بھی اس کے سلام کا جواب دیا اور ہم نے بھی۔ اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! کیا میں قریب ہو سکتا ہوں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہو جاؤ‘ چنانچہ وہ ایک دو قدم آگے ہو گیا‘ پھر نبی علیہ السلام کے سامنے تعظیماً کھڑا ہو گیا اور دوبارہ عرض کیا یارسول اللہ! کیا میں قریب آ سکتا ہوں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا آ جاؤ‘ چنانچہ اس مرتبہ وہ اتنا قریب ہوا کہ اپنے گھٹنے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا لیے اور کہنے لگا کہ مجھے ”ایمان“ کے بارے بتائے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ آپ اللہ پر‘ اس کے فرشتوں کتابوں اور پیغمبروں‘ اس سے ملنے پر‘ آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر کے اللہ کی طرف سے ہونے پر یقین رکھیں‘ اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا‘ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے نبی علیہ السلام کی تصدیق کرنے اور ’’صدقت ‘‘ کہنے سے ہمیں تعجب ہوا کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ پہلے سے یہ بات جانتا تھا (پھر سوال چہ معنی دارد؟) پھر اس نے کہا کہ مجھے ’’احکام اسلام‘‘ کے بارے بتائیے کہ وہ کیا کیا ہیں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج کرنا بشرطیکہ وہاں پہنچنے کی استطاعت بھی ہو‘ رمضان کے روزے رکھنا اور غسل جنابت کرنا۔ یہ سن کر اس نے پھر تصدیق کی اور ہمیں پھر تعجب ہوا۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ مجھے ’’احسان‘‘ کے بارے میں بتایئے کہ اس کی تعریف کیا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ آپ ہر عمل اللہ کے لیے اس طرح کریں کہ گویا آپ اللہ کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھ رہے ہیں‘ اگر یہ تصور نہیں کر سکتے تو یہ تصور کر لیجیے کہ اللہ تو آپ کو دیکھ رہا ہے‘ اس نے پوچھا کہ اگر میں اس طرح کرنا شروع کر دوں تو کیا میں ’’محسن‘‘ کہلاؤں گا؟ نبی علیہ السلام نے اثبات میں جواب دیا اور اس نے اس کی بھی تصدیق کی۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے ’’قیامت‘‘ کے بارے بتائیے کہ وہ کب آئے گی؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس سے یہ سوال پوچھا گیا ہے‘ وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا (دونوں ہی کو معلوم نہیں ہے) البتہ قیامت کی کچھ علامات ہیں‘ اس کے بعد نبی علیہ السلام نے (اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ آپ کو قیامت کا وقت کیوں معلوم نہیں؟ سورۃ لقمن کی آخری آیت کی تلاوت کرتے ہوئے) فرمایا: بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے‘ وہی بارش برساتا ہے‘ وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ اگلے دن وہ کیا کمائے گا اور کوئی شخص بھی نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا‘ بیشک اللہ ہی علیم وخبیر ہے‘ اس نے نبی علیہ السلام کی تصدیق کی اور واپس چلا گیا۔ ہم اسے جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے‘ تھوڑی دیر کے بعد نبی علیہ السلام نے فرمایا ذرا اس آدمی کو میرے پاس بلا کر لانا‘ ہم اس کے پیچھے پیچھے گئے تو ہمیں کچھ پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں چلا گیا اور ہمیں کچھ نظر نہیں آیا‘ ہم نے آخر سارا ماجرا نبی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کر دیا۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا یہ جبریل تھے‘ تمہارے پاس دین کی بنیادی باتیں تمہیں سکھانے آئے تھے‘ بخدا! وہ جب بھی میرے پاس کسی بھی شکل وصورت میں آتے تھے‘ میں انہیں پہچان لیتا تھا‘ لیکن اس مرتبہ نہیں پہچان سکا۔
بَيْنَمَا ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ
Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 1
