Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 223.1

بَلَغَنَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: «اغْسِلُوا ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ وَكَفِّنُونِي فِيهِمَا» فَهَذَا شَفْعٌ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله تعالى

ہمیں یہ بات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پہنچی ہے کہ آپ نے فرمایا میرے ان دونوں کپڑوں کو دھو کر مجھے ان کا کفن پہنانا تو یہ جفت کپڑے ہیں ۔“ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔“

«اغْسِلُوا ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ وَكَفِّنُونِي فِيهِمَا» فَهَذَا شَفْعٌ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ تعالى ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ ← بَلَغَنَا

Hadith 223.1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 228.1

بَلَغَنَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: نَحْنُ كُنَّا أَحَقَّ بِهَا إِذَا كَانَتْ حَيَّةً، #246# فَأَمَّا إِذَا مَاتَتْ فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهَا قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ

ہمیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے فرمایا جب تک وہ عورت زندہ ہو ہم اس کا زیادہ حق رکھتے ہیں اور جب مر جائے تو تمہیں اس کا زیادہ حق ہے۔“

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← بَلَغَنَا

Hadith 228.1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 257.1

257 - مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمَا قَالَا: «الزَّوْجُ أَحَقُّ بِالصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ مِنَ الْأَبِ»

حضرت امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں! ہمیں حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے خبر دی ‘ وہ حضرت حماد رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں نیز عون بن عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ سے اور وہ حضرت شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ دونوں فرماتے ہیں باپ کے مقابلے میں خاوند بیوی کا جنازہ پڑھانے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“

«الزَّوْجُ أَحَقُّ بِالصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ مِنَ الْأَبِ» ← الشَّعْبِيِّ أَنَّهُمَا ← إِبْرَاهِيمَ، وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← حَمَّادٌ، ← أبو حنيفة ← مُحَمَّدٍ

Hadith 257.1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 1.1

اَبُوْ حَنِیْفَۃ عَنْ یَحْیٰی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاھِیمَ التَّیُمِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّیْثِیِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِی اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْأَعْمَالُ بِالتَّیَّاتِ وَلِکُلَّ مَانَوَی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ إِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ اِلٰی دُنْیَا یُصِیبْھَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَنْکِحُھَا فَھِجْرَتُہُ إِلَی مَا ھَاجَرَ إِلَیْہِ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی‘ چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوتو وہ سمجھ لے کہ اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف ہوئی ہے اور جس شخص کی ہجرت حصول دنیا یا کسی عورت سے شادی کی خاطر ہوتو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَحْيَى ← أبو حنيفة

Hadith 1.1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 10.1

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: " يَدْرُسُ الْإِسْلَامُ كَمَا يَدْرُسُ وَشْيُ الثَّوْبِ، وَلَا يَبْقَى إِلَّا شَيْخٌ كَبِيرٌ، أَوْ عَجُوزٌ فَانِيَةٌ، يَقُولُونَ: قَدْ كَانَ قَوْمٌ يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَهُمْ مَا يَقُولُونَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: فَقَالَ صِلَةُ بْنُ زُفَرَ: فَمَا يُغْنِي عَنْهُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَهُمْ لَا يَصُومُونَ، وَلَا يُصَلُّونَ، وَلَا يَحُجُّونَ، وَلَا يَتَصَدَّقُونَ، قَالَ: يَنْجُونَ بِهَا مِنَ النَّارِ. ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ: يَا صِلَةُ، يَنْجُونَ بِهَا مِنَ النَّارِ "

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جس میں اسلام ایسے مٹ جائے گا جیسے کپڑے کے داغ دھبے مٹ جاتے ہیں‘ اس زمانے میں کچھ بوڑھے لوگ رہ جائیں جو یہ کہتے ہوں گے کہ کسی زمانے میں ”لا الہ الا اللہ‘‘ کہنے والے بھی ہوتے تھے‘ اور یہ بوڑھے افراد خود ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا اقرار نہیں کرتے ہوں گے‘ اس موقع پر موجود ایک صاحب صلہ بن زید بولے کہ اے عبداللہ ! اگر لوگ روزے نہ رکھتے ہوں‘ نماز نہ پڑھتے ہوں‘ حج نہ کرتے ہوں اور صدقہ و خیرات نہ کرتے ہوں تو انہیں ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کیا فائدہ دے گا ؟ فرمایا کہ اس کی برکت سے کسی نہ کسی وقت وہ نار جہنم سے نجات پا ہی جائیں گے۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ

Hadith 10.1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 10.2

وَمَسْعُودٌ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ، فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَنِي: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِخِلَافِ مَا كُنْتُ أَقُولُ» ، فَأَنْقَذَنِي اللَّهُ تَعَالَى

یزید بن صہیب کہتے ہیں کہ پہلے میں بھی خوارج کی طرح رائے رکھتا تھا‘ بعد میں میں نے نبی علیہ السلام کے ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان آراء کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی علیہ السلام جو بات فرماتے تھے‘ وہ اس کے موافق نہ تھی جو میری رائے تھی‘ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا۔

كُنْتُ أَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ، فَسَأَلْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ فَأَخْبَرَنِي: ← يَزِيدُ: ← وَمَسْعُودٌ،

Hadith 10.2

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 43.1

اَبُوْ حَنِیْفَۃَ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اَکَلَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَرَقًا بِلَحْمٍ ثُمَّ صَلّٰی

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام نے شوربے میں پکا ہوا گوشت تناول فرمایا‘ اس کے بعد جدید وضو کیے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔

اَکَلَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَرَقًا بِلَحْمٍ ثُمَّ صَلّٰی ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أبو حنيفة

Hadith 43.1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 127.1

حَمَّادٌ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَلَدُ الزِّنَا وَالْعَبْدُ وَالْأَعْرَابِيُّ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ»

ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ولد الزنا‘ دیہاتی اور غلام‘ لوگوں کی امامت کر سکتے ہیں جبکہ قرآن پڑھ سکتے ہوں۔

«يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَلَدُ الزِّنَا وَالْعَبْدُ وَالْأَعْرَابِيُّ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ» ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← حَمَّادٌ،

Hadith 127.1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 157.1

اَبُوْ حَنِیْفَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِیَاضٍ الْاَشْعَرِیِّ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سَجَدَ فِیْ صٓ

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ ص میں سجدۂ تلاوت کیا ہے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ ← سِمَاكٍ، ← أبو حنيفة

Hadith 157.1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 182.1

اَبُوْ حَنِیْفَۃَ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ عَنْ اُمِّ ھَانِیٍء قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَنْ عَلِّمَ اَنَّ اللہَ یَغْفِرُلَہٗ فَھُوَ مَغْفُوْرً لَہٗ

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو اس بات کا یقین ہو کہ اللہ اس کی بخشش فرما دے گا تو واقعی اللہ اس کی بخشش فرما دے گا۔

أم هانيء ← اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أبو حنيفة

Hadith 182.1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 228.1

عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا قَدِمَتْ، وَهِيَ مُتَمَتِّعَةٌ، وَهِيَ حَائِضٌ، «فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَضَتْ عُمْرَتَهَا»

اس کا ترجمہ بھی بعینہ یہی ہے

عَائِشَةَ أَنَّهَا قَدِمَتْ، وَهِيَ مُتَمَتِّعَةٌ، وَهِيَ حَائِضٌ، «فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ فَرَفَضَتْ عُمْرَتَهَا» ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Hadith 228.1

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · کتاب ‹ [67] بَابُ الْجَنَائِزِ، وَغُسْلُ الْمَيِّتِ · حديث 295.1

عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ فِي الْمَوْلَى: «فَيْئُهُ الْجِمَاعُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ عُذْرٌ، فَفَيْئُهُ بِاللِّسَانِ»

علقمہ اس شخص کے بارے میں کہتے ہیں جس نے اپنی بیوی سے ایلاء کر لیا ہو کہ اس کا رجوع مباشرت کرنا ہے ‘ ہاں! اگر کوئی عذر ہو تو اس کا رجوع زبان سے بھی ہو جائے گا۔

فِي الْمَوْلَى: «فَيْئُهُ الْجِمَاعُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ عُذْرٌ، فَفَيْئُهُ بِاللِّسَانِ» ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Hadith 295.1

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door