مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 25
27 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَبْقَى أَحَدٌ مِنَ الْمُوَحِّدِينَ فِي النَّارِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، رَجُلٌ فِي قَعْرِ جَهَنَّمَ يُنَادِي بِالْحَنَّانِ الْمَنَّانِ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ الصَّوْتِ، فَقَالَ: الْعَجَبَ الْعَجَبَ، ثُمَّ لَمْ يَصْبِرْ حَتَّي يَصِيرَ بَيْنَ يَدَيْ عَرْشِ الرَّحْمَنِ سَاجِدًا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا جِبْرِيلُ، فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنَ الْعَجَايِبِ؟ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا رَآهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبُّ، سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ قَعْرِ جَهَنَّمَ يُنَادِي بِالْحَنَّانِ الْمَنَّانِ، فَتَعَجَّبْتُ مِنْ ذَلِكَ الصَّوْتُ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مَالِكٍ، قُلْ لَهُ: أَخْرِجِ الْعَبْدَ الَّذِي يُنَادِي بِالْحَنَّانِ الْمَنَّانِ، فَيَذْهَبُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، فَيَضْرِبُهُ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ مَالِكٌ، فَيَقُولُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَقُولُ: أَخْرِجِ الْعَبْدَ الَّذِي يُنَادِي بِالْحَنَّانِ الْمَنَّانِ، فَيَدْخُلُ فَيَطْلُبُهُ، فَلَا يُوجَدُ، وَإِنَّ مَالِكًا أَعْرَفُ بِأَهْلِ النَّارِ مِنَ الْأُمِّ بِأَوْلَادِهَا، فَيَخْرُجُ، فَيَقُولُ لِجِبْرِيلَ: إِنَّ جَهَنَّمَ زَفَرَتْ زَفْرَةً لَا أَعْرِفُ الْحِجَارَةَ مِنَ الْحَدِيدِ، وَلَا الْحَدِيدَ مِنَ الرِّجَالِ، فَيَرْجِعُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى يَصِيرَ بَيْنَ يَدَيْ عَرْشِ الرَّحْمَنِ سَاجِدًا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا جِبْرِيلُ، لِمَ لَمْ تَجِيءْ بِعَبْدِي؟ فَيَقُولُ: يَا رَبُّ، إِنَّ مَالِكًا يَقُولُ: إِنَّ جَهَنَّمَ قَدْ زَفَرَتْ زَفْرَةً لَا أَعْرِفُ الْحِجَارَةَ مِنَ الْحَدِيدِ، وَلَا الْحَدِيدَ مِنَ الرِّجَالِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قُلْ لِمَالِكٍ: إنَّ عَبْدِي فِي قَعْرِ كَذَا وَكَذَا، فِي سِرِّ كَذَا وَكَذَا. وَفِي رِوَايَةٍ: كَذَا وَكَذَا، فَيَدْخُلُ جِبْرِيلُ فَيُخْبِرُهُ بِذَلِكَ، فَيَدْخُلُ مَالِكٌ، فَيَجِدُهُ مَطْرُوحًا مَنْكُوسًا مَشْدُودًا نَاصِيَتُهُ إِلَى قَدَمَيْهِ، وَيَداهُ إِلَى عُنُقِهِ، وَاجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْحَيَّاتُ وَالْعَقَارِبُ، فَيَجْذِبُهُ حَتَّى تَسْقُطَ عَنْهُ الْحَيَّاتُ وَالْعَقَارِبُ، ثُمَّ يَجْذِبُهُ جَذْبَةً أُخْرَى حَتَّى تَنْقَطِعَ مِنْهُ السَّلَاسِلُ وَالْأَغْلَالُ، ثُمَّ يُخْرِجُهُ مِنَ النَّارِ، فَيُصَيِّرُهُ فِي مَاءِ الْحَيَاةِ وَيَدْفَعُهُ إِلَى جِبْرِيلَ، فَيَأْخُذُ بِنَاصِيَتِهِ وَيَمُدَّهُ مَدًّا، فَمَا يَمُرُّ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا وَهُمْ يَقُولُونَ: أُفٍّ لِهَذَا الْعَبْدِ، حَتَّى يَصِيرَ بَيْنَ يَدَيْ عَرْشِ الرَّحْمَنِ سَاجِدًا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا جِبْرِيلُ، وَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: عَبْدِي أَلَمْ أَخْلُقْكَ بِخَلْقٍ حَسَنٍ؟ أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولًا؟ أَلَمْ يُقْرَأْ عَلَيْكَ كِتَابِي؟ أَلَمْ يَأْمُرْكَ وَيَنْهَكَ؟ حَتَّى يُقِرَّ الْعَبْدُ. فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ الْعَبْدُ: يَا رَبُّ، ظَلَمْتُ نَفْسِي حَتَّى بَقِيتُ فِي النَّارِ كَذَا وَكَذَا خَرِيفًا لَمْ أَقْطَعْ رَجَائِي مِنْكَ، يَا رَبُّ، دَعَوْتُكَ بِالْحَنَّانِ الْمَنَّانِ وأَخْرَجْتَنِي بِفَضْلِكَ، فَارْحَمْنِي بِرَحْمَتِكَ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: اشْهَدُوا يَا مَلَائِكَتِي بِأَنِّي رَحِمْتُهُ "
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا موحدین میں سے کوئی شخص جہنم میں باقی بھی رہے گا ؟ فرمایا: ہاں ایک آدمی ہو گا جو جہنم کی سب سے نچلی تہہ میں اللہ کو اس کے دو ناموں” یا حنان یا منان‘‘ سے پکار رہا ہو گا‘ وہاں سے حضرت جبریل علیہ السلام کا گزر ہو گا اور وہ اس کی آواز سن لیں گے‘ انہیں اس آواز پر تعجب ہو گا اور وہ کہیں گے کہ تعجب ہے جہنم سے ایسی آواز آ رہی ہے‘ پھر ان سے رہا نہ جائے گا اور وہ عرش الہٰی کے سامنے حاضر ہو کر سجدہ ریز ہو جائیں گے‘ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جبریل! سر اٹھاؤ‘ وہ سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ باوجود یکہ ہر چیز سے واقف ہیں ان سے پوچھیں گے کہ تم نے کیا عجیب چیز دیکھی ہے؟ وہ عرض کریں گے کہ پروردگار! میں نے جہنم کی سب سے نچلی تہہ سے ایک شخص کی آواز سنی ہے جو آپ کو ’’یا حنان یا منان‘‘ کہہ کر پکار رہا ہے مجھے اس آواز پر تعجب ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جبریل! مالک (داروغہ جہنم) کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ میرے اس بندے کو جہنم سے نکال کر لائے‘ چنانچہ حضرت جبریل علیہ السلام جہنم کے ایک دروازے پر پہنچ کر دستک دیں گے‘ مالک نکلے گا‘ وہ اس سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میرے اس بندے کو جہنم سے نکال لو جو ’’یا حنان یا منان‘‘ پکار رہا ہے‘ مالک یہ سن کر جہنم میں داخل ہو گا‘ لیکن تلاش کے باوجود وہ بندہ اسے نہیں ملے گا‘ حالانکہ مالک اہل جہنم کو اس سے بھی زیادہ یقین کے ساتھ پہچانتا ہے جتنا ماں اپنی اولاد کو پہچانتی ہے‘ چنانچہ مالک حضرت جبریل علیہ السلام سے کہے گا کہ جہنم کی آگ بہت بھڑک رہی ہے جس کی وجہ سے اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ میں پتھر اور لوہے‘ لوہے اور آدمی کے درمیان فرق نہیں کر سکتا۔ جبریل یہ سن کر لوٹ جائیں گے اور عرش الہٰی کے سامنے پہنچ کر سجدہ ریز ہو جائیں گے‘ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جبریل! سر اٹھاؤ! میرے بندے کو کیوں نہیں لائے؟ وہ عرض کریں گے کہ پروردگار! ما لک کہہ رہا ہے کہ جہنم کی آگ بہت بھڑک رہی ہے جس کی وجہ سے مجھے پتھر اور لوہے‘ لوہے اور آدمی کے درمیان امتیاز نہیں ہو پا رہا‘ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ مالک سے جا کر کہہ دو کہ میرا وہ بندہ جہنم کی فلاں تہہ‘ فلاں پردے اور فلاں کونے میں پڑا ہوا ہے۔ جبریل وہاں پہنچ کر مالک کو یہ سب کچھ بتائیں گے‘ مالک جب مقررہ جگہ پر پہنچے گا تو اس شخص کو پھنکار زدہ‘ دھتکارا ہوا‘ پیشانی کو پاؤں سے جکڑ ہوا اور ہاتھوں کو گردن سے بندھا ہوا پائے گا اور اسے سانپ اور بچھو چمٹے ہوئے ہوں گے‘ مالک اسے ایک مرتبہ اپنی طرف کھینچے گا تو وہ سانپ اور بچھو جھڑ کر گر پڑیں گے اور دوبارہ کھینچنے پر اس کی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ٹوٹ کر گر پڑیں گی اور پھر مالک اسے جہنم سے نکال لائے گا اور اسے نہر حیات میں غوطہ دلا کر جبریل کے حوالے کر دے گا۔ جبریل اسے پیشانی سے پکڑ کر کھنچتے ہوئے روانہ ہوں گے‘ راستہ میں فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ان کا گزر ہو گا‘ وہ یہی کہے گی کہ افسوس ہے اس بندے پر‘ یہاں تک کہ جبریل عرش الہٰی کے سامنے پہنچ کر سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جبریل ! سر اٹھاؤ‘ پھر اس بندے کی طرف متوجہ ہوکر فرمائیں گے اے میرے بندے! کیا میں نے تجھے بہترین صورت میں پیدا نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تیرے پاس اپنے پیغمبر کو نہیں بھیجا تھا؟ کیا اس پیغمبر نے تیرے سامنے میری کتاب کی تلاوت نہیں کی تھی؟ کیا اس نے تجھے اچھے کاموں کا حکم اور بری باتوں سے منع نہیں کیا تھا؟ بندہ ان سب چیزوں کا اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ پھر تو نے فلاں فلاں کام کیوں کیا؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا جس کی وجہ سے مجھے اتنی دیر جہنم میں رہنا پڑا‘ لیکن اس دوران میں نے تجھ سے امید کا ناطہ نہ توڑا اور میں تجھے ’’یا حنان یا منان‘‘ کہہ کر پکارتا ہی رہا‘ اب تو نے اپنے فضل سے مجھے جہنم سے نکال ہی دیا ہے تو اب مجھ پر رحم بھی فرما دے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے فرشتو! گواہ رہو کہ میں نے اس پر رحم کر دیا۔
جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،
Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 25
