Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 25

27 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَبْقَى أَحَدٌ مِنَ الْمُوَحِّدِينَ فِي النَّارِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، رَجُلٌ فِي قَعْرِ جَهَنَّمَ يُنَادِي بِالْحَنَّانِ الْمَنَّانِ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَيَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ الصَّوْتِ، فَقَالَ: الْعَجَبَ الْعَجَبَ، ثُمَّ لَمْ يَصْبِرْ حَتَّي يَصِيرَ بَيْنَ يَدَيْ عَرْشِ الرَّحْمَنِ سَاجِدًا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا جِبْرِيلُ، فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنَ الْعَجَايِبِ؟ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا رَآهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبُّ، سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ قَعْرِ جَهَنَّمَ يُنَادِي بِالْحَنَّانِ الْمَنَّانِ، فَتَعَجَّبْتُ مِنْ ذَلِكَ الصَّوْتُ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مَالِكٍ، قُلْ لَهُ: أَخْرِجِ الْعَبْدَ الَّذِي يُنَادِي بِالْحَنَّانِ الْمَنَّانِ، فَيَذْهَبُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، فَيَضْرِبُهُ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ مَالِكٌ، فَيَقُولُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَقُولُ: أَخْرِجِ الْعَبْدَ الَّذِي يُنَادِي بِالْحَنَّانِ الْمَنَّانِ، فَيَدْخُلُ فَيَطْلُبُهُ، فَلَا يُوجَدُ، وَإِنَّ مَالِكًا أَعْرَفُ بِأَهْلِ النَّارِ مِنَ الْأُمِّ بِأَوْلَادِهَا، فَيَخْرُجُ، فَيَقُولُ لِجِبْرِيلَ: إِنَّ جَهَنَّمَ زَفَرَتْ زَفْرَةً لَا أَعْرِفُ الْحِجَارَةَ مِنَ الْحَدِيدِ، وَلَا الْحَدِيدَ مِنَ الرِّجَالِ، فَيَرْجِعُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى يَصِيرَ بَيْنَ يَدَيْ عَرْشِ الرَّحْمَنِ سَاجِدًا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا جِبْرِيلُ، لِمَ لَمْ تَجِيءْ بِعَبْدِي؟ فَيَقُولُ: يَا رَبُّ، إِنَّ مَالِكًا يَقُولُ: إِنَّ جَهَنَّمَ قَدْ زَفَرَتْ زَفْرَةً لَا أَعْرِفُ الْحِجَارَةَ مِنَ الْحَدِيدِ، وَلَا الْحَدِيدَ مِنَ الرِّجَالِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قُلْ لِمَالِكٍ: إنَّ عَبْدِي فِي قَعْرِ كَذَا وَكَذَا، فِي سِرِّ كَذَا وَكَذَا. وَفِي رِوَايَةٍ: كَذَا وَكَذَا، فَيَدْخُلُ جِبْرِيلُ فَيُخْبِرُهُ بِذَلِكَ، فَيَدْخُلُ مَالِكٌ، فَيَجِدُهُ مَطْرُوحًا مَنْكُوسًا مَشْدُودًا نَاصِيَتُهُ إِلَى قَدَمَيْهِ، وَيَداهُ إِلَى عُنُقِهِ، وَاجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْحَيَّاتُ وَالْعَقَارِبُ، فَيَجْذِبُهُ حَتَّى تَسْقُطَ عَنْهُ الْحَيَّاتُ وَالْعَقَارِبُ، ثُمَّ يَجْذِبُهُ جَذْبَةً أُخْرَى حَتَّى تَنْقَطِعَ مِنْهُ السَّلَاسِلُ وَالْأَغْلَالُ، ثُمَّ يُخْرِجُهُ مِنَ النَّارِ، فَيُصَيِّرُهُ فِي مَاءِ الْحَيَاةِ وَيَدْفَعُهُ إِلَى جِبْرِيلَ، فَيَأْخُذُ بِنَاصِيَتِهِ وَيَمُدَّهُ مَدًّا، فَمَا يَمُرُّ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا وَهُمْ يَقُولُونَ: أُفٍّ لِهَذَا الْعَبْدِ، حَتَّى يَصِيرَ بَيْنَ يَدَيْ عَرْشِ الرَّحْمَنِ سَاجِدًا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا جِبْرِيلُ، وَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: عَبْدِي أَلَمْ أَخْلُقْكَ بِخَلْقٍ حَسَنٍ؟ أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولًا؟ أَلَمْ يُقْرَأْ عَلَيْكَ كِتَابِي؟ أَلَمْ يَأْمُرْكَ وَيَنْهَكَ؟ حَتَّى يُقِرَّ الْعَبْدُ. فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ الْعَبْدُ: يَا رَبُّ، ظَلَمْتُ نَفْسِي حَتَّى بَقِيتُ فِي النَّارِ كَذَا وَكَذَا خَرِيفًا لَمْ أَقْطَعْ رَجَائِي مِنْكَ، يَا رَبُّ، دَعَوْتُكَ بِالْحَنَّانِ الْمَنَّانِ وأَخْرَجْتَنِي بِفَضْلِكَ، فَارْحَمْنِي بِرَحْمَتِكَ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: اشْهَدُوا يَا مَلَائِكَتِي بِأَنِّي رَحِمْتُهُ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا موحدین میں سے کوئی شخص جہنم میں باقی بھی رہے گا ؟ فرمایا: ہاں ایک آدمی ہو گا جو جہنم کی سب سے نچلی تہہ میں اللہ کو اس کے دو ناموں” یا حنان یا منان‘‘ سے پکار رہا ہو گا‘ وہاں سے حضرت جبریل علیہ السلام کا گزر ہو گا اور وہ اس کی آواز سن لیں گے‘ انہیں اس آواز پر تعجب ہو گا اور وہ کہیں گے کہ تعجب ہے جہنم سے ایسی آواز آ رہی ہے‘ پھر ان سے رہا نہ جائے گا اور وہ عرش الہٰی کے سامنے حاضر ہو کر سجدہ ریز ہو جائیں گے‘ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جبریل! سر اٹھاؤ‘ وہ سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ باوجود یکہ ہر چیز سے واقف ہیں ان سے پوچھیں گے کہ تم نے کیا عجیب چیز دیکھی ہے؟ وہ عرض کریں گے کہ پروردگار! میں نے جہنم کی سب سے نچلی تہہ سے ایک شخص کی آواز سنی ہے جو آپ کو ’’یا حنان یا منان‘‘ کہہ کر پکار رہا ہے مجھے اس آواز پر تعجب ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جبریل! مالک (داروغہ جہنم) کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ میرے اس بندے کو جہنم سے نکال کر لائے‘ چنانچہ حضرت جبریل علیہ السلام جہنم کے ایک دروازے پر پہنچ کر دستک دیں گے‘ مالک نکلے گا‘ وہ اس سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میرے اس بندے کو جہنم سے نکال لو جو ’’یا حنان یا منان‘‘ پکار رہا ہے‘ مالک یہ سن کر جہنم میں داخل ہو گا‘ لیکن تلاش کے باوجود وہ بندہ اسے نہیں ملے گا‘ حالانکہ مالک اہل جہنم کو اس سے بھی زیادہ یقین کے ساتھ پہچانتا ہے جتنا ماں اپنی اولاد کو پہچانتی ہے‘ چنانچہ مالک حضرت جبریل علیہ السلام سے کہے گا کہ جہنم کی آگ بہت بھڑک رہی ہے جس کی وجہ سے اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ میں پتھر اور لوہے‘ لوہے اور آدمی کے درمیان فرق نہیں کر سکتا۔ جبریل یہ سن کر لوٹ جائیں گے اور عرش الہٰی کے سامنے پہنچ کر سجدہ ریز ہو جائیں گے‘ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جبریل! سر اٹھاؤ! میرے بندے کو کیوں نہیں لائے؟ وہ عرض کریں گے کہ پروردگار! ما لک کہہ رہا ہے کہ جہنم کی آگ بہت بھڑک رہی ہے جس کی وجہ سے مجھے پتھر اور لوہے‘ لوہے اور آدمی کے درمیان امتیاز نہیں ہو پا رہا‘ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ مالک سے جا کر کہہ دو کہ میرا وہ بندہ جہنم کی فلاں تہہ‘ فلاں پردے اور فلاں کونے میں پڑا ہوا ہے۔ جبریل وہاں پہنچ کر مالک کو یہ سب کچھ بتائیں گے‘ مالک جب مقررہ جگہ پر پہنچے گا تو اس شخص کو پھنکار زدہ‘ دھتکارا ہوا‘ پیشانی کو پاؤں سے جکڑ ہوا اور ہاتھوں کو گردن سے بندھا ہوا پائے گا اور اسے سانپ اور بچھو چمٹے ہوئے ہوں گے‘ مالک اسے ایک مرتبہ اپنی طرف کھینچے گا تو وہ سانپ اور بچھو جھڑ کر گر پڑیں گے اور دوبارہ کھینچنے پر اس کی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ٹوٹ کر گر پڑیں گی اور پھر مالک اسے جہنم سے نکال لائے گا اور اسے نہر حیات میں غوطہ دلا کر جبریل کے حوالے کر دے گا۔ جبریل اسے پیشانی سے پکڑ کر کھنچتے ہوئے روانہ ہوں گے‘ راستہ میں فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ان کا گزر ہو گا‘ وہ یہی کہے گی کہ افسوس ہے اس بندے پر‘ یہاں تک کہ جبریل عرش الہٰی کے سامنے پہنچ کر سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جبریل ! سر اٹھاؤ‘ پھر اس بندے کی طرف متوجہ ہوکر فرمائیں گے اے میرے بندے! کیا میں نے تجھے بہترین صورت میں پیدا نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تیرے پاس اپنے پیغمبر کو نہیں بھیجا تھا؟ کیا اس پیغمبر نے تیرے سامنے میری کتاب کی تلاوت نہیں کی تھی؟ کیا اس نے تجھے اچھے کاموں کا حکم اور بری باتوں سے منع نہیں کیا تھا؟ بندہ ان سب چیزوں کا اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ پھر تو نے فلاں فلاں کام کیوں کیا؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا جس کی وجہ سے مجھے اتنی دیر جہنم میں رہنا پڑا‘ لیکن اس دوران میں نے تجھ سے امید کا ناطہ نہ توڑا اور میں تجھے ’’یا حنان یا منان‘‘ کہہ کر پکارتا ہی رہا‘ اب تو نے اپنے فضل سے مجھے جہنم سے نکال ہی دیا ہے تو اب مجھ پر رحم بھی فرما دے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے فرشتو! گواہ رہو کہ میں نے اس پر رحم کر دیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 25

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 26

28 - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْبَلْخِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، وَيَزِيدَ الطُّوسِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أُمَيَّةَ الْحَذَّاءِ الْعَدَوِيِّ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَنْ تَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ، وَأَهْلِ الْعَظَائِمِ، وَأَهْلِ الدِّمَاءِ»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے ایک مرتبہ نبی علیہ السلام سے عرض کیا: یارسول اللہ! قیامت کے دن آپ کن لوگوں کی سفارش فرمائیں گے؟ فرمایا: کبیرہ گناہوں‘ بڑے بڑے جرائم اور خونریزی کرنے والوں کی۔

قُلْنَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ أُمَيَّةَ الْحَذَّاءِ الْعَدَوِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْبَلْخِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، وَيَزِيدَ الطُّوسِيِّ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 26

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 27

29 - عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَبَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَانْظُرُوا أَنْ لَا تُغْلَبُوا فِي صَلَوَاتٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» ، قَالَ حَمَّادٌ: يَعْنِي: الْغَدَاةَ وَالْعَشِيَّ

حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: عنقریب تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے چودہویں رات کا چاند دیکھتے ہو‘ جس کے دیکھنے میں تمہیں کسی قسم کی کوئی دشواری نہیں ہوتی ‘ اس لیے دیکھو! اگر تم طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے کی نماز نہ چھوڑ سکو تو ایسا ضرور کرو (کیونکہ ان دو نمازوں کو رؤیت باری کے حصول میں خاص دخل ہے)

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَبَيَانُ بْنُ بِشْرٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 27

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 28

1 - عَنْ حَمَّادِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حصول علم ہر مسلمان پر فرض ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Science Book › Door · Hadith 28

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 29

2 - عَنْ نَاصِحٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حصول علم ہر مسلمان پر فرض ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← نَاصِحٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Science Book › Door · Hadith 29

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 30

3 - وُلِدْتُ سَنَةَ ثَمَانِينَ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ، وَأَنَا ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمَّا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَرَأَيْتُ حَلَقَةً، فَقُلْتُ لِأَبِي: حَلَقَةُ مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالَ: حَلَقَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَرْثِ بْنِ جَزْءٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَقَدَّمْتُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ تَفَقَّهَ فِي دِينِ اللَّهِ كَفَاهُ اللَّهُ مَهَمَّهُ وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ»

امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری پیدائش ۸۰ھ میں ہوئی ہے‘ میں نے ۹۶ھ میں جبکہ میری عمر سولہ سال تھی‘ اپنے والد صاحب کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کی‘ جب میں مسجد حرام میں داخل ہوا تو وہاں میں نے ایک بہت بڑا حلقہ دیکھا‘ میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا یہ کس کا حلقہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء الزبیدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلقہ ہے‘ چنانچہ میں آگے بڑھ کر ان کے حلقے میں شریک ہو گیا‘ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کے دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنے کی راہ پر چل پڑتا ہے‘ اللہ اس کے کاموں میں اس کی کفایت فرماتا ہے اور اسے ایسی جگہوں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہ گیا ہو۔

حَلَقَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَرْثِ بْنِ جَزْءٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ فَتَقَدَّمْتُ ← ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ ← وُلِدْتُ سَنَةَ ثَمَانِينَ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Science Book › Door · Hadith 30

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 31

4 - عَنْ إسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ، لِيَكُنْ شِعَارُكِ الْعِلْمَ وَالْقُرْآنَ»

حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مخاطب کر کے فرمایا: اے عائشہ! تمہارا شعار قرآن اور علم ہونا چاہیے۔

أُمِّ هَانِئٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Science Book › Door · Hadith 31

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 32

5 - عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِقَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى، فَقَالَ: «أَنْتُمْ مِنَ الَّذِينَ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ، وَمَا جَلَسَ عَدْلُكُمْ مِنَ النَّاسِ، فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى، إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ»

علی بن اقمر سے مرسلاً مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک جماعت پر گزر ہوا‘ جو اللہ کے ذکر میں مشغول تھی‘ نبی علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر فرمایا: تم ہی وہ لوگ ہو جن کے متعلق مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اپنے آپ کو ان کے ساتھ لگائے رکھوں‘ اور تم جیسے لوگ جہاں بھی مجلس لگاتے ہیں‘ اور اللہ کا ذکر کرتے ہیں‘ فرشتے انہیں اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں‘ رحمت خداوندی انہیں اپنے سائے میں لے لیتی ہے اور اللہ ان کا ذکر اپنے پاس موجود ملاء اعلیٰ کے فرشتوں سے کرتا ہے۔

النَّبِيِّ مَرَّ بِقَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى، ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Science Book › Door · Hadith 32

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 33

6 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى الْعُلَمَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: إِنِّي لَمْ أَجْعَلْ حِكْمَتِي فِي قُلُوبِكُمْ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ بِكُمُ الْخَيْرَ، اذْهَبُوا إِلَى الْجَنَّةِ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن علما ء کو جمع کر کے فرمائے گا میں نے تمہارے دلوں میں اپنی حکمت کی باتیں صرف اسی لیے ڈالی تھیں کہ میں تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا تھا‘ جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ‘ میں نے تمہارے گناہوں کو ’’جو تم پر بوجھ تھے“ معاف کر دیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Science Book › Door · Hadith 33

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 34

7 - عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، أَوْ قَالَ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے اور ایسی بات کہے جو میں نے نہیں کہی تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Science Book › Door · Hadith 34

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 35

8 - عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» ، عَنْ أَبِي رُؤْبَةَ: شَدَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے‘ اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Science Book › Door · Hadith 35

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 36

9 - عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» ، قَالَ عَطِيَّةُ: وَأَشْهَدُ أَنِّي لَمْ أَكْذِبْ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَّ أَبَا سَعِيدٍ لَمْ يَكْذِبْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی ایک دوسری سند کے ساتھ یہی روایت مذکور ہے جس کے آخر میں ہے‘ راوی عطیہ کہتے ہیں کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جھوٹ نہیں باندھ رہا اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی علیہ السلام پر جھوٹ نہیں باندھا (یعنی یہ روایت صحیح اور سچی ہے)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · Science Book › Door · Hadith 36

chevron_left Previous
1234…45
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door