مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 13
15 - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ، عَنْ مُصْعَبٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ إِلَّا قَدْ كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَدْخَلَهَا وَمَخْرَجَهَا وَمَا هِيَ لَاقِيَةٌ، قِيلَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا، فُكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خَلَقَ اللَّهُ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ» ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: الْآنَ حَقَّ الْعَمَلُ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر نفس کے داخل ہونے اور خارج ہونے کی جگہ کے بارے میں لکھ رکھا ہے اور یہ کہ وہ کن چیزوں سے آمنا سامنا کرے گا‘ کسی انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ یارسول اللہ! پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ فرمایا: تم عمل کرتے رہو‘ اس لیے کہ جو شخص جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے‘ اس کے لیے اس کے اسباب مہیا کر دیے جائیں گے چنانچہ جو شخص اہل جنت میں ہو گا‘ اس کے لیے اہل جنت کے اعمال آسان کر دیے جائیں گے اور جو شخص اہل جہنم میں ہو گا‘ اس کے لیے اہل جہنم والے اعمال آسان ہو جائیں گے‘ یہ سن کر اس انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اب عمل کی حقیقت سامنے آئی۔
اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَدْخَلَهَا وَمَخْرَجَهَا وَمَا هِيَ لَاقِيَةٌ، قِيلَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ ← مَا مِنْ نَفْسٍ إِلَّا قَدْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَعْدٍ، ← مصعب ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ،
Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 13
