Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi

by Abu Hanifa

534 Hadith68 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 13

15 - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ، عَنْ مُصْعَبٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ إِلَّا قَدْ كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَدْخَلَهَا وَمَخْرَجَهَا وَمَا هِيَ لَاقِيَةٌ، قِيلَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا، فُكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خَلَقَ اللَّهُ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ» ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: الْآنَ حَقَّ الْعَمَلُ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر نفس کے داخل ہونے اور خارج ہونے کی جگہ کے بارے میں لکھ رکھا ہے اور یہ کہ وہ کن چیزوں سے آمنا سامنا کرے گا‘ کسی انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ یارسول اللہ! پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ فرمایا: تم عمل کرتے رہو‘ اس لیے کہ جو شخص جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے‘ اس کے لیے اس کے اسباب مہیا کر دیے جائیں گے چنانچہ جو شخص اہل جنت میں ہو گا‘ اس کے لیے اہل جنت کے اعمال آسان کر دیے جائیں گے اور جو شخص اہل جہنم میں ہو گا‘ اس کے لیے اہل جہنم والے اعمال آسان ہو جائیں گے‘ یہ سن کر اس انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اب عمل کی حقیقت سامنے آئی۔

اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَدْخَلَهَا وَمَخْرَجَهَا وَمَا هِيَ لَاقِيَةٌ، قِيلَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ ← مَا مِنْ نَفْسٍ إِلَّا قَدْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَعْدٍ، ← مصعب ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 13

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 14

16 - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ مَدْخَلَهَا وَمَخْرَجَهَا وَمَا هِيَ لَاقِيَةٌ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ، فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ، فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ "، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: الْآنَ حَقَّ الْعَمَلُ. وَفِي رِوَايَةٍ " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يُسِّرَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يُسِّرَ لِعَمَلِ أَهْلِهَا. فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: الْآنَ حَقَّ الْعَمَلُ "

اس حدیث کا ترجمہ‘ حل عبارت‘ تخریج سند اور مفہوم سب وہی ہے جو گزشتہ حدیث کا ہے۔ تکرار سے بچنے کے لیے ہم اسے دوبارہ نہیں دہرائیں گے البتہ اتنی بات ذکر کرنا ضروری ہے کہ گزشتہ حدیث میں سائل کے ’’انصاری‘‘ ہونے کی صراحت نہیں کی گئی تھی جبکہ یہاں اس کی صراحت بھی کی گئی ہے۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 14

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 15

17 - عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجِيءُ قَوْمٌ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْهُ إِلَى الزَّنْدَقَةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ، وَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تُشَيِّعُوهُمْ، فَإِنَّهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ وَمَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، حَقَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِهِمْ فِي النَّارِ "

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک جماعت ایسی بھی آئے گی جو تقدیر کو نہیں مانے گی‘ پھر وہ زندقہ کی راہ پر چل پڑے گی‘ ایسے لوگوں سے جب تمہارا آمنا سامنا ہو تو انہیں سلام مت کہو‘ اگر بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت کے لیے نہ جاؤ‘ اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت نہ کرو‘ کیونکہ یہ گروہ دجال ہے اور یہ لوگ اس امت کے مجوسی ہیں‘ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ حکم طے ہو گیا ہے کہ وہ انہیں جہنم میں مجوسیوں کے ساتھ اکٹھا کرے گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْهَيْثَمُ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 15

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 16

18 - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَجِيءُ قَوْمٌ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْهُ إِلَى الزَّنْدَقَةِ، فَإِذَا لَقَيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ، وَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تُشَيِّعُوهُمْ، فَإِنَّهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ وَمَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَحَقًّا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِهِمْ فِي النَّارِ "

اس حدیث کا ترجمہ و تشریح‘ سند اور تخریج وہی ہے جو گزشتہ حدیث میں آپ کی نظروں سے گزرا‘ البتہ فرق یہ ہے کہ پہلی حدیث ’’ثلاثیات‘‘ میں سے تھی اور یہ ثنائیات میں سے ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 16

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 17

19 - عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْقَدَرِيَّةَ، مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى قَبْلِي إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ مِنْهُمْ وَلَعَنَهُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ’’قدریہ‘‘ پر لعنت فرمائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا‘ انہوں نے اپنی امت کے ’’قدریہ‘‘ سے لوگوں کو ڈرایا اور انہیں ملعون قرار دیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 17

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 18

20 - عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْقَدَرِيَّةَ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ وَلَا رَسُولٍ إِلَّا لَعَنَهُمْ، وَنَهَى أُمَّتَهُ عَنِ الْكَلَامِ مَعَهُمْ»

یہ بھی گزشتہ حدیث ہی کی طرح ہے‘ البتہ فرق اتنا ہے کہ گزشتہ روایت کا درجہ ’’ثنائیات‘‘ میں سے تھا اور اس کا درجہ ’’ثلاثیات‘‘ میں سے ہے‘ نیز گزشتہ حدیث کے راوی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور اس حدیث کی روایت حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب ہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 18

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 19

21 - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرویت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں اور وہ دجال کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 19

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 20

22 - عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «يُخْرِجُ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، قَالَ يَزِيدُ: فَقُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ} [البقرة: 167] ، قَالَ جَابِرٌ: اقْرَأْ مَا قَبْلَهَا: {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا} [البقرة: 161] إِنَّمَا هِيَ فِي الْكُفَّارِ. وَفِي رِوَايَةٍ: يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَزِيدُ: قُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا} [المائدة: 37] ، فَقَالَ جَابِرٌ: اقْرَأْ مَا قَبْلَهَا: {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا} [المائدة: 36] ، ذَلِكَ الْكُفَّارُ. وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الشَّفَاعَةِ، فَقَالَ: يُعَذِّبُ اللَّهُ تَعَالَى قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِذُنُوبِهِمْ، ثُمَّ يُخْرِجُهُمْ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَيْنَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو میری شفاعت کی وجہ سے جہنم سے نکال لیں گے‘ راوی حدیث یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ وہ جہنم سے نکلنے والے نہیں؟ (پھر اس حدیث کا کیا مطلب؟) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اس سے پہلے بھی تو پڑھو‘ یہ حکم کافروں کے لیے ہے کہ انہیں جہنم سے نکالنا نصیب نہ ہو گا اور نبی علیہ السلام نے مؤمنین کا حکم بیان فرمایا ہے دوسری روایت میں بھی اسی طرح سوال جواب مذکور ہے اور تیسری روایت میں ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ’’شفاعت‘‘ کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایک گروہ کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کرے گا اور بعد میں نبی علیہ السلام کی سفارش پر انہیں جہنم سے نکال لے گا‘ یہ سن کر یزید اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان مذکورہ سوال جواب ہوئے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← يزيد بن صهيب

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 20

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 21

23 - عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: «يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مِنَ الْمُوَحِّدِينَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا امْتَحَشُوا، وَصَارُوا فَحْمًا، فَيُدْخلُهُمُ اللَّهُ تَعَالَى الْجَنَّةَ، فَيَسْتَغِيثُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِمَّا يُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ جَهَنَّمِيِّينَ، فَيُذْهِبُ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ذَلِكَ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جہنم سے موحدین کی ایک جماعت کو نکالے گا‘ ان کی کھال جل چکی ہو گی اور وہ جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے‘ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخلہ نصیب فرمائے گا‘ جنتی نہیں ’’جہنمی‘‘ کے نام سے پکارا کریں گے‘ چنانچہ وہ اللہ سے اس سلسلے میں درخواست کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے اس کی علامت بھی دور فرما دیں گے۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 21

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 22

24 - عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] ، قَالَ: الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ: الشَّفَاعَةُ، يُعَذِّبُ اللَّهُ تَعَالَى قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِذُنُوبِهِمْ، ثُمَّ يُخْرِجُ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُؤْتَى بِهِمْ نَهْرًا، يُقَالُ لَهُ: الْحَيَوَانُ فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ، ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيُسَمَّوْنَ فِي الْجَنَّةِ الْجُهَنَّمِيِّينَ، ثُمَّ يَطْلُبُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَيُذْهِبُ عَنْهُمْ ذَلِكَ الِاسْمَ " رِوَايَةٍ، قَالَ: " يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ النَّارِ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ وَالْقِبْلَةِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ هُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ فَيُؤْتَى بِهِمْ نَهْرًا يُقَالُ لَهُ: الْحَيَوَانُ، فَيُلْقَوْنَ فِيهِ فَيَنْبُتُونَ بِهِ كَمَا يَنْبُتُ الثَّعَارِيرُ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْهُ وَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيُسَمَّوْنَ فِيهَا الْجَهَنَّمِيِّينَ، ثُمَّ يَطْلَبُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُذْهِبَ عَنْهُمْ ذَلِكَ الِاسْمَ، فَيُذْهِبَ عَنْهُمْ ". وَزَادَ فِي آخِرِهِ: فَيُسَمَّوْنَ عُتَقَاءَ اللَّهِ، وَرَوَى أَبُو حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي شَدَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ ’’مقام محمود‘‘ والی آیت میں ’’مقام محمود‘‘ سے مراد’’شفاعت‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی ایک جماعت کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کرے گا‘ اس کے بعد میری سفارش پر انہیں جہنم سے رہائی نصیب ہو گی‘ جہنم سے رہائی کے بعد انہیں ” حیوان‘‘ نامی ایک شہر پر لایا جائے گا‘ وہ اس میں غسل کریں گے‘ پھر جنت میں داخل ہوں گے‘ جنت میں انہیں ’’جہنمی‘‘ کہہ کر پکارا جائے گا‘ پھر وہ اللہ سے درخواست کریں گے تو یہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔ ایک دوسری روایت میں بھی یہی مضمون آیا ہے جس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اس کے بعد انہیں ’’اللہ کے آزاد کردہ لوگ‘‘ کہا جانے لگے گا‘ نیز امام صاحب نے اس روایت کو ایک دوسری سند سے بھی نقل کیا ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ،

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 22

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 23

25 - عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ: " {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] ، قَالَ: يُخْرِجُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَوْمًا مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ وَالْقِبْلَةِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ، فَيُؤْتِي بِهِمْ نَهْرًا يُقَالُ لَهُ: الْحَيَوَانُ، فَيُلْقَوْنَ فِيهِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الثَّعَارِيرُ، ثُمَّ يُخْرَجُونَ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ، ثُمَّ يَطْلُبُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُذْهِبَ عَنْهُمْ ذَلِكَ الِاسْمَ، فَيُذْهِبَهُ عَنْهُمْ "

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’عسی ان یبعثک ربک مقاما محموداً‘‘ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور اہل قبلہ میں سے ایک جماعت کو میری شفاعت کی برکت سے جہنم سے رہائی عطاء فرمائے گا‘ یہی ’’مقام محمود‘‘ ہے‘ اس کے بعد انہیں ’’حیوان‘‘ نامی ایک نہر پر لایا جائے گا‘ اور اس نہر میں انہیں غوطہ دیا جائے گا جس سے وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے چھوٹی لکڑیاں اگتی ہیں‘ پھر انہیں وہاں سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا‘ وہاں انہیں ’’جہنمی‘‘ کے نام سے پکارا جائے گا‘ پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس نام کے زائل ہونے کی درخواست کریں گے اور ان سے یہ نام بھی دور کر دیا جائے گا۔

رَسُولَ اللَّهِ يَقْرَأُ: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 23

مسند أبي حنيفة رواية الحصكفي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 24

26 - عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَدْخُلُ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ النَّارَ بِسَبَبِ ذُنُوبِهِمْ، فَيَقُولُ لَهُمُ الْمُشْرِكُونَ: مَا أَغْنَى عَنْكُمْ إِيمَانُكُمْ، وَنَحْنُ وَأَنْتُمْ فِي دَارٍ وَاحِدَةٍ نُعَذَّبُ، فَيَغْضَبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ، فَيَأْمُرُ أَنْ لَا يَبْقَى فِي النَّارِ أَحَدٌ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيَخْرُجُونَ وَقَدِ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا كَالْحِمَمَةِ السَّوْدَاءِ، إِلَّا وُجُوهَهُمْ، فَإِنَّهُ لَا تَزْرَقُّ أَعْيُنُهُمْ، وَلَا تَسْوَدُّ وُجُوهُهُمْ، فَيُؤْتَى بِهِمْ نَهْرًا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ، فَتَذْهَبُ كُلُّ فِتْنَةٍ وَأَذًى، ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ لَهُمُ الْمَلَكُ: {طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ} [الزمر: 73] ، فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: ثُمَّ يَدْعُونَ، فَيَذْهَبُ عَنْهُمْ ذَلِكَ الِاسْمُ، فَلَا يُدْعَوْنَ أَبَدًا، فَإِذَا خَرَجُوا، قَالَ الْكُفَّارُ: يَا لَيْتَنَا كُنَّا مُسْلِمِينَ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ} [الحجر: 2] "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اہل ایمان کی ایک جماعت اپنے گناہوں کی پاداش میں جہنم میں داخل ہو گی تو مشرکین ان سے کہیں گے کہ تمہیں تمہارے ایمان نے کیا فائدہ دیا؟ ہم اور تم اکٹھے ایک ہی جگہ عذاب میں مبتلا ہیں‘ یہ سن کر اللہ تعالیٰ غضب ناک ہو جائیں گے اور وہ حکم دیں گے کہ لا الہ الا اللہ کہنے والا ایک آدمی بھی جہنم میں باقی نہ رہے چنانچہ انہیں نکال لیا جائے گا لیکن اس وقت تک چہرے کے علاوہ ان کا سارا جسم جل کر سیاہ کوئلے کی طرح ہو چکا ہو گا‘ البتہ ان کی آنکھیں نیلی نہ ہوئی ہوں گی اور نہ ہی ان کے چہرے سیاہ ہوں گے‘ پھر انہیں جنت کے دروازے پر بہتی ہوئی ایک نہر کے پاس لایا جائے گا‘ وہ اس میں غسل کریں گے اور ان سے ہر تکلیف اور داغ دھبہ دور ہو جائے گا۔ اس کے بعد انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور ایک فرشتہ ان کا استقبال کرتے ہوئے کہے گا کہ تم خوب رہے‘ اب ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہو جاؤ‘ جنت میں ان لوگوں کو جہنمی سے نام سے پکارا جائے گا‘ کچھ عرصہ بعد وہ اللہ سے دعاء کریں گے اور یہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا اور اس کے بعد انہیں کبھی اس نام سے نہیں پکارا جائے گا‘ جس وقت یہ لوگ جہنم سے نکلنے لگیں گے‘ اس وقت تک کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے‘ یہی مراد ہے اس ارشاد ربانی کی ریما بودالذین کفروالو کانوا مسلمین۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛

Musnad Abi Hanifa Al Haskafi · The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession › Door · Hadith 24

chevron_left Previous
1234…45
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. The book of Faith, Islam, Fate, and Intercession
    1. Door
2. Science Book
    2. Door
3. The Book of Purity
    3. Door
4. prayer book
    4. Door
5. Zakat Book
    5. Door
6. The Book of Fasting
    6. Door
7. The Hajj Book
    7. Door
8. The Marriage Book
    8. Door
9. The Prediction Book
    9. Door
10. The Breastfeeding Book
    10. Door
11. The Divorce Book
    11. Door